dailyaap@gmail.com
Home PageTaza TreenQomi KhabrainBainSportsShowbizTarkeen e WatanLahoreGujratGujranwalaSialkotSargodhaJhelumKashmirSheikhupuraNankana SahibChakwalFaisalabadMandi BahawaldinColoumnsPersonalitiesOur TeamTasweeri Jhalkian
Royal National London
Visitors

Aaj Ka Akhbar Web TV

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player


بات سے بات چلے.....اےم اے تبسم•

تحرےر:اےم اے تبسم Email:matabassum2000t@yahoo.com, 0300-4709102 لیجئے!سمیناروں، مذاکروں، استقبالیوں، اجراﺅں اور مشاعروں کی بھر پور فصل کا موسم پھرآگیا۔ ہرسال بہارمےں مشاعروں کی بہتات تو ہوتی ہی ہے ،سمیناروں کی دھکاپیل کا بھی یہی موسم ہے۔شروع میں ہر ہفتے، پھر ہفتے میں دو تین پھر تقریباً روزانہ اور31مارچ تک آتے آتے بالکل ویسا ہی منظر ہوتا ہے جیسا رمضان شریف میں سرکاری اور سیاسی افطار پارٹیوں کا ہوتا ہے۔جس طرح ان افطار پارٹیوں میں روزہ دار ہونے کی شرط نہیں، اسی طرح ان سمیناروں میں بھی ادب، زبان، موضوع وغیرہ سے متعلق ہونا ضروری نہیں(بلکہ بعض حالات میں فعل قبیح کے زمرے میں آتا ہے)بس موجود ہونا ضروری ہے، پھر آپ کی صلاحیت(ادبی پن)اور مرغن کھانوں کی بہار۔ کتنا لوٹ سکتے ہیں ،یہ ذاتی تجربے اور توفیق پرہے۔جو شائقین سمیناروں کے اس موسم کاصحیح صحیح معنوں میں لطف اٹھانا جانتے ہیں ان کے لیے یہ مہینے سچ مچ بہار کے مہینے ہوتے ہیں۔آرام سے کسی ایئر کنڈیشن آڈیٹوریم میں کئی گھنٹے سونے کے علاوہ مرغن لنچ اور چائے وغیرہ اس پر مستزاد۔ کچھ شوقین صاحب توفیق تو باقاعدہ ان مہینوں کے لیے سارا سال چھٹیاں جمع کرتے ہیں تاکہ اس موسم میں باقاعدہ ملازمت سے رخصت لی جا سکے تاکہ کچھ ڈھنگ کا کام کیا جا سکے اور ڈھنگ کا کام کھانے اور سونے کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے۔سمینار ہال میں خراٹوں کے پس منظر ساﺅنڈ افیکٹس دینے اور سمینار کے کھانوں میں شرکت کے یہ ماہرین اتنے تجربہ کار ہو گئے ہیں کہ بظاہر اصلی اور نقلی سامعین میں تمیز مشکل ہے۔عام طور پر یہ لنچ سمینار میں تناﺅل فرماتے ہیں۔ نقلی سامعین بھی بظاہر اصلی سامعین کی طرح ہی ہوتے ہیں، وہی جسم، وہی چہرہ،وہی کپڑے، وہی چہرے پر دانشوری کا سایا،آنکھوں میں مدعوئین جیسی چمک،ہاتھ میں سمینار کی تفصیل مگر اصلی اور نقلی کا اندازہ لنچ کی میز پر لگایا جا سکتا ہے، جہاں اصلی سامعین کی اقلیت، اقلیت کی زبان اور تہذیب کی طرح کسی کونے سے لگی ہوتی ہے۔ہم نے سمیناروں میں شرکت کے ماہرایک شناسا سے اصلی اور نقلی سامعین کی شناخت کی کوئی ترکیب جاننا چاہی تو انھوں نے ہم سے ہی سوال کر ڈالا۔آپ کا سامعین کی کون سی قسم سے تعلق ہے؟ ”مطلب“ ہم گڑ بڑا گئے ”ہم تو ادب کے طالب علم ہیں،بس سمینار میں شرکت کے لیے آئے ہیں ،اس میں اصلی نقلی کیا ہے؟“”تو پھر پوچھ کیو ںرہے ہیں؟ خاموشی سے مقالہ سنئے۔“ ہم اپنا سا منہ لے کر رہ گئے اور یقین ہو گیا کہ اور کوئی نقلی سامع ہو یا نہ ہو،یہ صاحب ضرور صرف کھانے اور سونے ہی آئے ہیں۔ موسمی سمیناروں میں سامعین کی اپنی مہارت ہے تو سمینار منعقد کرا نے اور مقالہ پڑھنے والوں کی اپنی مہارت ہے جسے کچھ حالات، کچھ اشخاص کی نیت اور ادب کے نام پر کچھ نقلی ادیبوں کوملنے والی آسانیوں نے تجارت بنا دیا ہے۔ ایک ایسی انڈسٹری جس میں مقالہ نگاروں کوبلانے سے مقالہ لکھنے اور سننے تک ہر مرحلے پر نفع و نقصان کا حساب رکھا جاتا ہے اور کیوں نہ رکھا جائے جب دنیا کے دیگر بیشتر معاملات میں نفع و نقصان ”مد نظر“ ہے تواس میں ایسا کیوں نہ ہو، کیونکہ فی زمانہ یہ سارے رویے ادب کے دائرے میںآتے ہیں۔ایک ماہر مقالہ نگار شناسا نے جو خیر سے تقریباً ہر سمینار میں شامل ہوتے ہیںاور مقالہ نگاری کے فن میںطاق سمجھے جاتے ہیں اپنی ماہرانہ رائے میں اس نکتے کی طرف توجہ دلائی کہ اختصاص کے اس دور میںمقالہ نگاری اور سمینار کے لیے مقالہ نگاری میں فرق کیے بغیر سمینار کے تقاضوں سے عہدہ برآنہیں ہوا جا سکتا۔ا ن کے بقول ”سمینار بازی“ میں مستقل ”بازی مار لے جانے“ اور اس (صنعت) میں لگاتار کئی برسوں سے جمے رہنے کی تکنیکی وجہ میںتعلقات کی فراوانی اور تقریر کی دل پذیری کے علاوہ اس تکنیک کا دخل ہے جس کے ذریعہ وہ سمیناری مقالوں کی ضروریات کو پورا کرپاتے ہیں۔اس تکنیک میں مقالے کا سمینار کے موضوع سے براہ راست تعلق(موضوع کا بھی کونسا سمینار سے تعلق ہوتا ہے) اور ہر سمینار کے لیے الگ سے مقالہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔موضوع کوئی بھی ہو صدارتی تقریر کی طرح مقالہ ایک ہی کافی ہے۔بس تھوڑی سی ردو بدل کی ضرورت ہوتی ہے اور اس ردو بدل کا عام طور پر پتہ بھی نہیںلگتا اور پتہ لگ بھی جائے تو کیا بگڑ جائے گا؟ موسمی سمیناروں کے ماہرین اس سے نمٹنے کا گر بھی جانتے ہیں۔ہمارے جاننے والے”ماہرین مقالہ نگار برائے سمینار“ میں ایسے بھی ہیں جنھوں نے کئی برس پہلے بوجوہ ایک مضمون لکھا تھا ،آج تک ہر سمینار میں وہی سنا رہے ہیں۔ سمینار کا موضوع کوئی بھی ہو(موضوع بھی کہاں تک نیا ہوگا) مضمون تھوڑی سی ردو بدل کے ساتھ وہی رہتا ہے۔ ہم نے ٹوکا تو ارشاد فرمایا:”دیکھو! ایک تو ہر سمینار کا موضوع نیا کب ہوتا ہے، دوسرے تم شاعر کو کچھ نہیں کہتے جو ہر مشاعرے میں وہی کلام اسی ترتیب سے سالہا سال سے سنا رہا ہے۔ایسے بھی ہیں جو ایک آدھ گیت، ایک دو غزل میں ہزاروںمشاعرے نمٹا چکے ہیں، اول تو کچھ نیا سنانے کی نوبت ہی نہیںآتی اور اگر اس کا اندیشہ بھی ہو تو برسہا برس کے وفادار غیرت مند سامعین انہیں شرمندگی سے بچا لیتے ہیں اور اسی سنے ہوئے کلام کی فرمائش کر دیتے ہیں، بعض لوگوں نے تو کئی دہائیوں سے یہ سلسلہ چلا رکھا ہے۔ سلسلہ کلام جاری تھا کہ میں نے ٹوکا: کلام پرانا ہے۔ کم ازکم ترنم سے تو سناتے ہیں۔“ انھوں نے روکا:”ترنم بھی تو اتنا ہی پراناہے۔“ میں نے زچ ہو کر خاموشی اختیار کی۔ میری خاموشی میں یہ خوف بھی شامل تھا کہ اگر سمیناری مقالوں میں بھی ترنم اور تحت کی بدعت شروع ہو گئی تو…۔ اس بسیط اور لرزہ خیزموضوع پراگر ہم میں کہنے کی اورآپ میں سننے کی ہمت ہوئی تو پھر کبھی گفتگو ہو سکتی ہے۔ کہ بات سے بات جاری ہے۔

25-04-2011
اسلام میںاولاد کے حقوق.......علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی ایم اے سجادہ نشین مرکز اویسیاں نارووال•

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت نیک اولاد کا ہونا ہے ۔جسے اللہ تعالیٰ نے آنکھوں کی ٹھنڈک کہا ہے اس لئے اولاد کا ہونا خوش بختی تصور کیا جاتا ہے۔جنہیں یہ نعمت میسر آتی ہے ۔وہ بہت خوش و خرم رہتے ہیں ،اور جن کے ہاں اولاد نہیں ہوتی ،وہ ہمیشہ اولاد کی محرومیت کے صدمے میں پڑے رہتے ہیں ۔مگر جب انہیں اولاد مل جاتی ہے تو گویاوہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی ہر نعمت مل گئی ۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اس نعمت کا یوں ذکر فرمایا ہے ۔ ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ،رحمان کے بندے وہ ہیں جو یہ دعا کرتے رہتے ہیں ،کہ اے ہمارے پروردگار تو ہمیں بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما ،اور ہمیں پرہیز گاروں کا پیشوا بنا ۔یہی وہ لوگ ہیں ،جنہیں ان کے صبر کے بدلے جنت کے بلند بالا خانے دئےے جائیں گے ،جہاں انہیں سلام پہنچایا جائے گا۔ اس میں یہ ہمیشہ رہیں گے ۔جوبہت ہی اچھی جگہ اور عمدہ مقام ہے ۔“(سورة الفرقان) اس آیت میں حصول اولاد کے لئے اللہ کے حضور التجا کا طریقہ بتایا گیا ہے اور اسی اولاد کو حاصل کرنے کے لئے اللہ کے جلیل القدر پیغمبر وں نے اللہ کے حضور دعائیں کیں ۔ جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرما کرانہیں اولاد کی نعمت سے نوازا۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے اس طرح دعا مانگی ۔”اے پروردگار !تو عطا فرما اپنی جانب سے نیک اولاد تو ہی تو دعاﺅں کا سننے والا ہے ۔(آل عمران) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی ۔” اے اللہ !تو ہمیں نیک اولاد عطا فرما۔“(الصافات) نیک اولاد والدین کی زندگی کا بڑا قیمتی سرمایہ ہے جہاں اللہ نے اولاد پر والدین کی خدمت کا فرض عائد فرمایا ہے کیا وہیں اولاد کے کچھ حقوق بھی والدین کے ذمے لگائے ہیں تاکہ فطری تقاضے قائم رہیں اور کسی فریق کی حق تلفی نہ ہو۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! نیکی کس سے کروں؟ فرمایا۔اپنے ماں باپ سے کرو۔ اس نے کہا وہ تو فوت ہو چکے ۔فرمایا پھر اولاد سے کرو۔ کیونکہ جس طرح ماں باپ کے حقوق ہیں اسی طرح اولاد کے بھی تو حقوق ہیں اور فرزند کے حقوق میں سے ایک یہ ہے کہ اس کی بد خوئی کی وجہ سے ضروری نہیں کہ اسے عاق ہی کیا جائے اور فرمایا کہ ۔اللہ رحمت کرے اس باپ پر جو اپنے بیٹے کو نافرمانی کی راہ پر نہیں چلنے دیتا۔ اولاد کے حقوق کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔ ۱۔ حفاظت اولاد:اولاد کا فطری حق ہے کہ اس کی حفاظت کی جائے کیونکہ بچے کی پیدائش کا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ذریعہ بنا رکھا ہے اس لےے اس پر یہ فریضہ عائد کیا ہے کہ اپنی اولاد کی حفاظت کرے۔ اسلام سے پہلے اولاد کو جینے کا حق حاصل نہ تھا بلکہ اولاد کی زندگی کو مختلف صورتوں سے ختم کر دیا جاتا تھا ۔ اولاد کی جان کو ختم کرنے کی ایک صورت یہ تھی کہ والدین اپنی اولاد کو دیو تاﺅں کی خوشنودی کے لئے خود ذبح کر کے ان پر چڑھا وا چڑھادیتے تھے یہ رسم عربوں اور دیگر قوموں میں بڑی عام تھی ۔اولاد کو مارنے کی دوسری صورت یہ تھی کہ بعض لوگ فقر و فاقہ کے خوف سے خود اولاد کو قتل کر دیتے تھے ۔ ایسے ہی اولاد کو قتل کرنے کی تیسری صورت یہ تھی کہ بعض لوگ اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے ۔کیونکہ وہ لڑکیوں کو اپنی ذلت اور شرم کی علامت خیال کرتے تھے ۔ اسلام نے اولاد کشی کی ان تمام صورتوں کا انسداد کیا اور اولاد کو ہر طرح سے تحفظ کا حق دیا ۔قرآن پاک میں ان تمام طریقوں کی مذمت کرتے ہوئے اولاد کو قتل کر نے سے منع فرمایا بلکہ قتل کو سنگین جرم اور گناہ قرار دے کر قاتل کو سزا وار ٹھہرایا ہے ۔اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں فرماتا ہے:۔ ۱۔ ترجمہ ”اپنی اولاد کو قتل نہ کرو مفلسی کے ڈر سے ہم انہیں بھی روزی دیں گے اور تمہیں بھی بے شک ان کا قتل بڑی خطاہ ہے ۔“ ۲۔ اور دوسری جگہ ارشاد ہوا۔ترجمہ:” تم فرما دو میں تمہیں پڑھ کر سناﺅں جو تم پر تمہارے رے نے حرام کیا ۔یہ کہ اس کا کوئی شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور اپنی اولاد قتل نہ کرو مفلسی کے باعث ہم تمہیں اور انہیں سب کو رزق دیں گے ۔“ ۳۔ ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے :۔ترجمہ:” اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھاتا ہے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس بشارت کی برائی کے سبب ،کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبا دے گا۔ ارے بہت ہی بُرا حکم لاتے ہیں۔“ رضاعت:مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہونے والے بچے کے کانوں میں سب سے پہلے اذان دی جائے نبی اکرم ﷺ کی بھی سنت ہے کیونکہ ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے بذات خود حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے کان میں نماز والی اذان دی جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ان کی ولادت ہوئی۔“(ترمذی ۔ابو داﺅد) ابوایعلیٰ کی ایک روایت میں ہے کہ ایک موقع پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:”جس کے گھر بچہ پیدا ہو اور وہ اس کے دائیں کان میں اذان بائیں میں تکبیر کہے وہ بچہ ام الصبیان بیماری سے محفوظ رہے گا۔ اس حدیث میںحضرت رسول مقبول ﷺ نے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر اقامت پڑھنے کی تعلیم و ترغیب دی ہے اور اس کی برکت بیان فرمائی ہے ۔ (کنزالعمال) اذان کے بعد بچے کے منہ میں میٹھی چیز ڈالنا بھی سنت ہے جسے” تحنیک“ کہا جاتا ہے ۔نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں کھجور چبا کر بچے کے منہ میں لگا دی جاتی یا تالو پر مل دی جاتی ۔اس کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رسول اکرم ﷺ کے پاس نو مولود بچوں کو لایا جاتا تو آپﷺ ان کے حق میں برکت کی دعا فرماتے اور ان کے تالو میں کھجور چبا کر لگا دیتے ۔ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں مسلمانوں کے ہاں جو سب سے پہلا بچہ پیدا ہوا وہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما تھے ۔حضرت اسما رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ جب ابن زبیر پیدا ہوئے تو انہیں رسول اللہﷺ کی گود میں دیا گیا۔ آپﷺ نے خرما منگوایا ۔اسے چبا کر اپنا لعاب دہن کے ساتھ بچہ کے منہ میں ڈالا اور خرما تالوں میں ملا ۔نیز خیرو برکت کی دعا دی۔(کتب سیرت) بچہ پیدا ہونے کے ساتویں روز بچے کے سر کے بالوں کو منڈاکر چاندی کے برابر تول کر اس چاندی کو صدقہ و خیرات کر دینا چاہےے اور اس کے بعد بچے کی طرف سے عقیقہ کیا جائے ۔جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ہر بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے میں گروی رکھا ہوا ہے ۔ساتویں روز اس کی طرف سے کوئی جانور ذبح کیا جائے اور اسی دن اس کا نام رکھا جائے اور اس کے بالوں کو مونڈدیا جائے ۔(کتب احادیث) حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیٹے کے لئے عقیقہ ہے ،سوا س کی طرف سے جانور کی قربانی دو اور گندگی صاف کرو ۔سر کے بالوں کو منڈوا دو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ نے حسن علیہ السلام کے عقیقہ میں ایک بکری ذبح کی ۔اور فرمایا اے فاطمہ رضی اللہ عنہا! اس کا سر منڈاﺅ اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کردو سو انہوں نے بالوں کا وزن کیا تو وہ ایک درہم کے برابر، یا کچھ کم نکلے ۔جس کے برابر چاندی صدقہ کر دی گئی ۔(کتب احادیث) حضرت عمر بن شعیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے گھر میں بچہ پیدا ہوا ور وہ اس کے عقیقہ کے طور پر قربانی کرنا چاہے تو عقیقے کی قربانی لڑکے کے لئے دو بکریاں اور لڑکی کے لئے ایک بکری ہے ۔(ابو داﺅد) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عقیقہ اس جانور کو کہتے ہیں ،جو نوزائیدہ بچے کی طرف سے خدا کے شکریہ میں ذبح کیا جاتا ہے لڑکے کی جانب سے دو جانور اور لڑکی کی طرف سے ایک ہے ۔ اگر کسی وجہ سے ساتویں دن عقیقہ نہ ہو سکے تو چودہویں یا اکیسویں تاریخ یا جب ممکن ہو کر دینا چاہےے کیوںکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ عقیقہ ساتویں ،یا چودھویں یا اکیسویں روز کیا جائے گا۔ بچے کا اچھا سا نام رکھنا والدین کا فرض ہے کیونکہ فرمان مصطفےٰ ﷺ ہے کہ آدمی سب سے پہلے اپنی اولاد کو جو تحفہ دیتا ہے وہ اس کا نام ہے ۔لہٰذا اچھا نام رکھنا چاہئےے کیونکہ تم قیامت کے دن اپنے باپ کے رکھے ہوئے ناموں سے پکارے جاﺅ گے اس لئے تم اچھا نام رکھو۔ (ترمذی) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:” اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہارے سب سے پیارے نام عبد اللہ ،عبد الرحمن اور اس جیسے ہیں۔“(صحیح مسلم) جبکہ ان ناموں کے ساتھ حضور نبی اکرم ﷺ کے نام مبارک”محمد ﷺ“ اور ”احمد ﷺ“ کا اضافہ انتہائی مبارک ہے۔ایک دوسری حدیث میں فرمایا ”نبیوں کے ناموں پر نام رکھا کرو۔“(سنن ابو داﺅد) البتہ غلط قسم کے نام نہیں رکھنے چاہیں۔ بچے کا ختنہ کرنا بھی سنت ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ساتویں روز حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما کا ختنہ کروایا۔ بچے کو شیر خوارگی کے زمانے میں دودھ پلانا بھی ضروری ہے ۔کیونکہ ارشاد الہٰی ہے کہ :” جو باپ چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد پوری مدت رضا عت تک دودھ پئے ۔تو مائیں اپنے بچوں کو کامل دو سال دودھ پلائیں اس صورت میں اس کے باپ کو معروف طریقے سے انہیں کھانا کپڑا دینا ہو گا۔“(البقرہ ، 233) اسلام نے یہ بھی اجازت دی ہے کہ والدہ کے علاوہ دوسری عورت بھی بچہ کو دودھ پلا سکتی ہے اور رضاعی ماں کا درجہ بھی تقریباً حقیقی ماں کے برابر ہے۔ ماں بیماری اور نقاہت کی صورت میں بچے کی عام دودھ سے نشو و نمابھی کر سکتی ہے ۔بہر حال مقصد بچے کو معینہ عرصہ تک دودھ پلانا ہے ،تاکہ اس کی مناسب نشو و نما ہو ۔مندرجہ بالا آیت کی رو سے شیر خوار گی کی مدت دو سال ہے اگر بچہ خدا نخواستہ ماں اور باپ دونوں سے محروم ہو جائے تو اس کے ورثا کو دودھ پلانے کا انتظام کرنا چاہےے ۔ اولاد کی صالح خطوط پر پرورش کے ساتھ ساتھ انہیں تعلیم سے آراستہ کرنا بھی والدین کا فرض ہے کیونکہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے ۔اس کے متعلق ارشاد نبوی یہ ہے کہ طَلَبُ ال±عِل±مِ فَرِی±ضَةَ عَلٰی کُلِّ مُس±لِمٍ۔”علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔“ایک اور حدیث میں ہے ”انہیں فرائض کی تعلیم دو اور قرآن کی ۔اور لوگوں کو علم سکھاﺅ کیونکہ میں تو اُٹھ جانے والا ہوں۔“ سنن بیہقی کی روایت ہے کہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ ۔۔۔سے بچہ کو بولی سکھانے کا آغاز کرو۔ حضرت ایوب بن موسیٰ رضی اللہ عنہ بواسطہ اپنے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:” اچھی تعلیم و تربیت سے زیادہ ایک باپ کا اپنی اولاد کے لئے کوئی عطیہ نہیں ہے ۔“(ترمذی) علم و ہ دولت ہے کہ جس سے انسان کی صلاحیتیں اجاگر ہوتی ہیں ۔لہٰذا والدین پر فرض ہے کہ وہ خود علم حاصل کریں اور اپنی اولاد کو بھی دولت علم سے مالا مال کریں ۔والدہ کی گود بچے کی پہلی اور بہترین درس گاہ ہے ۔جہاں انسانی سیرت سنورتی ہے ۔کیونکہ بچے کا سب سے زیادہ رابطہ ماں کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ ماں اور اس کے ماحول کا اثر قبول کرتا ہے ۔لہٰذا والدہ کو بچے کی ابتدائی تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہےے ۔یہی وجہ ہے کہ اسلام میں علم کو بڑی اہمیت دی گئی ہے ۔تعلیم کی قدر و قیمت نبی اکرم ﷺ کے اس عمل سے ظاہر ہوتی ہے کہ بدر کے قیدیوں کا فدیہ مقرر کرتے ہوئے فرمایا کہ” جو قیدی پڑھے لکھے ہیں وہ مسلمانوں کے دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں تو انہیں آزاد کر دیا جائے گا۔“ حضرت امام ربیعہ رحمة اللہ علیہ ایک بہت بڑے مشہور محدث اور عالم گذرے ہیں جو حضرت امام مالک رحمة اللہ علیہ کے استاد تھے ۔بچپن میں ان کے والد کسی سفر میں چلے گئے ۔چلتے وقت ربیعہ کی والدہ کو تیس ہزار اشرفیاں دے گئے تھے ۔ حضرت ربیعہ کی والدہ نے اپنے بچے کی اچھی تعلیم اور اچھی تربیت کے لئے نیک عالموں اور بڑے بڑے محدثو ں اور ادیبوں کے پاس بٹھایا اور بچے کی تعلیم و تربیت میں تیس ہزار اشرفیاں ختم کر دیں ۔جب حضرت ربیعہ لکھ پڑھ کرفارغ ہو گئے ۔ تو ربیعہ کے والد ایک عرصہ کے بعد تشریف لائے ۔تو بیوی سے دریافت کیا کہ وہ تیس ہزار اشرفیاں کہاں ہیں ؟بیوی نے کہا بہت حفاظت سے رکھی ہیں ۔پھر جب مسجد میں آئے ،تو اپنے بیٹے امام ربیعہ کو دیکھا کہ درس حدیث کی مسند پر بیٹھے ہوئے ہیں اور محدثین کو درس دے رہے ہیں لوگ ان کو اپنا امام اور پیشوا بنائے ہوئے ہیں ،تو مارے خوشی کے پھولے نہ سمائے ،جب گھر واپس تشریف لائے تو بیوی نے کہا کہ وہ تمام اشرفیاں تمہارے بیٹے کی تعلیم پر خرچ ہو چکی ہیں ۔آپ نے اب اپنے صاحبزادے کو دیکھ لیا ہے ۔اب فرمائےے کہ آپ کی تیس ہزار اشرفیاں ابھی ہیں یا یہ دولت جو صاحبزادے کو حاصل ہوئی ہے تو وہ فرمانے لگے ۔بخدا اس عزت کے مقابلے میں اشرفیوں کو کیا حقیقت حاصل ہے ،تم نے اشرفیوں کو ضائع نہیں کیا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق بچوں کی تربیت کرنا والدین کا فرض ہے تاکہ بچوں کی عادت میں بچپن میں ہی اطاعت الہٰی کا جذبہ پیدا ہو جائے اور وہ جوان ہو کر احکام الہٰی کے مطابق زندگی بسر کر سکیں ۔انسانی زندگی کے لئے دنیوی خوش حالی کے علاوہ آخرت میں نجات کی بھی ضرورت ہے اس کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :” اے ایمان والو! تم اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاﺅ جس کاا یندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔(التحریم ۔6) اس آیت میں یہی تاکید کی گئی ہے کہ اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاﺅ یعنی اپنی اولاد کی تربیت ایسی اخلاقی اور دینی بنیادوں پر کرو تاکہ برائیوں سے بچ جائیں اور نیکیوں کی طرف مائل رہیں ۔اس طرح وہ آخرت میں دوزخ کی آگ سے خلاص پائیں گے ۔اس سے معلوم ہوا کہ اولاد کی تربیت عمدہ طریقے سے کرنا ماں باپ کی ذمہ داری ہے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ”اپنی اولاد کا اکرام و احترام کرو اور انہیں اچھے آداب سکھاﺅ۔“(ابن ماجہ) حضرت جابر بن سمر ہ رضی اللہ عنہ دنے کہا کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ :”کوئی شخص اپنی اولاد کو ادب سکھائے تو اس کے لئے ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے ۔“(ترمذی) حضور ﷺ کا ایک اور ارشاد ہے کہ جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو اُسے نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب دس برس کا ہو جائے اور نماز نہ پڑھے تو اُسے مار کر نماز پڑھا ﺅ اور اُسے الگ سلایا کرو۔“(ابو داﺅد) اس ارشاد گرامی کے پیش نظر والدین کو چاہےے کہ وہ اپنے بچوں کو سات سال کی عمر تک نماز اور اخلاق کے بنیادی اصول سکھائیں۔ عام طور پر والدین کی تربیت کا عکس ان کی اولاد پر مرتب ہو تا ہے ۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شخصیت سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حضو ر اکرم ﷺ نے ان کی کتنی بے مثال تربیت کی تھی ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سب عورتوں سے بڑھ کر دانا تھیں ۔انداز کلام ،حسن اخلاق اور وقار متانت میں حضور اکرم ﷺ کے سوا ان کا کوئی ثانی نہ تھا ۔ صالح تربیت کے ساتھ اولاد سے شفقت سے پیش آنابھی والدین کے لئے ضروری ہے کیونکہ اولاد پر رحم کرنا مسلمان ہونے کی نشانی ہے ۔رسول اللہﷺ کا فرمان ہے :”جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوںکا احترام نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔“ بچہ چھوٹا ہو اسے بوسہ دینا سنت ہے ۔ رسول اللہ ﷺ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو چوما کرتے تھے ۔ایک دن قرع بن حابس نے عرض کیا کہ میرے دس بچے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی کو کبھی بوسہ نہیں دیا ۔فرمایا جو ان پر رحم نہیں کرتا۔( اسے یاد رہے کہ) خود اس پر بھی رحم نہیں کیا جائے گا۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ منبر پر تشریف فرما تھے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اوندھے منہ گر پڑے ۔آپ ﷺ نے فوراً منبر سے اُتر کر ان کو گود ی میں اُٹھالیا۔ اور یہ آیت پڑھی :”تمہارے اموال اور اولاد بس تمہارے لئے آزمائش ہیں۔“ (سورة التغابن آیت نمبر15) ایک مرتبہ حضور اکرم ﷺ نماز ادا کر رہے تھے ۔سجدہ میں گئے تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کی گردن پر سعار ہو گئے۔آپ ﷺ نے حالت سجدہ میں اس قدر توقف کیا کہ صحابہ سمجھے غالباً وحی آگئی ہے جو سجدہ میں اتنی دیر کر دی ہے ،نماز سے فار غ ہو ئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ حضور ! وحی آئی ہے کیا؟ فرمایا :(نہیں بلکہ)حسین نے مجھ پر سواری کی ہوئی تھی۔ مجھے اچھا نہ لگا کہ اسے اپنے سے جدا کروں۔ اولاد کو کچھ دیتے وقت یا سلوک کرتے وقت بھی والدین کو چاہےے کہ عدل و انصاف کو مد نظر رکھیں اسلام میں چھوٹے بڑے لڑکے اور لڑکی کے حقوق یکساں ہیں ۔اسلام لڑکوں کے ساتھ لڑکیوں کے مقابلہ میں ترجیحی سلوک کو روا نہیں رکھتا لڑکے اور لڑکیوں کا جو حصہ وراثت میں مقرر ہے انہیں دینا چاہےے کیوںکہ اسی سے انصاف کا تقاضا پورا ہوتا ہے ۔اولاد میں سے کسی کو کوئی چیز دے دینا اور دوسرے کو محروم رکھنا جائز نہیں ۔بلکہ ایسا کرنا ظلم ہو گا ۔جو خلاف اسلام ہے ۔ ایک مرتبہ ایک صحابی نے اپنے ایک بیٹے کو ایک غلام دیا اور حضور اکرم ﷺ سے آکر عرض کرنے لگا آپ اس کی گواہی دیں ۔آپ ﷺ نے پوچھا کیا دوسرے بچوں کو بھی ایک ایک غلام دیا ہے ۔اس نے عرض کیا نہیں آقا دو جہان ﷺ نے فرمایا میں اس ظلم کا گواہ نہیں بننا چاہتا۔اولاد سے ناانصافی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بہن بھائیوں میں عداوت اور دشمنی کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں جس سے سکون ختم ہو جاتا ہے ۔ بچوں کی پرورش کے لئے مال و زر خرچ کرنا اور ان کی ہر طرح کی ضروریات پوری کرنا بھی والدین کے ذمے ہیں یعنی بچوں کی کفالت کا تمام تر ذمہ باپ کے ذمے ہے ۔ جیسے حضور ختم المرسلین ﷺ فرماتے ہیں ۔”اہل و عیال پر اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کرو، اور مو¿دت کرنے کے لئے (حسب ضرورت) سختی بھی کرو اور انہیں اللہ سے ڈرایا بھی کرو۔“(مسند احمد) حضرت عمر و بن شعیب رضی اللہ عنہ بواسطہ اپنے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے عرض کیا ۔یا رسول اللہ ﷺ میرا یہ بیٹا ہے مدتوں میرا پیٹ اس کا برتن رہااور میری چھاتی اس کی مشک رہی اور میری گود اس کا گہوارہ ۔یعنی میں نے اپنے اس بیٹے کو مدتوں پالا ہے ۔اب اس کا باپ اسے نے مجھ سے چھین لینا چاہتا ہے ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔جب تک تو اورنکاح نہ کرے اس کی پرورش کی زیادہ مستحق ہے ۔(ابو داﺅد) والدین کا فرض ہے کہ جب بچے جوان ہو جائیں تو ان کی شادی کر دیں۔ لیکن شادی میں لڑکے اور لڑکی کا رضا مند ہونا ضروری ہے کیونکہ اسلام میں زبردستی نہیں ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بیوہ عورت کا اس وقت تک نکاح نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت حاصل نہ کر لی جائے اسی طرح کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے دریافت نہ کیا جائے ۔غرض کہ اسلام نے شادی میں مرد اور عورت کا حق ایک جیسا رکھا ہے لیکن لڑکے کے لئے مزید بالا دستی یہ رکھی ہے کہ اگر وہ لڑکی کو ایک نظر دیکھ بھی لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں بچہ پیدا ہو وہ اسے اچھا نام دے اس کی تربیت کرے جب بالغ ہو جائے اس کی شادی کرے ۔اگر بالغ ہونے پر اس کی شادی نہ کی اور وہ گناہ میں پڑ گیا تو اس گناہ میں اس کا باپ بھی شریک ہو گا۔(بیہقی) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ۱۔ بچہ جب ایک ہفتے کا ہو جائے تو اس کا عقیقہ کرو اور نام رکھو اور اسے پاک کرو۔ ۲۔ چھ سال کا ہو جائے تو اسے آداب کی تعلیم دو۔ ۳۔ نو سال کا ہو جائے تو اس کا بستر علیحدہ کردو۔ ۴۔ تیرہ سال کا ہو جائے تو نمازنہ پڑھنے پر اسے سزا دو (مارو پیٹو) ۔ ۵۔ سولہ سال کا ہو جائے تو اس کا بیاہ کرو۔(تب اس کا ہاتھ پکڑ کر کہو کہ لو بیٹا میں نے تجھے (پالا پوسا) ادب و تہذیب سے آراستہ کیا ۔جن چیزوں کی تعلیم لازمی تھی وہ تجھے دلوائی اور اب تیرا نکاح بھی کر دیا ۔پس اب میں اس دنیا میں تیرے فتنہ سے اور آخرت میں تیرے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اسی طرح لڑکی کے بار میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب لڑکی بارہ برس کی ہو جائے (عرب میں یہ بلوغت کی عمر تھی) اور اس کے والدین شادی نہ کریں تو اب اگر اس لڑکی سے کوئی گناہ ہو گیا تو اس گناہ کی ذمہ داری ماں باپ کی ہو گی ۔ (بیہقی) بیٹیوں کے سلسلے میں اسلام نے ان کے حقوق خاص طور پر ادا کرنے کی بڑی تاکید کی ہے ۔کیونکہ اسلام سے پہلے بیٹیوں کے ساتھ بہت براسلوک کیا جاتا تھا اس لئے اسلام نے اس تصو ر کی تردید کی اور بیٹیوں کو ارفع مقام عطا کیا ۔رسول اکرم ﷺ کو اپنی بیٹیوں سے بڑا پیار تھا ۔لہٰذا بیٹیوں سے اچھا سلوک کرنا چاہےے اس سلسلے میں آپ ﷺ کی چند احادیث مندرجہ ذیل ہیں۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:” جس نے تین بیٹیوں یا تین بہنوں کو یا دو بہنوں یا دو بیٹیوں کو پالا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا ۔اس شخص کے لئے جنت ہے ۔(ترمذی) اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ بیٹیوں کی پرورش حصول جنت کا بہترین ذریعہ ہے ۔ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک عورت میرے پاس آئی دو بچیاں اس کے ساتھ تھیں اس نے مجھ سے سوال کیا ۔میرے پاس اس وقت صرف ایک کھجور تھی ۔ میںنے وہی دے دی اس نے کھجور کے دو ٹکڑے کےے اور دونوں بچیوں کو دے دےے خود کچھ منہ میں نہ رکھا ۔حضور اقدس ﷺ تشریف لائے تو میں نے انہیں یہ واقعہ بھی سنایا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ان بچیوں کی وجہ سے جو شخص تکلیف میں مبتلا ہو، پھر بھی ان سے حسنِ سلوک کرے ،وہ بچیاں اس کے اور دوزخ کے درمیان دیوار بن جائیں گی۔“(بخاری و مسلم) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:”جس کی بیٹی ہو اور وہ اسے نہ زندہ درگور کرے اور نہ اسے حقیر سمجھے اور نہ اس پر بیٹوں کو ترجیح دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“(ابو داﺅد) اس سلسلہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے ۔ (حضور اقدس ﷺ نے اپنے دونوں مبارک ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کر کے فرمایا ) جس کی دو بیٹیاں ہوئیں اور اس نے ان کی کفالت کی ،یہاں تک کہ وہ سن بلوغت کو پہنچ گئیں ۔قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح یکجا ہوں گے۔“(صحیح مسلم) حضرت رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ۔جب کسی کے گھر لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اس کے ہاں اللہ تعالیٰ فرشتے بھیجتا ہے جو آکر کہتے ہیں ۔گھر والو! تم پر سلامتی ہو ۔پھر فرشتے بچی کو اپنے سایہ میں لے لیتے ہیں اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہیں اور کہتے ہیں ،یہ کمزور جان ہے ۔جو ایک کمزور جان سے پیدا ہوتی ہے ۔ جو اس کی پرورش اور تربیت کرے گا۔ “ روز حشر اللہ کی مدد اس کے شامل حال ہو گی ۔(طبرانی) حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تم کو یہ نہ بتادوں کہ افضل صدقہ کیا ہے ،اور وہ اپنی اس لڑکی پر صدقہ کرنا ہے جو تمہاری طرف (مطلقہ یا بیوہ ہونے کے سبب) واپس لوٹ آئی اور تمہارے سوا کوئی اور افضل نہیں ۔(ابن ماجہ) معزز قارئین!قرآن و سنت سے کچھ موتی بعنوان ”اولاد کے حقوق“ پیشِ خدمت ہیں ۔چونکہ آجِ حقوقِ والدین کا خیال کرتے ہوئے ہم حقوق اولاد کی پرواہ نہیں کرتے ۔ضرورت ہے کہ زیر نظر مضمون کی کھلے عام اشاعت ہو اور معاشرے میں اصلاح ممکن ہو ۔اللہ تعالیٰ ہمیں فرائض و حقوق ادا کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین

25-04-2011
30مارچ کا جذبہ حب الوطنی......میاں بابر صغیر•

عرصہ دراز کے بعد پاکستانی قوم ہمیں ایک پرچم تلے متحد نظر آئی ےہ ایک الگ بات ہے کہ ےہ کسی پارٹی ےا مذہبی جما عت کی وجہ سے نہیں بلکہ ہماری کرکٹ ٹیم کی وجہ سے ایسا ممکن ہوا۔اس وقت ہمارے ملک میں جس چیز کی کمی نظر آتی ہے وہ اتحاد اور ےکجہتی ہے بطور مسلما ن قوم ہمیں انتہا پسندی جیسے موذی مرض کا مقابلہ کرنا چاہے مگر ہم اکٹھے ہونے کی بجائے علیحدہ علیحدہ گروپ بندی کی وجہ سے مسائل کی دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔بھارت اور پاکستان کے کرکٹ میچ کے موقع پر ہمارے ملک کے بچوں، بڑوں ِ نوجوانوں ، بوڑھوں ،مردوں اور عورتوں سب کا جذبہ دیکھنے کے قابل تھااور ےہ منظر اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ ہماری قوم اپنے ملک سے بغیر کسی تعصب کے محبت کرتی ہے ےعنی ان کے لیے ان کا وطن پہلے اور باقی سب چیزیں بعد میں آتی ہےں۔30 مارچ کا دن ایک طرف ےوم پاکستان محسوس ہو رہاتھا تو دوسری طرف ےوم آزادی ۔پاکستانی پرچم نہ صرف لوگوں کے گھروں دکانوں بلکہ لوگوں کے چہروں پر بھی بڑی تعداد میں نماےاں نظر آرہا تھا اور ہر کوئی ایک مخصوص حب الوطنی کے جذبے کا نماےاں اظہار کر رہا تھا۔اگرچہ ایسا ہی منظر بھارت میں بھی ہوگا مگر پاکستان کے موجودہ حالات اور شدید تر مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر غور کریں تو ہمیں اس چیز کی اس وقت اشد ضرورت ہے جو ہماری قوم میںےکجہتی کا باعث بنے اس وقت ہمارا ملک سیاسی طور بھی عدم استحکام کا شکار ہے اور مالی طور پر بھی۔نہ تو کوئی ایسی سیاسی قیادت نظر آرہی ہے جو پاکستان کو مشکلات سے نکالنے کی اہل ہواور نہ ہی کوئی ایسی مذہبی قیادت نظرآرہی ہے جو تمام پاکستانی مسلمانوں کو ایک خدا، ایک قرآن اور ایک نبی کے پرچم تلے متحد کرنے کی اہلیت رکھتی ہو۔مذہب کے نام پر فرقہ بندی کو فروغ دیکر ملک میں شدید انتشار پھیلاےا جارہا ہے۔ہمارے حکمران اور اس ملک کی اشرافیہ اکثر امریکہ کادورہ کرتی رہتی ہے انہوں نے نوٹ کیا ہوگاکہ وہاں پر اب بھی پرانے گوروں اور کالوں نے اپنے گھروں کے باہر امریکہ کے جھنڈے مستقل طور پر لگائے ہوئے ہیںاپنے کے گھروں کے داخلی دروازوں پر GOD BLESS OUR HOME لکھا ہوتا ہے ےہاں ہوم سے مراد ان کا گھر نہیں بلکہ ان کا ملک ہوتا ہے۔حتیٰ کے آپ امریکہ کی کرنسی دیکھ لیں چاہے وہ ایک ڈالر کا نوٹ ہو ےا سو ڈالرکا نوٹ ہر نوٹ پرواضح ہوتا ہے IN GOD WE TRUST ےعنی ہمیں خدا پر بھروسہ ہے۔وہ بھی اسی خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں وہ بھی اسی خدا پر ےقین رکھتے ہیں جس خدا پر ہم ےقین رکھتے ہیںلیکن ہمارے اند ر عاجز ی و انکساری کی بجائے مذہبی غرورپیدا ہوگیا ہے ہم بطور مسلمان فخر کرنے کی بجائے تکبر کرنا شروع ہو گئے ہیں۔اور تکبرو غرور اللہ تعالیٰ کو نہا یت نا پسند ہیں۔ آپ ہمارے ملک کے کرنسی نوٹ دیکھ لیں خاص طور پرنئے نوٹ ان پرایسی کوئی چیز نہیں ہے حالانکہ پرانے نوٹوں پر لکھاہوتا تھا کہ حصول رزق حلال عین عبادت ہے اب ےہ عبارت اس انداز سے ہے کہ لوگوں کو پتا ہی نہیں چلتا شاید ہمارے نوٹوںمیں اس عبارت کو اسی لیے چھپا دیا گیا ہے کہ کرپشن عام ہوگئی ہے اور ہماری قوم کرپشن کرتے وقت اس بوجھ سے بھی آزاد ہو جائے جوہمارے ضمیر پر اس عبارت کی وجہ سے پڑ جاتا تھا۔قائداعظم کی تصویر کابھی اب مذاق اڑاےا جاتا ہے اورےہ فقرہ عام وفہم ہوگیا ہے کہ اب بابا قائداعظم کے ذریعے ہر کام ممکن ہے ےعنی اشارہ رشوت اور کرپشن کی طر ف ہی ہے۔جو سب سے زیادہ ا فسوس ناک بات ہے وہ ےہ ہے کہ ہمارے مذہبی لیڈران بھی کرپشن میں کسی سے کم نہیںہیں ایک طرف تو وہ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر حکومت اور عوام دونوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں اور دوسری طرف ہمارے ملک کی عوام کے متحد ہونے میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔جو مذہبی لیڈر کرپشن میں ملوث نہیں وہ کرپشن کرنے والے مذہبی لیڈروں سے اظہار ےکجہتی کرکے ان کے گناہوں کے برابر کے حصہ دار بن رہے ہیں۔ہمیں اس وقت مذہبی ےا سیاسی قیادت کی ضرورت نہیں بلکہ ایسی سول سوسائیٹی کی قیادت کی ضرورت ہے جو مڈل کلاس طبقہ سے تعلق رکھتی ہوجسے مڈل کلاس کے مسائل کا علم ہواورجو مڈل کلاس طبقے کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہواورحل کرنے کا جذبہ بھی رکھتی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایک اچھی قیادت عطا فرمائے،آمین

25-04-2011
قومی و مصالحتی کمیٹیوں کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت...... محمد وجیہہ السمائ•

آ ج کل ہر طرف یہی شور سنا ئی دیتا ہے کہ حکومت عوام کو کھائے جا رہی ہے‘ عوام کا خون پیا جا رہا ہے‘ غریبوںپر ٹیکسزز کا انبار لگا کر زمین دوز کیا جا رہا ہے‘ مگر سہولیا ت نہ ہو نے کے برابر ہیں‘ بلکہ اس سے بھی کم ہیں۔ جبکہ اکٹھے کئے گئے ٹیکسز کرپشن اور عوامی نمائندوں کی طرز حکمرانی میں ختم ہو جاتے ہیں اس صورتحال کا کون ذمہ دار ہے؟ یہی سوال ہر خاص و عام کی زبان پر ہے ۔ اگر اس کو باریک بینی سے سوچا جائے تو سب سے پہلے ہم خود ان تمام کاموں کے ذمہ دار نظر آتے ہیں۔ ایک طرف توہم ہی تمام عوامی نما ئندوں کو منتخب کرتے ہیں پھر ان میں کیڑے بھی خود نکالنے لگتے ہیں۔ دوسرا ہم خود بھی روحا نی و سماجی بیماریوں میں مبتلا ہیں‘ ٹیکس ہم چوری کرتے ہیں‘ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں اور اشیاءمیں ملاوٹ سے بھی نہیں چوکتے۔ فرمان ہے کہ جیسا معاشرہ ہو تا ہے ویسے ہی حکمران ہو تے ہیں اور یہی ہماری کمزوری ہے ان تمام باتوں کو چھوڑ کر ہمارے اجتماعی رویئے بھی ہمارے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ۔سہولیات تو تھوڑی بہت مل رہی ہیںجبکہ کئی نجی ادارے بھی ہمارے ملک میں عوام کو سہولیا ت دینے کےلئے کام کر رہے ہیں تو حکومت نے بھی عوام کی بھلائی کےلئے بہت سے ادارے بنائے ہیں جن سے عوام کو سہو لیا ت فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی جا تی ہے۔ اسی طرح کا ایک ادارہ صوبائی امن اور مصالحتی کمیٹیوں کے روپ میںعوام کے سا منے ہے۔ ان کمیٹیوں کا بنیادی مقصد اورکام امن و امان کی صورتحال کو بہتر رکھنا اور حکومتی رٹ قائم رکھنے والے اداروں کا سا تھ دینا ہے تاکہ ان کی کار کر دگی بھی بہتر رہے اور چھو ٹے چھو ٹے کام تھا نے کچہریوں سے پہلے ہی ختم کر کے ایک اسلا می معا شرے کی حقیقی عکا سی کی جا ئے۔یہ کمیٹیاں تو اپنا کام ہر شہر کے لیول تک بھر پور طریقے سے ادا کر رہی ہیں مگر اگر یہی کمیٹیاں محلے کی سطح پر قائم کر دی جا ئیں تو ان کے دور رس نتا ئج سا منے آئیں گے کیو نکہ اگر ہر محلے کے لیول کے حساب سے ان کمیٹیوں کا قیام عمل میں لا یا جا ئے تو امید ہے اس محلے سے قتل و غارت، ڈکیتی اور باقی تمام جرائم پر قا بو بھی پا یا جا سکتا ہے اور باقی ضروریات زندگی کی بنیادی اشیاءکی فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کمیٹیوں کے سا تھ مل کر ہر محلے اور ہر گلی کے تر قیاتی کا مو ں کوان کمیٹیوں کے سپرد کر دیا جائے تو بہت سے مسا ئل پر قا بو پایا جا سکتا ہے اور حکومت بڑے بڑے پراجیکٹس (بجلی، روڈ) پر بھرپور قوت ارادی اور افرادی قوت کے ساتھ ساتھ پوری دلجوئی سے کام کرسکتی ہے اس لئے ان کمیٹیوں کو مکمل فعال کرنا چا ہئے اور ان کی ذمہ داریاں بڑھائی جا نی چاہئیں اس کےلئے ایک مکمل واضح پلان پیش کیا جا نا چاہئے اور یہی کمیٹیاں اپنے اپنے محلے کے ہر گھر سے 50/50 روپے ماہوار اکٹھا کر یں اور ان کا با قا عدہ حساب رکھا جا ئے تو ان پیسوں سے محلے کی ہر گلی اور ہر چوک جہاں کو ئی مسئلہ آ تا ہے‘ پانی کی فراہمی بند ہو جاتی ہے یا کبھی بجلی کی لا ئنوں میں گڑبڑ ہو جا تی ہے یا کو ئی اور ایسا واقعہ رو نما ہو جا تا ہے تو یہی چھو ٹی چھو ٹی کمیٹیاں (یونینز) اپنے اپنے محلوں میں ان مسا ئل پر فوراً قا بو پالیں گی اور معا شرہ ترقی کر ے گا۔ ان سا ری با توں پر عمل کےلئے ہمیں جاپان جیسی محنتی قوم کا جذبہ اور حب الوطنی کو یا د رکھنا چاہئے جس نے زلزے کے بعد بھی ترقی کا را ستہ نہیں چھوڑا اور اس نازک موقع پر ہر کسی نے اپنے حصے کا کام خود پر وطن کا قرض سمجھ کر ادا کیا اور اپنے ملک کو پھر سے بھرپور توانائی والے قدموں پر کھڑا کرنے کےلئے ہر کسی نے سا تھ دیا چا ہے وہ کو ئی انجینئر تھا یا کو ئی دکاندار یا پھر ایک عام آ دمی سب نے اپنے حصے کا کام جانفشانی سے کر کے اپنی حب الوطنی کا بہترین ثبوت دیا اور آج بھی جاپان ویسی ہی تر قی کرتا نظر آ تا ہے جو زلزلے سے ایک ماہ پہلے کر رہاتھا۔ جاپان کے ہنر مند افراد نے متاثرہ افراد کو مدد پہنچانے اور ڈاکٹروں نے بیماروں کا علاج خود ہی شروع کردیا۔ اسی طرح وہاں کے مزدور اور انجینئرز نے اپنے ملک کا خود پر قر ض سمجھتے ہوئے پلوں، ٹیلی فون لائنوں اور با قی ضروریات زندگی کو ٹھیک کر نے میں بغیر کسی ذاتی مفاد کے مصروف عمل ہو گئے۔ یہ ہے ایک عظیم قوم کی کہانی جس نے تاریخ کے اوراق پر سنہری حروف میں اپنا نام رقم کر دیا ہے اس لئے پاکستانی قوم کو بھی یہی روش اپنا نی چا ہئے اور اپنی حب الوطنی کے فرائض مکمل کر نے چا ہئیں اور ان کمیٹیوں کے ممبران کا مکمل ڈیٹا متعلقہ تھانوں میں بھی ہو نا چا ہئے تاکہ پو لیس اور قا نون نا فذ کر نے والے ادارے ان لوگوں سے ان کے محلے اور دیگرلوگوں کے کریکٹر اور دوسری باتوں پر کھل کر با ت کر سکیں اس سے پورے ملک میں یکجیتی کا عنصر نظر آ ئے گا اور وہ معا شرہ تشکیل پا ئے گا جس کا نام رہتی دنیا تک زندہ رہے گا٭

25-04-2011
آہ لیجنڈمعین اختر !وہ ایک شخص تھا روتوں کوہنسانے والا.....محمداعظم عظیم•

اعظمazamazimazam@gmail.com ہمارے کالم نگار دوست محمداحمدترازی نے ہمیں فون پر جب یہ خبردی کے لیجنڈ اداکار معین اختر انتقال کرگئے ہیں تو ایک لمحے کے لئے ہمیں یقین ہی نہیں آیا کہ ایک ایساعظیم فنکاراور شخص جس کی ساری زندگی روتے اور مایوس چہروں کو ہنسانے اور قہقہ بکھیرنے میں گزری وہ اِس پُرآشوپ دور میں دُکھی اِنسانوں کو ہنسنے اور ہنسانے کے حق سے کیسے محروم کرکے جاسکتاہے....مگر اگلے ہی لمحے یہ سوچ کر خود ہی اپنے دل کو تسلی دیتے رہے کہ زندگی کے بعد موت وہ حقیقت ہے جس کو آج تک کوئی جھٹلانے والاپیداہی نہیں ہواہے اور جس نے بھی اپنی زندگی میںموت کی حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش کی ایک نہ ایک دن وہ بھی موت کی آغوش میں چلاگیااور تب جاکراِسے یقین ہوگیاہوگاکہ ہر زندہ شے کو موت آنی ہے اور الحمدُاللہ ہم تو مسلمان ہیں اور ہماراتو ایمان ہی اِس پر ہے کہ ہر زندہ شے ¿ کو ایک نہ ایک دن موت کا ذائقہ ضرور چکھناہے اور بحیثیت مسلمان لیجنڈ فن کار معین اختر جو ایک عرصے سے عارضہ قلب میں مبتلاتھے وہ بھی بالآخر22اپریل 2011بروز جمعہ شام سواپانچ بجے اِسی عارضے میں انتقال کرگئے ۔ اور ہفتہ 23اپریل بعد نماز ظہر اِن کی نماز جنازہ اداکی گئی جس میں اِن کے ہزاروں مداحوں اور فنکار ساتھیوں نے شرکت کی جس کے بعد اِن کی تدفین اِن کی رہائشگاہ سے قریب ہی واقع ماڈل کانونی کے قبرستان میں عمل میں لائی گئی اور مجھ سمیت آپ کو بھی اپنی دعاو¿ںکے ساتھ ساتھ یہ یقین بھی ہوناچاہئے کہ رب کائنات اللہ رب العزت اور اِس کے پیارے حبیب حضرت محمدمصطفیﷺ کے صدقے اور کرمِ خاص سے وہ اِس مرحلے سے بھی آسانی سے گزر ے ہوں گے اورموت کا ذائقہ چکھ کر آج جنت الفردوس میں اُس مقام پر فرائض کردیئے گئے ہوں گے جو اللہ رب العزت اپنے نیک بندوں کو عطافرماتاہے۔ جیساکہ کہاجاتاہے کہ مرکربھی وہی جیتے ہیں جو جینے کے قابل ہوتے ہیںاور اِس میں کوئی شک نہیں کہ مرادآبادبھارت سے ممبئی کے بعد ہجرت کرکے پاکستان کے شہرکراچی آنے والے محمدابراہیم کے یہاں تین بیٹوں اور ایک بیٹی کی ولادت ہوئی جن میں 24دستمبر1950میں پیداہونے والے محمدابراہیم کے سب سے بڑے بیٹے 61 سالہ معین اختر تھے جنہوں نے1967میںامیر امام کے پی ٹی وی سے اپنے پہلے ڈرامے”چور“ سے اپنی فنی زندگی کا آغازکیا جن کا شمار بھی اِن ہی خوش نصیبوں میں ہوتاہے جو مر کر بھی جینے کے قابل ہوتے ہیں ایک اندازے کے مطابق ایک ہزار سے زائد ٹی وی اور اسٹیج ڈراموں اور شوز میں فن کا مظاہر ہ کرنے والے بین الاقوامی شہرت کے حامل ممتاز لیجنڈاداکار ورسٹائل کمپیئر صدارتی اعزازیافتہ معین اختر جو چار عشروں سے زائداپنے ایسے اَن گنت اور منفرد کرداروں سے اُداس چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتے رہے وہ گزشتہ جمعہ کی شام انتقال کرگئے اور پاکستان سمیت دنیابھر میں اپنے لاکھوں اور کڑوروںمداحوں کو روتاچھوڑگئے ۔جیساکہ شہرت کے متعلق ایک بات یقینی طور پر کہی جاتی ہے کہ کسی بھی شخص کو شہرت پلک جھپکتے ہی حاصل نہیں ہوجاتی اِسے حاصل کرنے کے لئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ،اورمجھے یہاں یہ کہنے دیجئے کہ معین اختر جو آج ہمارے درمیان موجود نہیں اِنہیں یہ مقام ایسے ہی نہیں مل گیاتھا اِس کے لئے اِنہیں بھی ا نتھک محنت اور جدوجہدکرنی پڑی تھی ۔ یہاں مجھے فیبرک کا یہ قول یاد آرہاہے کہ موت سب ہی کو آتی ہے لیکن جواچھے کام کرجاتے ہیں وہ زندہ¿ جاویدہوجاتے ہیں اور اِس کے ساتھ ہی یہ بھی کہاجاتاہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی دنیاآپ کو بھول نہ جائے تو کوئی اہمیت والی کتاب لکھیں یا اہمیت کے حامل ایسے کارنامے سرانجام دیں کہ اِنہیں زیرقلم لایاجاسکے اور اِس میں کوئی شک نہیں کہ بحیثیت انسان اورایک عظیم لیجنڈ فنکار کہ معین اختر میں یہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجودتھی۔معین اختر کی شخصیت میں وہ فہم وفراست اور مدبرانہ صلاحتیں موجود تھیں جو صدیوں بعد ہی کسی شخصیت میں موجود ہوتی ہیں وہ اِنسان اور انسانیت میں واضح فرق کرنے والے ایک ایسے اِنسان اور فنکار تھے جنہوں نے اپنے فن اداکاری کے 45سالوں کے دوران اپنی ذات سے کسی بھی شخص کو نہ تو دلی آزاری کا کوئی بہانہ تلاش کیا اور نہ کسی کو ظاہری نقصان کا کوئی وصیلہ ڈھونڈااِن کی شخصیت عالمِ انسانیت کو ہنسنے اور ہنسانے اور اِن کے دکھوں کو بانٹنے اور کم کرنے والی تھی ۔معین اختر کی فن اداکاری نہ صرف اِن کی پہچان تھا بلکہ یہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی گئے اُنہوں نے اپنی اداکاری سے پاکستان کا ایک ایسامثبت اور تعمیری روپ دنیا کے سامنے پیش کیا جس سے پاکستان کا وقار بلند ہوا اوروہ اپنی فن اداکاری سے سفیر پاکستان کا بھی ایک ایسارول پیش کرتے تھے کہ جسے دنیاصدیوں یادکرے گی۔اگرچہ آج اِس لیجنڈ اداکارمعین اختر کے انتقال سے ہمارے یہاںفن اداکاری میں جو خلاپیداہوگیاہے اِسے پُر ہونے میں شائد برسوں لگ جائیں مگر پھر بھی اِس خلا کو و¿جلد پُر کیاجاسکتاہے بشرطیکہ کہ اِس شعبے میں میرٹ اور ٹیلنٹ کو سامنے لایاجائے تو کوئی شک نہیں کہ ہمارے یہاں لیجنڈ اداکار معین اختر کے مداحوں میں اِن جیسے سیکڑوں میرٹ اور ٹیلنٹ موجود ہوں گے جو سفارش اور پرچی نہ ہونے کی وجہ سے ا َب تک اداکاری کے شعبے میں اپنے فن کا مظاہر ہ نہیں دکھاسکے ہیں ۔بیشک معین اختر کا فنی کیریئر اُن لوگوں کے لئے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گاجو اپنی صلاحیتوں سے فن اداکاری میں جوہر دکھانے کے خواہشمندہیں اور اُن لوگوں کے لئے بھی ایک ایسی کھلی کتاب ہے جن کے دل دن رات فن اداکاری میں نت نئے جوہر دکھانے کے لئے متحرک رہتے ہیں ،مگر اِن تمام باتوں کو حقیقی رنگ تب ہی نصیب ہوسکتاہے کہ جب فن سے محبت کرنے اور لیجنڈ اداکار معین اختر کو کُھلے دل سے محبت کرنے اور اِن سے عقیدت کا اظہار کرنے والے سینئیر فنکار اور ہدایت کار خالصتاََ ایسے ٹیلنٹ کو سامنے لائیں جیسے معین اختر نے عمر شریف جیسے ایک عظیم فنکار کو ڈھونڈنکالااور اِن کی ہر موڑ پر حوصلہ افزائی کی ....آج یہی وجہ ہے کہ معین اختر اپنی زندگی میں اپنے جونیئر عمرشریف کو اِس قابل بناگئے کہ عمر شریف اپنے فن اداکاری سے اُن دکھی اور اُداس چہروں پر خوشیاں بکھیرنے کا کام اُسی طرح انجام دے رہے ہیں جس طرح معین اختردیاکرتے تھے۔(ختم شد)

25-04-2011
قرآن کی سائنسی حقانیت اورمرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے سائنسی دعوے..........نعیم ملک•

تحریر: (tonaim08@gmail.com) مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوی ءنبوت سے اب تک انکی حقانیت پرمسلسل بحث جاری ہے جو تحریروتقریر کی قید سے نکل کر اب انٹر نیٹ کی وسیع دنیا میں داخل ہو چکی ہے۔یو ٹیوب جیسی آزادی نے انسان کو سب کچھ اگلنے اور سائبرورلڈ میں پھینکنے کا موقع فراہم کر دیا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ نے حقائق تک پہنچنے کیلئے کئی راستے رکھے ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انہیں تلاش کیا جائے اور ان پر چل کر سچ تک پہنچا جائے۔لہٰذا راقم نے کوشش کی ہے کہ اس بحث میں وہ استدلال اختیار کیا جائے جسے دنیا کے کسی بھی پیمانے پر پرکھا جا سکے اور اسے کوئی بھی نہ جھٹلا سکے۔ راقم کومرزا غلام احمد قادیانی کی متعدد کتابیں پڑھنے کا موقع ملا جن میں کئی قابل اعتراض باتیں سامنے آئیں۔ راقم نے ان اعتراضات کے جواب کیلئے ربوہ (حال چناب نگر) جا کرقادیانی مربّیوں سے تبادلہءخیال بھی کیا۔تسلی بخش جواب نہ پانے اورکسی نتیجے پر نہ پہنچنے کے باوجود میں نے ان کی کتب کا مطالعہ جاری رکھا۔جو شخص مجھے وہ کتب پڑھنے کیلئے دیتا وہ ساتھ یہ بھی کہتا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے سچی نیت کے ساتھ راہنمائی بھی طلب کرتے رہیں۔ اللہ رب العزت کی خاص مہربانی سے اسی دوران مجھے مرزا کی ایسی تصنیف ملی جو خود انہیں جھوٹا ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ میںبالخصوص قادیانی نوجوانوںسےءگذارش کرتا ہوں کہ اگر ہر قسم کے تعصب اور جانبداری سے پاک ہو کر یہی ایک کتاب پڑھ لی جائے تو ایک باشعور انسان بآسانی سچ تک پہنچ سکتاہے۔کتاب کا نام ہے ©©©”چشمہءمعرفت “ ۔ یہ 15مئی2008ءکو مطبع انوار احمدیہ مشین پریس قادیان ضلع گورداسپور نے شائع کی اور میرے خیال میں ہر قادیانی کے گھر میں دستیاب ہوگی۔اگر نہیں تو ان کی ویب سائٹwww.alislam.org پر بآسانی دیکھی اور پڑھی جاسکتی ہے۔اس میں ایسے دلائل ہیں کہ ان سے ہی مرزا غلام احمد قادیانی کا جھوٹ ثابت ہو جاتا ہے۔ کتاب سے چند مندرجات ملاحظہ فرمائیں۔ 1۔ ©©”..........مادہ گوشت سے بھی پیدا ہو سکتا ہے چاہے وہ گوشت بکرہ کا ہو یا مچھلی کا یا ایسی مٹی کا جو زمین کی نہائت عمیق تہہ کے نیچے ہوتی ہے جس سے مینڈکیں وغیرہ کیڑے مکوڑے پیدا ہوتے ہیں۔“ ( چشمہءمعرفت طبع اول قادیان 1908۔۔۔صفحہ 116یاPage-124 on web edition) 2۔.............. "اگر تم مثلاً دودھ کو جو باسی ہو کر سڑنے کو ہے ہاتھ میں لو اور خوب اس دودھ میں نظر لگائے رکھو تو تمہارے دیکھتے دیکھتے ہزارہا کیڑے بن جائیں گے“ ( چشمہءمعرفت طبع اول قادیان 1908۔۔۔صفحہ 117یاPage-125 on web edition) 3۔.........." مثلاً زمین کے نیچے کاطبقہ جو ستّراسّی ہاتھ تک کھود کر پھر دکھائی دیتا ہے اس میں جاندار پائے جاتے ہیں۔" ( چشمہءمعرفت طبع اول قادیان 1908۔۔۔صفحہ 122یاPage-130 on web edition) ......... " -4زمین کی ہر ایک چیز میں ایک جاندار کیڑے کا مادہ موجود ہے۔یہاں تک کہ زنگ خوردہ لوہے میں بھی کیڑا پیدا ہو جاتا ہے۔اور عجیب تر یہ کہ بعض پتھروں میں بھی کیڑا دیکھا گیا ہے۔اور ہر ایک قسم کے اناج اور ہر ایک قسم کے پھل بھی جب بہت مدت تک رکھے جائیں تو ان میں بھی ایک کیڑا پیدا ہو جاتا ہے۔جب انسان موت کے بعد دفن کیا جاتا ہے تو رفتہ رفتہ تمام بدن اس کا کیڑوں سے بھر جاتا ہے۔ اور سب سے عجیب تر یہ کہ ایک مشہور درخت ہے جسے گولر کہتے ہیںاس کا پھل جب تک سبز ہوتا ہے اس میں کوئی کیڑا نہیں ہوتا اور جیسے جیسے پکتا جاتا ہے اسی کے مادہ میں کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں اور جب وہ پھل چیرا جائے تو وہ کیڑے پرواز بھی کر جاتے ہیں۔اور بعض وقت ایک انڈے میں جو بطخ اور مرغی وغیرہ کا ہو جب سڑ جائے تو بجائے ایک بچہ کے صد ہا کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں۔یہ تمام امور دلالت کر رہے ہیں کہ یہ راز ہی اور ہے ۔ یہ وہی راز ہے جس کی بدولت ہم کہتے ہیں کہ” نیستی سے ہستی “ ہوئی ۔©“ ) چشمہءمعرفت طبع اول قادیان 1908۔۔۔صفحہ 131یاPage-139 on web edition) .......... " -5دیکھا گیا ہے کہ جب ایک گلہری کو سوٹے یا پتھر سے مارا جائے اور وہ بظاہر بالکل مر جائے مگر ابھی تازہ ہو توتو اگر اسکے سر کو گوبر میں دبایا جائے تو وہ زندہ ہوکر بھاگ جاتی ہے۔مکھی بھی اگر پانی میں مر جائے تو بھی زندہو کر پرواز کر جاتی ہے اور بعض جانور جیسے زنبور اور دوسرے حشرات الارض سخت سردی میں مر جاتے ہیںاور زمین میں یا دیواروں کے سوراخوںمیں چمٹے رہتے ہیںاور جب گرمی کا موسم آتا ہے تو پھر زندہ ہوجاتے ہیں" )چشمہءمعرفت طبع اول قادیان 1908۔۔۔صفحہ 163-4یاPage-171-2 on web edition) .........." -6 دنیا میں ہزاروں چیزیں نیست سے ہست ہو رہی ہیں مثلاًایک دھات جو بالکل نیست ہوجاتی ہے اور مر جاتی ہے وہ شہد اور گھی میں جوش دینے سے پھر زندہ ہو جاتی ہے۔کسی نے پنجابی میں کیا خوب کہا ہے کہ ”شہد، سہاگہ گھی ۔۔۔۔۔۔موئی دھات دا ایہو جی“ یعنی شہد سہاگہ اور گھی جو ہے مری دھات کی یہی جان ہے©“ ) چشمہءمعرفت طبع اول قادیان 1908۔۔۔صفحہ 163یاPage-171 on web edition) -7 .........." بعض درخت ایسے ہیںکہ ان کے پتوں سے بڑے بڑے پرندے پیدا ہوجاتے ہیں۔ ان میں سے ایک آک کا درخت بھی ہے©۔“ (چشمہءمعرفت طبع اول قادیان 1908۔۔۔صفحہ 269یاPage-282 on web edition) یہ چند مثالیں ہیں ۔ اگرچہ ان کو سمجھنے کیلئے پرائمری سطح کا علم درکار ہے لیکن پھر بھی دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے سچے کلام یعنی قرآن پاک کی کیاشان ہے؟ چودہ سو سال پہلے جب کوئی خورد بین، کوئی دوربین کوئی سائنسی آلات موجود نہ تھے،اللہ تعالیٰ کے امّی نبیﷺ نے لوگوں کو بتایا کہ سورج اور چاند حرکت میں ہیں۔پولینڈ کے سائنسدان نکولس کوپرنیکس (1473۔1543) نے نظریہ پیش کیا کہ” سورج ساکن ہے“ (http://en.wikipedia.org/wiki/Nicolaus_Copernicus) انگریزی ادب نے"The sun is stationary" کو کائناتی سچ (Universal Truth)قرار دے دیاجو اب تک موجود ہے۔ لیکن اب سائنسی تحقیق نے یہ ثابت کر کے قرآن پاک کی حقانیت کو تسلیم کر لیا ہے کہ کائنات کی ہر چیز کی طرح سورج بھی حرکت میں ہے۔ (http://wiki.answers.com/Q/Is_the_Sun_moving) قرآن پاک کی حقانیت کیلئے یہی گواہی کافی ہے کہ فرانس کے عیسائی محقق، سائنسدان ، سرجن ڈاکٹر میورس بیوکائی( Maurice Bucaille1920-1998)نے سالہا سال کی تحقیق کے بعد اپنی مایہ ناز کتاب ” بائبل، قرآن اور سائنس“ میںبرملا تسلیم کیا کہ ”قرآن میں ایک بھی بیان ایسا نہیں جو سائنس کے ساتھ متصادم ہو“ (http://en.wikipedia.org/wiki/Maurice_Bucaille) اب ذرا مرزا غلام احمد قادیانی کے دور کا جائزہ لیں۔ انہوں نے خود دعویٰ کیا ہے کہ؛ ’ ’ انبیا گرچہ بودہ اند بسے ........من بہ عرفان نہ کمترز کسے©©“ یعنی ” انبیا اگرچہ بہت سے گذرے ہیں لیکن میں معرفت میں کسی سے کم نہیں ہوں “ (نزول المسیح طبع اول قادیان ۔۔۔۔صفحہ99 www.alislam.org/urdu/rk/rk-18- 62.pdf) مرزا غلام احمد قادیانی جس دور سے تعلق رکھتے ہیں وہ سائنسی تحقیق اور نت نئی ایجادات کا دور تھا۔ کئی ایجادات منظر عام پر آ چکی تھیں۔وہ خود اسی کتاب کے صفحہ نمبر163پر فونوگراف کا ذکر کر رہے ہیں۔ امریکی سائنسدان 1800ءمیں بجلی دریافت کر چکے تھے۔ 1876ءمیں گراہم بیل ٹیلی فون اور 1908ءمیںمارکونی ریڈیو اور رائٹ برادرز ہوائی جہاز ایجاد کر چکے تھے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ”چشمہءمعرفت “ کی اشاعت سے تقریباًڈھائی سو سال پہلے فرانسیسی سائنسدان فرانسسکو ریڈی (1626-1697) نے ناقابل تردید تجربات کی بنیاد پر یہ ثابت کر دیا تھا کہ جاندار اشیا ءصرف جاندار اشیاءسے ہی پیدا ہوسکتی ہیں اور گلے سڑے گوشت سے کیڑوں کا پیدا ہونا جھوٹ ہے۔ (http://en.wikipedia.org/wiki/Francesco_Red) دراصل فرانسسکو ریڈی نے ارسطو (384BC- 322BC) کے نظریہءحیات (Abiogenesis Theory)کو جھوٹا ثابت کیا تھا ۔ اس نظریے کے مطابق ارسطو کہتے تھے کہ مچھلیاں اور مینڈک آسمان سے گرتے ہیں یا کیچڑ سے پیدا ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح مرزا صاحب ارسطو کی وفات سے تئیس سو سال بعد فرما رہے ہیں۔لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ قرآن پاک جس وقت نازل ہوا اس وقت ارسطو کے نظریات موجود تھے ۔کیا قرآن میں ارسطو کے باطل نظریات کی تقلید ملتی ہے ؟ نہیں۔ جب کہ تمام انبیا ءکرام کی معرفت کا دعویٰ کرنے والے کی زندگی سے بہت پہلے ارسطو کا نظریہ جھوٹا قرار پا چکا تھا۔ یہی نہیں مرزا صاحب تو ارسطو کو بھی پیچھے چھوڑتے نظر آتے ہیں یعنی ٭....دھات کو جاندار وں کی صف میں رکھتے ہوئے اسے مار دیتے ہیں اور پھر شہد، گھی، سہاگہ میں جوش دیکر اسے زندہ بھی کر دیتے ہیں؟ ٭....مری ہوئی مکھی کو زندہ کر رہے ہیں؟ ٭....دیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں کے سامنے سڑے ہوئے دودھ سے ہزارہا کیڑے پیدا ہوتے دکھا رہے ہیں؟ ٭.... آک کے پتوں سے بڑے بڑے پرندے پیدا کرتے ہوئے دکھا رہے ہیں اور ٭.... زمین کے نیچے ستّر اسّی ہاتھ (تقریبا ً120یا 130فٹ) کی گہرائی میںایک اور جاندار طبقے کی نشاندہی بھی کر رہے ہیں؟ دنیا کے تمام ذی شعور انسانوں سے میرا یہ سوال ہے کہ درج بالا اور قبل ازیں دیے گئے ہست سے نیست ہونے والے یہ دعوے کیا درست ہیں؟اگر ہیں تو دنیا کو دکھائیں؟یہ سب کچھ تو ہماری پہنچ میں ہے۔ سڑا ہوا دودھ۔۔۔آک کے پتے۔۔۔۔ مری ہوئی مکھی۔۔۔۔۔ زمین کا نچلا طبقہ۔۔ اور۔۔ تمام دھاتیں۔۔۔۔؟؟ ؟سب کچھ یہاں موجود ہے۔ آئیے ان دعووں کو سچ ثابت کیجئے ورنہ جھوٹ کاساتھ چھوڑیں اور صرف اللہ کی سچی کتاب کو پکڑیں جو چودہ صدیاں بعد بھی ہر جانچ پڑتال سے گذرکر سچ ہی ہے۔ یاد رہے کہ مرزا قادیانی نے یہ کتاب (چشمہءمعرفت ) آریا ءیعنی ہندو مت کے پیروکاروں کے اس دعوے کے جواب میں تحریر فرمائی تھی کہ روح شبنم کی طرح آسمان سے گرتی ہے©۔ وہ رقمطراز ہیں؛ ”پرمیشر کا یہ بیان کہ روح شبنم کی طرح آسمان سے گرتی ہے یہ ایسا جھوٹا اور خلاف واقعہ بیان ہے کہ ایک بچہ بھی اس پر ہنسے گا“ (چشمہءمعرفت طبع اول قادیان 1908۔۔۔صفحہ 122یاPage-130 on web edition) کیا یہ بیانات اس قابل نہیں کہ ان پر بھی بچے ہنسیں؟ اور پھر کیا وہ جھوٹے اور خلاف واقعہ نہیں ؟اگر ہیں تو پھر مرزا صاحب کے بارے میں رائے خود انہی کے الفاظ میں قائم کیجئے۔ ”یہ اصول نہائت صحیح اور سچا ہے کہ جن نبیوں کو قبولیت دی جاتی ہے اور ہر ایک قدم میں حمائت اور نصرت الٰہی انکے شامل حال ہوجاتی ہے وہ ہرگز جھوٹے ہوا نہیں کرتے “ (چشمہءمعرفت طبع اول قادیان 1908۔۔۔Page-378 on web edition) اگر اسکے باوجود سچائی تک آپ نہیں پہنچ سکتے تو پھر غور کریں اس آخری معیار اور کسوٹی پر جو انہوں نے جھوٹے اور سچے کی پہچان کیلئے خود مقرر فرمایا۔اسی کتاب کے صفحہ نمبر335تا336کوبغور پڑھیں۔ مرزا غلام حمد قادیانی اپنے دشمنوںلیکھرام، مسٹرڈوئی،غلام دستگیر، چراغ دین اور سعداللہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ان حضرات نے اپنی زندگی میںمیری ہلاکت کا دعویٰ کیا لیکن وہ خود میری زندگی میںہلاک ہوئے اور اس طرح جھوٹے ٹھہرے۔ اسکے بعد لکھتے ہیں؛ ”...........ہاں آخری دشمن اب ایک اور پیدا ہوا ہے جس کا نام عبدالحکیم خان ہے اور وہ ڈاکٹر ہے اور ریاست پٹیالہ کا رہنے والا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ میں اس کی زندگی میں ہی ۴۔اگست۸۰۹۱ءتک ہلاک ہو جاﺅں گا۔اور یہ اسکی سچائی کیلئے ایک نشان ہو گا۔یہ شخص الہام کا دعویٰ کرتا ہے اور مجھے دجال اور کافر اورکذّاب قرار دیتا ہے۔پہلے اس نے بیعت کی اوربرابر بیس برس تک میرے مریدوں اور میری جماعت میں داخل رہا پھر ایک نصیحت کیوجہ سے جو میں نے للہ اس کو کی تھی مرتد ہو گیا۔نصیحت یہ تھی کہ اس نے یہ مذہب اختیار کیا تھا کہ بغیر قبول اسلام اورپیرویئ آنحضرتﷺ کے نجات ہو سکتی ہے۔گو کوئی شخص آنحضرتﷺ کے وجود کی خبر بھی رکھتا ہو۔چونکہ یہ دعویٰ باطل تھااور عقیدہءجمہور کے بھی برخلاف اس لیے میں نے منع کیا مگر وہ باز نہ آیاآخر میں نے اسے اپنی جماعت سے خارج کر دیا۔تب اسنے یہ پیش گوئی کی کہ میں اسکی زندگی میں ہی۴۔اگست۸۰۹۱ئتک اس کے سامنے ہلاک ہو جاﺅں گا۔مگر خدا نے اسکی پیش گوئی کے مقابل پر مجھے خبر دی ہے کہ وہ خود عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور میں اس کے شر سے محفوظ رہوں گا۔سو یہ وہ مقدمہ ہے جس کا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے بلا شبہ یہ سچ بات ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی نظر میں صادق ہے خدا اس کی مدد کرے گا۔“ (چشمہءمعرفت طبع اول قادیان 1908۔۔۔صفحہ 320تا322یاPage-335-7 on web edition) یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ لیکھرام، ڈوئی،غلام دستگیر، چراغ دین اور سعداللہ ، پانچوں اشخاص نے اپنی زندگی میں مرزا غلام احمد قادیانی کی ہلاکت کا دعویٰ کیا اور پانچوں خود فوت ہو گئے جبکہ مرزاغلام احمد قادیانی زندہ رہا۔تو بقول مرزا صاحب جھوٹا کون ہوا ؟ ۔۔۔جو ہلاک ہوا۔ غور کریں کہ مرزا صاحب پانچ دشمنوں کی مثالیں دیکر تواتر سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ دعوے کے بعد جو شخص دوسرے کی زندگی میں ہلاک ہوا وہ جھوٹا ٹھہرا۔ مرزا صاحب نے نہ صرف یہ معیار خود ہی طے کیا بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ منسوب کرتے ہوئے کہا کہ” مجھے خدا نے یہ خبر دی ہے کہ میں تو زندہ رہوں گا البتہ ڈاکٹر عبدالحکیم عذاب میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جائے گا اور یہ میری صداقت کا ایک اور نشان ہو گا“۔۔۔۔ لیکن ہوا کیا کہ مرزا غلام حمد قادیانی اس دعوے کی اشاعت کے بعد محض دس (10)دن زندہ رہے اور26مئی1908ءکو دنیائے فانی سے کوچ کر گئے جبکہ ڈاکٹر عبدالحکیم1914 ءتک زندہ رہے۔ایک اور حقیقت دیکھئے کہ مرزا صاحب نے خود ہی اللہ تعالیٰ سے فیصلہ بھی مانگاتھا جو اسی کتاب کے آغاز میں صفحہ نمبر2پر یوں چمک رہا ہے؛ ربنا الفتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفا تحین۔(آمین)(سورة الاعراف آیت90) ترجمہ:”اے ہمارے خداہم میں اور ہماری قوم میں سچا فیصلہ کر دے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے“ مرزا غلام حمد قادیانی نے فیصلہ مانگا ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ دے دیا اور انکے اپنے الفاظ میں انہیں جھوٹاثابت کر دیا۔بے شک اللہ تعالیٰ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ اب یہ انکے پیروکاروں پر منحصر ہے کہ وہ یہ فیصلہ مانیں یا نہ مانیں۔ دنیا کے سامنے تو حق ہمیشہ کی طرح واضح ہو گیا ہے۔ پھر جھوٹے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ بھی مرزا غلام حمد قادیانی کی زبانی ہی بہتر رہے گا؛ ”ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔“

18-04-2011
معاشرے میں تبدیلی کیسے ممکن ہے ....شیخ عبدالرشید•

کسی معاشرے میں تبدیلی سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اس معاشرے کی ساری نظم و ترتیب بدل جائے۔ جب فاعل یا کردار اس چیز کو پہچان لیتے ہیں کہ کسی اندرونی جدت یا بیرونی خطرے یا کسی اور دباﺅ کی وجہ سے نظام کا توازن تباہ ہو رہا ہو اور معاشرہ باقی رہنا چاہتا ہو تو اس کے ڈھانچے میں تبدیلی کا آنا ضروری ہے ۔ پاکستان اپنی تاریخ کے سنگین ترین بحران سے دوچار ہے اس بحران کا تعلق ریاست سے بھی ہے اور معاشرے سے بھی۔ ریاستی سطح پر اہم ترین مسئلہ معاشی ہے ملک کے دیوالیہ ہونے کا زبردست خطرہ موجود ہے ۔ سیاسی اداروںکی ناقص کارکردگی اور کمز ور جمہوری روایات کے نتیجے میں چاروں صوبوں میں باہمی اعتماد تیزی سے ختم ہو رہا ہے ۔ اسلحہ کے انباروں سے لیس سیاسی و مذہبی گروہوں نے جرائم اور سیاسی عمل میں تمیز مٹا دی ہے ۔ امن عامہ کی تباہ کن صورتحال نے شہریوں میں عدم تحفظ کا گہرا احساس پیدا کر دیا ہے اس پر طرئہ یہ کہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں ہم روز بروز معاشی ، علمی اور معاشرتی پسماندگی کی دلد ل میںدھنستے چلے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ سماج کی اشد ضرورت ہے کہ معاشی اور سیاسی طاقت کی بنیاد کو وسیع سے وسیع تر کیا جائے ۔ تبدیلی و ترقی کا ایک ایسا لائحہ عمل تیار ہو جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو فائدہ پہنچا سکے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ زندگی کا ایک ایسا انداز تشکیل دیا جائے جو ہمارے افلاس اور معاشی ترقی کی موجودہ صورتحال سے مطابقت رکھتا ہو۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ سرمایہ دارانہ لوٹ مار اور جاگیردارانہ فرعونیت کے حامل ایسے معاشرے میں جہاں لوگ سیاسی فیصلوں میں شرکت سے محروم ہوں اور جس سماج میں ذمہ دار اداروں کو پنپنے ہی نہ دیا گیا ہو اور جہاں معاشی اور سیاسی قوت ایک محدود اقلیت کے گرد گھومتی ہو اور ترقی کا تمام پھل ایک خاص طبقے کے لیے مخصوص ہو وہاں تبدیلی کی بات کرنا مشکل ترین امر ہے ۔ یہ فرض کر لینا کہ معاشرتی تبدیلی آسانی سے کسی معاشرے میں قدم جما لیتی ہے ، درست نہیں ہے کیونکہ سماجی تغیر کو بالعموم خوش آمدید نہیں کہا جاتا بلکہ مخصوص مفادات کے حامل افراد اور گروہ سماجی تبدیلیوں کی راہ میں دشواریاں پیدا کردیتے ہیں ۔ در حقیقت لوگ اپنے طرز زندگی ، خیالات و عقائد اور مواقع و مفادات سے اس قدر وابستہ ہوتے ہیں کہ معاشرے میں کسی قسم کا تغیر و تبدیل پسند نہیں کرتے ۔ چنانچہ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ہر معاشرتی یاسیاسی نظام اس کے سوا کچھ نہیں کر سکتا کہ وہ بعض اقدار اور آدرشوں کو فروغ دے یا ان کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ کسی برگشتہ معاشرے میں تو جمہوریت بھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ جس انداز میں ہمارا جمہوری نظام چلایا جا رہا ہے وہ برگشتگی میں اضافے کا ہی باعث ہے ۔ جمہوریت کا مطلب اگر یہ ہے کہ خود اپنے اعتقاد اور اپنے عزم کا اظہار کرے تو اس کے لیے لازم ہے کہ پہلے لوگوں کے پاس اعتقاد اور عزم ہو۔ ہمارے سماج کے برگشتہ افراد کے پاس آراءاور تعصبات تو ہیں لیکن ایمان اور اعتقاد جیسی شے نہیں، پسند و ناپسند کی چیزیں تو ہیں لیکن عزم موجود نہیں۔ ماہرین عمرانیات کا خیال ہے کہ معاشرے میں تبدیلی قوت کے بل بوتے پر نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی ایک مخصوص جہت میں ہونی چاہیے بلکہ معاشرتی، معاشی، سیاسی اور تہذیبی دائروں میں تبدیلی بیک وقت ہونی چاہئے۔ جو تبدیلیاں کسی ایک دائرے تک محدود رہتی ہیں وہ ہر تبدیلی کے لیے تباہ کن ثابت ہوتی ہیں جس طرح قدیم دور کا انسان فطرت کی قوتوں کے سامنے بے بس تھا اسی طرح جدید انسان ان معاشرتی و معاشی قوتوں کے آگے بے بس ہے جن کو اس نے خود تخلیق کیا ہے ۔ وہ اپنی ہی بنائی ہوئی سماجی اقدار کی پوجا کرتا ہے اور سیاسی و معاشی بتوں کے آگے سجدہ ریز ہے اور ساتھ ہی اس خدا کا نام بھی لیتا ہے جس نے اسے تمام بتوں کو توڑنے کا حکم دیا ہے ۔ ایسی منافقانہ دیوانگی کے مضمرات سے محفوظ رہنے کے لیے صحت مند معاشرے کی تخلیق ضروری ہے ۔ اس معاشرے کو صحت مند بنانے کے لیے ہمیں نئے نصب العین، نئے نظریے او رنئے روحانی مقاصد کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ تہذیب کے ہر مرکز میں زیادہ تر ایک سی بصیرتیں ملتی ہیں۔ ہمیں اپنے اسلاف ، بانیوں اور دینی اکابر کے خیالات تک رسائی حاصل ہے ۔ ہم عظیم اور انسان دوست تعلیمات کے وارث بھی ہیں۔ ہمیں معاشرتی تبدیلی کے عمل کے لیے نئے نظریے کی ضرورت نہیں کہ دانائی سے کس طرح زندہ رہا جاتا ہے ۔ دراصل ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ جن باتوں پر ہم ایمان رکھتے ہیں، جن کی ہم تبلیغ کرتے ہیں اور جن کا درس دیتے ہیں ان کو سنجیدگی سے قبول کریں ۔ معاشرتی تبدیلی یا سماجی بہتری کے لیے ہمارے دلوں کا انقلاب نئی دانش کا متقاضی نہیں بلکہ نئی سنجیدگی اور نئے عزم کا تقاضا کرتا ہے ۔ ہمارے نصب العین یا ہمارے معاشرتی اصولوں یا قدروں کو لوگوں کے دل و دماغ میں بٹھانے کا فرض سب سے پہلے تعلیم نے ادا کرنا ہے اور یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام یہ فرض ادا کرنے کے لیے بہت ہی نا اہل ہے ۔ لہذا اگر ہم کوئی مثبت اور پائیدار معاشرتی تبدیلی لانے کے آرزو مند ہیں تو ہمیں اپنی تعلیم کو تبدیل کر کے بہتر بنانا ہو گا ۔ وقت آگیا ہے کہ روشن مستقبل کے لیے حقیقی تعلیم کا چراغ جلائیں ۔ معلومات کا سیلاب اور ڈگریوں کا انبار معاشرتی تبدیلی کا ضامن نہیں ہو سکتا ۔ تعلیم کے ذریعے تبدیلی ہی حقیقی معاشرتی تبدیلی ہوگی۔

18-04-2011
بھٹو ریفرنس کی مخالفت کیوں؟..........روف عامر پپا بریار•

قائد عوام زیڈ اے بھٹو نے23مارچ1979میں موت کی کوٹھی سے اپنے وکلا کے توسط سے قوم کوچشم کشا پیغام بھجوایاکہ بذدل اور بے حس قوم کے بہادر لیڈر کا انجام اسی طرح ہوتا ہے۔ صدر مملکت زردای نے کروڑوں پاکستانیوںکے30 سالہ امنگوں ترنگوں اور خواہشات کی روشنی میں بھٹو کیس کا ریفرنس عدالت عظمی میں دائر کردیا۔ بھٹوز قبرستان گڑھی خدا بخش میں قائد عوام کے مزار کا حسن تاج محل سے کم نہیں۔ تاج محل اگرہ کے شہزادوں اور مغل شہنشاہوں کے نام تک ازکار رفتہ ہوچکے مگربھٹوز کے تاج محل میں ایسی کوئی طلسماتی کشش موجود ہے جو27 دسمبر اور4 اپریل کو ہر سال لاکھوں دیوانوں اور فرزانوںکو لاڑکانہ پہنچنے کی ترغیب دیتی ارہی ہے۔ اگرہ محل دنیا کا ساتواں بڑا عجوبہ ہے جہاں سیاح سیرسپاٹے کے لئے حاظری دیتے ہیں مگر گڑھی خدا بخش کے تاج محل پر سارا سال عرس جاری رہتا ہے۔ دنیا کے ہر کونے سے ہزاروں لوگ اگ برساتی گرمی کے باوجود یہاں خراماں خراماں اور شاداں فرحاں در اتے ہیں۔قائد عوام کے پیروکار تاج محل کی سیر کی بجائے بھٹوز کی درخشندہ قربانیوں کو سلام کرنے اتے ہیں۔ جمہوری لغت میں اسے سیاسی عمرہ کہنا غلط ہے۔ سیاست گردوں کو کامیابی کے لئے سیاسی عمرے کرنے چاہیں۔ بھٹوز کے تاج محل کی حکمرانی اج بھی عوام کے دلوں پر راج کرتی ہے۔ چاندنی راتوں کی روشنی میں میلوں دور تک سحرانگیز نظاروں کو دیکھر چاند بھی شرمانے لگتا ہے۔ زرداری نے بھٹو کیس کا ریفرنس دائر کرکے ایک اور تابناک کارنامہ سرانجام دے دیا۔ بھٹوازم کے خوشہ چین ملکی و غیر ملکی جانثار اور پی پی کے لاکھوں مریدین 30 سالوں سے حسرت و یاس میں مبتلا تھے کہ عدلیہ بھٹو کیس ری اوپن کرے۔ کیس کی دوبارہ شفاف تحقیق اور فوری سماعت کا بندوبست انصاف کی سربلندی کی خاطر ناگزیر ہے تاکہ بھٹو پر قتل اور غداری کے بھونڈے فرضی اور مشرکانہ الزامات کا خاتمہ ہوسکے۔ فوج اگر روز اول سے اپنی ائینی حدود سے تجاوز نہ کرتی تو یہ حقیقت نوشتہ دیوار تھی کہ پاکستان میں نہ تو ایک طرف منتخب پرائم منسٹر بھٹو کی جمہوری سرکار پر شب خون مارا جاتا اور نہ ہی دوسری طرف نواز شریف کو زلیل اور رسوا کن انداز میں جلاوطنی کی صلیب پر لٹکایا جاتا ۔ اگر ایوب خان پہلی ڈکٹیٹرشپ مسلط نہ کرتے تو مشرقی پاکستان اج بنگلہ دیش نہ ہوتا۔ یوں غربت بے روزگاری دہشت گردی استحصالی قوانین رشوت ستانی سیاسی و معاشی انقلاب کے تناظر میں پاکستان کی تقدیر کا نقشہ اجءمختلف ہوتا۔32 سالوں بعد ڈاکٹر بابر اعوان کا تحریر کردہ ریفرنس13 اپریل کو چیف جسٹس سپریم کورٹ کے بنچ میں دائر ہوچکا ہے۔ وزیرقانون کے ڈرافٹ کردہ ریفرنس کو حرف بحرف پڑھا جائے تو ہماری سوچ دو ہزار سال پرانے یونان کے صحراوں میں بھٹکنے لگتی ہے جبکہ ہماری انکھوں کے سامنے عظیم دانشور سوفوکلیز اسکائی لیس اور یوریپیڈ اجاتے ہیں جو یونان میں میلوں ٹھیلوں اور سرکسوں میں عوام کو تفریح مہیا کرنے کی خاطر ڈرامے تحریر کیاکرتے انکی تحریریں اور سکرپٹ تاریخ کے ماتھے پر جھومر کی شکل میں کندن ہیں۔ ڈراموں اور سکرپٹس کو دو ہزار سال بعد پڑھا جائے تو جسم و جان میں سنسنی اور ہیجان سازی کا کرنٹ دوڑنے لگتا ہے۔ یونان کے بادشاہ ایڈی پس پر گزرنے والے المیے پر لکھے جانے والے ڈرامے کے بعد ایک یونانی نے سوال داغاکہ کیا ٹریجڈی بڑے ادمیوں کے لئے مختص ہے؟ کیا غم و الم اور دکھ درد بادشاہوں پر ہلہ بولتے ہیں۔ عام ادمی کی ٹریجڈی پر کوئی قلمار اپنے فن کا مظاہرہ کیوں نہیں کرتا اور رعایا میں سے ایک ادھا شخص انسو کیوں نہیں بہاتا؟ سوال کے خوبصورت جواب سے نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔۔ ٹریجڈی بڑے ادمیوں اور ہیروز پر گزرتی ہے۔ عوام جب اپنے محبوب رہنماوں کو عام افراد کی طرح مصائب و الام اور دکھ درد جھیلتے ہوئے دیکھتی ہے تو تب انکھوں کے ندی نالے بہنے لگتے ہیں۔ یونان کے بادشاہ ایڈی پس نے اپنے باپ کو قتل کیا اور یونان کا دیوتا بن گیا۔ دیوتا کے ضمیر میں برسوں بعد ندامت کیا ارتعاش دوڑا تو اس نے تلوار سے اپنی انکھیں نکال دیں۔ اندھا بادشاہ اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر اپنی ریاست کی حدود سے جلاوطن ہوگیا۔ قائد عوام بھٹو کی ٹریجڈی ایڈی پس کے دکھڑوں سے نہیں ملتی مگر دونوں کا درد ایک ہی تھا۔ ریڈی پس کی کہانی اس حقیقت کو اشکار کرتی ہے کہ کسی انسان کا خون رائیگاں نہیں جاتا اور معاشرہ خون ناحق کا خراج بھی ادا کرتا ہے۔ بھٹو کا خون بھی عدالت سمیت سترہ کروڑ پاکستانیوں کی گردن پر قرض کی مشکل میں موجود ہے جو انصاف کا طلبگار ہے۔ بھٹو کا خون کرنے والے جلادوں نے عوام کو ایک ایسی تاریکی گلی میں دھکیل دیا جہاں باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ بھٹو کی پھانسی تاریخ عالم کا اہم ترین المیہ ہے کیونکہ بھٹو کی بغل میں سانپ بنکر دودھ پینے والوں نے اسے جلاد کے سپرد کردیا۔ یہاں ایک فلم کا تذکرہ ضروری ہے فلم کا نام GENERAL DAUGHTAR ہے جسکا لب لباب یہ ہے۔ کسی بھی انسان کے لئے سب سے بڑا ہولناک اور تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہے جب اس پر یہ بھید کھلتا ہے کہ جن شخصیات پر وہ عمر بھر اعتماد کرتا رہا وہی میر جعفر کے روپ میں اسکے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔ بھٹو محسن قوم تھے جسے پھانسی دینا واقعہ کربلا کے بعد دوسرا غمناک سانحہ ہے۔ ریفرنس کی مخالفت کرنے والے عقل کے اندھے اور گانٹھ کے پورے ہیں۔ وہ یا تو عقل سے پیدل ہیں یا پھر انہیں دماغی کینسر ہے۔ بھٹو کی پھانسی کے وارنٹ پر دستخط کرنے والے جج نسیم حسن شاہ نے کھلے بندوں ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سر خم تسلیم کرلیا کہ بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ غیر منصفانہ تھا۔ اپنی قابلیت جھاڑتے ہوئے وہ زرہ زیادہ ہی بہک گئے ۔ جسٹس نسیم کی زبان سے ایک اور سچ بھی ٹپک پڑا کہ ججز پر جرنیلوں کا دباو تھا۔ پاکستانی قوم نے بھٹو کے خون کی کتنی بڑی قیمت ادا کی ہے جسکا خیال بھی رونگٹے کھڑے کردیتا ہے۔ اس امر کا اندازہ بھٹو دور کے بعد شروع ہونے والے مارشلائی دور میں لسانیت دہشت گردی اور انتہاپسندی کے ناسور سے کیا جاسکتا ہے۔شدت پسندی اور طالبان کی بربریت نے پاکستان کے سکون و امن کو تہہ بالہ کررکھا ہے۔ چیف جسٹس افتخار پاکستان کو اللہ تعالی نے زریں چانس عطا کیا ہے کہ وہ اپنی عدالت میں پیش رو ججز کی بھٹو کے ساتھ برتی گئی بے رحمی اور ظلمت کا قلع قمع کریں۔سپریم کورٹ کوئی ایسا فیصلہ دے کہ بھٹو کی پھانسی کے بعد شروع ہونے والی خون کی ہولی اور نفرت کا خاتمہ ہو۔ عادل نوشیرواں کا جملہ ہے اگر بے گناہ شخص کو پھانسی دے دی جاتی ہے تو وہقومی جرم بن جاتا ہے اور جہاں قومی جرائم کی بھرمار ہو تو وہاں انسان دکھائی دینے والے انسان نہیں ہوا کرتے۔ عدلیہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ بھٹو کیس کا جلد ازجلد دہ ٹرائل کرے۔ بھٹو پر لگائے گئے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ بھٹو کو اسکی تابناک خدمات کے حوالے سے قومی ہیرو کا درجہ دیا جائے۔ یاد رہے ہیروز کی قدر نہ کرنے والے چاہے جرنیل ہوں یا جج بیوروکریٹ ہوں یا سیاسی رہنما انہیں فطرت یذداں کی جانب سے جلد یا بادیر زلت و رسواکن عذاب سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ پاکستانی قوم کو بھٹو کے ابتدائیہ جملے پر غور کرکے اپنا احتساب کرنا ہوگا۔ بحیثت قوم ہم بھٹو فیملی کے مجرم ہیں اگر ہمارے سینے میں دھڑکنے والا دل ہوتا تو پورا ملک4 اپریل1979 میں سر بکف ہوکر سڑکوں پر نکل اتے تو مصر کے ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی طرح ضیائی غنڈے بھی چند گھنٹوں میں جوتیاں چھوڑ کر فرار ہوجاتے

18-04-2011
ترجمان.....طارق حسین بٹ•

اگر ہم تاریخ کے اوراق کا بغور مطالعہ کریں تویہ حقیقت اظہر من ا لشمس نظر آتی ہے کہ دنیا میں ہر دور میں طبقاتی خلیج نے انسانوں کے درمیان نفرتوں کو جنم دیا۔ باہمی جنگ و جدل کی راہیں ہموار کیں، انقلاب کی بنیادیں رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا اور تخت نشینوں کو خاک نشین ہونے پر مجبور کیا ۔بادشاہوں، راجہ مہاراجوں اور سرداروں کی چیرہ دستیوں اوربے انصافیوں نے مظلوموں کو بغاوت پر آمادہ کیا اور ایک د فعہ جب مجبو رو مہقور لوگ بغاوت کی مشکل اور جان لیوا راہ پر چل نکلے تو پھر ان کے ہاتھوں سے بادشاہت کے سارے بت پاش پاش ہو تے چلے گئے۔ انقلاب کی ان ساعتوں میں نہ زارِ روس بچتا ہے اور نہ شاہِ ایران کی اڑھائی ہزار سالہ بادشاہت کے جاہ و جلال کو کہیں سر چھپانے کو جگہ ملتی ہے ۔ چیانگ کائی شیک ماﺅ زے تنگ کے لانگ مارچ سے خوف زدہ ہو کر تاج و تخت چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے انقلابِ فرانس رﺅسا اور اشرافیہ کے قتلِ عام کے بعد دنیا کی نئی صورت گری کرتا ہے اور جمہو ریت کی نئی اور حسین صبح سے انسانیت کے چہرے کو تابندگی، تازگی اور روشنی عطا کرتا ہے۔۔ تاریخ کے صفحات اس بات کے گواہ ہیں کہ آہنی زنجیروں میں جکڑے ہوئے بے بس اور مظلوم عوام نے اپنے لہو سے جبا رو قہار حکمرا نوں کے اقتدار کے سورج کا خاتمہ بھی کیا اور انھیں عبرت کی مثال بھی بنا یا۔آزادی ، انسان دوستی اور تکریمِ انسانیت کے سرفروش بڑی بڑی آزمائشوں سے گزرے تب کہیں جا کر آزادی کی وہ صبح انسانیت کا مقدر بنی سکی جس میںا اس کے عزت و احترام سے رہنے کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ میں کارل مارکس کے اس نکتہ نظر سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہماری دنیا در حقیقت دو طبقات کے درمیان بٹی ہو ئی ہے اور ان کی باہمی آویزش کی دلخراش داستان ہی اصل میں حقیقی تاریخ ہے۔ ایک طبقہ بے سہاروں کا طبقہ ہے جن کے حقوق کو غصب کیا گیا ہے اور دوسرا طبقہ غاصبوں کا طبقہ ہے جس نے یہ حقوق غصب کئے ۔تاریخ ہمیں انسانی معاشرے میں ایسے حکمرانوں سے متعارف کرواتی ہے جن کا واحد مقصد انسانوں کو اپنے پنجہ¾ِ استبداد میں جکڑنا اور انھیں اپنی غلامی پر مجبور کرنا تھا۔حصولِ اقتدار اورہوسِ زر پرستی میں لتھڑے ہو ئے اس طبقے میں انسانی جذبے یوں مفقود ہوتے ہیں جیسے لاش کے اندر زندگی کے آثار اور جسم کے اندر روح کی عدم موجودگی۔ ان کے لئے اصول و ضوابط اور عدل و انصاف کے سارے نعرے فریبِ نظر کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتے ۔ زندہ انسانوں کو دیواروں میں چنوا دینا اور وحشی درندوں کے سا تھ ان کی موت کے مناظر سے لطف اندوز ہو نے کی داستانیں سفاک اور بے رحم حکمرانوں کے ہاتھوں سے ہی سر انجام پا تی ہیں لیکن عجیب اتفاق ہے کہ ایسے سفاک اور درندہ صفت حکمرانوں کا عبرت انگیزانجام بھی انہی مجبورو مہقور عوام کے ہا تھوں مکمل ہوتا ہے جنھیں وہ ا پنے پاﺅں تلے روند کر مسحور ہوا کرتے تھے۔۔ ان دو طبقات کے درمیان باہمی آویزش کی داستان سے تاریخ کے صفحا ت بھرے پڑے ہیں۔ مختلف مکتبہ فکر اور سوچ کے حامل انسانوں کے درمیان مفا دات کا ٹکراﺅ ہی انسانیت کی پوری تاریخ کو اپنی گرفت میں لئے ہو ئے ہے۔ پرانے زمانوں میں قیصر کی بادشاہت کے تصور نے انسانوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا تھا۔مذہبی پیشوائیت نے بھی قیصر کے تصور کو آگے بڑھانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا کیونکہ قیصر کو ظلِ سبحانی کہنے سے ان کے اپنے مفادات بھی پورے ہو تے تھے۔ مذہبی پیشوائیت اور قیصر کے باہمی گٹھ جوڑ نے انسانی آزادیوں کو سلب کرنے اور انھیں ظلم و جبر کی آہنی زنجیروں میں جکڑنے میں کو ئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی اور اگر میں یہ کہوں کہ مذہبی پیشوائیت نے بنیادی انسانی حقوق کو سلب کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا تو بے جا نہ ہو گا۔ مذہب کی آڑ میں جورو ستم کی جس بے رحما نہ روش کو رو بعمل لایا گیا اس کے تصور سے انسانیت کا کلیجہ کانپ جاتا ہے ۔سائنسدانوں، حکما، فلاسرز، دانشوروں اور ادبا کو زندانوں کی تنگ و تاریک کوٹھریوں کے حوالے کیا گیا اورانھیں انسانیت سوز سزا ئیں سنا ئی گئیں لیکن ان مشاہیر نے انسانی آزادیوں کے اپنے تصور سے سرِ مو انحراف کرنے سے انکار کر دیا۔انھوں نے اپنے لہو کی سرخی سے آزادی کے جس باب کو رقم کیا بعد میں آنے والی نسلیں ان کے انہی کارناموں پر بجا طور پر فخر بھی کر رہی ہیں اور اس میں انسانیت کی نجات کی راہیں بھی تلاش کر رہی ہیں۔۔ اس میں شک و شبہ کی مطلق کوئی گنجائش نہیں کہ یہ انہی عظیم دانشوروں اور حریت پسندوں کی جدو جہد کا ثمر ہے کہ دنیا جمہو ریت سے روشناس ہو ئی اور قیصر کی بادشاہت کے تصور کو حرفِ غلط کی طرح مٹا یا گیا۔مغرب نے جمہوری قدروں کو اپنانے اور شحصی آزادیوں کے نئے دور کا آغاز کیا۔ ووٹ کی طاقت سے حکومت سازی کے نئے نظام سے دنیا روشناس ہوئی اور عوام کی رائے کی طاقت کو تسلیم کیا گیا۔ یور پی اقوام نے امورِ مملکت میں مذہب کی اجارہ داری کا خاتمہ کر کے نئے جمہوری تجربے سے فائدہ اٹھا تے ہوئے اپنے سارے معاملات کو درست کر کے علم و آگہی اور ترقی کی نئی بنیادیں رکھیں اور سائنس کی حیرت انگیز قوت سے پوری دنیا پر اپنا تسلط قائم کر لیا ۔توہمات کا شکار قومیں آج بھی تذبذب کا شکار ہیں اور دو راہے پر کھڑی اب بھی کسی غیبی اشارے کی منتظر ہیں۔ کچھ قو میں مذہبی پیشن گوئیوں پر یقین کی عمارت تعمیر کر کے کسی آنے والے کے انتظار میں فکرو عمل سے عاری ہو چکی ہیں ۔ زندگی کی حرارت ان کی روح سے مفقود ہو چکی ہے اور وہ صرف پتھر کے ایسے مجسمے ہیں جو دلکش تو ہو سکتے ہیں لیکن جو حرکت کرنے سے معذور ہو تے ہیں کاش کوئی ان اقوام کو بتا سکے کہ زندگی انتظار کی بھول بھلیوں سے نہیں بلکہ عمل کے بیلچے سے د ھر تی کا سینہ چیر کر اس میں چپھے خزانوں کی مالک بنا کرتی ہے۔ آتی ہے دمِ صبح صدا عرشِ بریں سے۔۔کھویا گیا کس طرح تیرا جوہرِ ادراک مہرو مہ و انجم نہیں محکوم تیرے کیوں۔۔کیوں تیری نگاہوں سے لرزتے نہیں افلاک (ڈاکٹر علامہ محمد اقبال) اسلامی ممالک کی اکثر حکومتیں آج بھی اسی ملوکیت کی تراشیدہ راہوں پر گامزن ہیں اور شخصی آزادیوں کے حوالے سے رجعت پسندانہ خیا لات کی حامل ہیں جو قدیم زمانے میں بادشا ہوں کا طرہِ امتیاز ہوا کرتا تھا۔مذہب کے نام پر استحصال کی نئی راہیں کھول کر لوگوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے اور ان کا قائم کیا ہوا اقتدار نسل در نسل منتقل ہو تا رہتا ہے۔۔کسی کو آزادیِ اظہار کا حق حاصل نہیں ہے اورجو کوئی بھی ان کے اندازِ حکمرانی پر تنقید کرتا ہے ریاست کی طاقت اسے ملیا میٹ بھی کر تی ہے اور اسے اذیت ناک انجام سے بھی دوچار کرتی ہے۔ عجیب اتفاق ہے کہ یہ سب کچھ مذہب کے نام پر روا رکھا جاتا ہے حالانکہ اسلام نے بحیثیتِ دین کبھی بھی ملوکانہ اندازِ فکر کی حمائت نہیں کی اور نہ ہی اس طریق کو جائز قرار دیا ہے، اسلام تو برابری اور مساوات کا مذہب ہے انسانی رواداری اور برداشت کا مذہب ہے ۔ عدل و انصاف کا مذہب ہے اور تکریمِ انسانیت کا سب سے بڑا داعی ہے جس کے ہاں فقرو فاقہ،توکل اور قناعت کو بڑا بلند مقام عطا کیا گیا ہے ۔قیصر و کسر ی کے جس استبداد کو اسلام نے اپنے سنہری اصولوں اور آفاقی پیغام سے ملیا میٹ کیا تھا مذہبی پیشوائیت نے اسی اندازِ حکمرانی کو جائز قرار دے کر اسلام کے اجلے دامن کو داغدار کر رکھا ہے۔۔ خود طلسمِ قیصری و کسری شکست۔۔خود سرِ تختِ ملو کیت نشست تا نہالِ سلطنت قوت گرفت۔۔دینِ او از ملوکیت گرفت (ڈاکٹر علامہ محمد اقبال) وہ مسلمان ممالک جہاں پر ملوکیت نہیں ہے وہاں پر فوجی ٹولے نے اقتدار پر قبضہ کر کے عوام کو اپنا یرغمال بنا ر کھا ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک اور پاکستان ایسے فوجی شب خون کی کھلی مثا لیں ہیں۔پاکستان جس نے ایک شاندار جمہوری جدو جہد سے تخلیقِ پاکستان کا معجزہ سر انجام دیا تھا اس کے ہاں فوجی شب خون کی داستان بڑی عجیب و غریب لگتی ہے لیکن سچ یہی ہے کہ پاکستان میں فوجی حکومتیں اور شب خون معمول کے واقعات ہیں اور فوج کی حاکمیتِ اعلی سب سے فائق مقدم اور بلند مقام پر متمکن ہے۔ جس کسی نے بھی فوج کی اتھا رٹی کو چیلنج کرنے کی کوشش کی اسے عبرت انگیز انجام سے دوچار کیا گیا۔ سرِ دار کھیچ دیا گیا ، سرِ عام قتل کر دیا گیا اور عوام کے جمِ غفیر کے درمیان موت سے ہمکنار کر دیا گیا کس میں اتنی ہمت ہے کہ وہ قتل کی ان سازشوں کے سرغنوں کا نام سرِ منبر لے سرِ محفل لے۔ آنکھیں قاتلوں کو روز اپنے سامنے دیکھتی ہیں روز ان سے دوچار ہو تی ہیں ہر روز ان سے اظہارِ نفرت کرتی ہیں ہر روز ان سے انتقام کی خو پالتی ہیں اور ہر روز سر بستہ راز وں سے پردہ اٹھانے کی قسم کھاتی ہیں لیکن پھر سب کچھ مصلحتوںکی اندھی کھائی میں گر جاتا ہے اورذا تی مفادات سچائی کی کھوج پر مقدم ہو جاتے ہیں یہی روزِ اول سے ہو تا آرہا ہے اور یہ اسی طرح جاری و ساری رہے گا تا وقتیکہ کو ئی بڑا قائد موت سے بے پرواہ ہو کر اس روائت سے بغاورت کرکے مخصوص فوجی ٹولے کی قوت کو للکارے اور سچی ،کھری اور اصلی جمہوریت کا تحفہ عوام کو دے لیکن ہنوز دہلی دور است کے مصداق ایسا ہو نے کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں ۔۔ پاکستان میں مارشل لا آتے رہے مخصوص سیاستدان اس کے ساتھی بنتے گئے اقتدار کے مزے لوٹتے رہے اور ہر آمر کے جانے کے بعد نئے آمر کے خوشہ چین بن کر جمہوریت سے اپنی وابستگی بھی قائم رکھتے رہے۔۵ جولائی ۷۷۹۱ پاکستانی تاریخ میں ایک ایسا دن ہے جس دن جنرل ضیالحق نے آئینی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا لیکن عوامی امنگوں کے ترجمان اور امین ذولفقار علی بھٹو نے اس مارشل لا کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا۔ ذولفقار علی بھٹو پرسیا ست سے دست برداری اور جلا وطنی کے لئے دباﺅ ڈالا گیا لیکن اس نے کسی بھی دبا ﺅ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔ اس نے آئین کی دفعہ چھ کے تحت جنرل ضیا الحق پر آئین سے بغاوت کا مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی دے دی جس کے جواب میں جنرل ضیا الحق نے اسے قتل کے ایک مقدمے میں ملوث کر کے ۴ اپریل ۹۷۹۱ کو سپریم کورٹ سے بزورِ قوت اس کی پھانسی کا حکم صادر کروا کے اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے را ستے سے ہٹا دیا۔ ذولفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ سورج مشرق کی بجا ئے مغرب سے طلوع ہو سکتا ہے لیکن ذولفقار علی بھٹو عوام کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتا۔ اس نے اپنے وعدے کی صداقت پر اپنی جان کو نچھاور کر دیا لیکن عوامی حا کمیت کے اپنے فلسفے سے رو گردانی نہیں کی۔ اس نے سرِ دار جھول جانے کو ترجیح دے کر ایک آمر کے ساتھ سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا اور تا یخ کے سینے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر ہو گیا ۔ عوام کو اس کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ آج اس کی شہادت کہ بتیس سال گزر جانے کے باوجود بھی اس سے عوام کی محبت اور چاہت میں رتی برابر بھی کمی نہیں آئی اور سیاست کا چمن آج بھی اسی کے نام سے آباد ہے۔ کیا کوئی ہے جو اس قائم کردہ روائت کا علم تھام کر خفیہ ہاتھوں کی کارستانیوں کو روکے اور عوامی امنگوں کا حقیقی ترجمان بنے اور شہیدِ جمہو ریت کے نقشِ قدم پر چل کر عوامی حاکمیت کے اجلے تصور کو عملی تعبیر عطا کرے تاکہ پاکستان میں فوجی شب خون کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں اور پاکستانی قوم جمہوریت کے ان ثمرات سے بہرہ ور ہو جو وجہِ تخلیقِ پاکستان بنی تھی۔۔ میرے بغیر کون تھا منصورِ عصرِ نو۔۔رسمِ وفا کا اور طلب گار کون تھا بھٹکا ہوا تھا قافلہ صحرائے درد میں۔۔دیکھو ذرا تو قافلہ سالار کون تھا (ڈاکٹر مقصود جعفری )

18-04-2011
چوہدری نثار علی کاخطاب! .... ایک آئینہ ہے حکمرانوں کے لئے..... محمداعظم عظیم اعظم•

گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف چوہدری نثار علی خان نے صدر کے خطاب پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپنے خطاب میں جس شعلہ بیانی کا مظاہرہ کیا ہے یقینی طور پر ا یساانداز ِبیاں اپنانے پر یہ پوری قوم سے د اد وصول کرنے کے مستحق ہیں کیوں کہ قوم اِن کے اِس خطاب کے بعد بڑی پُراُمید ہے اِس لئے کہ چوہدری نثار علی خان نے اپنے خطاب میں جو کچھ کہا وہ حکمرانِ وقت کے لئے ایک ایسے صاف وشفاف آئینے کے مانند ہے جس سے حکمران اپنااحتساب کرناچاہیں تو کرسکتے ہیںا وراِس کے ساتھ ہی یہ کہنے میںمجھے ذرابرابر بھی عار محسوس نہیں ہورہی ہے کہ بقول شاعر ہم نے شعلوں کو شراروں کو بہت دیکھاہے ہم نے تقدیرکے ماروں کو بہت دیکھاہے اَب تمّناّہے کہ دورِ گلِ خنداں آجائے ہم نے افسردہ بہاروں کا بہت دیکھاہے باوجوداِس کے کہ آج چوہدری نثارعلی خان جو قائدحزبِ اختلاف بھی ہیںاور اِس ناطے یہ اپنی اُن ذمہ داریوں کا حق کچھ بہتر انداز سے کبھی کبھار اداکرتے رہتے ہیں ورنہ اکثروبیشتر اِن کی سیاست بھی کسی کنوئیں کے مینڈک کی طرح لگنے لگتی ہے خاص طور پر سندھ کی سیاسی جماعتوں جیسے حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے متعلق جب بھی اِنہوں نے اپنی زبان کھولی اور لب ہلائے ہیں تو ہربار اِنہوں نے اِن کی خصوصیات کے برعکس ہی کہاہے جب ہی تو ہم نے اِن کے سیاسی تدبرکو کنوئیں کے مینڈک سے تعبیرکیاہے کیوںکہ ہمیں تو ایساہی محسوس ہوتاہے یہ اور اِن کی جماعت والوں کے خیالات اور سوچیں سندھ کے حوالے سے ایسے ہی ہیںجیسے کنوئیں کے مینڈک ........ بہرکیف!اِس سے قطع نظر کہ یہ حقیقت ہے کہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں اپنے عہدے کا پاس رکھتے ہوئے جس انداز سے کھل کر 22مارچ کی صدرمملکت کی مشترکہ پارلیمانی تقریر پر بحث کرتے ہوئے جو کچھ کہاوہ اِن کی نہ صرف سیاسی پختگی کا بین ثبوت ہے بلکہ اِن کا یہ اندازاُس اعلیٰ ظرفی کا بلند پایہ مظہر ہے جوہمارے یہاں بہت کم قائد حزبِ اختلاف کے حصے میں آیاہے۔کیونکہ اِن کے خیالات نے آج یہ بھی ثابت کردیاہے کہ اِن جیسے جن لوگوں کے ذہن میں اچھے خیالات آباد ہوتے ہیں وہ کبھی بھی تنہانہیں ہوتے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ قائدحزبِ اختلاف ایک نڈر اور بیباک سیاستدان ہیں وہ کسی بھی معاملے میں کھل کر کہنے کی خدادادصلاحیت رکھتے ہیںاوراِس کے علاوہ یہاں ہم یہ بھی بتاتے چلیں کہ چوہدری نثار علی خان کسی کے خیالات کو اپنے خیالات سے پوری طرح شکست دینے کے بھی سیاسی میدان میں بڑے ماہر جانے جاتے ہیں اِس ہی لئے تو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے اِنہیں قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف کے لئے اِن کا چناو¿ کرکے ہر حکومتی معاملے میں جا بجا نکتہ چینی کرنے اور تنقیدکرنے کی ذمہ داری اِنہیں سونپ کرحکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنے والا اِنہیںایک کامیاب قائد حزب ِ اختلاب بنادیاہے ۔جبکہ یہاں ہماراخیال یہ ہے کہ ہوناتو یہ چاہئے تھاکہ اِس لولی لنگڑی جمہوری حکومت کے صدر کے خطاب پر بحث کچھ اِس طرح کی جاتی کہ صدر بھی خوش ہوجاتے اور چوہدری نثار علی خان کاصدر کی تقریر پر بحث کا شوق بھی پوراہوجاتااِنہیں صدر کی گھسی پٹی تقریر پر یوں ولولہ انگیزبحث کرنے کا اِن سے کہیںزیادہ فائدہ صدر اور اِن کی جماعت کو پہنچاہے جس سے صدراور اِنکی تقریرکی اہمیت اوربڑھ گئی ہے جبکہ اِس موقع پر قائدحزبِ اختلاف کے لئے ہمارامشورہ شاعر کے اِس شعر کی شکل میں ہے کہ ضبط کہتاہے ابھی رکھیئے زباں کو خاموش دردکہتاہے کہ ہونٹوںکے دریچے کھولو دل کا ارشاد کرو رسم ِ وفا کی باتیں حق کا فرمان محبت کے صحیفے کھولو جبکہ ہم ایک مرتبہ پھریہی کہیں گے کہ چوہدری نثار علی خان نے صدر کی تقریر پر بحث کرکے جہاں اپنا بحث کا شوق اور جنون پوراکیاتو وہیں اُنہوں نے ایوان کا وقت بھی ضیاع کیا کیونکہ وہ دوسری طرف اپنی اِس بحث سے قوم کو یہ بتانے اور جتانے کی بھی کوشش کرتے رہے کہ خدایاقوم اَب ہمیں فررینڈلی اپوزیشن کا طعنہ نہ دے اِس لئے کہ ہم اَب حکومت کے ہر معاملے میں کھل کر کہنے اور سُنانے کی ہمت رکھتے ہیں جیسا گزشتہ دنوںایوان میں صدر کی تقریر پر بحث کرکے اِنہوں اپناموقف عوام کی عدالت میں پیش کیاہے۔اگرچہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے حکمرانوں کو مسندِاقتدار سنبھالنے سے پہلے اِس اہم ذمہ داری کو خوش اسلوبی سے نبھانے کی تربیت بھی حاصل کرلینی چاہئے تھی تاکہ یہ اپنی نااہلی کے باعث ایسی کسی بھی ناقص کارکردگی کا ہرگزمظاہرہ نہ کرتے جیسی اِنہوں نے گزشتہ تین سالوں کے دوران پیش کی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج یہ ایوانوں سے لے کر ملک کے دوردراز کسی صحرامیں بنی چھونپڑی میں رہنے والے ایک عام اور غریب پاکستانی کے نزدیک بھی ہدفِ تنقید بنے ہوئے ہیںاورآج ہر پاکستانی خواہ وہ دنیاکے کسی بھی کونے میں رہتاہووہ اپنے حکمرانوں کی نااہلی اور اِن کی حکومت کی ناقص کارکردگی کی بناپر اِن پر انگلیاں اٹھانااپنا فریضہ سمجھتاہے اپنے حکمرانوں کی یہ لاچارگی ،اِن کی نااہلی اورتین سالہ دورِاقتدار میں اِن کی ناقص کارکردگی اور اِن کے عوام کے ساتھ روا رکھے گئے روکھے پھیکے رویوں کودیکھ کر آخر میں ہماری اپنے اللہ سے بس یہی ایک دعاہے کہ ربِ کائنات ہمارے حکمرانوں کو باقی کے دوسال اِس شعر کی روشنی میں گزارنے کی توفیق دے کہ عطا کی ہے حکومت جس کو یارب اُسے رمزِ حکومت بھی عطا کر سلیقہ دے اُسے شا ئستگی کا اُسے حُسنِ متانت بھی عطا کر جس پرپورااتر کریہ اپنی حکومت کے سابقہ تین سالوں میں خودپر لگنے والے وہ تمام داغ بھی مٹا سکیں گے اور اِس طرح یہ اپنی حکومت کی بقیہ مدت ٹھیک طرح سے گزار کر عوام میں پھر کوئی اچھا منہ لے کر جانے قابل ہوجائیں گے۔

14-04-2011
قومی خزانے سے بے حس حکمرانوں کی عیاشی ..... محمداعظم عظیم اعظم•

اَب تک عوام کے لئے روٹی ، کپڑااور مکان کا دلکش اور دل فریب نعرہ دے کر مسندِ اقتدار پر اپنے قدم رنجاکرنے والی حکمران جماعت پی پی پی اپنی ناقص پالیسیوں کے ساتھ سوائے اپنے لئے وہ سب کچھ کرنے کے جس کا گمان بھی نہیں کیاجاسکتایہ اپنی عوام کے لئے کچھ نہیں کرپائی ہے جس کے لئے عوام کا اِس سے گلہ ہے اور شائد ہمیشہ ہی رہے کیونکہ اَب عوام یہ بات سمجھتے ہیں کہ :۔ جس کا دعوی تھا کہ غربت کو کریں گے نابود آج وہ لوگ بنے بیٹھے ہیں یارب معبود خدمتِ قوم ووطن خاک کریں گے وہ لوگ جن کا مقصودہو صرف اپنی فلاح و بہبود اور اِس کے ساتھ ہی اَب مجھے بھی یہ کہنے دیجئے کہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت اپنی ناقص پالیسیوں کے ساتھ ملک میں توانائی کے بحرانوں سمیت مہنگائی بڑھانے اور عوام کو زنددہ درگورکرنے کا اپناایک ایساجامع منصوبہ لے کرآئی ہے کہ اگر یہ مزیدرہ گئی تو یقینی طور پر یہ کہاجاسکتاہے کہ ملک میں مہنگائی اور توانائیوں کے بحرانوں کے سوااور کچھ نہیں بچے گااِس لئے بھی کہ اَب ملک میں بڑھتی ہوئی گرانی اور توانائیوں کے بحرانوں سے یہ بخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ اِس میں حکومت کی ناقص پالیسیاںاور حکمرانوں کی نااہلی ہی بڑی وجہ ہیں۔ جبکہ گزشتہ تین سالوں کے دوران موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے حوالوں سے ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان سے متعلق یہ انکشاف کہ آئندہ سال پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں مزید 16فیصداضافہ تک اضافہ ہوسکتاہے جو اِس خطے میں مہنگائی کا سب سے بلندترین گراف ہوگااور اِسی طرح اقتصادی مشاورتی کونسل (ای اے سی) کا اجلاس جو بنیادی طور پربجٹ 2011-12کی تیاری کے لئے تجاویز کے سلسلے میں منعقدکیاگیاتھااِس سے خطاب کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر شاہد ایچ کاردار نے حیران کن انکشاف کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں موجودہ افراط زر کی شرح جو 14.2فیصد ہوچکی ہے موجودہ مالی سال 30جون 2011کے آخر تک یہ مزیدبڑھ کر 15فیصدہوجائے گی اور اِس کے ساتھ ہی اِنہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ اِس کا مطلب یہ ہے آئندہ دنوں میں 173ملین عوام مزید اقتصادی مصائب سے دوچار ہوں گے کیونکہ اِن کی آمدنی تیزی سے کم ہورہی ہے اوراِن کا کہناتھاکہ عوامی اجناس کی قیمتیں کئی گنابڑھ گئی ہیں خاص طور پر پیٹرولیم مصنوعات میں اضاف کی وجہ سے ایساہواہے اِس موقع پر اجلاس کے شرکاءنے حکومت سے سفارش کی کہ اگر وہ آر جی ایس ٹی نافذکرناچاہتی ہے تو زراعت پر انکم ٹیکس لگائے کیونکہ شہری سیاسی پارٹیاں آر جی ایس ٹی کے تحت حکومت کو مزید ٹیکس لگانے کی اجازت نہیں دیناچاہتیں جب تک زراعت سے واپستہ لوگ ٹیکسوں میں اپنا حصہ نہیں ڈالتے۔اور یہ بات درست ہے کہ زراعت سے وابستہ افراد ٹیکسوں کی ادائیگیوں سے مستسنیٰ ہوں اور دوسرے آرجی ایس ٹی اوردوسری شکل میں ٹیکس اداکرتے رہیںاور یہ کہاں کا اِنصاف ہے کہ ایک طبقہ تو باقاعدگی سے ٹیکس اداکرے اور دوسرا ٹیکس نہ دے کر بھی مزے کرتاپھرے ۔ بہرحال ! اِس پر اَب دیکھنایہ ہے کہ اِس گراں قدر سفارش کے بعد حکومت اپنی آر جی ایس ٹی کے نافذ کرنے والی ضد سے پیجھے ہٹتی ہے اور زراعت سے وابستہ لوگوں پر ٹیکسوں کا نفاذکرکے اپنے وسائل میں اضافہ کرتی ہے یا اِنہیں چھوٹ دے کر آر جی ایس ٹی کا ملک میں نفاذکرتی ہے ۔ بہرحال ییاں ٹیکس کی ادائیگی سے کنی کاٹنانے والوں کے لئے عرض ہے کہ :۔ تاجرانِ حیلہ پرور ہوں کہ صنعتکارہوں ٹیکس دیتے ہیں حکومت کو کہاں یہ نفع خور کیوںخساروں کا بجٹ آئے نہ اپنے ملک میں جبکہ ہر آجر ہماری قوم کا ہو ٹیکس چور اگرچہ اِس شعراور ایشیائی ترقیاتی بینک اور گورنر اسٹیٹ بینک کے یہ ہولناک انکشافات میں صداقت موجودہ ہے اور یہ حقیقت پر مبنی ہیں کہ یہ دونوں انکشافات جہاں عوام کے لئے پریشانیوں کا باعث بنے ہیں تو وہیں اِنہیں ہمارے اِن بے حس حکمرانوں کے لئے بھی نوشتہ¿ دیوار ہوناچاہئے کہ جن کی ناقص پالیسیوں اور فرسودہ حکمت عملیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا سیلاب آمڈ آیاہے اور مزیدیہ کہ اگر ہمارے اِن عیاش پسند حکمرانوں کی یہی روش قائم رہی تو آنے والے دنوں میں ملک میں مہنگائی کی شرح ایک خطرناک حد تک مزیدبڑھ بھی سکتی ہے اِس لئے اِن پراَب یہ لازم ہوجاتاہے کہ وہ ملک میں ایسی صورت حال پیداہونے سے پہلے ہی اپنے اندر چھپی اُن صلاحیتوں کو بروئے گار لائیں جنہیں یہ اَب تک باہر نہ لاکر اِنہیں استعمال نہیں کرسکے ہیں ا و راللے تللے میں پڑے ہیں جس کی ایک تازہ مثال یہ ہے کہ ہمارے حکمران جو قومی خزانے پر ایسے قبضہ کرکے بیٹھ گئے ہیں کہ جیسے کوئی ناگ خزانے کی حفاظت پربیٹھ کر دوسروں کو تواپنے پھن سے ڈراتاہے مگر خود خزانے پر بیٹھ کرمزے کررہاہوتاہے یکدم اِسی طرح ہمارے حکمرانوں نے جو قومی خزانے سے اپنی اور اپنے ملکی اہم چاہتی شخصیتوں کو بھی عیاشیاںکروانے میں مگن ہیں جس کے ذریعے یہ ملک کی ممتاز سیاسی شخصیات کے لئے کروڑوں روپے سے بلٹ پروف گاڑیاںخریدنے کا منصوبہ ایک بار پھر پورے زوروشعور سے شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس سے متعلق اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت نے اپنے اِس منصوبے کو جلد ازجلد عملی جامہ پہنانے کے خاطر جائزے کے لئے ایک وزارتی کمیٹی قائم کردی ہے اور اِسے خصوصی طور پرہدایت جاری کی ہے کہ وہ اہم شخصیات کی فہرست کا عمل جلد مکمل کرے تاکہ قومی خزانے سے اِن شخصیات کے لئے بلٹ پروف گاڑیاں خریدی جاسکیں ۔یہاں توجہ طلب اور افسوسناک امریہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی اِسی نااہلی کے باعث اِنہیں ملکی اور عالمی میڈیا پر تنقیدوں کا بھی سامنہ کرناپڑرہاہے مگر یہ بے حس اور بے پرواہ بنے قومی خزانے سے اپنی اور اپنے پیاروں کی عیاشیوں کے لئے وہ سب کچھ گزرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن کی وجہ سے ملک کے قومی خزانہ خالی ہو گا اور ملک کے ساڑھے سترہ کروڑ عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔ جبکہ دوسری جانب حکمرانوں کے اٰسی لچھن کو دیکھتے ہوئے آج ملک کا ایک ایک فرد اِن سے انتہائی عاجزی اوراِنکساری سے یہ مطالبہ کررہاہے کہ یہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی اُن عیاشیوں کو کم کرنے کا ضرور کوئی نہ کوئی ایساسامان پیدا کریں جس سے ملک میں مہنگائی کے سیلاب کا زور ٹوٹے اور عوام کو ریلیف ملے مگر باوجود ایشیائی ترقیاتی بینک اوراقتصادی مشاورتی کونسل کے اِن انکشافات کے بعد کہ پاکستان کے نااہل حکمرانوںکی ناقص پالیسیوں اور اِن کی عیاشیوں کے باعث پاکستان میں آئندہ سال مہنگائی کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوسکتاہے ہمارے حکمرانوں کی آنکھیں بندہیں جبکہ اِنہیں اپنی یہ بندآنکھیں کھول لینی چاہئیں اور اپنے اِس سمیت ایسے وہ تمام منصوبے ختم کردینے چاہئیں جس سے قومی خزانے پر اِن کی عیاشیوں کے لئے اضافی بوجھ پڑے ۔ اگرچہ یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ حکومت کا ملکی اہم شخصیات کے لئے بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کے منصوبے کی بھنک جیسے ہی فاٹاکے منتخب اراکین کے کانوں تک پہنچی تو اِن کے بھی کان کھڑے ہوگئے اور اُنہوں نے بھی اپنے سینے پھولا کر اور گردنیںتان کر اِس بہتی گنگاسے ہاتھ دھونے کے لئے اپنے لئے بھی بلٹ پروف گاڑیوں کا مطالبہ کرڈالاجس کے بعد حکومتی سطح پر اَب ایک بار پھر یہ خدشہ ظاہر کیاجارہاہے کہ بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کا یہ حکومتی منصوبہ متنازع شکل اختیار کرجائے گااورجوکہ اَب بندکردیاجائے گا۔یہاں ہماری یہ دعاہے کہ کاش اللہ کرے کہ ایساہی وہ جائے اوریہ منصوبہ بندہوجائے اور ہمارے حکمرانوں کے مردہ ضمیر زندہ ہوجائیں ۔جن کے لئے یہ شعرعرض ہے کہ:۔ غریب شہر امیر و کبیر ہوجائے اِلہی قوم مری بے نظیر ہو جائے ضمیربیج رہے ہیں جو مال وزرکے لئے خدا یا اِن کا بھی زندہ ضمیر ہوجائے بہرکیف!اِس حقیقت کوبھی جھتلانا شائد موجودہ حکمرانوں کے لئے ممکن نہ ہو کہ موجودہ حکومت نے اپنے لئے تو سوفیصد فقیدالمثال کامیابیاں حاصل کیں ہیں مگر ملک کے غریب اور مفلوک الحال عوام کے ریلیف کے لئے یہ کچھ بھی نہ کرسکی ہے مگر اِس کے باوجودبھی اِس کا یہ کہنا ہے کہ اِس نے ملک کے غریب اور پریشان حال عوام کے لئے اتناکچھ کردیاہے کہ اِس کے ثمرات اِن کی دہلیزوں تک عنقریب پہنچیں گے اور ملک میں خوشحالی آئے گی ۔جبکہ ملک کے غریب عوام مہنگائی، بے روزگاری اور چودہ سے سولہ گھنٹے بجلی کے لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں اتنے بیزار ہوچکے ہیں کہ وہ اِس حکومت کے خاتمے کے لئے دن رات ربِ کائنات سے دعائیں مانگ رہے ہیں مگر اِن کی یہ دعائیںابھی یوں پوری نہیں ہورہی ہیں کہ اِن کے اپنے اعمال بھی کچھ درست نہیں ہیں اللہ سزاکے طور پر اِن کی یہ دعائیں فوراََ قبول نہیں کررہاہے جس روز عوام اللہ سے گڑگڑاکر اپنے گناہوں کی معافی مانگ لی تو اُسی دن اللہ اِن حکمرانوں کی رسی بھی کھینچ لے لگاجو عوام پر بے تحاشہ مہنگائی کی شکل میں ظلم کررہے ہیں اور اِن کی ایسی پکڑ کرے گا جس سے یہ چھوٹ بھی نہیں پائیں گے اور ایسا کڑااحتساب کرے گاکہ ساری دنیااِن کو نشانِ عبرت بنتادیکھ کر اپنے کانوں کو ہاتھ لگاکر اللہ کی پناہ مانگے گی۔ جبکہ دوسری جانب یہ امر قابلِ تحسین ہے کہ قائد حرب اختلاف چوہدری نثارعلی خان کی سربراہی میں قائم پارلیمانی احتساب کے سب سے بڑے ادارے پبلک اکاو ¿نٹس کمیٹی نے پچھلے اڑھائی سالوں کے دوران سرکاری اداروںسے مالی بدعنوانیوںکے ضمن میں 68ارب روپے کی ریکوری کا نیاریکارڈقائم کردیاہے جس کی مختصر تفصیل کچھ یوں ہے کہ اِس کمیٹی نے اِسی طرح پچھلے سال سرکاری اداروں سے 24ارب روپے وصول کیے گئے اور موجودہ مالی سال کے 7ماہ کے دوران اَب تک 24ارب روپے کی ہی ریکوری کی ہے اِس طرح ریکوریوں کا یوں ہونا ملک اور قوم کے لئے ایک انتہائی حوصلہ افزاامرہے جس کے لئے قائدحزب اختلاف چوہدری نثارعلی خان کی خدمات قابلِ تعریف اور لائق تحسین ہیں۔جس کے لئے قوم کہہ پڑی ہے کہ ویلڈن ....ویلڈن چوہدری نثارعلی خان ....ویلڈن اِسی طرح اپنی ذہانت اور خدمات سے اُن تمام ملکی لٹیروں سے ملکی دولت کی ریکوری کا عمل جاری رکھیں جو قومی خزانے سے ملک کی دولت کو لوٹ لوٹ کراپنی جیبیںاور اپنے ذاتی خزانوں کو بھررہے ہیں جو کہ ایک انتہائی شرمناک عمل ہے۔

14-04-2011
قادیانیوں کے بار ے میںدس قابل ِغور امور.......مولانا قاری محمد حنیف جالندھری•

موجودہ دور فتنوںکا دور ہے۔ اس دور میںدینِ اسلام ،امت مسلمہ اورخود وطنِ عزیز پاکستان گو ناگو ں فتنوں کے نر غے اورسازشوں کے بھنور میں ہے ۔ہم میں سے ہر ایک کا فرض بنتا ہے کہ دینِ اسلام کو ہر قسم کے فتنوںسے بچانے کی سعی کی جائے ،امت مسلمہ کو خبردار اور بیدار رکھنے کا عمل مسلسل جاری رکھا جائے اور باالخصوص وطنِ عزیز پاکستان کو انتشار و خلفشار اور عدمِ استحکام سے بچانے کے لئے مسلسل ”لوگو! جاگتے رہنا “کی صدائیں لگائی جاتی ر ہیں ۔ الحمد للہ اس سلسلے میں مختلف محاذوںپر ،مختلف انداز سے محنت وکوشش جاری ہے بالخصوص عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور دیگر برادر جماعتیںفتنہ قادیانیت کے حوالے سے شعور اجاگر کر نے اور عوام الناس کو باخبر رکھنے کے لیے مسلسل سر گر م ِ عمل ہیں۔ فتنہ قادیانیت ایک ایسافتنہ ہے جو نہ صرف یہ کہ دینِ اسلام بلکہ امت مسلمہ اور بالخصوص وطن عزیز کیلئے انتہائی خطرناک اور نقصان دہ ہے بالخصوص موجودہ دور میں جس طرح قادیانی گروہ مختلف بہروپ اختیا ر کر کے اور شکلیں بدل بدل کر عقیدہ ختم نبوت ،ناموس رسالت ،دینِ اسلام پر حملہ آور ہو رہاہے اور مسلمانوں کے اسلامی تشخص کو مٹادینے اور پاکستان کو اکھنڈ بھارت میں تبدیل کر نے کے لیے جس قسم کی تگ ودَو میں مصروف عمل ہے ایسے حالات میں اس فتنے سے کچھ زیادہ ہی خبر دار رہنے کی ضرورت ہے اسی ضرورت کا ادراک کرتے ہوئے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ملک کے مختلف علاقوں میں عظیم الشان ختم نبوت کا نفرنسوںکا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ان عظیم الشان اجتماعات اور دیگر فورمز پر ہم عوام الناس ،اربابِ اختیار ،قومی سلامتی کے اداروں ،عالمی برادری ،سیاستدانوں اور خو د قادیانی گروہ کے نام جو قابلِ غور پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں وہ تحریراً بھی پیش خدمت ہے تاکہ ان امور پر ٹھنڈے دل ودماغ سے غور کیا جا سکے ۔ ٭....سب سے پہلی بات قادیانیوں سے متعلق ہے۔ قادیانیوں میں دو طرح کے طبقات ہیں ۔ایک طبقہ تو وہ ہے جو مفادات کا اسیر ہے اور اغراض کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے ۔یہ طبقہ حق وباطل کی تمیز کیے بغیر محض اپنی ضروریات ،مفادات ،خاندانی پس ِ منظر اور اس سے ملے جلے دیگر عوامل کی بنا پر قادیانیت کے علاوہ کسی اور پہلو پر غو ر کر نے کے لئے تیا ر ہی نہیں۔ اس گروہ کو بھی دینِ اسلام کی دعوت دینا ہمارا فرض ہے لیکن تجربہ اس بات پر شاہد ہے کہ ایسے لوگوں کے قبولِ حق کے امکانات بہت کم ہوتے ہیںاس لیے ان کے لیے دعاہی کی جاسکتی ہے تاہم قادیانیوں میں بہت سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو سا دہ لوح ہونے کے باعث قادیانیوں کے دام ہم رنگ زمیں میں آجاتے ہیں ۔ایسے لوگ شاطر قادیانیوں کے جھانسے میں آکر غلط راستے کا انتخاب کر تے ہیں لیکن اگر ان پر محنت کی جائے اور انہیں دعوت اسلام دی جائے تو وہ یقیناحق قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں اس لیے ہم ہر فورم پر خود بھی قادیانیوں کو دعوت اسلام پیش کرتے ہیں اور دیگر علماءکرام اور بالخصوص تحفظ ختم نبوت محاذ پر جد و جہد کرنے والے حضرات سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ ایسے لوگوں کو ضروردعوتِ اسلام دیں اور ان کے قبول حق کے لئے مسلسل محنت جاری رکھیں ۔ایسی بہت سے قادیانیوںکی مثالیںہمارے سامنے ہیں جنہیںاللہ رب العزت نے قبول حق کی توفیق عطا فر مائی ہے ۔ اس لیے اس معاملے میں ناامید اور مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔ ٭....دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت قادیانیوں کے حوالے سے یہ بات بہت شدومد کے ساتھ اتھائی جا رہی ہے کہ قادیانیوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے اور انہیں اقلیتوں کے لیے مختص حقوق حاصل نہیں اس سلسلے میں عرض ہے کہ قادیانیوں اور دیگر اقلیتوں میں ایک بنیادی فرق ہے اور وہ یہ کہ قادیانی خود کو اقلیت ماننے کیلئے تیار ہی نہیں۔پہلی بات تو یہ کہ قادیانیوںکو پاکستان میں نہ صرف یہ اقلیتوں والے مکمل حقوق حاصل ہیں بلکہ وہ مسلمان اکثریت کے حقوق تلف کرکے کلیدی اسامیوں سمیت دیگر مفادات سمیٹنے میں لگے ہوئے ہیں اور اگر تھوڑی دیر کے لیے یہ مفروضہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ واقعتاً قادیانیوں کو اقلیتوں والے حقوق حاصل نہیں تب بھی اس معاملے کے ذمہ دار خو د قادیا نی ہیںانہیںچاہیے کہ وہ پہلے خو کو اقلیت تسلیم کریں اس کے بعد وہ کسی بھی قسم کا دعویٰ کر نے میں حق بجانب ہوںگے ۔ ٭....تیسری بات یہ ہے کہ قادیانیوں کی آئینی اور قانونی حیثیت کا تعین خود آئین ِپاکستا ن میں کردیا گیا ہے اور پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے طویل غورو خوض اور بحث مباحثے کے بعد قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا ہے اور پھر خود ریاست کی طرف سے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا گیا اس لئے اب ریاست اور ریاستی اداروںکو چاہئے کہ وہ قادیانیوں کو ملکی آئین اور قانون کا پابند بنائیں اوراپنی علیٰحدہ شناخت کا اظہار کر نے پر مجبور کریں ، ان کی ارتدادی اور ملک دشمن سرگرمیوں کا نوٹس لیں ۔قادیانیوں کے معاملے کو صرف تحفظ ختم نبوت محاذ پر کام کر نے والی جماعتوں کے سپرد کر کے دیگر تمام جماعتوں ،شخصیات ،طبقات اور خود ریاست اور ریاستی اداروں کا خاموش تماشائی بن جانا انتہائی افسوسنا ک بلکہ مضحکہ خیز ہے ۔آئین ِپاکستان کی رو سے اس معاملے کی سنگینی اور حساسیت کو جب تک حکومت اور ریاستی ادارے نہیںمحسوس کریںگے اس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو پائے گا ۔ ٭....چوتھا قابل غور پہلو یہ ہے کہ قادیانیوں کا ماضی اور ان کی حالیہ سرگرمیاں ،ان کے بیانات ، خیالات اور لٹریچر سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ انہوںنے کبھی بھی پاکستان کو صدق ِدل سے قبول نہیںکیا۔ مرز اغلام احمد قادیانی کی جنم بھومی ”قادیان“ کو ہندوستان کا حصہ بنائے رکھنے کے لیے انہوں نے ضلع گورد اسپور کو بھی ہندوﺅں کی جھولی میں ڈال دیا جس کے نتیجے میں مسئلہ کشمیرنے جنم لیا اور کشمیری مسلمان بر سہا برس سے قادیانیوں کی طرف سے لگائے گئے زخم سہنے پر مجبور ہیں۔قادیانی لیڈروںنے قیام پاکستان کے وقت یہاں تک کہہ دیا تھا کہ یہ عارضی تقسیم ہے اور ایک وقت آئے گا جب پاکستان اور ہند وستان دونوں دوبارہ ایک ہوجائیںگے ۔یہی وجہ ہے کہ اکھنڈ بھارت یعنی گریٹر ہندوستان نہ صرف یہ کہ قادیانیوںکا دیرنیہ خواب ہے بلکہ ان کا مذہبی عقیدہ بھی ہے ۔ اسی عقیدے کی بنا پر وہ آج بھی پاکستان میںاپنے مردے امانتاًدفن کر تے ہیںاور ان کی تمام سیاسی جدوجہد پاکستانی مفاد میں نہیں بلکہ ہندوستانی مفاد کے محور میں گردش کرتی ہے ۔اس پس منظر کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر موجودہ دور میںقادیانیوںکے بیانات،تحریروں،تقریروںاور گفتگو کا جائزہ لیاجائے اور بالخصوص ان کی سرگرمیوںکی مانیٹرنگ کی جائے تو اندازہ ہوتاہے کہ وہ مسلسل ملک دشمن سرگرمیوںمیں ملوث ہیں ،حکیم الامت علامہ اقبال ؒنے بالکل بجا فرمایا تھا کہ ”قادیانی اسلام اور ملک دونو ں کے غدار ہیں“اس لیے قومی سلامتی کے اداروں کو چاہیے کہ اس گروہ پر بطور خاص نظر رکھےںاور ان کے شرور وفتن سے ملک وملت کو محفوظ رکھنے کی فکر کریں ۔ ٭....پانچویں بات بات عالمی برادری سے متعلق ہے۔ عالمی برادری کو اس وقت ہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ایک تو عمومی عالمی برادری ہے اور دوسری استعماری قوتیں ہیں جہاں تک استعماری قوتوں کا تعلق ہے تو وہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قادیانیوںکو سر آنکھوں پر بٹھاتی اوران کی بھرپورمالی ،معاشی،عسکری اور اخلاقی سر پرستی کرتی ہیںبلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اعتراف کے مطابق قادیانی گروہ ہے ہی انگریزوںکا خود کاشتہ پو دا بلکہ اگریہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ یہ استعماری قوتوں کی طرف سے امت مسلمہ کے سینے میں گاڑھا گیا وہ دودھاری خنجر ہے جس نے مسلمانو ں کو لہو لہان کر رکھاہے۔ اس لئے ان استعماری قو توں سے تو بہر حال کسی منصف مزاجی کی توقع نہیں کی جا سکتی تاہم ان کے علاوہ جو دیگر عالمی برادری ہے اسے چاہیے کہ وہ قادیانیوںکے ساتھ مسلمانوں کی حیثیت سے معاملات و معاہدات نہ کرے بلکہ امت مسلمہ کے اجماع ،اسلامی ممالک کے قانون ساز اداروں ،عدالتوں اور خود بعض غیر مسلم عدالتوںکے فیصلوں کی روشنی میںانہیں غیر مسلم اقلیت ڈکلیئر کر نے کے بعد ان کے ساتھ غیر مسلموں کی حیثیت سے معاملات کیے جائیں۔ ٭.... چھٹی بات یہ ہے کہ اس وقت دنیا میںحقوق کا بہت ڈھنڈورا پیٹا جارہاہے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ قادیانیوںکی طرف سے مسلسل مسلمانوں کے حقوق غصب کر نے پر نہ صرف یہ کہ ہر کسی کے لبوںپر مہر سکوت ثبت ہے بلکہ الٹا قادیانی پر و پیگنڈے کےبل بوتے پر دنیا کو یہ باور کروانے میں کامیا ب ہو گئے ہیں کہ وہ مظلوم ہیںحالانکہ درحقیقت قادیانی وہ ظالم ہیںجو مسلمانوں کا مذہبی تشخص مجروح کر نے،اسلا م اور کفر کے مابین امتیاز ی لکیروں کو مٹانے اور دنیا کی آنکھوںمیںدھول جھونکنے میں مصروف ہیں۔ایک ایسے وقت میں جب کسی چھوٹے سے چھوٹے برانڈ کیلئے بھی کاپی رائٹس موجود ہیںایسے میںدین اسلام جیسے آفاقی مذہب اور پوری امت مسلمہ کے ساتھ دجل وفریب اور جعل سازی کا ارتکاب کر نے والے قادیانیوںکے معاملے میں دوہرا معیار انتہائی افسوسناک ہے دنیا کو چاہیے کہ قادیانیوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی اس مسلسل حق تلفی کا نوٹس لے اور قادیانی دھوکے اور پروپیگنڈے کا شکار نہ ہو ۔ ٭....ساتویں بات یہ ہے کہ قادیانی اور لبرل انتہا پسند مسلسل یہ واویلا کر تے چلے آرہے ہیںکہ ۴۷۹۱ءمیں پاکستانی پارلیمنٹ کا فیصلہ اوراسی کی دہائی میںجاری کیا جانے والا امتناعِ قادیانیت آرڈیننس قادیانیوںکی حق تلفی اور ان کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قرآن و سنت اور شریعت کی رو سے قادیانیوںکے بارے میںحقیقی فیصلہ ان دونوں مواقع پر نہیں ہو پایا بلکہ مجبوری تحت ایک عبوری فیصلہ تسلیم کیا گیا ۔ اصل میںتو یہ فیصلہ ہو ناچاہئے تھا کہ ارتداد کی شرعی سزا یعنی سزائے موت نافذکی جاتی لیکن ایسا نہ ہو سکا اور اس کے نتیجے میںآج بھی قادیانیوںکی ارتدادی سر گر میاں جاری ہیں۔وہ کسی کو شادی کا جھانسہ دے کر ،کسی کو بیرون ملک بھجوانے کا لالچ دے کر ،کسی کو مفادات کے سبز باغ دکھا کر ارتدادکی اندھی گہری کھائیوں میںگرادیتے ہیں اس لیے اب ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ۳۵۹۱ءاور۴۷۹۱ءکی طرح ارتداد کی شرعی سزا کے لیے بھی ایک باقاعدہ تحریک چلائی جائے ۔ میرے خیال میں پاکستان پیپلز پارٹی کا دورِ اقتدار اس حوالے موزوں رہے گا کیونکہ اسی پارٹی کے دو رِ اقتدارمیںقادیانیوں کی مذہبی اور آئینی حیثیت کا تعین کیا گیا ۔اب اس پا رٹی سے وابستہ حضرات اگر اپنے شہید قائد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ارتداد کی شرعی سزا نافذ کردیں تو بہت بڑ ے فتنے اور فساد کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گا ۔ ٭....آٹھویں بات ان سیاستدانوںسے متعلق ہے جو قادیانیت اور ختم نبوت کے اہم ترین معاملے میںبھی گومگو کی کیفیت میںہیں بلکہ بعض سیاسی جماعتیں تو بہت کھل کر قادیانیوں کی طرف داری کا مظاہرہ کرتی ہیںحالیہ دنوں میں ایک لسانی سیاسی جماعت نے پنجاب میں آمد کے لیے قادیانی بیساکھیا ں استعمال کرنے کی کوشش کی جو انتہائی افسوسناک امر ہے ۔ یہ سیاست دان قادیانیت کے نازک ترین معاملے کو بھی سیاست کی نظر سے دیکھتے ہیں ،ان میں سے بعض لوگ کبھی قادیانیوں کو اپنا بھا ئی قرار دیتے ہیںاور کبھی نامو س رسالت جیسے اہم ترین معاملے سے محض امریکی ناراضگی کے ڈر سے نہ صرف کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیںبلکہ اس معاملے سے میں باالکل ہی چپ سادھ لیتے ہیںانہیں چاہئے کہ وہ اس معاملے کی سنگینی کا بھی ادراک کریں اور اس کی نزاکتوں کا بھی ،وہ قادیانیوں او ر دوسرے کافروں کے درمیان فرق کو سمجھیں اور اسلام اور ملک کے غداروں کو اپنا بھائی بنانے اور ان کی غیر ضروری حمایت ووکالت سے گریز کریں ۔ ٭....نویں بات عوام الناس سے متعلق ہے ۔تمام غیور اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت سے خو د بھی آگاہ رہیں اور دوسروں میںبھی اس حوالے سے شعور اجا گر کریںبالخصوص نئی نسل کو اس اہم ترین معاملے کی باریکیوں سے روشناس کروائیں ۔قادیانی سازشوں اور شررتوں سے خود بھی خبردار رہیں اور دوسروں کو بھی بیدار رکھیںاور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے تعاقب کو اپنا دینی ،ایمانی اورملی فریضہ سمجھ کر سر انجام دیں۔ ٭....دسویں اور آخری بات ....صدر پاکستان آصف علی زرداری جنہوںنے اٹھارہویںترمیم کے موقع پر اپنے بہت سے اختیارات وزیر اعظم کو منتقل کر دئےے انہیںچاہئے کہ گستاخ رسول کی سزا کی معافی کا جو اختیار ان کے پاس ہے قرآن وسنت کی روشنی میں وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں رضا کارانہ طور پر وہ اس اختیار سے دستبرداری کا اعلان کر دیں۔اگر وہ اس کی ہمت کر لیتے ہیں تو انشا اللہ وہ دنیا اور آخرت میںکامیابیوں اور کامرانیوںسے ہمکنار ہو جائیںگے ۔

12-04-2011
ہائر ایجوکیشن کمیشن کا مسئلہ۔..........انجینئر حافظ ےعقوب الرحمن •

اےک خبر کے مطابق وزارت ِتعلےم صوبوں کو منتقل ہونے کے بعد وزارت کا کام ٹھپ ہو گےا ہے۔صوبوں کو وزارت تعلےم کےوں منتقل کی گئی ؟ہا ئےر اےجوکےشن کمےشن صوبوں کو منتقل ہونے سے تعلےمی ترقی پر کےا اثرات پڑےں گے؟ان سوالوں کے جوابات جاننے کے لئے ملک کے ہر طبقہ فکر کے افراد کو غور کرنا چاہئے۔ مستقبل قرےب مےں ان سب سوالات کے جوابات قوم کو مل جائےں گے۔ پاکستان مےں تعلےمی ترقی اور اس کے لئے کی گئی کوششےں سب کے سامنے ہےں ۔موجودہ حکمرانوں کے بلند وبالا دعوے اور ان کی پاس کردہ تعلےمی پالےسی بل اےک دوسرے کے متضاد نظر آرہے ہےں۔تعلےمی پالےسوں کو بنانے مےں موجودہ اسمبلیوں نے اپنا کردار ادا کرکے قوم کے مستقبل کے ساتھ کھلم کھلا مذاق کےا ہے۔جعلی ڈگرےوں کا مسئلہ چھےڑنے پر پہلے وفاقی وزےر تعلےم کا بےان آیا کہ ہاےئر اےجوکےشن کمیشن وفاقی وزےر تعلےم کے تحت کام کرنے والا ادارہ ہے۔مختلف حلقوں کی طرف سے جب اس کی تردےد کی گئی تو ےہ وضا حت کردی گئی کہ ہائیراےجوکےشن کمےشن وزےر اعظم کے ما تحت ادارہ ہے۔ہائیر اےجوکےشن کمےشن کو محض تعلےمی ترقی کے لئے قائم کےا گےا تھا ۔ےہ اےک خود مختار ادارہ تھا جس کا کام اس ملک کو تعلےمی سےکٹر مےں اےک اہم مقام دلانا اورنئے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا تھا۔اعلی تعلےم کے لئے نئی راستے تلاش کئے اورملک کی تمام ےونےورسٹیوںکا اےک مرکزی رےکارڈ بناےا ہے ۔ہر تعلےمی ادارے کے متعلق ےہاں آسانی سے معلومات دستےاب ہےں۔جب تک اس نے جعلی ڈگرےوں کو نہےں چھےڑا تھا HECاےک اہم ادارہ تھا ان کے پاس فنڈ بھی زےادہ تھے لےکن جب سے HECنے جعلی ڈگرےوں کو چےک کرنا شروع کےا تبھی اس کا گھےرا تنگ کےا گےا۔ اس کے چیئرمےن کے لئے مشکلات پےدا کی گئی۔ اس کے وجود پر سوالات اٹھائے گئے اور باآلاخر HECصوبوں کو منتقل کر دی گئی۔2009-10سال مےں اےک رپورٹ کے مطا بق اےسے طلبہ کی تعداد 868641ہےں جو HECکے ساتھ رجسٹر اداروں مےں پڑھتے ہےں۔جو گذشتہ سالوں کے مقابلے مےں 30%بڑھ گےا ہے ۔ بد قسمتی سے ہماری قوم کے ووٹوں سے بےشتر جعلی ڈگرےوں کے حامل ممبران قانون ساز اداروں مےں پہنچ چکے ہےں ان سے اےسے قوانےن وضع کرنے کی ہی توقع کی جا سکتی ہے ۔اٹھاروےں ترمےم مےں ہائر اےجوکےشن کمیشن کو صوبوں کو منتقلی کی شق پاس کی گئی اورساتھ ہی عدلےہ کے متعلق بھی قانون پاس کےا گےا جس کے فوراََ بعد ججوں کے احتجاج کی وجہ سے انےسوےں ترمےم مےں اس کو وا پس لےا گےا۔لےکن ہائر اےجوکےشن کمیشن سے متعلق قانون صوبوں کو منتقلی ہی کا تھا اور انےسوےں ترمےم مےں اس قانون کو وےسے ہی رہنے دےا گےا۔ آج اسی کے اوپر عمل کےا جا رہاہے ۔صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبران کو ان کے حلقہ انتخاب سے ووٹ چاہئے ہوتا ہے اس لئے ان کو صو بوں مےں کچھ افراد کو بھرتی کرنے کا موقع مل جائے گا۔ ہمارے صوبوں کے ممبران اسمبلی کے کردار سے پوری قوم آگاہ ہے کہ وہ کتنا اس کو آگے لے کر جا سکتے ہیں اور کتنے PHDsاس ملک کو دےں گے ۔مےرے خےال مےں آج تک ہمارے ان معزز ممبرانِ اسمبلی کو ہائر اےجوکےشن کمیشن کے کردار اور اہمےت کا اندازہ ہی نہےں اور دلچسپی کی بات ےہ ہے کہ اس وقت ہائر اےجوکےشن کمیشن ہی ان کے راستے مےں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔مختلف علا قوں کے نمائندے ، ہسپتال، سکول اور دےگر ادارے صرف اس بنےاد پربناتے ہےں کہ ان کو وہاں اپنے ووٹر بھرتی کرنے ہوتے ہےں ۔ مقصد تعلےمی ےا قومی ترقی نہےں ہوتی بلکہ اپنے ووٹ بےنک مےں اضافہ کرنا ہوتا ہے جس کے لئے انہوں نے HEC جےسے ادارے کوبھی برباد کر ڈالا ۔حکومت کا ےہ فےصلہ کتنا کامےاب ہوتا ہے ےہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لےکن فی الحال ہر صوبے مےں موجود وفاقی تعلیمی ادارے ختم ہو جائیںگے۔سندھ مےں سندھ مدرسة الاسلام اور داود ا نجینئرنگ کالج کو صوبہ سندھ کے حوالے کئے گئے جس کے نتےجے مےں مذکورہ تعلےمی ادارے صوبوں کے زےرِنگرانی مےں دےے جانے کی وجہ سے ان مےں موجود صوبائی کوٹے جس مقصد کے لئے قائم کئے گئے تھے وہ سب کے سب ختم ہو جائےنگے۔ نصاب کے حوالے سے کوئی ےکساں پالےسی نہ ہونے کی وجہ سے اس ملک کا مستقبل مزےد تا رےک ہو جائے گی اور ملک کی سالمےت اور قومی ےکجہتی کو بے تحاشہ نقصان پہنچے گا۔ان عظےم مقاصد مقصد کے لیے ملک کے صوبوں مےں جو مختلف ادارے بنا دئے گئے تھے ان مقاصد کا پورا ہونا اےک خواب بن جائے گا۔اس وقت ہائر اےجوکےشن کمیشن صوبوں کو منتقل ہو رہا ہے۔مےرا خےال ہے کہ اس ملک مےں تعلےمی ترقی بالکل رک جائے گی۔نئے پروجےکٹس، جو اس وقت 1000کی تعداد مےں چل رہے ہےں رک جائےں گے اٹھائےس ممالک مےں جاری پانچ ہزار کے لگ بھگPHDsسکالرشپ ختم ہو جائیں گے۔ڈیجیٹل لائبریری کے قےام کا منصوبہ کھائی مےں پڑ جائے گا۔ پاکستان کے مختلف ےو نےورسٹےوںکے مابےن ہونے والے تحقےقی کام کے دروازے ،جو باہمی روابط کے ذرےعے آگے بڑھتے ہےں،ہمےشہ ہمےشہ کے لئے بند ہو جائےں گے۔ صوبوں کے اندر بڑی ےونےورسٹےز زکو فنڈز کا اجراءرک جائے گا اور جلد ہی اس ملک مےں ہائر اےجوکےشن کمیشن کا جنا زہ نکل جائے گا۔ صوبوں کے پاس مطلوبہ فنڈز نہےں ہوں گے تو وہ روزانہ فےسوں مےں بے تحا شہ اضافہ کرےں گے اور اس کے نتےجے مےں تعلےم کو امراءطبقے تک محدود کر دےا جائے گا۔غرےب قوم کے اوپر تعلےم کے دروازے ہمےشہ کے لئے بند ہو جائےنگے ،ےا چند سالوں مےں HECکا نام و نشان مٹ جائے گا۔البتہ سب سے بڑا فائدہ ان ممبران اسمبلی کو ہو گا جن کے ڈگرےاں جعلی ہےں۔وہ اس سے مزےد استفادہ بھی حاصل کرسکےں گے۔ صوبوں کے اندر ان کو اوپر HEC کا بس نہےں چلے گا اور ےوں جعلی ڈگرےوں والے اس قوم کے مستقبل کے ساتھ اسی طرح کھےلتے رہےں گے۔

12-04-2011
بہشت کے بادشاہ...... منظور قادر کالرو•

کہتے ہیں کہ بادشاہ صالح ،جو شاہان شام سے تھے، ایک عالم کے ساتھ رات کو باہر آتے تھے اور مساجد و مقابر و مزارات میں گھومتے تھے اور ہر شخص کی حالت معلوم کرتے تھے۔ ایک دن ایک مسجد میں دیکھا کہ ایک فقیر برہنہ سر سردی میں کانپ رہا ہے اور کہتا ہے یا اللہ بادشاہ لوگ دنیا میں ہم سے غافل ہیں اور ہم تکلیف سے ہیں۔ قیامت کے دن اگر تو نے بادشاہوں کو بہشت میں بھیجا تو میں بہشت میں ہرگز قدم نہ رکھوں گا، بادشاہ صالح ےہ بات سن کر مسجد میں آئے اور کپڑے اور درہموں کا توڑا فقیر کے آگے رکھ کر روئے اور کہا میں نے سنا ہے کہ فقیر بہشت کے بادشاہ ہوں گے۔ آج میں بادشاہ ہوں اور تم فقیر ہو ےہ تحفے قبول کر لو اور مجھ سے صلح کر لو،آج کے بعد جس چیز کی ضرورت ہو مجھ سے اپنا حق سمجھ کر مانگ لینا ۔اگر ےہ سودا منظور ہے تو قیامت کے دن مجھے بھول نہ جانا۔آج ےہ بہشت کے بادشاہ بھوک اور افلاس سے لوگ خود کشیاں کرتے پھر رہے ہیں مگرپیسے والوں کی جیب سے کسی بھوکے کی بھوک مٹانے کے لئے ایک دمڑی بھی نہیں نکل رہی۔قدیم اور نایاب تصویریں ، کتبے اور دوسرے بے جان ظروف کے لئے وہ کروڑوں خرچ کر دیتے ہیں لیکن اس بہشت کے بادشاہ کے پیٹ کے دوزخ کو بھرناان کے نزدیک غیر زندہ دلی کا کام ہے۔صدیاں گزر جانے کے بعد جب بھوک اور آفت سے تباہ حال ان شہروں کی کھدائی کی جاتی ہے تو وہاں سے ملنے والی ایک سوئی یا ایک انگوٹھی بھی تاریخی حیثیت اختیار کر لیتی ہے اور ایک ایک تصویر لاکھوں ڈالرز میں فروخت ہوتی ہے۔ ےہ انسانیت کے ساتھ مزاق نہیں تو اور کیا ہے۔ وہ زندہ تھا تو روٹی کے لئے ترستا رہا اور جب بھوک اور افلاس سے شہر کے شہر تباہ ہو گئے جب راکھ اڑ گئی تو بچی کھچی اشیاءکی قیمت بھی لاکھوں میں ہے۔کیا انسان کی ےہی حیثیت ہے۔ اگر نہیں، تو جیتے جی غربت اور بھوک میں ایک انسان کی مدد کیوں نہیں کی جاتی۔ ہم دے بھی نہیں سکتے اور ان مجبور و بے بس لوگوں کو ذلیل بھی کہتے ہیں۔ عبدالوہاب بن عبدالحمید ثقفی کہتے ہیں کہ میں نے ایک ایک جنازہ دیکھا۔ جس کو تین مرد اور ایک عورت لئے جا رہے ہیں اور کوئی آدمی جنازہ کے ساتھ نہیں تھا۔ میں ساتھ ہو لیا اور عورت کی جانب کا حصہ میں نے لے لیا۔ قبرستان لے گئے وہاں اس کے جنازہ کی نماز پڑھی اور اس کو دفن کرنے کے بعد میں نے پوچھا کہ ےہ کس کا جنازہ تھا۔ عورت نے کہا ےہ میرا بیٹا تھا۔ میں پوچھا تیرے محلہ میں اور کوئی مرد نہ تھا جو تیری جگہ جنازہ کا چوتھا پایہ پکڑ لیتا۔ اس نے کہا آدمی تو بہت تھے لیکن اس کو ذلیل سمجھتے تھے۔کہنے لگی ےہ مخنس تھا ناں (ہیجڑا)۔ مجھے اس عورت پر ترس آیا۔ میں اس کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے گیا اور اس کو کچھ درہم اور کپڑے گیہوں دئےے ۔میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ ایک شخص اس قدر حسین گویا چودھویں رات کا چاندہو، نہایت سفید عمدہ لباس پہنے ہوئے آیا اور میرا شکریہ ادا کرنے لگا۔ میں نے پوچھا کہ تم کون ہو کہنے لگا کہ میں وہی مخنث ہوں جس کو تم نے آج دفن کیا۔ مجھ پر حق تعالٰی شانہ نے اس وجہ سے رحمت فرمادی کہ لوگ مجھے ذلیل سمجھتے تھے۔ محتاجی بہت بری چیز ہے اور اگر ےہ محتاجی بھی کسی کم ظرف کی ہو تو اندازہ کیجئے۔ سفید پوش لوگ بھوکے مر جاتے ہیں لیکن کسی کے سامنے اپنا پیٹ ننگا نہیں کرتے۔ ےہ بھوک بھی بڑی ظالم چیز ہے۔ پیٹ ایسی چیز تو نہیں کہ صبح بھر دیں تو ایک ماہ تک اِسے بھرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ اسے صبح بھر دیا جائے تو شام کو پھر چیخے مارنے لگتا ہے۔شام کو اسے دوبارہ بھرنے کے لئے پھر ذلیل کہلانا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود کے حکومت نے دسترخوانِ محمدی بچھائے ہیں لیکن کچھ خود دار اب بھی چار دیواریوں کے پیچھے اپنی انا کی چادر اوڑھے بھوکے ہی پڑے ہوئے ہیں۔ ےہ خالی پیٹ والے جنہیں ہم ذلیل اور کمینے سمجھتے ہیںاُنکا خالق اُن کے بارے میں کیا فرماتا ہے۔خرچ کرو اےسے حاجت مندو ں پر جو رُکے بیٹھے ہیں۔ اللہ کی راہ میں نہیں طاقت رکھتے چلتے پھرنے کی زمین میں سمجھتا ہے انہیں ایک ناواقف آدمی خوش حال ، سوال نہ کرنے کی وجہ سے پہچان سکتے ہو تم ان (کی حالت) کو ان کے چہرے سے ،نہیں مانگتے لوگوں سے پیچھے پڑ کر ۔ اور جو بھی خرچ کرو گے تم کوئی مال بیشک اللہ اُسے جانتا ہے(پارہ تلک الرسل آیت نمبر۳۶۲)۔کون ہے جو قرض دے اللہ کو، قرضِ حسنہ ،تاکہ بڑھا چڑھا کر واپس کرے اللہ اُسے کئی گنا (پارہ سیقول آیت نمبر ۵۴۲)۔جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں پھر نہیں جتاتے خرچ کرنے کے بعد کوئی احسان اور نہ ستاتے ہیں ، ان کے لئے ہے اُن کا اجر ان کے رب کے پاس اورنہ کوئی خوف ہے ان کے لئے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پارہ تلک الرسل)۔اور جو بھی خرچ کرتے ہو تم کوئی مال (بطور خیرات) تو اس کا فائدہ تم ہی کو ہے۔ اس لئے کہ نہیں خرچ کرتے ہو تم مگر حاصل کرنے کے لئے اللہ کی رضا اور جو بھی تم خرچ کرتے ہو کوئی مال (بطور خیرات) پورا پورا دے دیا جائے گا وہ تمہیں اور تمہاری حق تلفی نہ کی جائے گی (پارہ تلک الرسل آیت نمبر۲۷۲)۔ہرگز نہیں پہنچ سکتے تم نیکی کو جب تک کہ نہ خرچ کرو(اللہ کی راہ میں) اس میں سے جو تم محبوب رکھتے ہو اور جو بھی خرچ کرتے ہو تم کوئی چیز تو بے شک اللہ اس سے باخبر ہے۔(پارہ تلک الرسل)۔ متقی ( وہ ہیں) جو خرچ کرتے ہیں خوشحالی میں اور تنگی میں اللہ محبوب رکھتا ہے حسن عمل کرنے والوں کو۔(پارہ تلک الرسل)۔ اور ہرگز نہ گمان کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اس کے دئےے میں سے جو عطا کیا ہے ان کو اللہ نے اپنے فضل سے کہ ےہ (بخل) بہتر ہے ان کے حق میں بلکہ ےہ بہت برا ہے ان کے لئے۔ ضرور طوق بنا کر ڈالا جائے گا ان کی گردنوں میں اس چیز کا جس کے دینے میں بخل کرتے تھے قیامت کے دن۔

12-04-2011
جنت براستہ خودکش جیکٹ.......نجیم شاہ•

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عوام کئی سالوں سے انتہائی کرب میں مبتلا ہے۔حکومتی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین سالوں کے دوران ملک میں خودکش حملوں اور بم دھماکوں کے 2488واقعات ہوئے جن میں 3169افراد جاں بحق جبکہ 7479زخمی ہوئے جبکہ ڈرون حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اس کے علاوہ ہیں۔کتنا شارٹ کٹ راستہ ملا ہے ”ظالمان“ کو کہ ایک خودکش جیکٹ پہن کر مساجد، امام بارگاہوں، مدرسوں، درسگاہوں میں داخل ہو جائیں اور ریموٹ کا بٹن دباتے ہی سیدھے جنت میں چلے جائیں۔ مگر خبردار! یہ خودکش جیکٹ پہن کر شراب خانوں، ڈانس کلبوں، جوئے کے اڈوں، مندروں یا گرجا گھروں میں ہرگز داخل نہ ہونا ورنہ ٹھکانہ بہشت کی بجائے جہنم ہوگا۔ ایک طرف وہ لوگ جو ساری عمر عبادت کرتے رہیں، ماتھا رگڑتے رہیں، روزے رکھیں، زکوٰة دیں، صدقہ خیرات کریں حتیٰ کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا پورا خیال رکھیں اور پھر بھی شک ہی ہو کہ پتا نہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں مغفرت ہوگی بھی کہ نہیں اور ایک طرف یہ بارودی جیکٹ خودکش حملے والی آسانی سے بہشت میں پہنچا دیتی ہے۔ شارٹ کٹ سے متاثرہ قوم نے جنت کے شارٹ کٹ کا طریقہ بھی ایجاد کرلیا ہے۔ سادہ نسخہ ٹرائی کریں اور ڈائریکٹ بہشت میں جائیں۔ سوالات تو ذہن میں بہت اُٹھتے ہیں لیکن اہم سوال یہ ہے کہ یہ کون لوگ ہیں جو اپنے ہی ملک کی افواج کے خلاف بغاوت کر تے ہیں، حکومت کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں جبکہ اسلام میں واضح طور پر ایسی حرکات کو فساد فی الارض سے منسوب کیا گیا ہے۔ آخر وہ کون لوگ ہیں جو معصوم بچوں کو تربیت دے کر ”جنت“ کی طرف روانہ کر دیتے ہیں لیکن خود جنت میں جانا پسند نہیں کرتے۔ یہ ایک اُلجھا ہوا معاملہ ہے جسے اربابِ اختیار اور ذرائع ابلاغ نے طالبان، انتہا پسند، عسکریت پسند یا شیعہ سُنی کہہ کر ٹالا ہوا ہے۔ دہشت گردی میں استعمال ہونیوالے بچے کون ہیں انکے اکثر پہلوﺅں پر ہمارے ذرائع ابلاغ اور ارباب اختیار کی نااہلی کی وجہ سے عوام کی نظر نہیں پڑتی۔ خودکش بمبار کئی پکڑے گئے مگر آج تک حکومت نے کوئی نتیجہ عوام کے سامنے پیش نہیں کیا جس سے معلوم ہو سکے کہ یہ کس کی سازش ہے۔ یہ خودکش بمبار بھارتی ایجنٹ بھی ہو سکتے ہیں جو پاکستان میں امن قائم ہوتا نہیں دیکھ سکتے۔ یہ لوگ ان کے ایجنٹ بھی ہو سکتے ہیں جو افغانستان میں موجود رہنے کیلئے جواز ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ یہ ان کے ایجنٹ بھی ہو سکتے ہیں جنہیں ایٹمی پاکستان کسی صورت ہضم نہیں ہو رہا۔ دشمن نہ صرف پاکستان کے ارد گرد گھیرا تنگ کر رہا ہے بلکہ ملک کے اندر بھی مورچہ بند ہو چکا ہے۔ ایک طرف ہندوستان اور نیٹو فورسز جبکہ اندر سے سی آئی اے، بلیک واٹر اور دیگر تنظیمیں صف آراءہیں۔ آج جن لوگوں کو دنیا طالبان کے نام سے جانتی ہے وہ تمام مدرسہ کے طلباءنہیں بلکہ ان میں جرائم پیشہ افراد قاتل، ڈاکو وغیرہ بھی شامل ہو چکے ہیں۔ کسی نے غور نہیں کیا کہ جو بچے کئی دہائیوں سے اغواءہوتے رہتے ہیں وہ کہاں جاتے ہیں؟ کئی غیر ملکی ”گوریاں“ لاوارث بچے عدالتوں کی مرضی سے گود لینے کے بہانے باہر لے جاتی رہی ہیں یہ بچے کہاں جاتے ہیں؟ ایدھی ہومز سے بہت سی فیملیاں بچوں کو گود لیتی رہتی ہیں کیا سو فیصدی یقین ہے کہ اُن میں سے کئی بچے جرائم پیشہ افراد کے ہاتھ نہیں لگتے ہوں گے؟ کیا جوان ہونے پر یہ بچے خودکش بمبار کے طور پر استعمال نہیں ہو رہے؟ کئی جرائم پیشہ افراد جن کے بچنے کی اُمید نہ ہو اپنے خاندان کیلئے بڑی رقم وصول کرکے بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔ ایک اور بات جو آج تک کسی اخبار یا ٹی وی پر نہیں آئی یہ ہے کہ خودکش بمبار اپنی جان خود نہیں لیتے بلکہ ریموٹ کنٹرول کسی دوسرے کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو اسے اُڑا دیتا ہے اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اگر خودکش بمبار خود کو نہ اُڑائے تو دوسرا اُڑا دیتا ہے۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے وقت نہ صرف وہاں امن قائم تھا بلکہ پاکستان بھی محفوظ تھا۔ اس وقت نہ افغانستان اور نہ پاکستان میں کوئی خودکش حملے ہوتے تھے۔ اگر طالبان کا مقصد بے گناہ مسلمانوں کا خون کرنا ہوتا تو یہ کام اپنے دورِ حکومت میں آسانی سے کر سکتے تھے لیکن انہوں نے افغانستان میں امن قائم کیا۔ پاکستان میں دہشت گردی اُس وقت شروع ہوئی جب ہم نے امریکا کا ساتھ دیا۔ افغانستان میں کرزئی حکومت بننے کے ساتھ کئی طالبان نے پاکستان کے قبائلی علاقوں کا رُخ کیا۔ ان کے ساتھ طالبان کے روپ میں غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کے لوگ بھی آنا شروع ہو گئے۔ان لوگوں نے یہاں آ کر ایک طرف تو طالبان کا لبادہ اوڑھ لیا جبکہ دوسری طرف بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کی پسماندہ قوموں کو پاکستان کی سالمیت کے خلاف ورغلانا شروع کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ طالبان کو اپنا من پسند دین پھیلانے میں مدد ملی جبکہ امریکا کو یہاں پیش قدمی کا موقع مل گیا کیونکہ اسلام دشمن عناصر یہ جانتے ہیں کہ اگر کسی قوم کو توڑنا ہو تو سب سے پہلے اُن کے دین پر حملہ کرو۔ کئی طالبان پاکستان کے اندر ہی امریکی ایجنٹ بنے جو امریکا سے امداد لے کر پاکستان میں دہشت گردی کرتے ہیں۔ ان باغی طالبان کو اصلی طالبان ہرگز نہیں کہا جا سکتا۔ یہ جرائم پیشہ لوگ طالبان کے روپ میں بچوں کو اغواءکرکے اپنے کیمپوں میں تربیت دیتے ہیں تاکہ اُنہیں خودکش حملوں میں استعمال کر سکیں۔ سوات آپریشن کے دوران طالبان کے ایک کیمپ سے ایسے دوسو کے قریب لڑکے برآمد ہوئے جن کو خودکش حملوں کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ ان میں سب سے چھوٹے بچے کی عمر صرف چھ سال تھی۔ تربیت کے دوران ان بچوں پر سخت نفسیاتی دباﺅ ڈالا گیا تھا اور انہیں یقین تھا کہ خودکش حملے کے بعد وہ سیدھے ”بہشت“ میں چلے جائیں گے۔ ان بچوں کی اس قدر برین واشنگ کی گئی تھی کہ یہ راستے کی رکاوٹ بننے پر اپنے والدین کو بھی قتل کرنے کیلئے تیار تھے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جن بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر اور دیگر شعبوں کے بارے میں سوچنا چاہئے وہ جرائم پیشہ لوگوں کے ہاتھوں خودکش بمبار بن رہے ہیں۔ آخر یہ کونسے لوگ ہیں جو اپنے مقاصد کے لئے بچوں کو استعمال کرتے ہیں۔ صرف پاکستان اور افغانستان ہی نہیں بلکہ یہ مسئلہ دیگر ممالک کو بھی درپیش ہے۔ یہ عام فہم بات ہے کہ ایل ٹی ٹی ای نامی تامل علیحدگی پرست گروہ بھی ماضی میں یہ طریقہ اپنا چکا ہے۔ نیپال کے شاہی نظام کے خلاف مزاحمت کرنیوالے ماﺅ نواز جنگجوﺅں نے بھی اپنے مقاصد کے حصول کیلئے بچوں کا استعمال کیا۔ نیپال میں شاہی نظام کے خاتمے کے بعد ان جنگجوﺅں کے جو عارضی کیمپ قائم ہوئے ان میں سابق جنگجوﺅں کے علاوہ ایسے بچے بھی پائے گئے جن کو تربیت دیکر سپاہیوں میں تبدیل کیا گیا تھا۔ یہ بچے تقریباً دو سال تک ان کیمپوں میں رہے جب اقوام متحدہ کے مشن نے انہیں برآمد کیا۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکا میں سرگرم عمل شدت پرست بچوں کو خودکش حملوں کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ ایک اسلامی ریاست میں اقلیتوں کو جہاں دیگر حقوق حاصل ہیں وہاں اُن کی عبادت گاہوں کو بھی تحفظ حاصل ہے پھر یہ کون لوگ ہیں جو صرف مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو ہی نشانہ بناتے ہیں۔ سوال یہ اُٹھتا ہے کہ ان لوگوں نے کبھی بلیک واٹر، شراب کے اڈوں، جواءخانوں، ناچ گانے کی محفلوں وغیرہ کو نشانہ کیوں نہیں بنایا۔ جولائی 2009ءمیں سوات اور فاٹا میں گرفتار طالبان سے بھارتی کرنسی اور اسلحہ کے علاوہ امریکا کے جاری کردہ آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے کارڈ تک ملے ہیں۔ 2نومبر 2009ءکو پاک فوج کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ وزیرستان میں جاری آپریشن کے دوران بھارتی روابط کے ناقابل تردید ثبوت ملے ہیں۔ دہشت گردوں کے زیر استعمال بھارتی لٹریچر اور اسلحہ بھی پکڑا گیا ۔ اس کے علاوہ سوات اور وزیرستان آپریشن کے دوران طالبان کے روپ میں ایسے لوگ بھی پکڑے گئے جن کی ختنہ تک نہیں ہوئی تھی۔ جو آگ افغانستان کے پہاڑوں پر بھڑکائی گئی تھی وہ خیبرپختونخواہ کے پہاڑوں سے ہوتی ہوئی پنجاب کے میدانوں کا رُخ کر چکی ہے۔ ہماری حالت یہ ہے کہ نہ ملک میں امان ہے نہ دنیا میں کہیں اور ہماری کوئی عزت ہے۔ ایئرپورٹوں پر ہمیں لائن سے الگ کھڑا کرلیا جاتا ہے، کتوں سے سونگھایا جاتا ہے، تلاشی کی خاطر کپڑے تک اُتار لیئے جاتے ہیں لیکن ہمیں پھر بھی شرم نہیں آتی۔ پھر بھی ہم نہیں سوچتے کہ اپنے گھر کو سدھاریں کہ اس ذلت سے نجات ملے۔ ہمیں اس وقت قوت حکمت و تدبر کے ذریعے معاملات کو سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ نے بغاوتوں کے دور میں حکومت کو سنبھالا اور معاملات کو اس طرح حل کیا کہ ان کا چھوٹا سا عہد پورے بنوامیہ کے دورِ حکومت میں واحد دور نظر آتا ہے جو ہر قسم کی بغاوتوں سے خالی رہا۔ یہ بغاوتیں ظلم و ناانصافی سے قائم ہوتی ہیں۔ سب کو سب کا حق لوٹا دیں بغاوتوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ہر خودکش حملہ اور اسکے بعد حکمرانوں کا سنگدلانہ انداز مزید خودکش حملہ آوروں کی پیدائش کا سبب بنتا ہے۔ یوں پاکستان آہستہ آہستہ خودکش بمباروں کی فیکٹری میں تبدیل ہو تا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر والوں کو بچوں کی کیٹگری میں شمار کیا جاتا ہے۔ بچوں کو خودکش حملوں کیلئے استعمال کرنا انتہائی وحشیانہ جرم ہے اور یہ جرم کرنے والے انسان نہیں ہو سکتے۔ پاکستان نے جس دن اپنی سرزمین پر امریکی جنگ لڑنا بند کر دی، جس دن قبائلی عوام پر ڈرون حملوں کا سلسلہ ختم ہو گیا اُس دن ملک میں امن بھی آ جائے گا۔ جنرل ضیاءکے دور میں بم دھماکے تب ختم ہوئے تھے جب افغانستان کی جنگ بند ہوئی۔ قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کا بے گناہ اور معصوم شہری ہی نشانہ بن رہے ہیں۔ ان ڈرون حملوں کے خلاف اب تو قبائلی سردار بھی ہتھیار اُٹھا چکے ہیں۔ ہم نے ہر گزرے دن کے ساتھ ان قبائلیوں کے زخموں پر کونسا مرہم رکھا۔ خدارا یہ منافقت چھوڑ دیں۔ کبھی انکے احساسات کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی نفسیاتی، علمی حیثیت اور کلچر کو سمجھتے ہوئے یہ معاملات نبٹائے جائیں۔

12-04-2011
اُستاد کا مقام اسلامی معاشرہ میں...........علامہ پیر محمد تبسم بشیر اویسی•

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یعلمھم الکتاب والحکمة۔کہہ کر حضور کی شان بحیثیت معلم بیان کی ہے ۔خود رسالت مآب کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوئے ۔ انما بعثت معلما۔”کہ میں استاد بنا کر بھیجا گیا ہوں۔“”اسلامی نظام تعلیم میں استاد کو مرکزی مقام حاصل ہے ۔معلم کی ذات ہی علمی ارتقاسے وابستہ ہے ۔نئی نسل کے مستقبل کی تعمیر کے سلسلے میں استاد کی مثال ایک کسان اور باغبان کی سی ہے ۔ علامہ محمداقبال رحمة اللہ علیہ کے یہ الفاظ معلم کی عظمت و اہمیت کے عکاس ہیں ۔”استاد در اصل قوم کے محافظ ہیں ۔ کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور انکو ملک کی خدمت کے قابل بنایا انہیں کے سپرد ہے ۔سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگذاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگذاری ملک کے معلموں کی کارگذاری ہے ۔معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے ۔کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی ،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اسکے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سر چشمہ اسکی محنت ہے ۔“ ہنر ی کا کہناہے:معلم فروغ علم کا ذریعہ ہے ۔لیکن اس کے علم سے فائدہ و ہ نیک بخت اُٹھاتے ہیں ۔جنکے سینے ادب و احترام کی نعمت سے مالا مال ہوں ۔کیونکہ :الادب شجر والعلم ثمر فکیف یجدون الثمر بدون الشجر۔”ادب ایک درخت ہے اور علم اسکا پھل ۔اگر درخت ہی نہ ہوتو پھل کیسے لگے گا؟“ اب ملت اسلامیہ کی قابل قدر ،قد آورچنداہم شخصیات کے احوال و اقوال کا ذکر کیا جاتا ہے ۔جنہوں نے اپنے اساتذہ کے ادب و احترام کی درخشندہ مثالیں قائم کیں اور جو ہمارے لےے مشعل راہ ہیں۔ خلیفہ چہارم امیر المومنین حضرت سیدنا علی مولود کعبہ کرم اللہ وجہہ الکریم فرمایا!”جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا میں اس کا غلام ہو ں۔“وہ چاہے مجھے بیچے ۔آزاد کرے یا غلام بنائے رکھے۔“ایک دوسرے موقعہ پر فرماتے ہیں کہ”عالم کا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جاﺅ۔“ مفسر قرآن حضرت سیدنا عبد اللّٰہ ابن عباس رضی اللہ عنہما: معارف قرآن کے لئے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے گھر جاتے ۔ تو انکے دروازے پر دستک نہ دیتے ۔ بلکہ خاموشی سے انکا انتظار کرتے ۔حتیٰ کہ وہ اپنے معمول کے مطابق باہر آتے ۔حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو یہ بات گراں گزری ۔ ایک دن کہنے لگے”آپ نے دروازہ کیوں نہ کھٹکھٹایا ۔تاکہ میں باہر آجاتا اور آپکو انتظار کی زحمت نہ اُٹھانا پڑتی۔“آپ نے جواب میں کہا!العالم فی قومہ کالنبی فی امتہ وقد قال اللّٰہ فی حق نبیہ ولو انھم صبروا حتیٰ تخرج الیھم۔”عالم کا اپنی قوم میں مقام ایسا ہی ہے جیسے نبی کا مقام امت میں اور بے شک اللہ تعالیٰ نے نبی کریم کے ادب کے بارے فرمایا (اے دروازہ نبوت پر آوازے لگانے والو)اگر تم صبر کرتے یہاں تک کہ میرے رسول خود باہر تشریف لاتے۔“ حضرت زید بن ثابت نے ایک جنازے پر نماز پڑھی ۔پھر انکی سواری کےلئے خچر لایا گیا ۔تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آگے بڑھ کر رکاب تھا م لی ۔حضرت زید نے یہ دیکھ کر کہا:اے ابن عم رسول اللہ !آپ ہٹ جائیں ۔اس پر حضرت ابن عباس نے جواب دیا:”علماءاور اکابر کی عزت اسی طرح کرنی چاہےے ۔“ سیدنا امام اعظم ابو حنیفہرضی اللہ عنہ:امام اعظم رضی اللہ عنہ اور آپکے استاد امام حماد بن سلیمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے درمیان سات گلیوں کا فاصلہ تھا۔ لیکن آپ کبھی انکے گھر کی طرف پاﺅں کر کے نہیں سوئے۔آپ دوران درس اپنے استاد کے بیٹے کے احترام میں کھڑے ہوجایا کرتے ۔امام حماد کی ہمشیرہ عاتکہ کہتی تھیں ،کہ حضرت امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ ہمارے گھر کی روئی دھنتے ۔دودھ اور ترکاری خرید کر لاتے اور اسی طرح کے بہت سے کام کرتے تھے۔ امام احمد رضی اللہ عنہ:امام احمد رضی اللہ عنہ ایک بار مرض کی وجہ سے ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ۔اثنائے گفتگو ابراہیم بن طہمان کا ذکر نکل آیا۔ان کا نام سنتے ہی آپ فوراً سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ یہ بات ناز یبا ہو گی کہ نیک لوگوں کا ذکر ہو اور ہم اسی طرح بیٹھے رہیں ۔ امام شافعی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ امام مالک کی مجلسِ درس بڑی باوقار ہوتی تھی ۔تمام طلبہ مو¿دب بیٹھتے۔یہاں تک کہ ہم لوگ کتاب کا ورق آہستہ اُلٹتے کہ کھڑکھڑاہٹ کی آواز پیدا نہ ہو۔ امام قاضی ابو یوسف رحمة اللہ علیہ:امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے نماز پڑھی ہو اور اپنے استاد سیدنا امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کےلئے دعا نہ مانگی ہو۔ ایک روایت ہے کہ آپ ہر نماز کے بعد پہلے امام اعظم کےلئے دعا مغفرت کرتے تھے ۔پھر اپنے والدین کےلئے ۔ امام ربیع رحمة اللہ علیہ :آپ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے استاد حضرت امام شافعی رحمة اللہ علیہ کی نظروں کے سامنے مجھے کبھی پانی پینے کی جرات نہیں ہوئی۔ ہارون الرشید :ہارون الرشید کے دربار میں کوئی عالم تشریف لاتے تو بادشاہ ان کی تعظیم کےلئے کھڑا ہوجاتا ۔ درباریوں نے کہا کہ اس سلطنت کا رُعب جاتا رہتا ہے تو اس نے جواب دیا کہ اگر علمائے دین کی تعظیم سے رعب سلطنت جاتا ہے تو جانے ہی کے قابل ہے۔ایک دفعہ ہارون الرشید نے ایک نابینا عالم کی دعوت کی اور خود ان کے ہاتھ دھلانے لگا ۔اس دوران میں عالم صاحب سے پوچھا ۔آپ کو معلوم ہے کہ کون آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈال رہا ہے ۔عالم نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر ہارون الرشید نے جواب دیا کہ میں نے یہ خدمت خود انجام دی ہے ۔اس پر عالم دین نے کسی ممنونیت کا اظہار نہیں کیا ۔بلکہ جواب دیا کہ ہاں آپ نے علم کی عزت کےلئے ایسا کیا ہے ۔اس نے جواب دیا بے شک یہی بات ہے ۔ ہارون الرشید نے اپنے بیٹے مامون کو علم و ادب کی تعظیم کے لئے امام اصمعی کے سپرد کر دیا تھا ایک دن ہارون اتفاقاً انکے پاس جا پہنچا ۔دیکھا کہ اصمعی اپنے پاﺅں دھو رہے ہیں اور شہزادہ پاﺅں پر پانی ڈال رہا ہے ۔ہارون الرشید نے برہمی سے کہا ۔میں نے تواسے آپکے پاس اسلئے بھیجا تھا کہ آپ اس کو ادب سکھائیں گے ۔آپ نے شہزادے کو یہ حکم کیوں نہیں دیا کہ ایک ہاتھ سے پانی ڈالے اور دوسرے ہاتھ سے آپ کے پاﺅں دھوئے ۔ حضر ت یوسف بن حسین رحمة اللہ علیہ: حضر ت یو سف بن حسین رحمتہ اللہ علیہ کا قو ل ہے کہ ادب سے علم سمجھ میں آتا ہے ۔اور علم سے عمل کی تصحیح ہوتی ہے ۔اور عمل سے حکمت حاصل ہوتی ہے ۔(آداب المعلمین ،صفحہ10) اصمعی رحمة اللہ علیہ کا قول مشہور ہے:جو شخص علم حاصل کرنے میں ایک لمحہ کی ذلت برداشت نہ کر سکے ،وہ پھر ساری عمر جہالت کی ذلت میں زندگی گزار دیتا ہے۔ (ادب الاملائ،والاستملاءللسمعانی،صفحہ145۔ ) 11)صاحب تعلیم المتعلم لکھتے ہیں کہ امام فخر الدین رازی رحمة اللہ علیہ کو میں نے بادشاہ کے پاس دیکھا کہ بادشاہ ان کی بے انتہا تعظیم کرتا تھا اور یہ بات بار بار کہتا تھا کہ میں نے یہ سلطنت اور عزت صرف استاد کی خدمت کی وجہ سے حاصل کی ہے ۔کیونکہ میں اپنے استاد قاضی امام ابو زید رحمة اللہ علیہ کی بہت خدمت کیا کرتا تھا ۔ یہاں تک کہ میں نے تیس سال تک متواتران کا کھانا پکایا۔ شرح الطریقة المحمدیہ میں واقعہ لکھا ہے:کہ جس وقت امام حلوانی بخارا سے دوسری جگہ تشریف لے گئے تو امام ابو زرنوجی رحمة اللہ علیہ کے علاوہ اس علاقہ کے تمام شاگرد سفر کر کے ان کی زیارت کو گئے ۔مدت کے بعد جب امام ابو زرنوجی رحمة اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے غیر حاضری پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے معذرت پیش کی اور وجہ بتائی کہ ماں کی خدمت کی وجہ سے حاضر نہ ہو سکا ۔اس وقت امام حلوانی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا!تم کو عمر تو زیادہ نصیب ہو جائیگی ۔مگر درس نصیب نہ ہوگا ۔ حضرت مظہر جان جاناں:حضرت مظہر جان جاناں شہید رحمة اللہ علیہ نے علم حدیث کی سند حضرت حاجی محمد افضل سے حاصل کی تھی ۔تحصیل علم سے فراغت کے بعد حضرت حاجی صاحب نے اپنی کلاہ جو پندرہ برس سے آپکے عمامہ کے نیچے رہ چکی تھی ۔حضرت مظہر جان جاناں کو عنایت فرمائی۔آپ نے رات کے وقت ٹوپی پانی میں بھگودی ۔ صبح کے وقت پانی سیاہ ہو چکا تھا ۔آپ نے اس پانی کو پی لیا ۔آپ فرماتے ہیں کہ اس پانی کی برکت سے میرا دماغ ایسا روشن ہوا کہ کوئی کتاب بھی مشکل نہ رہی۔ علامہ محمداقبال:مولوی سید میر حسن اقبال کے اساتذہ میں وہ باکمال شخصیت ہیں ۔جنہوں نے آپ کی تربیت میں یادگار کردار ادا کیا ۔جب اقبال کو ”سر“ کا خطاب دیا جانے لگا۔ تو آپ نے کہا کہ پہلے میرے استاد سید میر حسن کو شمس العلماءکا خطاب دیا جائے ۔تب میں یہ خطاب قبول کروں گا۔ اسی طرح بیماری کے دنوں میں ڈاکٹر وں کے بے حد اصرار کے باوجود آپ نے اپنے استاد محترم کے کہنے پر گردے کا اپریشن نہیں کروایا۔ایک دفعہ اقبال اپنے چند دوستوں کے ہمراہ گلی میں بیٹھے تھے ۔کہ اچانک انہوں نے دور سے مولوی صاحب کو آتے دیکھا ۔تو جلدی سے انکے پاس پہنچے ۔اس حالت میں کہ انکے ایک پاﺅں میں جوتا بھی نہ تھا ۔اقبال انکے پیچھے پیچھے چلنے لگے ۔حتیٰ کہ مولوی صاحب کو انکے گھر پہنچا کر واپس آئے ۔علامہ اقبال نے ایک بار کہا تھا کہ یورپ کا کوئی عالم یا فلسفی ایسا نہیں جس سے میں نہ ملا اور کسی نہ کسی موضوع پر بلا جھجھک بات نہ کی ہو۔ لیکن نہ جانے کیا بات ہے کہ شاہ جی(مولوی سید میر حسن) سے بات کرتے ہوئے میری قوت گویائی جواب دے جاتی ہے ۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ مجھے ان کے نقطہ¿ نظر سے اختلاف ہوتا ہے۔ لیکن دل کی یہ بات بآسانی زبان پر نہیں لا سکتا۔آپ نے اپنے اس عظیم محسن کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ مجھے اقبال اس سید کے گھر سے فیض پہنچا ہے پلے جو اسکے دامن میں وہی کچھ بن کے نکلے ہیں وہ شمع بارگاہ خاندان مرتضوی رہے گا مثل حرم جس کا آستاں مجھکو معزز قارئیں:آپ نے معروف اسلافِ اسلام کی شخصیات کے اقوال و احوال پڑھے جن سے ثابت ہوا کہ اُن لوگوں نے اپنے اساتذہ کرام کی تعظیم و توقیر کس انداز سے کی اور ان قد آوار شخصیات کا عمل ہمارے لئے قابل تقلید ہے ۔میرا خیال ہے دنیا میں علم کی قدر اُسی وقت ہوگی جب اساتذہ کا مقام معاشرے میں بحال کیا جائے گا۔ آج ایک پولیس مین کے آنے سے پورا محلہ کانپ اٹھتا ہے ۔مجسٹریٹ کا رعب و دبدبہ افراد پر کپکپی طاری کر دیتا ہے ۔لوگ پولیس والے ،مجسٹریٹ،جج اور دیگر افسران کے برابر بیٹھنا اُس کی بے ادبی تصور کرتے ہیں ۔لیکن استاد جس کی محنت ،کوشش اور شفقت سے یہ افراد ان بالا عہدوں پر فائز ہیں اُن کی قدر معاشرہ کرنے سے قاصر ہے ۔حکومت اساتذہ کو ”سر“ کا خطاب دینا چاہتی ہے ،سلام ٹیچر ڈے منایا جاتا ہے ۔مگر افراد کے دل میں حرمت اساتذہ ناپائید ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ کا جائزمقام معاشرہ میں بحال کرتے ہوئے حکمران اپنے اسلاف کی زندگیوں سے راہنمائی لیتے ہوئے ان کی معاشی حالت بہتر بنائیں ۔اساتذہ کی عظمت معاشرہ میں بحال ہونے سے شرح خواندگی میں اضافہ ہو گا اور اساتذہ کی معاشی حالت بہتر ہونے سے اساتذہ اپنے منصب پر فرائض کی انجام دہی پورے لگن سے کریں گے جس سے علمی انقلاب اور ملکی ترقی کی راہیں کھلیں گی ۔پاکستان میں اساتذہ اپنے حقوق کے لئے احتجاج کرتے ہیں ۔مطالبات تسلیم نہ ہونے پر تعلیمی بائیکاٹ ہوتا ہے اور سڑکوں پر بھوک ہڑتالی کیمپ لگتے ہیں ۔اس احتجاج کو روکنے کے لئے انہی کے شاگردان پر لاٹھیاں برساتے ہیں ۔کیا یہی استاد کا مقام ہے؟ حکومت حقوق اساتذہ پورے کرنے کےلئے احتجاج کا انتظار کےے بغیر ان کا معاشی،معاشرتی اور ملی مقام بحال کرنے کےلئے قانون سازی کرے تاکہ ملک و ملت نظریہ پاکستان و نظریہ اسلام کو پروان چڑھاسکے۔

12-04-2011
سجدہ۔۔۔ جسے تو گراں سمجھتا ہے........پیر محمد تبسم بشیر اویسی•

عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما قال امر النبی ان یسجد علی سبعة اعضاءولا یکف شعرا ولا ثوبا الجھة والیدین والرکبتین والرجلین (بخاری جلد اول ص112مسلم جلد اول ،ص 193) ترجمہ:”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم کو حکم دیا گیا ہے کہ سات اعضاءپرسجدہ فرمائیں اور بالوں کو نہ روکیں اورنہ ہی کپڑے کواکٹھا کریں ،وہ سات اعضاءسجدہ پیشانی ،دونوں ہاتھ ،دوگھٹنے اور دو نوں پاﺅں ہیں۔“ تشریح: اس حدیث میں سات اعضاءپر سجدہ کا حکم ذکر ہوا اور اس کے بعد والی حدیث میں سات ہڈیوں پر کالفظ ہے ۔ ان ہڈیوں سے مراد بھی وہ ہی اعضاءہیں ۔جو اوپر والی حدیث میں مذکور ہوئے اور اس حدیث میں لفظ امر اور بعد والی حدیث میں لفظ امرنا ہے ۔جس سے معلوم ہوا صرف یہ حکم آپ کے لئے ہی نہیں بلکہ آپ کی امت کے لئے بھی ہوتا ہے ۔ ویسے بھی جو حکم آپ کےلئے ہو، وہ آپ کی امت کےلئے بھی ہوتا ہے ۔جب دلیل خصوص نہ ہو ۔معلوم ہوا کہ سجدہ میں سات اعضاءچہرہ ،دونوں ہاتھ،دونوں زانو، دونوں پاﺅں لگانے ا حکم ہے ۔ان اعضاءمیں سے اگر کوئی عضو نہ لگا ،تو سجدہ ناقص ہو گااور نماز ناقص ہو گی ،اس حدیث میں کف ثوب اور شعر (بال) کی ممانعت کا بھی حکم ہے ۔جس کی تفصیل آگے آئے گی۔اختلاف ائمہ:امام احمد اور اسحاق نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے اگر اعضاءسبعہ ے کسی عضو پر سجدہ کرنا ترک کر دیا تو وہ سجدہ کفایت نہ کرے گا اور سجدہ ادا نہ ہو گا اور یہی امام شافعی کا اصح قول ہے ۔اصح حدیث میں ناک کا ذکر نہیں ہے اور ایک حدیث میں ناک کا بھی ذکر ہے ۔اس حدیث میں اختلاف ہے کہ ناک کا لگانا بھی سجدہ میں فرض ہے یا نہیں ؟تو ایک گروہ نے فرمایا ہے جب پیشانی پر سجدہ کیا اور ناک نہ لگایا تو بھی کافی ہوگا یعنی سجدہ کا فرض ادا ہو جائے گا اور یہ مذہب ابن عمر اور عطاءاور حسن اور ابن سیرین اور دیگر کثیر فقہاءسے مروی ہے اور ایک گروہ نے فرمایا کہ اگر ناک پر سجد ہ کیا اور ماتھا نہ لگایا تو بھی کافی ہو گا اور یہ قول ہے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کا جیسا کہ ہدایہ اور اس کی شرح فتح القدیر میں ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک پیشانی اور ناک میں سے ایک پر اختصار جائز ہے ۔ کیونکہ مشہور روایت میں جہة کی جگہ وجہہ کا لفظ ہے اور مکمل چہرہ تو بالاتفاق خارج نہیں باقی ناک اور پیشانی میں سے ایک پر سجدہ کفایت کرے گا اور فرض ادا ہو جائے گا ۔لیکن صاحبین کے نزدیک سجدہ میں دونوں یعنی پیشانی اور ناک لگانا ضروری ہیں ۔بلا عذر اگر ایک پر اختصار کیا ۔تو کافی نہ ہو گا ۔لیکن صاحب فتح القدیر نے اس قول سے اختلاف کیا ہے اور نہایہ شرح ہدایہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ پیشانی لگانے سے آئمہ ثلاثہ کے نزدیک فرض ادا ہو جائے گا۔ صرف صاحبین کا اختلاف ہے کہ بلا عذر ناک پر اختصار کرنا جائز نہیں ہے ،ہاںعذر کے وقت تو آئمہ ثلاثہ کے نزدیک ناک پر اختصار بلا کراہت جائز ہو گا اور بلا عذر صرف ناک لگانا امام صاحب کے نزدیک اگر چہ کافی ہے ۔ لیکن شدید مکروہ ہے۔شارح مسلم علامہ غلام رسول سعیدی صاحب نے لکھا ہے کہ امام مالک رحمة اللہ علیہ کے نزدیک اگر پیشانی پر سجدہ کیا اور ناک نہ لگی تو کوئی حرج نہیں اور اگر ناک پر سجدہ کیا پیشانی نہیں لگی ،تو سجدہ نہ ہوگا ان کا استدلال بھی اسی حدیث سے ہے۔ امام شافعی کے نزدیک سجدہ میں ناک اور پیشانی دونوں کا لگانا واجب ہیں۔ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں حضور نبی اکرم ﷺ نے پیشانی کے ساتھ ناک کا بھی ذکر کیا ہے اور پیشانی اور ناک دونوں کو ملا کر ایک عضو قرار دیتے ہیں تاکہ اعضاءکی تعداد سات سے زیادہ نہ ہو۔تاہم ان کا ایک قول امام اعظم رضی اللہ عنہ کے موافق بھی ہے اور یہی مختار ہے ۔کیونکہ حضرت جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم نے سجدہ کیا اور ناک نہ لگایا۔(شرح مسلم جلد اول ص681) بہر حال کامل سجدہ سات اعضاءکو لگانے سے ہی ہوگا ۔اگر بلا عذر ناک نہ لگائی تو امام صاحب کے نزدیک بھی نماز مکروہ تحریمی ہو گی اور بعض کے نزدیک نماز ہی نہ ہو گی۔ اسی طرح دونوں ہاتھ ، دونوں زانو،دونوں پاﺅں لگانے بھی ضروری ہیں۔اگر کسی نے سجدہ میں دونوں پاﺅں نہ لگائے تو سجدہ نہ ہوگا اور نماز ہی نہ ہوگی۔ فضائل سجدہ:امام بخاری نے باب فصل السجود میں ایک طویل حدیث ذکر فرمائی ہے ۔جس میں دیگر امور کے علاوہ یہ بھی ذکر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ رحمت فرمائے گا اور فرشتوں کو حکم فرمائے گا :جہنم سے ان کو نکال دو ۔جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے فرشتے ان کو نکالیں گے اور اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام فرمایا ہے کہ نشان سجود کو کھائے۔معلوم ہوا کتنی شان ہے اللہ تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہونے کی کہ اگر شامت اعمال کی وجہ سے آگ میں جانا بھی پڑا ،پھر بھی اعضاءسجود جلنے سے محفوظ ہوں گے اور آثار سجود روشن ہوں گے ۔ایک حدیث میں آپ نے ارشاد فرمایا:” بندہ اپنے رب کے بہت قریب ہوتا ہے جب سجدہ کرتا ہے ۔“(عینی شرح بخاری ج 6ص88) سبحان اللّٰہ :بندہ کو سجدہ میں اور مولیٰ تعالیٰ کا خصوصی قرب حاصل ہوتا ہے ،بندہ کےلئے اس سے بڑا اعزاز کیا ہو سکتا ہے کہ اس کو مولا کریم کا قرب خاص حاصل ہو جائے اور وہ آپ کے حکم کے مطابق سجدہ کرنے سے حاصل ہوتا ہے ۔مسلم شریف میں معدان بن طلحہ یعمری بیان کرتے ہیں کہ میں جناب رسول اللہ کے غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا اور میں نے ان سے عرض کیا : مجھے ایسا عمل بتلائےے جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہو؟ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ خاموش رہے ۔میں نے دوبارہ سوال کیا ،وہ خاموش رہے ،میں نے سہ بارہ سوال کیا ،تو انہوں نے فرمایا :میں نے رسول اللہ سے یہ بات پوچھی تھی ،تو آپ نے فرمایا :اللہ تعالیٰ کےلئے کثرت سجود لازم کرلو،اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک سجدہ کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہارا درجہ بلند کرے گااور تمہارا ایک گنا ہ مٹائے گا۔حضرت معدان کہتے ہیں کہ اس کے بعد میری ملاقات حضرت ابو درداءرضی اللہ عنہ سے ہوئی ۔میں نے ان سے بھی یہی سوال کیا تو انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ والا جواب دیا۔ کیا شان ہے اللہ تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہونے کی کہ ایک درجہ بلند ہوتاہے اور ایک گناہ مٹتا ہے اور کثر ت سجود محبوب ترین عمل ہے اور جنت میں داخل ہونے کا ذریعہ ہے۔مولیٰ تعالیٰ ہم سب کو کثرت سجود اور کثرت نماز کی توفیق بخشے۔ سجدہ مسنونہ کا طریقہ: سجدہ میں جب جائے تو زمین پر پہلے گھٹنے رکھے ،پھر ہاتھ ،پھر ناک،پھر پیشانی رکھے اور جب سجد ہ سے اُٹھے ،تو عکس کرے،یعنی پہلے پیشانی ،پھر ناک، پھر ہاتھ پھر گھٹنے اُٹھائے ۔(عالمگیری)اُٹھتے وقت زمین پر ٹیک لگا کر نہ اُٹھے ،بلکہ سیدھا پاﺅں پر دباﺅ ڈال کر اُٹھ کھڑا ہو۔رسول اللہ جب سجدہ کو جاتے ،تو پہلے گھٹنے رکھتے پھرہاتھ اور جب اُٹھتے تو پہلے ہاتھ پھر گھٹنے اُٹھاتے ۔ اصحاب سنن اربعہ اور سنن دارمی نے اس حدیث کو وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ۔ مردکے لئے سجدہ میں سنت یہ ہے کہ بازو کروٹوں سے جدا ہوں اور پیٹ رانوں سے اور کلائیاں زمین پر نہ بچھائے ،مگر صف میں ہو تو بازو کروٹوں سے (اچھی طرح) جدا نہ ہوں گے۔ (عالمگیری۔ہدایہ) حدیث میں جس کو بخاری و مسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ۔فرماتے ہیں کہ آپ فرماتے ہیں :سجدہ میں اعتدال کرے، اور کتے کی طرح کلائیاں نہ بچھائے۔صحیح مسلم میں ہے حضرت براءبن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور انور فرماتے ہیں :جب تو سجدہ کرے تو ،ہتھیلی کو زمین پر رکھ دے اور کہنیاں اُٹھا لے ۔ابو داﺅد نے حضرت ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ جب حضور اکرم سجدہ کرتے ۔تو دونوں ہاتھ کروٹوں سے دور رکھتے ،یہاں تک کہ ہاتھوں کے نیچے سے اگر بکری کا بچہ گزرنا چاہتا تو گزر جاتا اور مسلم کی روایت بھی اس کی مثل ہے ۔دوسری روایت بخاری و مسلم کی حضرت عبد اللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے یوں ہے کہ ہاتھوں کو کشادہ رکھتے ،یہاں تک کہ بغل مبارک سپید ظاہر ہو جاتی۔ عورت سمٹ کر سجدہ کرے۔یعنی بازو کروٹوں سے ملا دے اور پیٹ ان سے اور ران پنڈلیاں زمین سے (دونوں پاﺅں دا ہنی طرف نکال دے۔)مسائل سجدہ: پیشانی کا زمین پر جمنا سجدہ کی حقیقت ہے اور پاﺅں کی ایک انگی کا پیٹ زمین پر لگنا شرط ہے ۔تو اگر کسی نے اس طرح سجدہ کیا کہ دونوں پاﺅں زمین سے اُٹھے رہے ،نماز نہ ہوئی، بلکہ صرف انگلی کی نوک زمین سے لگی۔جب بھی نہ ہوئی ۔اس مسئلہ سے بہت لوگ غافل ہیں ۔(درمختار ۔فتاویٰ رضویہ) مسئلہ:سجدہ میں دونوں پاﺅں کی دسوں انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا سنت ہے اور ہر پاﺅں کی تین تین انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا واجب اور دسوں کا قبلہ رو ہونا سنت ہے۔ (فتاویٰ رضویہ)مسئلہ: اگر کسی عذر کے سبب پیشانی زمین پر نہیں لگاسکتا ، توصرف ناک پر سجدہ کرے،پھر بھی فقط ناک کی نوک لگنا کافی نہیں بلکہ ناک کی ہڈی زمین پر لگنا ضروری ہے ۔(عالمگیری۔ردالمختار)مسئلہ:رخسار یا ٹھوڑی زمین پر لگانے سے سجدہ نہ ہو گا ۔خواہ عذر کے سبب ہو یا بلا عذر ،اگر عذر ہو تو اشارہ کا حکم ہے ۔مسئلہ:ہر رکعت میں دوبار سجدہ کرنا فر ض ہے۔مسئلہ:کسی نرم چیز مثلا ًگھاس ،روٹی،قالین،وغیرہ پر سجدہ کیا گیا اگر پیشانی جم گئی ،یعنی اتنی دبی کہ اب دبانے سے نہ دبے ،تو جائز ہے ورنہ نہیں۔(عالمگیری)بعض جگہ سردیوں میں مسجد میں پیال (دھان کا بھس ) بچھاتے ہیں ۔ان لوگوں کو سجدہ کرنے میںاس کا لحاظ بہت ضروری ہے ۔اگر پیشانی خوب نہ دبی تو نماز ہی نہ ہوئی اور ناک ہڈ ی تک نہ دبی ،تو مکروہ تحریمی ،واجب الاعادہ ہوئی ۔مسئلہ:عمامہ کے بیچ پر سجدہ کیا ،اگر ماتھا خوب جم گیا ،سجدہ ہو گیا اور ماتھا نہ جما ،بلکہ چھوگیا ،کہ دبانے سے دبے گا ،یا سر کا کوئی حصہ لگا تو سجدہ نہ ہوا۔(در مختار) کف شعر:یعنی نماز اس طرح پڑھنا کہ بالوں کا جوڑا بنایا ہو ،اس سے بھی سرکار نے منع فرمایا ہے ۔یہ متعدد روایات میں ہے کہ کف شعر نہ کیا جائے ۔ابو داﺅد میں سند جید سے مروی ہے کہ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ آپ نماز اس حال میں پڑھ رہے ہیں کہ آپ نے اپنی زلفوں کا اپنی گردن پر جوڑا بنایا ہوا ہے ،توآپ نے جوڑا کھول دیا اور آپ (حضرت ابو رافع) نے فرمایا :میں نے سید دو عالم سے سنا ہے کہ وہ کفل الشیطان ہے ۔یعنی شیطان کا حصہ ،یا فرمایا ،مقعد الشیطان ہے یعنی شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے ۔ اس سے معلوم ہوا اس طرح پڑھنا نہایت ناپسندیدہ عمل اور مکروہ ہے ۔ اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عبد اللہ بن حارث کو اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا کہ ان کے بال معقوص ہیں ،(جوڑا بنایا ہوا) تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور ان کو کھولنا شروع فرمایا اور ساتھ ہی ایک روایت سرکار ابد قرار سے نقل فرمائی ۔جس کامفہوم یہ ہے کہ ایسے حال میں نماز پڑھنا آپ کو ناپسند ہے ۔اس کے علاوہ علامہ عینی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :”حدیث نے دلالت کی اس بات پر کہ اگر کسی نے بالوں کا جوڑا بنا کر نماز ادا کی ، تو اس کی نماز مکروہ ہو گی ۔“آگے فرماتے ہیں :جمہور علماءکا اس پر اتفاق ہے کہ اس طرح نماز پڑھنا منع ہے ۔چاہے نماز کے لئے ہی قصداً ایسا کیا ہو یا نماز سے پہلے کسی اور غرض کے لئے ایسا کیا گیا ہو۔ہر حال میں اسطرح نماز ادا کرنا منع ہے ۔اور فرماتے ہیں:”عقص کا معنی یہ ہے کہ سر کے وسط میں بالوں کو اکٹھا کر لیا جائے اور دھاگہ سے باندھا یا گوندسے چپکا لیا جائے۔ ان روایات سے معلوم ہوا کف شعر یعنی بالوں کو لپیٹ کر جوڑا بنا کر نماز پڑھنا واجب الاعادہ ہے ۔تاہم علماءسے مکروہ تنزیہی کا بھی قول مروی ہے ۔بہر حال مطلقاً کراہت پر اتفاق ہے ۔آگے اختلاف کراہت تحریمی یا کراہت تنزیہی میں ہے ۔حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ۔آپ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اس حال میں سجدہ کر رہا ہے کہ اس کے بالوں کا جوڑا بنایا ہوا ہے ۔تو آپ نے فرمایا :”جوڑا کھول دے تاکہ بال بھی سجدہ کریں۔“(یہ تمام مضمون عینی جلد نمبر6ص91پر درج ہے۔) فتح الباری والے فرماتے ہیں کہ حضرت ابو رافع اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے عمل سے یہ مفہوم ملتا ہے کہ عین نماز کی حالت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جائز ہے کہ انہوں نے عملاً نماز کا جوڑا کھول دیا اور جوڑا بنانے سے منع فرمایا اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل بھی اس کی تائید کرتا ہے کہ انہوں نے بھی نماز کی حالت میں تبلیغ فرمائی۔آجکل :فیشن کا دور ہے طرح طرح سے فیشنی بال بنائے جاتے ہیں اور خلاف سنت انگریزی طرز پر بال رکھے جاتے ہیں ۔اس طرح کے بال بنانا سخت منع ہے اور تقلید نصاریٰ ہے اور ایسی حالت میں نماز کا مکروہ ہونا واضح ہے ۔اس پر مستز ادیہ ہے کہ اکثر حضرات داڑھی منڈواتے یاکتراتے ہیں یہ بھی حرام ہے ۔ ایک مشت یعنی چار انگل کی مقدار داڑھی رکھنا واجب ہے ۔ لیکن بعض حضرات کو ایسا کرتے بھی دیکھا ہے کہ داڑھی کٹواتے تو نہیں ہیں ،لیکن داڑھی کے بال گرستے ہیں اور موڑ موڑ کر اس طرح بنالیتے ہیں کہ داڑھی چھوٹی معلوم ہو ،یہ بھی سخت منع ہے اور کٹانے کے حکم میں داخل ہے اور اس طرح نماز پڑھانا مکروہ ہے ۔ ہمارے بعض آئمہ بھی بہت کوتا ہی کرتے ہیں ،کچھ داڑھی کٹاتے ہیں اور کچھ داڑھی کو گرستے ہیں ۔مولیٰ تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے ۔ بالخصوص آئمہ حضرات کو اس کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہئےے۔کف ثوب:لغوی معنیٰ ہے کپڑا کا موڑنا اور سجدہ میں جاتے وقت اپنے کپڑے کو اوپر کی طرف کھینچنا ہے ۔اس حدیث میں مذکور ہے ۔ جس طرح کف شعر کی ممانعت ہے ایسے ہی کف ثوب کی بھی ممانعت ہے ۔کف ثوب میں تعمیم ہے ۔خواہ نیفے کی جانب کپڑا گُھرساہو یا پائنچے کی جانب سے کپڑا لپٹا ہو یا کلائیوں پر کپڑا سمیٹا ہو اہو۔مطلق کف ثوب ان سب صورتوں کو شامل ہے اور ان جیسی سب صورتیں منع اور مکروہ ہیں ۔بعض حضرات کا پاجامہ یا شلوار اتنی لمبی ہوتی ہے کہ ٹخنے کے نیچے تک جاتی ہے اور نماز پڑھتے و قت ٹخنوں کے اوپر کرنے کےلئے شلوار یا پاجامہ کو نیفے سے گھر س لیتے ہیں یا پائنچے کی جانب سے لپیٹ لیتے ہیں ۔یہ شدید مکروہ ہے ۔ٹھیک ہے ٹخنے کے نیچے تک کپڑا ہونا مکروہ ہے ۔لیکن یہ اس سے بھی زیادہ کراہت ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ اتنی لمبی شلوار وغیرہ سلوانی ہی نہ چاہیے کہ ٹخنے سے نیچے رہے کیونکہ یہ صرف نماز کی حالت میں ہی خرابی نہیں ،بلکہ عام حالت میں بھی یہ ایسی ہی خرابی ہے ۔جتنی نماز کی حالت میں ، کیونکہ جس حدیث میں آپ نے منع فرمایا ہے وہ ہر حالت کو شامل ہے ۔خواہ نماز میں یا غیر نماز میں ،پھر شلوار وغیرہ لمبی ہوتی ہے تو پھر یہ تکلفات کرنے پڑتے ہیں کبھی پائنچے کی جانب سے کپڑا لپیٹنا یا نیفے کی جانب سے کپڑا گھرسنا اور کف ثوب کرنا ۔ جس سے سرکار دوعالم نے منع فرمایا ہے ۔اس مذکورہ حدیث کے علاوہ بھی امام بخاری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ حضور نبی اکرم فرماتے ہیں :مجھے کف ثوب اور کف شعر سے منع فرمایا گیا اور ترمذی شریف میں بھی اس حدیث کی تخریج امام ترمذی نے فرمائی ہے اور یہ فرمایا :ھذا حدیث حسن صحیح۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ نماز میں کف ثوب چاہے نیفے کی جانب ،چاہے ٹخنے کی جانب،چاہے کہنیوں پر کپڑا لپیٹنا سب صورتیں منع اور مکروہ ہیں اور فقہاءکرام کے اقوال سے معلوم ہوتا ہے یہ کراہت تحریمی اور گناہ ہے۔ اقوال فقہاءکرام:درمختار میں ہے:”کف ثوب مکروہ ہے ،یعنی کپڑے کا اٹھا نا ،اگر چہ کپڑا مٹی سے بچانے کےلئے کیا ہو جیسے آستین اور دامن کو موڑنا۔اگر ایسی حالت میں نماز میں داخل ہو ا کہ اس کی آستین یا اس کا دامن موڑا ہوا تھا اور اس قول سے اس کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ موڑنا حالت نماز کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ،خواہ نماز شروع کرنے سے پہلے یا دوران نماز ہو ،سب صورتوں میں مکروہ ہے ۔“(جلد 1صفحہ598) جو ہرہ نیزہ میں ہے :ولا یکف ثوبہ الخ۔ اپنے کپڑے کو نہ موڑے اور کف ثوب یہ ہے کہ سجدہ کرتے وقت اپنے سامنے سے یا پیچھے سے اپنا کپڑا اٹھانا اکثر نمازیوں کی عادت ہے کہ سجدہ میں جاتے وقت اپنا کپڑا دونوں ہاتھوں سے اوپر اُٹھاتے ہیں یہ بھی کف ثوب ہے اور یہ بھی شدید مکروہ ہے ۔ عالمگیری میں ہے ۔” نمازی کےلئے کف ثوب مکروہ ہے ۔“ (عموماً مطلقاً مکروہ بول کر فقہاءمکروہ تحریمی مراد لیتے ہیں ۔) علامہ شامی نے آستین پر کپڑا موڑنے کی تفصیل اس طرح بیان فرمائی ہے کہ نصف کلائی سے کم ہو تو نماز مکروہ تنزیہی ہو گی اور نصف کلائی یا اس سے اوپر تک آستین مڑی ہو ،تو نماز مکروہ تحریمی ہو گی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کف ثوب تو دونوں صورتوں میں ہے ،پھرحکم میں اختلاف کیوں؟ تو اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان فرمائی ہے کہ عام طور پر وضو کرنے کے بعدبے توجہی اور بے پرواہی کی وجہ سے آستین تھوڑی سی مڑی رہ جاتی ہے ۔ لہٰذا ابتلا عام کی وجہ سے کراہت میں تخفیف ہے ۔ علامہ مولانا غلام رسول سعیدی صاحب شرح مسلم جلد اول ص683پر فرماتے ہیں :احناف کی کتب میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے فقہائے حنفیہ کا کپڑا لپٹنے میں (کلائیوں پر ) اختلاف ہے بعض کے نزدیک اگر نماز ی کہنیوں تک آستین چڑھائے تو مکروہ نہیں اور بعض کے نزدیک مطلقاً مکروہ ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جن فقہاءنے نمازی کے کپڑا لپیٹنے یا سمیٹنے کو مکروہ قرار دیا ہے ۔اس سے مراد مکروہ تحریمی ہے اور جن فقہاءنے کراہت کی نفی کی ہے ،اس نفی سے مراد مکروہ تحریمی کی نفی ہے ، مکروہ تنزیہی ان کے نزدیک بھی ثابت ہے ۔علامہ ابن عابدین نے اس مضمون کی تصریح فرمائی ہے ۔کپڑا لپیٹنے میں آستینوں کو چڑھانا ،پائنچوں کو لپیٹنا اور نیفے کے قریب شلوار یا پاجامہ کو اڑس لینا یہ سب شامل ہیں اور یہ مکروہ تحریمی ہے ۔(شرح مسلم ،جلد 1صفحہ 684) عوام تو عوام ،خواص بھی اس غلطی میں مبتلا ہیں ۔عام طور پر علماءکرام کو دیکھا جاتا ہے کہ ان کی شلوار بھی لمبی ہوتی ہے اور ٹخنوں کے نیچے ہوتی ہے اور نماز کے وقت نیفے کے قریب اوپر کو اُڑس لیتے ہیں ۔ آپ حوالہ جات سے پڑھ چکے ہیں ۔اس طرح مکروہ تحریمی ہے اور مکروہ تحریمی گناہ ہوتا ہے اور نماز بھی مکروہ ہوگی اور ان کی ذمہ داری بھی ایسے امام پر ہوگی ۔اگر چہ مقتدی بھی مکروہ کے مرتکب ہوں گے۔ مولا تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق بخشے ۔آمین !

12-04-2011
اسلام میں نکاح کی اہمیت.........پیر محمد تبسم بشیر اویسی•

ایک مرد اور عورت کے درمیان ،اسلامی قانون کی رو سے جو تعلق اور رابطہ پیدا ہو جاتا ہے ،اسے نکاح کہتے ہیں۔ وہ محض اپنی نفسانی اور جنسی خواہشوں کے پورا کرنے کے لئے نہیں اور نہ نکاح کا یہ مقصد ہے کہ ایک مرد اور عورت کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے کے گلے پڑ جائیں اور نہ شریعت اس امر کی اجازت دیتی ہے کہ عورت کوشہوانی خواہشات کی تکمیل کا آلہ کار بنا دیا جائے ۔شریعت اسلامیہ میں نکاح ایک دینی اور مذہبی عمل اور ایک گہرا تمدنی، اخلاقی اور قلبی تعلق ہے ۔مرد و عورت میں الفت و یگانگت اور میاں بیوی میں باہمی مناسبت کا پاکیزہ رشتہ ہے اور مقصود اصلہ اس کا یہ ہے کہ مرد و عورت کے میل ملاپ سے ایک کامل اور خوشگوار زندگی وجود میں آئے نسل انسانی کا سلسلہ بھی حدودِ الہٰی کی نگرانی کے درمیان بڑھتا اور پھولتا پھلتا رہے۔قرآن کریم کا ارشاد گرامی ہے ۔نساءکم حرث لکم فاتو احرثکم انی شتم:”تمہاری عورتیں تمہارے لئے کھیتیاں ہیں تو آو اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو۔“یعنی جہاں تک میاں بیوی میں وظیفہ ¿ زوجیت کا تعلق ہے ۔تو تمہاری بیوی تمہارے لئے ایسی ہی ہے جیسے کاشت کار کےلئے کاشت کی زمین ،زمیندار کے لئے اس کا کھیت ،کھیت کہتے ہیں اس قطعہ¿ زمین کو جس میں کاشت کے لئے تخم ریزی ہوتی ہے۔پیدا وار کے لئے بیج بویا جاتا ہے اور اس میں سبزی ،غلہ ،نباتات کا نشوو نما ہوتا ہے کھیت میں کسان محض تفریح اور وقت گزاری کے لئے نہیں جاتا بلکہ اسے اپنی بہت بڑی دولت سمجھ کر اسے نہایت درجہ عزیز رکھتا اور اس سے پیداوار حاصل کر کے خوب منافع کماتا ہے ۔اسی طرح عورتیں مردوں کے لئے کھیتی کی جگہ ہیں ۔اس کا نطفہ تخم ہے اور اولاد کا حصول بمنزلہ¿ پیداوار ہے تو عورتوں اور مردوں میں ایک دوسرے سے تعلق اور قربت سے مقصود نسل انسانی کی بقا¿ اولاد کا حصول اور پاکیزہ زندگی ایک خوشگوار ماحول کی فراہمی ہے نہ کہ قضائے شہوت اور محض جنسی خواہشات کی تکمیل یہی وجہ ہے کہ اسلامی قانون ،عورتوں کے مخصوص ایام میں ، قربت وہمبستری کی اجازت نہیں دیتا، غرض کہ نسل انسانی کے کسان کو بھی ،انسانیت کی اس کھیتی میں اس لئے جانا چاہئے کہ وہ اس سے نسل کی پیداوار حاصل کرے۔اس آیہ¿ کریمہ میں آگے یہ بھی ارشاد فرمایا،وقدموا لانفسکم۔یعنی اپنے حق میں آئندہ کےلئے کچھ کرتے رہو ،اپنے لئے مستقبل کا سامان کرو، پھر فرمایا:۔ واتقواللّٰہ۔اللہ سے ڈرتے رہو یعنی بات نہ بھولو کہ تمہیں ایک دن مرنا اور اس کے حضور حاضر ہونا ہے ۔یہ جامع الفاظ ہیں جن سے دو مطلب نکلتے ہیں اور دونوں کی یکساں اہمیت ہے ایک یہ کہ نسل برقرار رکھنے کی کوشش کروتا کہ تمہارے دنیا چھوڑنے سے پہلے تمہاری جگہ دوسرے کام کرنے والے پیدا ہوں اور کارخانہ¿ عالم کا نظام قائم رہے۔دوسرے یہ کہ جس آنے والی نسل کو تم اپنی جگہ چھوڑ نے والے ہو اس کو دین اخلاق اور آدمیت کے جو ہر سے آراستہ کرنے کی کوشش کرو، یہ گویا اس کی تاکید ہے کہ لذتوں میں مشغولیت کے وقت بھی مسلمان مرد اور عورت اپنی ذمہداریوں کو نہ بھول جائیں ۔لذت پرستی ہی میں ڈوب کر نہ رہ جائیں بلکہ اپنی لذتوں کو بھی اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی فکر سے غافل نہ ہوں ۔اگر ان ذمہ داریوں اور فرائض کے ادا کرنے میں تم نے قصداً کوتاہی کی اور شہوانی لذتوں اور نفسانی خواہشوں ہی میں ڈوب کر رہ گئے تو خداوند قدوس کے یہاں باز پرس سے کس طرح بچ سکو گے ۔اسی مضمون کی تاکید قرآن عظیم کے اور مقامات سے بھی ہوتی ہے ۔مثلاً نکاح کے باب میں مردوں سے فرمایا۔محصنین غیر مسافحین۔ یعنی”نکاح جسکی اجازت تم مردوں کو دی جا رہی ہے وہ ازدواجی زندگی کے قید و بند میں رہنے اور ان ذمہ داریو کے پورا کرنے کے لئے ہو جو عقد نکاح کے بعد تم پر عائد ہوتی ہیں ۔اس کا مقصود نفس پرستی اور بدمستی نہیں ہونا چاہئے۔ عورتوں کے حق میں فرمایا:محصنٰت غیر مسافحات ولا متخذات اخدان۔یعنی” عورتیں جو مردوں کے عقد نکاح میں آرہی ہیں انہیں بھی یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ وہ ازدواجی زندگی کے قید و بند کی پابند بن رہی ہیں ہوس رانی اور بد چلنی کی زندگی ، ازدواجی زندگی نہیں بن سکتی۔ خلاصہ¿ کلام یہ کہ مرد و عورت دونوں کا مقصود نکاح کے ذریعے ایک پاکیزہ اور عفت مآب زندگی بسر کرنا ہونا چاہئے۔ جنسی خواہشات کی تکمیل اس کی غایت نہیں اور اس تعبیر میں تنبیہہ ہے کہ زانی محض شہوت رانی کرتا اور مستی نکالتا ہے اور اس کا فعل غرض صحیح اور مقصد حسن سے خالی ہوتا ہے ،نہ اولاد حاصل ،نہ نسل و نسب محفوظ کرنا نہ اپنے نفس کو حرام سے بچانا ،ان میں سے کوئی بات اس کے مد نظر نہیں ہوتی وہ اپنے نطفہ ومال کو ضائع و برباد کر کے دین و دنیا کے خسارہ میں گرفتار ہوتا ہے۔سورة نحل میں ارشاد فرمایا:واللّٰہ جعل لکم من انفسکم ازواجا وجعل لکم من ازواجکم بنین وحفدة۔اور اللہ نے تمہارے لئے تمہاری جنس سے عورتیں بنائیں اور تمہارے لئے تمہاری عورتوں سے بیٹے اور پوتے اور نواسے پیدا کئے۔ یعنی اللہ عزوجل نے مردوں کے لئے نوع انسانی ہی سے اس کا جوڑا پیدا کیا تاکہ دونوں میں الفت و محبت قائم رہے اور تخلیق انسانی کی غرض پوری ہو پھر دونوں کے باہمی اختلاط و قربت سے انسان کو اولاد بخشی اور اولاد کی اولاد عطا فرمائی پوتے اور نواسے دےے تاکہ نوع انسانی بر قرار رہے تو ازدواجی تعلقات کا قائم کرنا اور انہیں نیک مقاصد کی خاطر باقی رکھنا ۔ ان عظیم نعمتوں میں سے ایک نعمت عظمیٰ ہے جن کا خدائے قدوس نے اپنے بندوں پر احسان فرمایا اور اپنے احسانات و انعامات میں گنایا سورة فرقان میں ارشاد فرمایا:وھو الذی خلق من الما ءبشرا فجعلہ نسبا وصھرا۔”اور وہ وہی ہے جس نے انسان کو پانی سے پیدا فرمایا پھر اسے خاندان والا اور سسرال والا بنایا۔“ اسلام نے سارے انسانی معاشرہ کی بنیاد خاندان ہی پر رکھی ہے اور سسرال کو بھی خاندان ہی کا ایک جزو ٹھہرایا ہے تو اجتماعی زندگی میں خاندان کو جو اہمیت حاصل ہے وہی اہمیت عقد نکاح کو بھی حاصل ہے ،بلکہ اس سے بیشتر آیہ¿ کریمہ پر غور فرمائیے ،بجائے خود یہی کرشمہ کیا کم تھا کہ وہ ایک حقیر پانی کی بوند سے انسان جیسی حیرت انگیز مخلوق بنا کھڑی کرتا ہے مگر اس پر مزید کرشمہ یہ ہے کہ اس نے انسان کا بھی ایک نمونہ نہیں بلکہ دو الگ نمونے مرد اور عورت بنائے اور جو انسانیت میں یکساں ،مگر جسمانی اور نفسانی خصوصیات میں نہایت مختلف اور اس اختلاف کی وجہ سے باہم مخالف و متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کا پورا جوڑ ہیں ۔پھر ان جوڑوں کو ملا کر وہ عجیب توازن کے ساتھ جس میں کسی دوسرے کی تدبیر کا ادنیٰ دخل بھی نہیں ہے ،دنیا میں مرد بھی پیدا کر رہا ہے اور عورتیں بھی جس سے ایک سلسلہ تعلقات بیٹوں اور پوتوں کا چلتا ہے ۔جو دوسرے گھروں سے بہوئیں لاتے ہیں اور ایک دوسرا سلسلہ تعلقات بیٹیوں اور نواسیوں کا چلتا ہے جو دوسرے گھروں کی بہوئیں بن کر جاتی ہیں اور اس طرح خاندان سے خاندان جڑ کر پورے پورے ملک ایک نسل اور ایک تمدن سے وابستہ ہو جاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آیہ¿ کریمہ میں سسرالی رشتے کو خالق کائنات نے اپنی نعمتوں میں شمار فرمایا اور اپنی قدرت کا ملہ کی دلیل ٹھہرایا کہ کسی بظاہر بے حقیقت چیز سے ،کتنے عظیم الشان اور دور دراز کے تعلقات قائم کر دئےے۔قدرت کے فیاض ہاتھوں نے جو جذبات انسان کی فطرت میں ودیعت فرمائے اور جو قوتیں اسے عطا فرمائیں وہ اس کے حق میں سرا پاخیر اور سرتا سر مفید ہیں اور انسان کو ان جذبات اور قوتوں سے وہی کام لینا چاہئے جو قدرت نے اسے سکھایا اور اسی حدتک کام لانا چاہئے جس حد تک قانون قدرت میں اسے وسعت دی گئی ہے انہی قوتوں میں سے ایک قوت توالد و تناسل بھی ہے جس کی بدولت انسانوں کے مابین ولادت کا سلسلہ قائم کرنا اور نسل انسانی کو بر قرار رکھنا ظہور میں آتا ہے جو عین منشاءالہٰی ہے۔ چونکہ یہ قوت فطری اور عطیہ خداوندی ہے لہٰذا اس کا کامل طور پر انسا ن میں پایا جانا اس کے کمال انسانیت کی دلیل ہو گی اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب اس کا صرف اسی محل میں کیا جائے جو قدرت نے اس کے لئے متعین فرمایا ہے اور اسی محل صرف کو حدود الہٰیہ میں رہتے ہوئے اپنے تصرف میں لانا ،شرع کی زبان میں نکاح کہلاتا ہے اور جو بنیاد ہے ایک پاکیزہ زندگی کی۔ عورت اسلام سے پہلے اسلام سے پہلے عورتوں کے حقوق پامال تھے نہ ان کی جان کی کوئی قیمت تھی ،نہ عصمت و عفت ہی کی قدر تھی بیویوں کی کوئی تعداد مقرر نہ تھی۔اس لئے جب کوئی مرد چاہتا اور جس عورت کو چاہتا اور جس طرح چاہتا اپنے نکاح میں لے آتا اور ان کے ساتھ وہی مرد سلوک روارکھتا جو جانوروں سے کیا جاتا ہے۔ حق مہر ایک بے معنی چیز تھی بلکہ عورت کی ملکیت اور سارا سازو سامان لاقانونی کے تحت شوہروں کی ملکیت قرار پاتا تھا ،بے حسی کا عالم یہ تھا کہ شوہر کے مرنے کے بعد سوتیلی ماﺅں میں بھی وراثت کا قانون رائج تھا کہ مرنے والوں کے وارثوں میں ایک مال کی طرح اس کی تقسیم بھی عمل میں آتی تھی ۔دنیا میں سب پہلے حضور رحمة اللعالمین نے عورتوں کے حقوق قائم کئے اور عورت کی شخصیت کو ابھارا اور قرآن کریم کے الفاظ میں اعلان فرما یا کہ :ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف۔(سورة بقرہ آیہ نمبر228) یعنی ”جیسے حقوق مردوں کے عورتوں پر ہیں ویسے ہی عورتوں کے حقوق مردوں پر ہیں۔ اسلام سے قبل مردوں کی طرف سے عورتوں کی تذلیل وتحقیر کی ایک وجہ اس کی مالی بے چارگی بھی تھی۔ اس لئے حضور اقدس ﷺ نے عورت کی مالی حالت کو بھی مستحکم کیا اور اس کے لئے اصول وضع کئے ۔ 1)اسے وراثت میں حصہ دار بنایا اور اپنے باپ بھائی خاوند بیٹے وغیرہ کے مال کی متروکہ اور غیر متروکہ جائیداد و منقولہ و غیر منقولہ میں عورت کے حصے مقرر فرمائے۔2) میکے سے ملنے والا سامان جہیز اس کی ملکیت قرار دیا۔3) اسے اپنی املاک و جائیداد پر مالکانا حق دیکر اس میں تصرف کا حق دیا ۔4)اپنے حق مہر پر اسے پورا پورا اختیار بخشا۔اور اس طرح بنیادی حیثیت سے عورت کو مردکے مساوی کردیا اور ان تدابیر سے عورت کو پستی سے نکال کر بلندی عطا فرمائی اور صحیح معنیٰ میں اسے مرد کا شریک زندگی اور رفیقہ¿ حیات بنادیا۔ نکاح کے اصول چونکہ نکاح شریعت اسلامیہ میں مرد و عورت کے مابین ایک شرعی تعلق ،دینی رابطہ اور مذہبی اختلاط ہے ۔اس لئے اسلام نے نکاح کے اصول وقواعد مقرر کئے ۔میاں بیوی کے حقوق متعین کئے تاکہ کوئی فریق کسی فریق کے حقوق کو پامال نہ کر سکے ۔ مثلاً 1)ایجاب و قبول کو نکاح کا لازمی حصہ قرار دیا۔2)کم از کم دوگواہوں کی موجودگی ضروری ٹھہرائی گئی۔3) عورتوں کی دوقسمیں کی گئیں ایک وہ جن سے نکاح حلال ہے اور دوسری وہ جن سے نکاح حرام ہے ۔4)عورت عاقلہ بالغہ ہوتو اسے اپنے نکاح کا اختیار دیا گیا اور نابالغی کی حالت میں اس پر اس کے ولی کواختیار بخشا گیا۔5)نکاح کو ہر صورت سے مکمل کرنے کے لئے کفو کا لحاظ کیا ۔6)مرد پر بنام حق مہر ایک معینہ رقم مقرر کی گئی اور اس پر عورت کو پورا پورا اختیار دیا ۔7)شریعت نے وہ حدود مقرر کیں جس کے بعد شوہر کو عورت پر کوئی حق نہیں رہتا ۔8)عورتوں کو چھوڑنے کے لئے قوانین و ضع کئے گئے جنہیں طلاق اور خلع کہا جاتا ہے ۔9)عورت کا نان نفقہ شوہر پر لازم قرار دیا۔ 10) زمانہ جاہلیت کے رسم و رواج کے بر خلاف مرد کو ایک عورت سے نکاح کا حکم دیا ،اور بوقت ضرورت ،کچھ شرطوں سے مشروط ،سخت پابندیوں کے ساتھ،ایک سے زیادہ کی اجازت دی۔ اب ان امور سے متعلق چند فقہی مسائل اور دوسرے احکام بھی پڑھیں۔ نکاح میںایجاب قبول ایجاب و قبول مثلاً ایک کہے ”میں نے اپنے کو تیری زوجیت یا تیرے نکاح میں دیا۔“دوسرا کہے” میں نے قبول کیا۔“یہ نکاح کے رکن میں پہلے جو کہے وہ ایجاب ہے اور اس کے جواب میں دوسرا جو الفاظ کہے اسے قبول کہتے ہیں ۔یہ کچھ ضرور نہیں کہ عورت کی طرف سے ایجاب ہو اور مرد کی طرف سے قبول ۔بلکہ اس کا الٹا بھی ہو سکتا ہے ۔ (درمختار ۔ردالمختار)مسئلہ:لڑکی کے باپ یا وکیل نے مرد سے کہا کہ ”میں نے اپنی لڑکی یا اپنی مو¿کلہ کا تجھ سے نکاح کیا یا ان کو تیرے نکاح میں دیا۔ اس نے کہا میں نے قبول کیا ۔یا اس کے باپ یا وکیل نے کہا کہ ”میں نے اسے اپنے لڑکے یا اپنے مو¿کل کے لئے قبول کیا تو نکاح درست ہے ۔(عالمگیری وغیرہ)مسئلہ:عورت نے مرد سے کہا”میں نے تجھ سے اپنا نکاح کیا اس شرط پر کہ مجھے اختیار ہے جب چاہوں اپنے کو طلاق دے لوں “اور مرد نے قبول کیا تو نکاح ہو گیا اور عورت کو اختیار ہے جب چاہے اپنے کو طلاق دے لے۔مسئلہ:کسی نے لڑکی کے باپ سے کہا”میں تیرے پاس اس لئے آیا ہوں کہ اپنی لڑکی کا نکاح مجھ سے کر دے “ اس نے کہا”میں نے اسے تیرے نکاح میں دیا تو نکاح ہو گیا ۔قبول کی بھی حاجت نہیں بلکہ اسے اب یہ اختیار نہیں کہ قبول نہ کرے۔(ردالمختار ۔عالمگیری)مسئلہ:کسی نے لڑکی کے باپ سے کہا”تو نے اپنی لڑکی مجھے دی“ اس نے کہا ”دی “ اس نے کہا” قبول کی “ تو اگر یہ ایجاب و قبول منگنی کے لئے ہوں تو منگنی ہے اور نکاح کے لئے ہوں تو نکاح ۔ (ردالمختار،وغیرہ )مسئلہ:کسی کی منگیتر کو نکاح کا پیغام دینا مکروہ ہے ۔یوں ہی ایک کو زبان دیکر اس سے پھر جانا ،یا منگنی کو بلا وجہ شرعی توڑدینا بھی مذموم و بے جاہے اور بہر صورت ،دوسرے سے نکاح شرعاً درست و صحیح ہے اور اگر درحقیقت کسی عذر معقول یا وجہ شرعی کی بنا ءپر منگنی کر کے توڑدی اور لڑکی دوسرے کو دے دی تو اب کوئی برائی بھی نہیں ۔(فتاویٰ رضویہ وغیرہ)مسئلہ :عورت کو چاہئے کہ مرد دیندار ،خوش خلق، مال دار، سخی سے نکاح کرے فاسق بد کار سے نہیں ، نیک چلنی ،خوش اخلاقی ،خدا ترسی اور پرہیزگاری سے بڑھ کر کوئی حسن و جمال اور متاع مال نہیں۔ مسئلہ:نابالغ لڑکے اور لڑکی کے مابین ،نکاح میں مسنون طریقہ یہ ہے کہ ان کے اولیاءخود ایجاب وقبول کریں یا ان کی اجازت سے ان کے وکیل ،نابالغوں سے کہلوانے کی کوئی حاجت نہیں ۔(فتاویٰ رضویہ )مسئلہ :یہ جو تمام ہندوستا ن و پاکستان میں عام طو رپر رواج پڑا ہوا ہے کہ عورت سے ایک شخص اذن لے کر آتا ہے جسے وکیل کہتے ہیں وہ نکاح پڑھانے والے سے کہ دیتا ہے کہ میں فلاں کا وکیل ہوں آپ کو اجازت دیتا ہوں کہ نکاح پڑھادیجئے یہ طریقہ محض خیال ہے بلکہ یوں چاہئے کہ جو شخص نکاح پڑھائے وہ عورت یا اس کے ولی کا وکیل بنے ،خواہ یہ خود اس کے پاس جا کر اجازت حاصل کرے یا دوسرا اس کی وکالت کے لئے اذن لائے کہ فلاں بن فلاں کو تو نے وکیل کیا کہ وہ تیرا نکاح فلاں بن فلاں سے کر دے عورت کہے۔”ہاں“ (بہار شریعت،فتاویٰ رضویہ) ایجاب و قبول گواہوں کے روبرو ہونا: باہمی حقوق و اختیارات کو محفوظ رکھنے کےلئے کم از کم دو گواہوں یعنی دو مردوں یا ایک مرددو عورتوں کا ایجاب و قبول کے وقت ہونا شرط ِ نکاح ہے۔ مسئلہ:گواہوں کاعاقل بالغ ہونا بھی ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ سب نے ایک ساتھ نکاح کے الفاظ سنے اور مسلمان مرد کا نکاح ،مسلمان عورت کے ساتھ ہوتو گواہوں کا مسلمان ہونا بھی شرط ہے ۔لہٰذا مسلمان مرد و عورت کا نکاح کافروں کی شہادت سے نہیں ہو سکتا ،ہاں اگر کتابیہ مثلاً نصرانیہ سے مسلمان مرد کا نکاح ہو تو اس نکاح کے گواہ ذمی کافر بھی ہو سکتے ہیں ۔مسئلہ :گواہ دوسرے ملک کے ہیں کہ یہاں کی زبان نہیں سمجھتے تو اگر یہ سمجھ رہے ہیں کہ نکاح ہو رہا ہے اور الفاظ بھی سنے اور سمجھے یعنی وہ الفاظ زبان سے ادا کر سکتے ہیں اگر چہ ان کے معنی نہیں سمجھتے تو نکاح ہو گیا۔(عالمگیری وغیرہ)مسئلہ:گواہ صرف وہی نہیںکہلاتے جو وہ مجلس عقد میں مقرر کر لئے جاتے ہیں بلکہ وہ تمام حاضرین گواہ ہیں جنہوں نے ایجاب و قبول سنا مگر ایسے ہوں کہ بوقت ضرورت ان کی گواہی سنی جا سکے۔(عالمگیری)مسئلہ:عورت سے اذن لیتے وقت گواہوں کی ضرورت نہیں یعنی اس وقت گواہ غائب بھی ہو اور نکاح پڑھاتے وقت ہوں تو نکاح ہو گیا ،البتہ اذن لیتے وقت گواہوں کی حاجت یوں ہے کہ اگر عورت نے انکار کر دیا اور یہ کہا کہ میں نے اذن نہیں دیا تھا تو اب گواہوں سے اس کا اذن دینا ثابت کیا جائیگا۔(ردالمختار وغیرہ)مسئلہ:یہ امر بھی ضروری ہے کہ منکوحہ گواہوں کو معلوم ہو جائے کہ فلانی عورت سے نکاح ہو رہا ہے ۔مثلاًً عورت اور اس کے باپ دادا کا نام لئے جائیں اور ادھر صرف اسی کا نام لینے سے گواہوں کو معلوم ہو جائے کہ فلاں عورت سے نکاح ہو رہا ہے تو باپ دادا کے نام لینے کی ضرورت نہیں پھر بھی احتیاط اس میں ہے کہ باپ دادا کے نام بھی لئے جائیں تاکہ عورت متعین ہو جائے۔(ردالمختار) مسئلہ:عورت سے اجازت لیں تو اس میں بھی زوج اور اس کے باپ دادا کا نام ذکر کردیں تاکہ عورت کو ہونے والے شوہر سے واقفیت رہے۔تنبیہ:حدیث شریف میں ہے کہ جو مرد کسی عورت سے بوجہ اس کی عزت کے نکاح کرے اللہ اس کی ذلت میں زیادتی کرے گا اور جو کسی عورت سے اس کے مال کے سبب نکاح کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی محتاجی ہی بڑھا ئے گا اور جو اس کے حسب کے سبب نکاح کرے گا تواللہ تعالیٰ اس کے کمینہ پن میں زیادتی فرمائے گا اور جو اس لئے نکاح کرے کہ ادھر اُدھر نگاہ نہ اٹھے اور پاک دامنی حاصل ہو یا صلہ رحمی کرے تو اللہ عزوجل اس مرد کے لئے اس عورت میں برکت دے گا اور عورت کےلئے مرد میں ۔(طبرانی) اس حدیث شریف کا حاصل عورت اور اس کے اہل خاندان کے لئے یہ ہے کہ وہ ایسے مرد سے نکاح نہ کریں جو ان کی دنیاوی وجاہت یا شہرت یا ان کے مال دولت پر ریجھ کرے یا صرف عورت کے حسن و جمال پر فریفتہ ہو کر شادی پر آمادہ ہو بلکہ اصل چیز پاک دامنی کا باقی رکھنا اور خدا اور رسول کے احکام کی بجا آوری ہے ۔ اسی سے گھریلو زندگی سدا بہار رہتی ہے اور اسی کی بدولت زن و شوہر میںحقیقی محبت پیدا ہوتی ہے۔ غیر مسلمہ سے نکاح مسئلہ:مسلمان مرد کا نکاح ،کتابیہ یعنی یہودی و نصرانی عورت کے سوا مجوسیہ آتش پرست ،بت پرست ،آفتاب پرست غرض کسی کافرہ سے نہیں ہو سکتا اور مسلمان عورت کا نکاح ،مسلمان مرد کے سوا کسی اور مذہب والے سے نہیں ہو سکتا۔(عالمگیری وغیرہ) اگر چہ وہ اہل کتاب سے ہو۔مسئلہ: قادیانی مرزائی کہ ختم نبوت کے منکر ہیں اور جو بد مذہب ضروریات دین میں سے کسی دینی ضرورت کا انکار کرتا اور قطعی کفریہ عقائد رکھتا ہے ایسوں سے نکاح قطعاً یقیناً محض باطل اور زنائے خالص ہے اور جو کسی ضرورت دینی کا منکر نہیں ان کے بارے میں بھی علمائے اہلسنت کا قول فیصل یہی ہے کہ ان سے شادی بیاہ کے تعلقات جائز نہیں۔ضروری:بد مذہب عورت کو نکاح میں لاتے وقت یہ خیال کر لینا کہ ہم اس پر غالب ہیں اس کی بد مذہبی ہمیں کیا نقصان دے گے اسے سنی کرینگے محض حماقت ہے ۔یہ رشتہ تو دوستی میل رغبت ،میل محبت ،مہر پیدا کرتا ہے اور محبت میں آدمی اندھا بہرا ہوجاتا ہے اور دل پلٹنے خیال بدلتے کچھ دیر نہیں لگتی ہے ۔اللہ تعالیٰ اپنے حفظ و امان ہی میں رکھے اور ایسے کو اپنی بیٹی دینا تو سخت قہر ،قاتل زہر ہے کہ عورتیں مغلوب و محکوم ہوتی ہیں ۔پھر انہیں اپنے شوہر کی محبت بھی ماں سے باپ سے تمام دنیا سے زیادہ ہوتی ہے پھر وہ نرم دل بھی زیادہ ہیں اور ناقص العقل بھی ہیں اور نکاح ہر وقت کا ساتھ ہے اور وہ بد مذہب ہے تو ضرور اس سے نادیدنی دیکھے گی اور انکار پر قدرت نہ ہوگی تو یہ عمر بھر کے لئے فضیحت و رسوائی کا سامان پیدا کرنا ہے ۔(فتاویٰ رضویہ)عورت کا کسی دوسرے کے نکاح یا عدت میں ہونا:قرآن کریم نے عقد نکاح کو ”میثاقاً غلیظا“ عہد مستحکم ،محکم پیمان اور باہمی نبھاﺅ کا مضبوط بندھن قرار دیا اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ نکاح کی اس بندش کی گرہ ،شوہر کے ہاتھ میں ہے تو جب تک شوہر طلاق نہ دے عورت بدستور اس کے نکاح میں رہتی ہے اگر چہ تعلقات بظاہر قائم نہ ہوں تو یہ دوسرے کی عدت میں ہو جب بھی نہیں ہو سکتا۔عدت طلاق کی ہو خواہ موت کی۔مسئلہ :عدت میں نکاح حرام قطعی ہے بلکہ نکاح توبڑی چیز ہے ۔قرآن نے عدت میں صریح پیام کو بھی حرام فرمایا اور عدت گذرنے پر نکاح کر لینے کے وعدے کو بھی حرام فرمایا ،صرف اس کی اجازت دی ہے کہ دل میں خیال رکھو یا کوئی پہلودار بات ایسی کہو جسے بعد عدت ارادہ¿ نکاح کا اشارہ نکلتا ہو ۔صاف صاف یہ ذکر نہ ہو کہ میں بعد عدت نکاح کرنا چاہتا ہوں ۔پھر پہلودار بات بھی عدت وفات والی سے کہنا جائز ہے ۔عدت طلاق والی سے وہ بھی جائز نہیں۔(فتاویٰ رضویہ)مسئلہ:عورت کسی کے نکاح میں ہے مگر شوہر نے چھوڑ رکھا ہے نہ نان نفقہ دیتا ہے نہ اس کی خبر گیری رکھتا ہے نہ طلاق دیتا ہے ۔اس حالت میں بھی جب موت یا طلاق نہ ہو کسی اور سے نکاح حرام ہے او رحالات زمانہ کو آڑبنا کر نکاح کرنا اور بھی برا۔(فتاویٰ رضویہ)مسئلہ :عورت کا شوہر برسوں سے غائب ہے کچھ پتہ نہیں کہ زندہ ہے کہ مرگیا اور اب عورت اپنا دوسرا نکاح کرنا چاہتی ہے تو ہر گز نکاح نہیں کر سکتی اس پر لازم ہے کہ صبر و انتظام کرے ۔یہاں تک کہ اس کے شوہر کی ولادت کو ستر برس گزر جائیں اس کے بعد اس کی موت کا حکم کیا جائے ۔اب عورت عدت گزار کر دوسرا عقد کر سکتی ہے ۔ضرورت اور جوانی کا عذر حرام کو حلال نہیں کر سکتا ۔بہت کم سن لڑکیاں کہ بیوہ ہو جاتی ہیں ،ہندﺅں کی دیکھا دیکھی عمر بھر نام نکاح نہیں لیتیں اس وقت ضرورت و جوانی کدھر چلی جاتی ہے ۔ہزاروں وہ ہیں جن کے شوہر زندہ موجود ہیں مگر ان کی طرف سے قطعی لاپرواہ وہ اپنی عمر کیوں کر کاٹتی ہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ)جس دل میں خدا و رسول کا خوف اور اسلام و شریعت کا پاس ہوتا ہے ۔ہر حال میں خدا و رسول ہی پر ان کا بھروسہ ہوتا ہے اور وہی اس کا نیا پار لگا تے ہیں ۔ ضرورتوں کے لئے جائز محنت مزدوری کے دروازے کھلے ہیں اور جوانی کے لے روزِ آخر حدیث شریف میں ہے روزہ کو سپر یعنی ڈھال بتایا گیا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ روزہ مرد و خواہ عورت کو بہکنے اور بھٹکنے نہیں دیتا۔نکاح میں ولایت اور وکالت:اسلام سے پہلے تو عورت کو اناج غلہ روپیہ پیسہ کی طرح تصرف میں لانے کا رواج اور کہیں عورت کو بے روح بتایا جاتا تھا اور اب بھی کہیں مجسم شیطان سے تعبیر کیا جاتا ہے اور کہیں صرف اغراض شہوانی کا آلہ قرار دیا جاتا ہے ۔غرض کہ کہیں اور کسی طرح عورت کی شخصیت ،اس کی ذہنیت اور اس کے حقوق کا ذرہ برابربھی پاس و لحاظ نہیں رکھا گیا ہے ۔یہ صرف اسلام ہے جس نے ساری دنیا سے اس ظلم و تشدد کو جڑسے اکھاڑ ا اور عورت کو بیٹی بہن اور بیوی ،ماں کی حیثیت سے ابھارا اور ہر حیثیت میں اس کے حقوق کی نگرانی فرمائی ۔اسے اختیارات دئےے اور ان اختیارات کو کام میں لانے کا حوصلہ بخشا۔ یہاں تک کہ اسے اپنی ازدواجی زندگی ،اپنی مرضی کے مطابق گزر بسر کرنے کی اجازت دی بشرطیکہ وہ عقل و شعور سے بہرہ ور ہو بچپن کی حدود سے گزر کر بلوغ تک پہنچ چکی ہو اور کوئی ایسا کام نہ کرے جو اس کے خاندان کے لئے بے عزتی اور بد نامی کا باعث ہو۔ رسول اللہ کی خدمت اقدس میں ایک جوان لڑکی حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ اس کے باپ نے نکاح کر دیا اور وہ اس نکاح کو ناپسند کرتی ہے ۔حضور اقدس نے اختیار دیا یعنی چاہے تو اس نکاح کو جائز کر دے یارد کر دے ، (ابو داﺅد) اور مسلم شریف میں روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا”مَیِّب“(وہ عورت جو کوآری نہ ہو)ولی سے زیادہ اپنے نفس کی حقدار ہے اور بِکر (کنواری) سے اجازت لی جائے اور چپ رہنا بھی اس کا اذن(اجازت ) ہے۔

12-04-2011
ایران اور خلیج کونسل ہوش کے ناخن لیں.......روف عامر پپا بریا•

امت مسلمہ کی 1400 سالہ ہسٹری میں یہو و ہنود نے جب کبھی امہ کو شکست سے دوچار کیا تب انہوں نے مسلمانوں کی رگوں میں فسق و فجور اور نفاق کا زہر گھولا۔ امت مسلمہ جب تک یک جان رہی کوئی مائی کا لال جہاد کی سرشاری کو ہرانے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ امت کی موجودہ شرمناک اور رسوا کن تنزل پزیری باہمی انتشار کا نتیجہ ہے۔ عالم عرب میں ہر لحظہ تبدیل ہونے والی صورتحال کی واضح نشان دہی تو مشکل ہے تاہم خطے پر غیر یقینی کے سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں۔ تیونس اور مصر کے انقلابات کے بعد بھی افریقہ اور عرب خطے کے ارباب اختیار عدم اتحاد کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ اگر یہی روش جاری رہی تو عدم اتفاق کا شعلہ جوالہ مشرق وسطی کی طرح مسلم دنیا کو بھسم کرسکتا ہے۔ تیونس اور مصر کے بعد یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہوو ہنود عرب خطے میں دخیل نہیں ہونگے۔ مڈل ایسٹ میں تیل کے سمندروں پر قبضے اور گریٹر اسرائیل کے احیا کے تناظر میں اگر یمن سے لیبیا تک کی کشیدہ صورتحال کا بنظر غائر مشاہدہ کیا جائے تو یہ بھید کھلتا ہے کہ مشرق وسطی کو نت نئے مسائل سے دوچار کرنے کی چالبازیاں یہو و ہنود کے سازشی ازہان کا کریا کرم ہیں۔ امریکہ اور مغربی ممالک امت مسلمہ کے مابین کشیدگی رنجش اور مکرکرنیوں کو ہوا دے رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کو اپنے اسلامی بھائیوں کا خون نچوڑنے کے مکروہ کھیل میں شامل کیا جائے۔ خلیجی ریاستوں اور ایران کو باہم دست و گریبان کرنے کے لئے یہو و ہنود زمین و اسمان کے قلابے ملا رہے ہیں۔ یمن میں پیدا ہونے والی شورش نے عربوں اور ایران کے تعلقات کو مذید گھمبیر بنا دیاہے۔ جی سی سی عرب خطے کے چھ ملکوں سعودی عرب کویت یواے ای بحرین عمان قطر پر مشتعمل تنظیم ہے۔جی سی سی کی 4 اپریل کو ریاض میں ہونے والی کانفرنس میں ایران کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کی گئی ۔ جی سی سی کے عہدیداروں نے تہران کو کویت اور بحرین کے داخلی امور میں مداخلت کرنے کا دوشی قرار دیا۔ خلیج تعاون کونسل کا مدعا ہے کہ بحرین میںشیلڈ فورس کی تعیناتی جی سی سی ممبران کے مابین ہونے والے دفاعی معاہدوں کی روشنی میں درست اقدام ہے ۔ تہران نے خلیجی ریاستوں کے الزامات کو رد کرتے ہوئے اسے مغربی ایجنسیوں کا کارنامہ کہا۔31 مارچ کو ایرانی پارلیمنٹ کی خارجہ کمیٹی نے سعودی شہنشاہ شاہ فہد کو تنبہہ کی کہ وہ خلیج فارس میں اگ سے نہ کھیلیں۔ ایک ایسے وقت جب استعماری امت کو فرقہ واریت لسانیت اور مسالک کے نام پر نیست و نابود کرنے کے چکر میں غرق ہیں کے موقع پر عربوں اور تہران کی باہمی کشمکش اقوام مسلم کے لئے وبال جان اور پھانسی کے پھندے سے کم نہیں۔ یہود و ہنود اور سرپنج امریکہ کوتیونس اور مصر میں انقلابی تبدیلیوں کے بعد ان خدشات نے گھیر لیا کہ اگر انقلابی طوفان اسی نہج پر جکھڑ دیتا رہا تو انکے مفادات کو زک پہنچے گی۔ امریکی میڈیا نے تیونس و مصر کی انقلاب ساز تاریخ کے بعد شوشہ چھوڑا کہ اب القاعدہ کے دہشت گرد عرب خطے پر راج کریں گے اور اقتدار کی راہدریوں پر انکا قبضہ ہوگا۔ صہیونی زرائع ابلاغ نے مسلمانوں کو زہنی پستی , مایوسی و نراسیت سے دوچار کرنے کی خاطر جتنے ڈراونے خواب دکھائے وہ کارگر نہ ہوئے تو پھر مسلمانوں کو اپس میں لڑوانے کی سازشیں بنائی گئیں۔ لیبیا پر جس طرح UNO کی پراگندہ قرارداد کے توسط سے حملہ کیا گیا تو اسی طرح دیگر مسلم ملکوں کی تکہ بوٹی کرنے کے لئے کوئی جواز گھڑا جاسکتا ہے۔ قذافی جنگ بندی پر راضی نہیں۔ وہ کسی قیمت پر سرنڈر کرنے یا اقتدار چھوڑنے پر امادہ نہیں۔ مغربی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق لیبیا میں جمہوری و شخصی حقوق غصب ہیں۔شہریوں کے مکانات اور رہائش گاہیں سرکاری ملکیت ہیں۔کوئی شہری دو مکانات رکھنے کا حق نہیں رکھتا۔ قذافی کے پاس 70 بلین ڈالر کی جائیداد اب بھی موجود ہے۔ قذافی نے اقتدار سنبھالا تو قوم سے وعدہ کیا کہ لیبیا میں شریعت نافذ ہوگی مگر ڈکٹیٹرشپ نے شریعت پچھاڑ دیا۔ قذافی کی حاکمانہ دندناہٹ اور شخصی پالیسیوں کا عکس اسکی کتابTHE GREEN BOOK میں بدرجہ اتم دیکھا جا سکتا ہے۔ معمر قذافی نے کتاب میں سرمایہ داریت اشتراکیت اور اسلامی احکامات کی من مانی تشریح کی ہے جس کی تان قذافی کی ناگزیر بادشاہت پر ٹوٹتی ہے۔ انٹرنیٹ اور سائنسی ٹیکنالوجی نے عرب خطے کی جوان نسل کو خاصا شعور و اگہی سے نواز رکھا ہے۔ مڈل ایسٹ اور عریبین بیلٹ کی نوجوان نسل کو بادشاہوں کی ترغیبات تصریحات تشریحات اور پیکجز سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ وہ تو عہد کرچکے ہیں کہ بادشاہوں کی تبدیلی ناگزیر ہے۔ مسلم ریاستوں میں جاری انقلابی عمل کو دوسرا رخ دیکر مغربی ممالک صورتحال کا پوری طرح استحصال کرنے کی فکر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ بادشاہوں کو پتہ لگ چکا ہے کہ عوامی بیداری کے کارن وہ لوگوں کو اب زیادہ دیر اندھیرے میں نہیں رکھ سکتے ہیں۔ مشرق وسطی اور عرب خطے کی تاریخ ،موجودہ انقلابی تحریکوں عالمی حالات و واقعات اور امریکی مداخلت کے اسرار و رموز کا جائزہ لیا جائے تو تشویش ناک منظر نامہ نگاہوں کے سامنے گھومنے لگتا ہے۔ مستقبل قریب میں جو اندیشے پائے جاتے ہیں کے مطابق کہیں انقلابی لہریں اور جذبہ انقلاب خانہ جنگی اور سول نافرمانی کے اسباب پیدا نہ کردیں۔ عرب حکمران جس طرح عوامی ارا کو کچل رہے ہیں۔ اپوزیشن کے مطالبات کو رد کیا جارہا ہے تو غالب امکان ہے کہ ان ملکوں میں خانہ جنگی کا اتش فشاں دہک سکتا ہے۔ مشرق وسطی کو بارود کے ڈھیر پر کھڑا کرنا مشرق وسطی کے جغرافئیے کو تبدیل کرکے اسکی اسر نو تشکیل صہیونیوں کے دیرینہ خواب کی اہم وجہ ہے۔۔ اب جبکہ مسلم ریاستوں میں اضطراب اور ہیجان انگیزی روز افزوں ہے تو یہود و ہنود مذموم خواہشات کی تکمیل کی خاطریک جان ہوچکے ہیں۔ شام سے لیکر بحرین تک ہر روز ہونے والے انقلاب ساز جلسوں عرب ڈکٹیٹرز کی ضد و انا ہٹ دھرمی حامیوں اور مخالفین میں جاری لڑائی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ امریکہ اور مغرب کو خلیج میں متوقع انقلابات ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہیں ہوسکتے ۔ استعماری عالم اسلام کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے درپے ہیں مگر دکھ تو یہ ہے کہ امت باہم دست و گریبان ہے۔اگر مسلم حکمرانوں نے استعماری چالوں کو سمجھ کر بروقت تدارک کرنے کی پالیسی نہ اپنائی تو ایک اور صلیبی جنگ نوشتہ دیوارہوگی۔ ترکی استعماری سازشوں کو پرکھ چکا ہے ۔ ترکی نے مشرق وسطی اور لیبیا میں برپا ہونے والے کشت و قتال کو روکنے کے لئے لیبیائی شب خون کے طرفین کو انقرہ بلوایا۔ کہا جارہا ہے کہ لیبیا میں جلد خانہ جنگی کا خاتمہ ہوجائے گا۔شامی صدر بشار الااسد نے ایمرجنسی ختم کردی ہے اور وہ یقین دلا چکے ہیں کہ عوامی خواہشات کو اولیت دی جائے گی۔ محولہ بالہ منظر نامے سے یہ نکتہ الم نشرح ہوتاہے کہ مشرق وسطی اور عرب ریاستوں کے انتشار زدہ حالات کو سدھارنے اور صلیبی عزائم کو پاش پاش کرنے کے لئے امت مسلمہ کا اتحاد و اتفاق وقت کی ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ اگر یہو و ہنود کی فرمانبرداری کو اولیت دیکر مسلمان ملکوں میں رقص بسمل کرتے ہوئے بحرانوں کو قابو کرنے کی خاطر امت مسلمہ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی نہیں ہوسکتی تو پھر بیرونی طاقتوں کو تو سیع پسندانہ عزائم کو روبہ اول لاتے ہوئے سارے خلیج پر اپنے خونیں پنجے گاڑھنے کا موقع مل سکتا ہے۔یوں امہ کے بادشاہوں ڈکٹیٹروں اور حکمرانوں کو یہو و ہنود کے گھناوئنے کھیل کے سامنے کمر بستہ ہونا پڑے گا تاکہ ہماری فضائیں بڑی طاقتوں کی غلامی کی زنجیروں کو دھتکار کر ازادی اور خود مختیاری کی خوشبو سے معطر ہوجائیں۔ بحرف آخر ایران کی دواندیش قیادت اور انقلابی کونسل بحرین اور خلیج تعاون کونسل کے ممبر ممالک کے ساتھ وسیع القلبی کا انداز اپنائے اور ہرقسمی گھمبیرتا کو بارود کی بجائے افہام و تفہیم سے سلجھائے۔

12-04-2011
کرہ ارض سے ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ........روف عامر پپا بریا•

تحریرروف عامر پپا بریار عنوان۔ جاپان کے لئے مارچ کا مہینہ افتوں صدموں بلاوں اور اہوں کا ہولناک پیغام و عذاب لایا۔ جاپان پر ایک ماہ میں بیک وقت زلزلے، سونامی اور تابکاری کے عذاب مسلط ہوئے۔11 مارچ کو ریکٹر سکیل پر8.6 کی شدت کے زلزلے اور پھر اسکی کوکھ سے پیدا ہونے والے سونامی طوفان نے بربادیوں اور تباہیوں کی وہ منظر کشی کی کہ انسانیت کی روح کانپ اٹھی۔ سونامی نے ہنستے کھیلتے شہروں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ زلزلہ پروف فلک بوس عمارتیں زمین بوس ہوگئیں۔ گاڑیاں بسیں کاریں کا غذ کے کھلونوں میں بدل گئیں۔بیس ہزار جاپانیوں کو سونامی کے شیش ناگ جبڑوں نے نگل گیا۔ سائنسی ترقی کے کمالات دھرے کے دھرے رہ گئے۔ سائنسی بنیادوں پر تعمیر کئے جانے والی ایٹمی لیبارٹریاں دفن ہوگئیں جبکہ ایٹمی ایندھن اور تابکاری عناصر کو سٹور کرنے والے دیوہیکل ٹینک پھٹ گئے۔ سونامی کی غضبناک لہروں نے ساحلوں کو اپنی جگہ سے سرکا دیا۔ خونخوار لہروں کی لمبائی اونچائی 6 میل سے زائد تھی انکی راہوں میں انے والی ہر شے خش و خاک کی طرح بہہ گئی۔ اٹلی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار جیوفزکس کے مطابق زمین دوچار انچ سرک گئی۔ گو یہ معمولی تبدیلی نظر اتی ہے مگر زمین کی ایکوریسی کے مطابق اسکے ہر شعبہ زندگی پر اثرات مرتب ہونگے۔ ایسی المناک افتوں کا نذول فطرت یذداں کی وحدانیت کی بادشاہت کا اظہار اور انسانوں کے لئے وارننگ کا پیغام لاتی ہے کہ دنیا و جہاں زمین و اسمان کا مالک صرف رب العالمین ہے۔ جاپان کائنات کا واحد ملک ہے جس نے ایٹمی تابکاری کی ہولناکیوں اور تباہیوں کو جھیل رکھا ہے۔ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملہ کرکے دونوں شہروں اور اسکے باسیوں کا نام و نشان تک مٹا ڈالا۔ فوگو شیما کے جاپانی ایٹمی پلانٹ سے خارج ہونے والی تابکاری سونامی سے زیادہ خطرناک ہے۔ ایٹمی ماہرین ناقابل برداشت منفی اثرات لاعلاج عوارض اور جان لیوا نتائج کی نوید دیتے ہیں جو تابکاری عناصر کے رد عمل میں سامنے ائیں گے۔ خدشہ تو یہ بھی ہے کہ تابکاری عالمی خطرات کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔ جاپان میں جوہری حادثہ (فوکو شیما وائی جی) کے ایٹمی پلانٹ میں پیش ایا۔ ایٹمی تابکاری کے جاں گسل اثرات نے حادثے کے سات دنوں بعد چین فلپائن سنگاپور تائیوان اور قریبی ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ جاپانی حکومت نے ماہرین کو الودگی اور تابکاری میں ڈوبے ہوئے پانی کو سمندر میں چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے۔ فوکو شیما پلانٹ کے چیرمینMASA TERO ARAKEE کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق10 ہزار ٹن تابکار پانیwest treament plant اور پلانٹ کے ریکٹر نمبر پانچ اور چھ سے15 ہزار ٹن پانی سمندر میں چھوڑا جارہا ہے۔ الودہ پانی کے ہوشربا نقصانات کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ کراچی کے ساحل پر تیل سے بھرا ہوا جہاز کریک ہوا تو لاکھوں لٹر تیل پانی میں بہہ گیا۔ تیل کے مضر اثرات10 سالوں کے بعداج بھی ابی حیات کو متاثر کرتے ہیں۔ روئے ارض پر جوہری بم تیار کرنے ہیروشیما و ناگاساکی پر برسانے ایٹمی ہتھیاروں کی طرف داری کرنے والے فورم ورلڈ نیوکلیر کلب اور عالمی ادارہ برائے ایٹمی سائنسIAEA والوں کا نکتہ نظر یہ ہے کہ ایٹمی مواد اور جوہری توانائی سے انسانوں زمینوں اور سمندروں سے کوئی خطرہ نہیں۔ ایٹمی توانائی اور جوہری وار ہیڈز کی مخالفت کرنے والے ادارےNIRS اورgreen peace حامیوں کے موقف کو رد کرتے ہیں کہ جوہری توانائی کے استعمال سے سخت خطرات لاحق ہیں۔ ڈیزائن کی بناوٹ میں نقص، انسانی غفلت، دہشت گردی اور قدرتی افات سے محفوظ و مامون سمجھے جانے والے ایٹمی پلانٹ کسی وقت دلدوزتباہی کا سامان بن سکتے ہیں۔ جاپان کا جوہری سانحہ سونامی کے مقابلے میں سسٹم کی ناکامی کیوجہ سے ہوا۔ زلزلے اور سونامی کے قہر سے پلانٹ اور ریکٹر تو بچ گئے مگر کولنگ سسٹم اور بیک اف پاور سسٹم نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ فرانس کی جوہری تنصیبات کو دنیا میں سب سے زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے مگر فرنچ ادارے(asn) نے فرانس کے ایٹمی پلانٹس کی قلعی کھول دی۔ اے ایس این کے سروے کے مطابق فرانس میں اب تک 1100 حادثات ہوچکے ہیں۔ دنیا کی تین تہائی ابادی غربت بھوک کا نشانہ بنی ہوئی ہے مگر حکمران ہر سال کھربوں ڈالر کا اسلحہ استعمال کرتے ہیں۔ امریکہ اپنے جوہری گھروں کی حفاظت پر سو۲ ملین روپے خرچ کرتا ہے۔ کرہ ارض پر تیس ہزار سے زائد ایٹمی وار ہیڈز ہیں جو دنیا کو تین مرتبہ دریابرد کرسکتے ہیں۔ david organate نامی سائنسدان نے بیس سال پہلے امریکہ کے ادارے نیوکلیر ریگولیٹری کمیشن کو بتایا تھا کہ تین دہائیوں قبل تعمیر کردہ ایٹمی کارخانے ہوا کے بگولوں اور بھنور اندھیوں کے مقابلے میں قطعی غیر محفوظ تھے۔ سائنسی انقلابات کے بعد تعمیر ہونے والے موجودہ ریکٹرز بھی قدرتی افات کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اوبامہ کے سائنسی مشیر ایڈمز نے اوبامہ کو مشورہ دیا کہ زلزلوں کے علاقوں میں قائم ایٹمی کارخانے ختم کردئیے جئائیں۔ پاکستان کا ایٹمی پلانٹ کونیپ اپنی طبعی عمر پوری کرچکا ہے۔ چشمہ پلانٹsesmic zone میں موجود ہے۔ انسان انسانیت اور کائنات کو جوہری توانائی سے گھمبیر خطرات لاحق ہیں۔ انسان جس طرح افات سماوی سیلابوں زلزلوں کو کنٹرول کرنے سے عاری ہے بعین اسی طرح ایٹمی حادثات کو روکنا انسان کے بس میں نہیں۔ اللہ کی کائنات کو تباہی لاعلاج عوارض اور انسانیت سوز حادثات سے محفوظ کرنے کے لئے کرہ ارض کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کردینا چاہیے۔ کھربوں ڈالر ایٹمی ہتھیاروں کی بجائے روئے ارض کی نصف ابادی کی بھوک و ننگ غربت اور بے روزگاری کو ختم کرنے پر صرف کیجائے تو پھر انسانی حقوق کی کارفرمائی اور شرف ادمیت کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے۔

12-04-2011
قومی و مصالحتی کمیٹیوں کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت .........محمد وجیہہ السمائ•

آ ج کل ہر طرف یہی شور سنا ئی دیتا ہے کہ حکومت عوام کو کھائے جا رہی ہے‘ عوام کا خون پیا جا رہا ہے‘ غریبوںپر ٹیکسزز کا انبار لگا کر زمین دوز کیا جا رہا ہے‘ مگر سہولیا ت نہ ہو نے کے برابر ہیں‘ بلکہ اس سے بھی کم ہیں۔ جبکہ اکٹھے کئے گئے ٹیکسز کرپشن اور عوامی نمائندوں کی طرز حکمرانی میں ختم ہو جاتے ہیں اس صورتحال کا کون ذمہ دار ہے؟ یہی سوال ہر خاص و عام کی زبان پر ہے ۔ اگر اس کو باریک بینی سے سوچا جائے تو سب سے پہلے ہم خود ان تمام کاموں کے ذمہ دار نظر آتے ہیں۔ ایک طرف توہم ہی تمام عوامی نما ئندوں کو منتخب کرتے ہیں پھر ان میں کیڑے بھی خود نکالنے لگتے ہیں۔ دوسرا ہم خود بھی روحا نی و سماجی بیماریوں میں مبتلا ہیں‘ ٹیکس ہم چوری کرتے ہیں‘ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں اور اشیاءمیں ملاوٹ سے بھی نہیں چوکتے۔ فرمان ہے کہ جیسا معاشرہ ہو تا ہے ویسے ہی حکمران ہو تے ہیں اور یہی ہماری کمزوری ہے ان تمام باتوں کو چھوڑ کر ہمارے اجتماعی رویئے بھی ہمارے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ۔سہولیات تو تھوڑی بہت مل رہی ہیںجبکہ کئی نجی ادارے بھی ہمارے ملک میں عوام کو سہولیا ت دینے کےلئے کام کر رہے ہیں تو حکومت نے بھی عوام کی بھلائی کےلئے بہت سے ادارے بنائے ہیں جن سے عوام کو سہو لیا ت فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی جا تی ہے۔ اسی طرح کا ایک ادارہ صوبائی امن اور مصالحتی کمیٹیوں کے روپ میںعوام کے سا منے ہے۔ ان کمیٹیوں کا بنیادی مقصد اورکام امن و امان کی صورتحال کو بہتر رکھنا اور حکومتی رٹ قائم رکھنے والے اداروں کا سا تھ دینا ہے تاکہ ان کی کار کر دگی بھی بہتر رہے اور چھو ٹے چھو ٹے کام تھا نے کچہریوں سے پہلے ہی ختم کر کے ایک اسلا می معا شرے کی حقیقی عکا سی کی جا ئے۔یہ کمیٹیاں تو اپنا کام ہر شہر کے لیول تک بھر پور طریقے سے ادا کر رہی ہیں مگر اگر یہی کمیٹیاں محلے کی سطح پر قائم کر دی جا ئیں تو ان کے دور رس نتا ئج سا منے آئیں گے کیو نکہ اگر ہر محلے کے لیول کے حساب سے ان کمیٹیوں کا قیام عمل میں لا یا جا ئے تو امید ہے اس محلے سے قتل و غارت، ڈکیتی اور باقی تمام جرائم پر قا بو بھی پا یا جا سکتا ہے اور باقی ضروریات زندگی کی بنیادی اشیاءکی فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کمیٹیوں کے سا تھ مل کر ہر محلے اور ہر گلی کے تر قیاتی کا مو ں کوان کمیٹیوں کے سپرد کر دیا جائے تو بہت سے مسا ئل پر قا بو پایا جا سکتا ہے اور حکومت بڑے بڑے پراجیکٹس (بجلی، روڈ) پر بھرپور قوت ارادی اور افرادی قوت کے ساتھ ساتھ پوری دلجوئی سے کام کرسکتی ہے اس لئے ان کمیٹیوں کو مکمل فعال کرنا چا ہئے اور ان کی ذمہ داریاں بڑھائی جا نی چاہئیں اس کےلئے ایک مکمل واضح پلان پیش کیا جا نا چاہئے اور یہی کمیٹیاں اپنے اپنے محلے کے ہر گھر سے 50/50 روپے ماہوار اکٹھا کر یں اور ان کا با قا عدہ حساب رکھا جا ئے تو ان پیسوں سے محلے کی ہر گلی اور ہر چوک جہاں کو ئی مسئلہ آ تا ہے‘ پانی کی فراہمی بند ہو جاتی ہے یا کبھی بجلی کی لا ئنوں میں گڑبڑ ہو جا تی ہے یا کو ئی اور ایسا واقعہ رو نما ہو جا تا ہے تو یہی چھو ٹی چھو ٹی کمیٹیاں (یونینز) اپنے اپنے محلوں میں ان مسا ئل پر فوراً قا بو پالیں گی اور معا شرہ ترقی کر ے گا۔ ان سا ری با توں پر عمل کےلئے ہمیں جاپان جیسی محنتی قوم کا جذبہ اور حب الوطنی کو یا د رکھنا چاہئے جس نے زلزے کے بعد بھی ترقی کا را ستہ نہیں چھوڑا اور اس نازک موقع پر ہر کسی نے اپنے حصے کا کام خود پر وطن کا قرض سمجھ کر ادا کیا اور اپنے ملک کو پھر سے بھرپور توانائی والے قدموں پر کھڑا کرنے کےلئے ہر کسی نے سا تھ دیا چا ہے وہ کو ئی انجینئر تھا یا کو ئی دکاندار یا پھر ایک عام آ دمی سب نے اپنے حصے کا کام جانفشانی سے کر کے اپنی حب الوطنی کا بہترین ثبوت دیا اور آج بھی جاپان ویسی ہی تر قی کرتا نظر آ تا ہے جو زلزلے سے ایک ماہ پہلے کر رہاتھا۔ جاپان کے ہنر مند افراد نے متاثرہ افراد کو مدد پہنچانے اور ڈاکٹروں نے بیماروں کا علاج خود ہی شروع کردیا۔ اسی طرح وہاں کے مزدور اور انجینئرز نے اپنے ملک کا خود پر قر ض سمجھتے ہوئے پلوں، ٹیلی فون لائنوں اور با قی ضروریات زندگی کو ٹھیک کر نے میں بغیر کسی ذاتی مفاد کے مصروف عمل ہو گئے۔ یہ ہے ایک عظیم قوم کی کہانی جس نے تاریخ کے اوراق پر سنہری حروف میں اپنا نام رقم کر دیا ہے اس لئے پاکستانی قوم کو بھی یہی روش اپنا نی چا ہئے اور اپنی حب الوطنی کے فرائض مکمل کر نے چا ہئیں اور ان کمیٹیوں کے ممبران کا مکمل ڈیٹا متعلقہ تھانوں میں بھی ہو نا چا ہئے تاکہ پو لیس اور قا نون نا فذ کر نے والے ادارے ان لوگوں سے ان کے محلے اور دیگرلوگوں کے کریکٹر اور دوسری باتوں پر کھل کر با ت کر سکیں اس سے پورے ملک میں یکجیتی کا عنصر نظر آ ئے گا اور وہ معا شرہ تشکیل پا ئے گا جس کا نام رہتی دنیا تک زندہ رہے گا

ناسا کا بلیو بیم پروجیکٹ (حصہ دوم)........ایم اے تبسم•

email: matabassum2000t@yahoo.com, 0300-4709102 آج تک رابطوں کے ان تمام ذرائع اور وسیلوں کی اگر کوئی شخص تحقیقات کرے جس کے ذریعہ معلومات پہنچائی جاتی ہیں اور ریڈیائی لہروں کی تعداد ارتعاش سے ترتیب دی ہوئی پٹی سے ریڈیو اور ٹی وی کے ذریعہ انہیں نشریات میں استعمال بھی کیا جاتا ہے تو اس پر یہ حقیقت بخوبی ظاہر ہو سکتی ہے کہ اگر ریسرچ کے اس شعبہ پر غیر معمولی توجہ دی جائے تو ایسے وسیلوں اور رابطوں میں بڑی تیزی سے اضافہ کیا جا سکتا ہے اور اسے پیغامات پر مافوق الفطرت اور پر اسرار ہونے کا گمان کرنا بھی آسان ہوتا ہے۔ خواہ اس کے لئے جس شخص کا بھی دعویٰ کیا جائے اور اسے ابہامی رہنمائی کا ایک ذریعہ قرار دیا جائے تو عام ذہن اس بات کو قبول کر لیتا ہے اور جب نیو ورلڈ آڈر کے ایسے سارے پیغامات ہی خاص طور پر انسانوں کے لئے سودمندہوں گے تو آپ عام انسان ان پیغامات کو من و عن تسلیم کر کے مسیح الدجال کو خدا اور اس کے پیغامات کو خدائی پیغامات کا درجہ دے دیں گے۔21مارچ 1983کو سڈنی سے صبح کے وقت شائع ہونے والے اخبار سڈنی میں ایک خبر چھپی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ روسی سائنسداں انسان کے دماغ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دراصل یہ اس مضمون کا ایک حصہ تھا جس میں کہا گیا تھا کہ روسیوں نے ایک ایسا سو پر کمپیوٹر ( جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے) تیار کر لیا ہے اور یہی نام نہاد دجال کا ایک بڑا حربہ ہوگا۔ ایسے کمپیوٹر چونکہ خلاءمیں موجود سیٹلائٹس سے ہی چلتے ہیں، اگرچہ اس کی ابتداءروسیوں نے کی تھی لیکن اب تو یہ کام اقوام متحدہ کے تحت ہو رہا ہے جو نیو ورلڈ آڈر کا ادارہ ہے اور یہی ادارہ اب ان سوپر کمپیوٹرز میں ضروری معلومات فیڈ کر رہا ہے۔مصنوعی سوچ، تخیلات اور ان کا ابلاغ ٹیکنالوجیز کی زبردست ترقی نے ہمیں بلیو بیم پروجیکٹ کے تیسرے مرحلہ کی طرف دھکیل دیا ہے اور یہ ترقی ٹیلی پیتھی اور الیکٹرانک کے امتزاج سے دورویہ پروجیکٹ کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اس میں ابلاغ وی ایل ایف، ای ایل ایف اورایل ایف ویوز کے ذریعہ ہوتا ہے، جو اس خاص شخص یا عورت کے ذہن سے مربوط ہوتی ہے اور ان کے ذریعہ ایسے افراد کو اس بات کا قائل کیا جاتا ہے کہ جو بھی شخص ان سے مخاطب ہے دراصل وہی ان کا خدا ہے جو ان کی داخلی روح سے مخاطب ہے۔ سیٹلائٹ سے خارج ہو نے والی ایسی شعائیں کمپیوٹر کی میموری کے ذریعہ ان کے دماغوں میں سرائیت کرتی ہیں اور ان کمپیوٹرز میں زمین پر موجود ہر انسان کے بارے میں تفصیلی کوائف اور ان کی زبانوں کے کوائف پہلے ہی سے موجود ہوتے ہیں۔ اب یہ شعائیں ایسے افراد کی قدرتی سوچ کے ساتھ باہم مل کر ان کی قدرتی سوچ کو منقطع اور مصنوعی سوچ کو ان پر محیط کر دیتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی پر 1970سے 1990کی دہائیوں میں بے پناہ ریسرچ کی گئی اور انسانی دماغ کا موازنہ ایک کمپیوٹر سے کیا گیا۔ کمپیوٹر میں معلومات کو فیڈ کیا گیا اور ان کے پروسیسنگ ڈیوائس مربوط کر نے کے بعد ایک ردعمل اور علامات سے ظاہر ہونے کی بنیاد پر اصول بنائے گئے اور ان پر عمل کیا گیا۔ ذہن اور دماغ کو قابو میں کرنے والے اس طرح سے معلومات کو ہنر مندی سے اپنے موافق منشا بناتے ہیں جس طرح کہ ایک کمپیوٹر کے لئے گرامر کو موافق بنانے کا کام کیا جاتا ہے۔جنوری 1991میں یونیورسٹی آف ریری زونا نے ایک کانفرنس کی جس کا حقیقی مقصد ان حقیقی مقاصد کا یقین کرنا تھا جس کی مسیح الدجال کی خدائی کے لئے ضرورت تھی اور دراصل اس کانفرنس میں شریک سائنسدانوں کو ایک وارننگ دینا تھی کہ وہ اس مقصد کے علاوہ اپنا کوئی مقصد سامنے نہ رکھیں ورنہ نتیجے بھگنے کے لئے تیار رہیں۔ان تحقیقات کے نتیجہ میں امریکہ نے پہلے ہی ایسے کمیونکیشن اکیوپمنٹ تیار کر لئے ہیں جن کے ذریعہ اندھے دیکھ سکتے ہیں۔ بہرے سن سکتے ہیں اور لنگڑے چل سکتے ہیں۔ مضمون نگار کا کہنا ہے کہ میں کوئی سائنس فکشن کی بات نہیں کر رہا بلکہ یہ حقیقت ہے کہ ان طریقوں کو اپنا کر کوئی بھی شخص اپنی موت تک اپنی مورثی ذہنی یا جسمانی قوت کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ اس کمیونکیشن اکیوپمنٹ کا انحصار مکمل طور پر دمانی اعصابی نظاموں اور انسانی دماغ اور ”الٹرا لو“فریکونسی پر ”میگنیٹک ریز“کی صورت میں طوانائیکے اخراج پر غور وخوض کے بعد بنایا گیا ہے۔ ان اکیوپمنٹ سے اب CIAاور FBIوالے بھی کام لے رہے ہیں لیکن اب تک ان کو اس مقصد کے لئے کہ نابینا دیکھ سکھیں اور بہرے سن سکیں کے لئے ابھی تک استعمال نہیں کیا گیا اس لئے کہ یہ ”سینٹرل انٹرنل پولیٹیکل ایجنڈا“کے کام ہیںاور ان کا تعلق امریکہ کے صدر اور نیو ورلڈ آڈر کے کٹھ پتلی آقاﺅں کی خارجہ پالیسی سے رہا ہے۔ اس وقت امریکہ میں اور دوسری جگہوں پر اس نئے کمیونکیشن اکیوپمنٹ و تشدد اور لوگوں کو ہلاک کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایسے شہریوں جو نیو کلیئر ہتھیاروں کی تیاری کے خلاف ہیں اور ان لوگوں کے خلاف بھی جو دنیا بھر سے دہشت گردی کے نام پر جیلوں میں بند ہیں ان سب پر ان کمیونکیشن اکیوپمنٹ ا استعمال تشدد کے لئے تجربہ کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کمپیوٹرز کے برطانوی سائنسدانوں میں خود کشیوں کا ایک طویل سلسلہ بھی اس کی ایک کڑی ہے۔ایک ایسی نفسیاتی دہشت گردی اور خوف کے اس ماحول سے پہلے کیا اقدامات ممکن ہو سکتے ہیں؟ جبکہ ہر حکومت کا رپوریشن یا ماہر نفسیات دیدہ و دانستہ آج خوف و ہراس کے ایسے ہی ہتھکنڈوں کو فروغ دے رہا ہے۔ اس کا صحیح جواب یہی ہے کہ ہاں اب یہی بات ممکن ہے۔ اس لئے کہ حکومتوں کی تمام ایجنسیاں، تمام کارپوریشنز جو ان کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں۔ دراصل نیو ورلڈ آڈر کے احکامات کی تکمیل کرتی ہیں اور ایسے ہر کام کو فروغ دینے کو تیار ہیں جس سے انہیں دنیا کے ہر سماج پر مکمل کنٹرول کا مقصد حاصل ہونے میں مدد ملے۔جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ ساری دنیا پر مکمل سماجی کنٹرول کا مقصد کیا ہے؟ تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اگر پوری دنیا کے عوام کو خوف و ہراس اور دہشت میں مبتلا کر دیں اور وہ اس حد تک مایوس ہو جائیں کہ انہیں اپنے تحفظ کا بھی خطرہ لاحق ہو جائے تو وہ آپ کو ڈراکیولائی قانون لاگو کرنے اور اس پر عمل کی اجازت بھی دے دیں گے۔ایسی صورت حال میں دنیا بھر کے عوام کو نہتہ کر کے ان کے ریکارڈز تیار کرنا ہوں گے اور ان سے یہی کہا جائے گا کہ یہ سب کچھ صرف ان کی ہی حفاظت کے لئے کیا جا رہا ہے۔ یہی صورتحال موجودہ سیاسی نظام کے خاتمے کا سبب بھی بنے گی اور معاشرے میں پولیٹیکل انٹرنیٹو ی تلاش کریں گے اور نیو ورلڈ آڈر کے کرتا دھرتا لوگوں نے اس کی پہلے ہی سے پلاننگ کر رکھی ہے اور اسے ہی نیو ورلڈ آڈر قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد عوام کی حفاظت بالکل نہیں بلکہ وہی ہے جو جارج بش نے اس طرح کیا تھا”میرے ہونٹوں کو پڑھئے پوری دنیا پر کنٹرول قائم رکھنے کے لئے طاقتور رہنما کو ہمیشہ خوف و ہراس اور دہشت کے ہتھیار بے دریغ استعمال کرنا پڑیں گے اور ساری دنیا کے لوگوں کو بالجبر مطیع فرمان رکھا جائے۔“”ڈیوائڈ اینڈ رول“ پوری دنیا میں عمل کیا جائے گا۔ اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ ہر شخص دوسرے سے مشکوک رہے۔ یہ مقصد دماغ اور ذہن کو کنٹرول کر کے بھی حاصل کیا جائے گا۔ اس نئی ٹیکنالوجی کے حوالہ سے مزید پیش رفت کی بنیاد ناسا کے بلیو بیم پروجیکٹ نے رکھ دی ہے۔ ہمیں اس سلسلہ میں ماہر نفسیات جمیز وی میک کونیل کے اس بیان پر غور کرنا چاہئے کہ سائکولوجی ٹڈے نے 1970کے ایک شمارے میں شائع ہوا۔ اس میں اس نے کہا تھا کہ اب جلد ہی وہ دن بھی آنے والا ہے جب ہم مصنوعی طور پر بھی نیند طاری کر کے اسے بیرونی ایماءپر ترغیب کے ذریعہ جو بھی چاہیں گے کام لے سکیں گے۔ عضو میں ادویات کے استعمال کے نتیجہ میں لوگوں کو قدرتی حس سے محروم کر کے ان کے رویوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا جائے گا اور ان سے جو چاہے کام لیا جا سکے گا۔ اس کے نتیجہ میں فوری اور انتہائی موثر برین واشنگ بھی ممکن ہو جائے گی اور ایسے فرد میں ایسی ڈرامائی تبدیلیاں نظر آئیں گی کہ اسے جس طرح سے چاہو اسی طرح سے کام کرتا رہے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی وہ بنیادی سبق ہے جو اقوام متحدہ دیتی ہے کہ کسی بھی مرد یا عورت کا ذاتی تشخص کا لعدم ہو جائے گا۔ پھر یہی ماہر نفسیات یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دنیا کا کوئی مرد یا عورت اپنے ذاتی تشخص کے بارے میں کچھ کہنے کے قابل ہی نہیں ہوگا اور جو تشخص انہیں دیا جائے گا اسے خوشی سے قبول کریں گے۔ اس اعلان کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ نیو ورلڈ آڈر پرانے طور طریقوں کو اکھاڑ پھینکے گا اور ایک نیا نظام قائم کرے گا اور یہی نیا ”دین“ اس نیو ورلڈ آڈر کی بنیاد ہوگا اور دنیا کے تمام لوگ UNOکے ایسے” ایکسپلوئی سیشن کیمپس“یں سے کسی بھی کیمپ میں اس نیو ورلڈ آڈر کے مطابق ڈھائے جائیں گے اور انہیں سماج اور روایات کے خلاف اس نئے نظام کو مکمل طور پر اپنانا ہوگا تاکہ نیو ورلڈ آڈر کے ایجنڈے کی تکمیل ہو سکے۔ کیا یہ ہمہ گیر نوعیت کی سب سے بڑی تبدیلی دماغ اور ذہن کو ہمیشہ کے لئے کنٹرول کر کے اس پروجیکٹ سے حاصل ہو سکتی ہے؟ سرج ناموسٹ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ناسا کا بلیو بیم پروجیکٹ پوری دنیا کی آبادیوں پر مکمل کنٹرول کے حوالہ سے سب سے بڑا اساسی وسیلہ ہے اور اپنے قارئین سے اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ اس بات کو ایک مجنونانہ دیوانگی قرار دے کر مسترد کر دینے سے پہلے نہایت تدبر اور احتیاط سے ان معلومات کی تحقیقات پر توجہ دی جائے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر ہم ذہن اور دماغ کو کنٹرول کرنے کے دوسرے کاموں اور اس حوالہ سے ٹیکنالوجی کا جائزہ لیں تو اس میں ایک ٹرانسمیٹرکی ٹیکنالوجی بھی شامل ہے جو اسی فریکوینسی پر کام کرتی ہے جس فریکوینسی پر انسان کا اعصابی نظام کام کرتا ہے۔ ایسے ٹرانسمیٹر کیلیفورنیا میں ”لورل الیکٹرو اوپٹیکل سسٹم “ے تیار کئے ہیں۔ لوریل ایک بڑا دفاعی سامان کا ٹھیکیدار رہا ہے۔اس نے امریکی فضائیہ کے لئے ریڈیائی لہروں کو مخصوص سمت میں رواںرکھنے کے حوالہ سے انرجی ہتھیاروں پر بھی ریسرچ کی تھی۔ہیونارڈ ایک ایسے ہتھیار کی تلاش میں تھا جو دشمن کے دماغ پر اپنے پیغامات کو نقش کر سکے اور خود اپنے زیرکمان دستوں کو بہادری کے انسانی طاقت سے بالاکام کرنے پر آمادہ کر سکے۔ اس ریسرچ کے نتیجہ میںdevice تیار کی گئی تھی۔ اس میں’گیگا ہارٹز فریکوینسی‘(مائکروویوز) کی ’الیکٹرو میگنیٹک ریڈی ایشن ‘کو استعمال کیا گیا تھا۔ اس میں انتہائی کم طاقت کی فریکونسی (ELF)کو استعمال کیا گیا تھا۔اس ہتھیار کو دور بیٹھے بیٹھے لوگوں پر جسمانی اور ذہنی تشدد کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔1970کے دوران ’گرین ہیم کمون ایئر بیس ‘امریکی کروز میزائلوں کی موجودگی پر احتجاج کرنے والی ایک برطانوی خاتون پر اس طرح کے ہتھیاروں کو استعمال کیا گیا تھا۔ELFکی اس ٹیکنالوجی کا بہت سے امریکی دفاعی محکموں کے جریدوں میں ذکر موجود ہے۔ اس کے علاوہ ایک دوسری پیس مائیکرو ڈیوائس کے ذریعہ براہ راست کسی بھی فرد کو قابل سماعت سگلنلز دئے جا سکتے ہیں جبکہ دوسرے کو اس کی بھنک تک نہیں پڑ سکتی۔ ایسی ہی متعدد ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھا کے ناسا نے اپنے پروجیکٹ بلیو بیم کو ناقابل تسخیر بنانے کی کوشش کی ہے اور اس نے محسوس طور پر لاشعور میں یہ دورویہ ابلاغ اور امیجز خلاءسے براہ راست افراد کے ذہنوں میں منتقل کرنے کی ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے۔ اس ساری صورتحال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب ہم نئی دنیا کے مسیح الدجال کی آوازیں سنیں گے جو کہ خلاءسے دنیا بھر کے لوگوں سے خطاب کر رہا ہوگا جو دنیا کے تمام باشعور (حالانکہ وہ سب مسمرازم ہوں گے) لوگوں کو احکامات دے گا تو سب کے سب مذہبی جنونیوں کی طرح ان ہدایات اور احکامات کی پیروی کریں گے اور ہمیں لوگوں کی ہسٹریائی کیفیت اور پورے سماج کی مکمل یا جزوی معذوری کا وہ منظر دیکھنے کو ملے گا جو کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔نیو ورلڈ آڈر کا چوتھا مرحلہ الیکٹرانک ذرائع سے عالمی پیمانہ کے مافوق الفطرت جادوئی طاقتوں کے مظاہرہ پر مشتمل ہوگا۔ یہ تین مختلف رویوں پر مبنی ہوگا۔اس میں سب سے پہلے پوری دنیا کے انسانوں کو باور کرایا جائے گا کہ دنیا کے ہر بڑے شہر پر اجنبی خلائی مخلوق کا حملہ ہونے والا ہے اور اسکے نتیجہ میں اقوام متحدہ ساری دنیا کے ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے قبضے میں کریں گی۔ حالانکہ یہ حملہ صر یعنی حوا ہی ہوگا۔ عیسائی دنیا کو یہ یقین دلایا جائے گا کہ یہ خلائی مخلوق کے حملہ کا وقت ہی حضرت عیسیٰ کے ظہور پذیر ہونے کا وقت ہے۔اس چوتھے حملے کا تیسرا پہلو الیکٹرانک اور مافوق الفطرت قوتوں اور جادوئی قوتوں کا سنجوگ ہوگا۔ اس مقصد کے لئے اس وقت جو لہریں استعمال کی جائیںگی ان میں آپٹیکل فائبرز، ایکل کیبلز ٹی وی، الیکٹریکل اور فون لائینوں کے ساتھ ساتھ مافوق الفطرت جادوئی قوتوں کا بھی اطلاق کیا جائے گا اور جادوئی منتروں اور قوتوں سے آلودہ چپیں بھی استعمال کی جائیں گی اور پوری دنیا میں شیطانی بھوت پریت اور آسیبوں کا دوردورہ ہوگا جو پوری پوری آبادیوں کو جنون اور پاگل پن سے دوچار کر دیں گے اور دنیا خودکشیوں ، قتل و غارت گری اور مستقل قسم کے نفسیاتی امراض کی آماجگاہ بن جائے گی۔ یوں‘نائٹ آف تھاﺅزینڈ اسٹارس‘کے فوری بعد دنیا کی آبادیاں نئے مسیح الدجال کو خوش آمدید کہنے، اس نیو ورلڈ آڈر کو قائم کرنے اور ہر قیمت پر امن قائم کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گی۔ چاہے انہیں اپنی آزادی سے ہی محروم کیوں نہ ہونا پڑے۔ یوں اس چوتھے مرحلہ میں جو طریقے استعمال کئے جائیں گے وہ بالکل ویسے ہی ہوں گے جو سوویت یونین میں عوام کو کمیونزم اختیار کرنے کے لئے مجبور کرنے پر اپنائے گئے تھے اور اس نیو ورلڈ آڈر کے لئے وہی سارے طریقہ اقوام متحدہ اپنا ئے گی اور نیاعالمی مذہب اور نیو ورلڈ آڈر قائم کیا جائے گا۔

11-04-2011
عمار افضل کون ہے.......میاں بابر صغیر•

عمار افضل پاکستان کا وہ ہیرا ہے جس کی قیمت کا اندازہ لگانے کے لیے دنیا میں شاید ہی کوئی جوہری موجود ہو اور اس کو تراشنے کے لیے بھی ایشیا، یورپ یا امریکہ میں کوئی جوہری نہ مل سکے مگر ایک ایسا جوہری امریکہ میں موجود ہے جو ساری دنیا پر نظر رکھتا ہے کہ کہیں کوئی ہیرا تھوڑا سا چمکے تو وہ فورا اس کو تراشنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے اس ہیرے کو حاصل کر لیتا ہے اور پھر اس کی شعاﺅں سے ساری دنیا چمک اٹھتی ہے ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کو شناخت کرنے کے لیے کوئی سسٹم یا سپورٹ موجود نہیں ہے حالانکہ ہمارے نوجوان پوری دنیا میں جا کر ٹاپ پر پہنچتے ہیںتو پھر بھی پاکستان کو نہیں بھولتے اور پاکستانی ہونے کا لیبل فخر سے لگائے پھرتے ہیں ہم کسی عام چیز کو حاصل کرنے کے لیے کروڑوں خرچ کر بیٹھتے ہیں اور کروڑوں کی چیز کو گنوانے پر افسوس کا اظہار بھی نہیں کرتے ٹیلنٹ کے ساتھ جو سلوک ہم کرتے ہیں وہ دیکھنے کے قابل ہوتا ہے ےعنی ہمارے نوجوان مسئلے مسائل میں ایسے الجھا دیے جاتے ہیںکہ ان قابلیت اور ان کے میرٹ کو زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے اور یوں ہم ہزاروں ٹیلنٹڈ نوجوانوں کو اسکریپ کی شکل میں تباہ کرتے رہتے ہیں ہمارے حکمرانوں کے لیے بھی دنیا کے وہ لوگ معزز ہوتے ہیںجو سپر پاور کے اہلکار ہوںیا حکمرانوں کے قریب ہوں ان کو تو ہم اعلیٰ پاکستانی اعزازوں سے نوازنے میں دیر نہیں لگاتے مگر اپنے ملک میں موجود اپنے نوجوانوںجو پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرتے ہیںان کے لیے ہمارے پاس بالکل بھی وقت نہیں ہوتا۔ ہم ہر وقت یہی رونا روتے ہیں کہ ہمارے پاس اہل حکمران نہیں، اہل قیادت نہیں، اہل بیوروکریسی نہیںجب کہ ہم خود ہی اس اہلیت کو زنگ لگانے والے ہیںہم بحثیت عوام اپنے حکمرانوں کو سر پر چڑھا لیتے ہیںان کی غلطیوں کو نظر انداز کرتے رہتے ہیںاور جب غلطیاں بڑھتے بڑھتے غلطان کی صورت اختیار کر لیتی ہیںتو پھر اپنا سر پکڑ کر رونے لگ جاتے ہیں کے کیا کریں کدھر جائیںآپ کسی بھی حکمران شخصیت کو کوئی بھی بات کہہ لیں اس کا جواب یہی ہوتا ہے کہ مجھے اس قوم نے منتخب کرکے اس عہدے پر بھیجا ہے اب یہاں سب کنفیوژن کا شکار ہیں کہ قصور وار کون ہیں عوام یا حکمران۔جب تک ہماری قوم یعنی پاکستانی عوام میرٹ پر فیصلہ نہیں کرے گی تب تک عوام کا میرٹ بھی اسی انداز میں رد ہوتا رہے گا۔گیند ہمیشہ پہلے انتخابات کی صورت میں عوام کی کورٹ میں ہوتی ہے اب میرٹ اور ٹیلنٹ کی صورتحال یہ ہے کہ کسی کو ےہ نہیں معلوم کی عمار افضل کون ہے اس کا تعلق کس علاقے سے ہے اس نے کیا کارنامہ سر انجام دیا ہے کس شعبے میں اس نے دنیا میںپہلا مقام حاصل کر لیا ہے کس طرح اس نے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے اور وہ دنیا کونسی سب سے بڑی کمپنی میں شامل ہوکر ٹاپ پوزیشن پر بیٹھا ہوا ہے۔ دنیا کے کونسے امیر ترین شخص نے پاکستان میں موجود اس ہیرے کو پہچانا ہے اورپاکستان میں موجود ہوتے ہوئے بھی اس کو اس طرح تراشا خراشا جا رہاہے کہ جلدی پوری دنیا میں اس کی شاخیں پھیل جائیں گی۔وہ شخص جس کے ایک سیکنڈ کی قیمت بھی لاکھوں ڈالر ہے اور جس کو ملنے اور جس تک پہنچنے کے لیے کئی مراحل طے کر نے کی ضرورت ہوتی ہے کس طرح اس نے عمار افضل سے 6منٹ تک کمپیوٹر کے ذریعے براہ راست بات کی اوراس کو اپنی کمپنی کی ٹاپ پوزیشن کی آفر کی۔اس شخص نے عمار کے ٹیلنٹ کو پہچانتے ہوئے دنیا کی مشہور ےونیورسٹیوں سے اس کو کورس کروائے جن کی مالیت پاکستانی کرنسی میں کروڑوں بنتی ہے اور ان ےونیورسٹیوں کا اشتیاق دیکھئے کہ کورس کونسی ےونیورسٹی سے کر رہا ہے ار ڈگری کونسی ےونیورسٹی سے مل رہی ہے ۔ عمر کا سنیں تو حیران رہ جائینگے کہ ابھی وہ اٹھارہ سال کا نہیں ہوا۔آج کا میرا ےہ کالم پہیلی کی صورت اختیار کر گیا ہے مگرمیں دیکھنا چاہتاہوں کہ کس کس کو عمار افضل کے بارے میں کیا کیا معلوم ہے ےا معلوم ہے بھی ےابالکل ہی نہیں ۔کیا ہم اس کواس وقت جانیں گے جب وہ پاکستان سے چلا جائیگااور اس کو ملنے کے لیے بھی واشنگٹن ڈی سی جانا پڑیگا۔جس قوم میں زندہ جاوید سامنے موجود نوجوان کو پہچاننے کی سکت نہیں وہ قوم بھلا لاپتہ افراد کا کیا کھوج لگائے گی۔ےہ ہمارا قومی و اخلاقی فرض بنتا ہے کہ ہم جاننے کی کوشش کریں کہ عمار افضل کون ہے اور عمار افضل اس بات کا لائق اور مستحق ہے کہ ہم اس کی قابلیت پر بحیثیت قوم فخر کر سکیں اور عمار افضل کو خراج تحسین پیش کرسکیں۔اس کو ہلال امتیاز ،قائداعظم ایوارڈ، بے نظیر ےا نوازشریف ایوارڈ سے نوازیں۔انشائاللہ اگلے کالم میں عمار افضل کے بارے مں تفصیلاً بیان کروں گا۔

10-04-2011
عالمی خوراک کی قیمتوں میں اضافہ کے مقامی منڈیوں پر اثرات اور پاکستان کی دیہی آبادی.......افتخار بھٹہ•

عالمی منڈی میں خوراک کی قیمتوں میں گذشتہ سالوں میں تیزی سے اضافہ ہواہے اور یہ رحجان 2011کے سال میں بھی جاری رہے گا۔ اس قیمتوں کی اضافہ کی وجوہات میں غیر مستقل خوراک کی رسد فراہمی اور طلب آبادی میں تیزی سے اضافہ سے بڑھتی ہوئی خوراک کی اشیاءکی طلب ایشیاءاور افریقہ میں زرعی اجناس کا زیادہ استعمال اجناس سے امریکہ میں کاروں کےلئے ایندھن کی تیاری امریکہ میں مختلف اجناس کی پیدوار 416ملن ٹن تھی جس میں سے 119ملین ٹن سے ایندھن تیار کرلیا گیا تھا۔ امریکہ میں الکحل کی تیاری پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے دنیا میں ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے دنیا کی تین ارب آبادی خوشحال طبقات کی خوراک کی ضروریات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے وہ غلہ لائیو سٹاک اور پولٹری کا استعمال بہت زیادہ کر رہے ہیں گوشت۔ دودھ اور انڈوں کی کھپت تیزی سے بڑھی ہے جسکی وجہ عالمی سطح پر فوڈ کلچر میں تبدیلی ہے اور فاسٹ فوڈ کا زیادہ استعمال ہے پاکستان کے امیر طبقات کے فوڈ کلچر میں زیادہ تبدیلی آئی ہے یہی وجہ ہے چھوٹے بڑے شہروں میں مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں کے ریسٹورنٹ قائم ہوگئے ہیں جہاں پر برگر اور اس سے متعلقہ کھانے دستیاب ہیں جس پر نوجوان نسل زیادہ خرچ کر رہی ہے اسی طرح چین میں گوشت کی کھپت امریکہ کی نسبت دگنی ہے جہاں دوسری طرف زرعی اجناس کی پیدوار میں کمی ہوئی جسکی وجوہات آبپاشی کےلئے پانی کی فراہمی زرعی پانی کی شہروں کی ضروریات کو پوری کرنے کےلئے شہروں کے قریب بڑھتی ہوئی آبادی اور کالونیوں کی تعمیر کی وجہ سے زرعی زمینوں کا خاتمہ جہاں سے شہروں کو سپلائی کی جاتی تھی چھوٹے کاشتکاروں کی کھاد اور بیج کی قیمتوں میں اضافہ سے کاشت میں عدم دلچسپی جوسوں کی تبدیلی اور زمین کی پیداواری صلاحیت میں سیم و تھورکی وجہ سے کمی وغیرہ شامل ہیں دنیا کی ایک تہائی زیر کاشت زمین کی پیداواری صلاحیت بتدریج کم ہو رہی ہے جبکہ اسکی نسبت کہیں کم نیا رقبہ کاشت کےلئے قدرتی یا انسانی ذرائع سے تیار کیا جا رہا ہے دنیا کے بچاس فیصد سے زیادہ ممالک میں پانی کے ذخائر میں کمی ہو رہی ہے بارشوں میں کمی اور موسموں کی تبدیلی کیوجہ سے زیرِ زمین پانی کا استعمال زیادہ ہو رہا ہے مشرق وسطیٰ سعودی عرب شام اور عراق میں زیرِ کاشت رقبہ کم ہو رہا ہے زرعی اجناس کی پیداوار میں کمی سے ضروریات کو پورا کرنے کےلئے درآمدات کو دباو¿ بڑھ رہا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں پانی کے بحران سے دو چار ہے ہندوستان و نئے دریاو¿ں پر ڈیم تعمیر کرتا جا رہا ہے جس سے پاکستان کی طرف پانی کا بہاو¿ کم ہو رہا ہے اور زمین بنجر ہونے کا خطرہ ہے اور اس کےلئے مستقبل میں جنگوں کا خدشہ موجود ہے پاکستان میں بارانی علاقوں میں فصل زیرِ زمین پانی سے بیچنگ کےلئے رقبہ کاشت کی جاتی ہے گلشیر کی موسمی حدت کی وجہ سے پگھلنے سے بھی پانی کی فراہمی میں مستقبل میں کمی ہوسکتی ہے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ صرف وقتی نہیں ہے بلکہ اسمیں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔ عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں اجناس میں قیمتوں کی کمی ہوئی ہے مگر پاکستانی عوام اس سے محروم رہے ہیں اوراب وہ روٹی خریدنے کےلئے قرضہ لینے پر مجبور ہیں ایشیائی ترقیاتی بینک کے رپورٹ کے مطابق جنوب مشرقی ایشیاءمیں خوراک کی مہنگائی کے حوالہ سے پاکستان اول نمبر ہے پاکستان کی آبادی 18کروڑ سے زیادہ ہے اور جہاں پر آبادی میں اضافہ کی شرح 2.1فیصد ہے اسکی آبادی 2025تک 25کروڑ ہو جائے گی آبادی کے اضافہ کے حوالہ سے تین اندازے اور مفروضے ہیں کم درمیانہ اور بلند کا نام دیا گیاہے جسکے مطابق 2025 میں پاکستان کی آبادی 21کروڑ سے 23کروڑ تک ہوسکتی ہے پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی اور خوراک کی فراہمی کی جامع صورتحال کے پیشِ نظر مستقبل میں بہتری کی کوئی صورتحال دکھائی نہیں دینی ہے حالانکہ ہم غلے اور چاول کی پیدوار میں خود کفیل ہوئے ہیں چاولوں کی برآمد کی جارہی ہے جبکہ کچھ گندم بھی برآمد کی ہے اضافہ پیداوار کے باوجود ان کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے 500-10کے درمیان خوراک کی اشیاءکی قیمتیں اوسطً 17.9فیصد بڑھی ہیں جبکہ صرف جنوری 2011میں ان میں 20فیصد اضافہ ہوا ہے اس اضافہ کی وجاہات میں عالمی منڈیوں میں قیمتوں کی بڑہوتی شامل ہے قیمتوں میں اضافہ کے پیشِ نظر سٹیٹ بینک سے پالیسی ریٹ 14.5فیصد رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے افراط زر میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ یو این او کے مطاب 2011میں خوراک کی اشیاءانتہائی بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں جسکی وجہ سے غریب ممالک کو بغاوتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے پاکستان کو خوراک کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں اور بجلی کے بحران کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ان بحرانوں سے بچنے کےلئے بد قسمتی سے کسی جماعت کے پاس ایجنڈا اور ورکنگ موجود نہیں ہے محض حقیقی مسائل کے بارے میں شوروغل برپا کر کے پوائنٹ سکورنگ کی جا رہی ہے جسکا ٹارگٹ مرکزی ٹارگٹ زرداری حکومت ہے سامراج بھی عوام کے حقیقی مسائل حل کرنے کی بجائے اپنی گماشتوں کے ذریعہ ناپسندیدہ واقعات کے حوالہ سے انکے جذبات کو اُبھارتا رہتا ہے اور ایسی تحریکوں کےلئے ایندھن فراہم کرتا ہے جوکہ اُسکے ایجنڈے کی تکمیل کی راہیں ہموار کریں پاکستان میں مہنگائی کے ذمہ دار حکمران طبقات اور شراکت کار ہیں اُنہوں نے کبھی اسکی قلت اور قیمتوں میں اضافہ پر احتجاج نہیں کیا ہے اور نہ عوام کو ریلیف کی خاطر کبھی اپنی ملوں کی چینی سستے داموں فراہم کرنے کی کوشش کی ہے آج ہمیں خود کفالت کے باوجود کئی زرعی اجناس دالوں بیج وغیرہ کو درآمد کرنا پڑتا ہے پاکستان کی اس ضمن میں درآمداد 3.1ارب ڈالر جبکہ برآمدات 3.29ارب ڈالر کی ہیں 2011کے نصف مالی سال میں درآمدات 2.52ارب ڈالر اور برآمدات 1.80ارب ڈالر تھیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس ضمن میں عدم استحکام سے دوچار ہیں حکومت اس درآمدی دباو¿ سے بچنے کےلئے پیدوار میں اضافہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے پاکستان میں خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بارے میں یہ تصور موجود ہے کہ اسمیں سپلائی اور ذخیرہ اندوزی کے معاملات شامل ہیں حکومت اگر جمہوری عمل کو چلانے کی خواہشمند ہے تو اسکو اس ضمن میں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ حکومتی سطح پر زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے دیہی آبادی آمد بتول میں کئی دھائیوں بعد اضافہ ہوا ہے جسکی مالیت کا تخمینہ 300ارب ڈالر ہے جس کی قیمت میں 173فیصد چاول کی قیمت میں 40فیصد گندم کی قیمت میں 65فیصد اضافہ 2008، 2011کے درمیان ہوا ہے جس سے دیہاتی آبادی کی آمدنی میں افراط زر آیا ہے دیہاتی آمدنی میں اضافہ سے صنعت اور خدمات کے شعبہ کو مدد ملی ہے زرعی اجناس کی قیمتوں کے بڑھنے سے دیہاتی آبادی بالخصوص زمینداروں کے ہاتھوں میں خاصا روپیہ آیا ہے اور اُنکے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے کاشتکار اپنے روپے کو کاروں موٹر سائیکلو، ٹریکٹروں الیکٹرانک کی اشیاءاور شادیوں پر خرچ کر رہے ہیں اس اضافی آمدنی سے پنجاب اور سندھ میں بسنے والے تمام دیہاتی فائدہ اُٹھا رہے ہیں جو کہ زرعی پیداوار کا 90فیصد پیدا کر رہے ہیں ملک کی دو تہائی آبادی دیہاتوں میں رہےی ہے۔ حقیقت میں زیادہ فائدہ بڑے زمینداروں کو حاصل ہوا ہے جبکہ کچھ آمدنی کے فوائد چھوٹے کاشتکاروں تک پہنچے ہیں دوسری طرف بڑے کاشتکاروں کی آمدنیوں میں اضافہ سے دیہاتی علاقوں میں آمدنی کی تقسیم کے عدم مساوات میں اضافہ سے محرومیوں بڑھی ہیں چھوٹے طبقات کو زرعی اجناس کی قیمتوں کے بہت کم مالی فوائد ہوئے ہیں ممتاز ماہر معاشیات حفیظ پاشا کے مطابق درمیان اور بڑے کاشتکاروں کو خاصے فوائد ملے ہیں کیونکہ اُنکے پاس فروخت کرنے کےلئے فاضل مقدار میں افیاس دستیاب تھی۔ وہ اب نئی کاریں خرید رہے ہیں نئے گھر بنا رہے ہیں اور اُسکو سجانے کےلئے دیگر الیکٹرانکس کا سامان خرید رہے ہیں جن کا شتکاروں کی پیداوار محدود اور صرف خاندانی ضروریات تک ہے اُنہیں اجناس کی قیمتوں میں اضافہ سے کچھ حاصل نہیں ہوا ہے اشفاق حسین ماہر معاشیات اور ڈین نسٹ بزنس کے مطابق دیہاتوں میں آمدنی کے عدم مساوات میں اضافہ ہونے سے مختلف طبقات کے درمین تفریق میں اضافہ ہوا ہے 40فیصد سے زیادہ دیہاتی آبادی کاشتکاری کرتی ہے جسمیں زیادہ تعداد چھوٹے کاشتکاروں کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے اضافی قیمتوں سے زیادہ آبادی کو بہت کم حاصل ہوا ہے پنجاب میں 50فیصد دیہاتی آبادی کی آمدنی زراعت سے منسلک ہے جسمیں سے 90فیصد کی زرعی ملکیت 12.5ایکڑ سے کم ہے زرعی فورم پاکستان کے چئیر مین کے مطابق چھوٹے کسانوں کو زرعی اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے کچھ حاصل نہیں ہوا ہے کیونکہ اُنہیں مہنگے بیج اور کھاد خریدنی پڑتی ہے وہ اپنی پیداوار محدود ہونے کی وجہ سے اُسکو منڈی میں فروخت نہیں کر سکتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے چھوٹے کاشتکاروں کی زیادہ تعداد ہونے کی وجہ ہے زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ سے زیادہ سے زیادہ کسانوں کو مساوی طور پر فوائد حاصل ہوئے ہیں پنجاب میں چھوٹے کاشتکاروں کی تعداد زیادہ ہے جبکہ سندھ میں زیادہ تر بڑی زمینداری ہے چھوٹے کاشتکار ملکیتی دستاویزات کی عدم موجودگی سے مالیاتی اداروں سے قرضہ جات حاصل نہیں کر سکتے ہیں اسلئے وہ مقامی آڑھتیوں کے محتاج ہوتے ہیں وہ اُن سے اُدھار حاصل کرتے ہیں اور فصل بھی اُنکو فروخت کرتے ہیں بعض اوقات انہیں زیادہ سود کی ادائیگی سے بچنے کےلئے فصل کو فوری طور پر فروخت کرنا پڑتا ہے اور نہ ہی وہ اسکی فروخت کو قیمتوں میں اضافہ کے انتظار کےلئے ذخیرہ کر سکتے ہیں ہیں اسطرح اُنکو اجناس کی فروخت سے بہت کم منافع حاصل ہوتا ہے وہ آڑھتیوں سے ادھار کاہی بیج یا اُسکی خرید کےلئے رقم لیتے ہیں جو نقد آدائیگی کی نسبت اُدھا پر زیادہ قیمت پر ملتی ہیں۔ اگر موسمی حالات موافق نہ ہونے کی وجہ سے فصل خراب ہو جائے تو چھوٹے کاشتکاروں کی مالی صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے اور وہ ہمیشہ کےلئے قرض کے چکر میں پھنس جاتے ہیں یہی صورتحال سبزیات اُگانے والے کسانوں کی ہے جسکے منافع کو مڈل مین اور دکاندار لے اُڑتا ہے کیونکہ اُسکو اپنی پیداوار کی قیمت منڈی میں مارکیٹ کی نسبت بہت کم ملتی ہے سابق ویز خزانہ سلمان شاہ کے مطابق زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ سے پنجاب میں سندھ کی نسبت زیادہ دیہی آبادی کو فائدہ ہوا ہے کیونکہ یہاں پر چھوٹے زمینداروں کی تعداد سندھ کی نسبت زیادہ ہے وہاں پر بڑی جاگیداریاں ہیں۔ کھیت مزدوں کی آمدنی میں اضافہ کے حوالے سے مختلف نقطہ نظر ہیں کہ کسطرح سے انکی اُجرتوں میں زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ سے بڑھوتی ہوئی ہے یا نہیں ہے اس بات کا اندازہ ایک سنجیدہ جائزے اور سروے کے بغیر ممکن نہیں ہے سلمان شاہ کے مطابق دیہاتوں میں بسنے والے زرعی ملکیت نہ رکھنے والے کھیت مزدور اور دیگر محنت کش طبقات بڑھئی، لوہار، حجام، الیکٹریشن معمار وغیرہ کی اُجرتوں میں اضافہ ہو اہے مگر اُنکی آمدنیوں کی نسبت زرعی اجناس کی قیمتوں میں کہیں زیادہ اضافہ ہوا ہے اسطرح انہیں مجموعی طور پر بہت کم فائدہ ہوا ہے ہر صورت نئی تعمیرات اور نئی مشنری آنے سے اُنکے لئے روزگار کے مواقعوں میں اضافہ ہوا ہے جنوبی پنجاب اور سندھ میں چھوٹے کاشتکار اور مزارع روایتی جاگیردارانہ جبر سے دوچار غلامی کی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں وہاں پر غریبوں اور عورتوں کی صورتحال ابتری سے دوچار ہے۔ اسطرح سماجی اور معاشی صورتحال کی بہتری کے حوالہ سے کئی سوالات ہیں بڑے زمینداروں کی آمدنیاں Taxableنہ ہونےکی وجہ سے کئی سیاسی جماعتوں کی طرف سے ٹیکس لگانے کے مطالبات کئے جا رہے ہیں اور اُسکو جواز بنا کر کئی طبقات حقیقی ٹیکس کی عدم ادائیگی کی چھوٹ حاصل کرنے کے چکر میں ہیں بہر صورت اجناس کی قیمتوں میں اضافہ کے فوائد مجموعی طور پر دیہاتی آبادی کو کچھ نہ کچھ حاصل ہوتے ہیں مگر اس اضافہ کے ساتھ زرعی اجناس کی پیداوار میں بھی اضافہ ہونا چاہئے ہماری فی ایکڑ پیداوار میں کئی سالوں سے کمی ہو رہی ہے جبکہ ہندوستان میں فی ایکڑ زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے اگر زرعی پیداوار میں کمی کا سلسلہ جاری رہا تو اس سے کاشتکاروں کو ملنے والے فوائد بالکل ختم ہو جائیں گے۔ زرعی اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے دیہاتوں کے غیر کاشتکار گھرانے متاثر ہوئے ہیں تو شہروں میں بسنے والی تنحواہ دار آبادی اور محدود آمدنی والے گھرانے بھی متاثر ہوئے ہیں کیونکہ زرعی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ اُنکی آمدنیوں میں بڑھوتی کی نسبے کہیں زیادہ ہوا ہے پچھلے تین سالوں میں صارف کا پرائس انڈیکس 55فیصد بڑھا ہے جبکہ تنخواہوں اور اُجرتوں کو اُسکی نسبت بہت کم بڑھایا گیا ہے شہری آبادی جسکا انحصار مینوفیکچرنگ کے اضافہ ، تجارت اور فکسڈ تنخواہوں پر ہے مہنگائی کیوجہ سے اُنکے معیار زندگی میں کمی آئی ہے اور اس صورتحال سے خوش نہیں ہیں مہنگائی کے حوالے سے اپوزیشن اور حکومت اور حکومت کے باہر کھیلنے والے کھلاڑی کوئی روڈ میپ یا نظریہ نہیںرکھتے ہیں جبکہ بڑی ضلعی پیداوار میں ایک فیصد کمی ہوئی ہے تجارت میں 14%اضافہ ہوا ہے زرعی اجناس میں قیمتوں میں اضافہ سے خوراک کے افراط زر سے سب سے زیادہ شہروں کی محدود آمدنی والی شہری آبادی متاثر ہوئی ہے اور باہر ہوٹلوں میں لذیز کھانے کی بجائے گھر کی دال روٹی کھانے پر مجبور ہے کیونکہ دال روٹی کا حصول آج سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

10-04-2011
تعلیم نہ کھپے.......!.......محمد احمد ترازی•

یچ ایس سی کی تحلیل حکومت کا ایک انتقامی فیصلہ.....! اسلام تعلیم اور تعلّم سے وابستہ افراد کو معاشرے کا سب سے اہم فرد قرار دیتا ہے،حضور سیّد عالم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ”علم حاصل کرو ،چاہے اُس کیلئے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔“یہ قانون فطرت ہے کہ علم قوموں کی ترقی کی بنیاد اور اساس ہوا کرتا ہے، قوموں کے عروج و زوال میں تعلیم کا کردار ہمیشہ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ہے،دنیا میں وہی قومیں اور ممالک مرجع خلائق رہے جنھوں نے تعلیمی میدان ترقی کی،ایک وقت تھا جب تعلیم کی وجہ سے مسلمانوں کو دنیا کی امامت کا مرتبہ حاصل تھا،یہ وہ دور تھا جب مغرب اپنے تاریک ترین دور سے گزر رہا تھا ،لیکن اُس وقت اسلام کی روشنی دنیا کو منور کر رہی تھی اور قرطبہ کی جامعات دنیا بھر میں علم وفن کا مرکز تھیں،لیکن جب تعلیم و تعلّم اور شمیشیر و سناں کی جگہ طاو¿س و رباب نے لے لی تو ہماری تنزلی کا دور شروع ہو گیا، تعلیمی ترقی نہ ہونے کی وجہ سے وہ جو کبھی اقوام عالم کے سردار تھے، اغیار کے غلام اور محکوم ہوگئے،آج دنیا کی بہترین تعلیمی ادارے اغیار کے پاس ہیں اور پوری دنیا سے اعلیٰ تعلیم کے حصول کےلئے لوگ اُن کی طرف رجوع کرتے ہیں،جبکہ ہماری تعلیمی ترقی کا حال یہ ہے کہ دنیا کی بڑی جامعات کی لسٹ میں دور دور تک ہماری کسی جامعہ کا نام تک نہیں آتا،اِس کی بنیادی وجہ تعلیمی میدان میں حکومتوں کی عدم دلچسپی ہے،ہمارے یہاں بجٹ میں صرف 2فیصد بجٹ حصہ تعلیم کےلئے مختص کیا جاتا ہے جس سے بہتری کی توقع تو کجا موجودہ سیٹ اپ کو چلانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اَمر واقعہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کا شعبہ¿ روز اوّل سے ہی عدم توجہی کا شکار رہا ہے، ہر حکومت نے تعلیمی کمیشن تشکیل بنائے ، نت نئی تعلیمی پالیسیاں تشکیل دیں،تعلیمی فروغ کیلئے کاغذی ادارے بنائے،مگر ہمارا نظام تعلیم جوں کا توں ہی رہا، جبکہ دنیا کا دستور یہ ہے کہ قومیں اپنی ترقی اور کامیابی کیلئے ادارے تعمیر کرتی ہیں، اُن کی مسلسل پرورش کرتی ہیں، پروان چڑھاتی ہیں اور انہیں بہتر سے بہتر بناتی رہتی ہیں،تب جاکر نتائج حاصل کرتی ہیں، کیونکہ ادارے ہی قوموں کا اثاثہ اور میراث ہوتے ہیں جو ثمربار اور گھنے درختوں کی مانند انکی کئی نسلوں کو پھل مہیا کرتے ہیں، سایہ فراہم کرتے ہیں،اِس کے عکس ہم نے اپنی چونسٹھ سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ زور ادارے بنانے کی بجائے انہیں کمزور کرنے اور توڑ نے پر دیا،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر شعبے میں ہم پیچھے رہ گئے ،ہمارے حکمرانوں کا یہ شغل اب بھی جاری ہے ،اگر اتفاق سے کوئی ادارہ وجود میں آ بھی گیا تو اِس کے درپے ہونا ہمارے حکمران اپنے فرض منصبی شمار کرتے ہیں، خوش قسمتی سے پچھلے آٹھ دس سالوں میں ادارہ سازی کے میدان کے اندر ہم سے ایک قابل تعریف کام سرزد ہو گیا جو ہائر ایجوکیشن کمیشن کا قیام تھا،لیکن اب ہمارے حکمران اسے تحلیل کر نے کے منصوبے بنارہے ہیں۔ پہلے ہی پاکستان میں تعلیم کا حال دگر گوں تھا، رہی سہی کسر حکومت نے ایچ ای سی کو ختم کرنے کا فیصلہ کرکے پوری کردی ہے،تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ٹکڑے کرکے صوبوں میں بانٹ دیا جائے گا اور اِس کی مرکزی حیثیت ختم ہوجائے گی، حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام اٹھارویں ترمیم کے مطابق اٹھایا گیا ہے جبکہ 18 ویں ترمیم کمیٹی کے ایک رکن مسلم لیگ( ن) کے رہنما احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی آئینی مجبوری نہیں کہ ایچ ایس سی کو لازماً صوبوں کے حوالے کیا جائے، اُن کے خیال میںیہ انتقامی کارروائی ہے کیونکہ جعلی ڈگریوںکے معاملہ پر کمیشن نے حکومت کا دباو ¿قبول نہیں کیا تھا،یہی رائے ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں اور قائدین کی ہے ،دوسری طرف تعلیمی اداروں کے وائس چانسلر سمیت طلبہ تنظیمیں بھی حکومت کے اِس فیصلے کے خلاف صف آراءہوچکے ہیں،ہماری نظر میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے صوبوں کے سپرد کرنا اعلیٰ تعلیم کے مستقبل پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے،اِس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو چلانا صوبوں کے بس کا روگ نہیں اور نہ ہی یہ ادارہ اپنی نوعیت اور آئینی حیثیت کے سبب صوبوں کے سپرد کیا جانا چاہئے۔ اِس سے قطع نظر کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ٹکڑے کرنے کی آئینی حیثیت کیا ہے، یہ حقیقت کسی طور بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ تعلیمی کے میدان میںہائر ایجوکیشن کمیشن کی کارکردگی انتہائی متاثر کن ا ور شاندار رہی ہے،ہائرایجوکیشن کے قیام سے پہلے دنیا بھر کی بہترین جامعات میں پاکستان کی کوئی یونیورسٹی شامل نہیں تھی لیکن اب دنیا کی بہترین جامعات میں پاکستان کی دو یونیورسٹیاں شامل ہیں،یہ بھی حقیقت ہے کہ ہائر ایجوکیشن کے قیام کے بعد ریسرچ کے شعبے میں بہت ترقی ہوئی اور ہمارے اسکالر نے قابل قدر کام کیا،آج ایچ ایس سی کے تعاون سے سینکڑوں پاکستانی اسکالر پی ایچ ڈی اور اِس لیول کی تعلیم مکمل کرچکے، جبکہ سات ہزار سے زائد طلباءدنیا کی بہترین یونیورسٹیوں سے ڈاکٹریٹ کررہے ہیں،جن سے یہ امید کی جارہی تھی کہ جب یہ اسکالرز اور پروفیسرز مختلف مضامین میں پی ایچ ڈی کرکے وطن واپس آئیں گے تو پاکستان کا علمی و تعلیمی معیار بہتر ہوگا اور اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نمایاں بہتری آئے گی،لیکن حکومت کے اِس تعلیم دشمن اقدام سے ہم نہ صرف ہم عالمی بینک اور امریکہ کی اعلیٰ تعلیم کےلئے کروڑوں ڈالر کی امداد سے محروم ہوجائیں گے بلکہ پاکستانی یونیورسٹیوں کو عالمی ریکنگ میں لانے اور پی ایچ ڈی پروفیسرز کی تعداد میں نمایاں اضافے اور ریسرچ کے ذریعے ¿ترقی کے خواب بھی چکنا چور ہوجائیں گے،ساتھ ہی وہ طلبا ءجنھیں ایچ ایس سی نے 50 ارب روپے خرچ کرکے اعلیٰ تعلیم کےلئے بیرون ملک بھجوایا تھا ،وطن واپس آنے سے گریز کریں گے،جس نہ صرف تعلیمی معیار خراب ہوگا بلکہ قومی خزانے کو نقصان کے ساتھ ہماری ترقی کی رفتار بھی متاثر ہوگی اور اِس ادارے کے خاتمے سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں پاکستان کی ڈگریاں بھی مشکوک قرار پائیں گی۔ لہٰذا ہماری ارباب اقتدار سے گزارش ہے کہ انہیں اپنے فیصلے کے حسن و قبح پر ضرور غورکرنا چاہیے تھا،ہماری نظر میں تعلیم کے شعبے کو صوبوں کے حوالے کرنا ایک خطرناک اور ایساملک دشمن قدم ہے،جس پر عمل سے چھوٹے صوبوں کے ٹیچرز اور پروفیسر اعلیٰ تعلیم کے مواقع سے محروم ہوجائیں گے،اِس ادارے کی آزادانہ حیثیت ختم کرنے سے اِس کا سب سے زیادہ نقصان اُن چھوٹے صوبوں کو ہوگا جن کے وسائل پہلے ہی بہت کم ہیں،حکومت کے اِس عمل سے صوبوں کے درمیان غلط فہمیاں بھی پیدا ہوں گی کیونکہ تمام صوبوں اور کشمیر میں معیار تعلیم ایک جیسا نہیں ہے،دوسری جانب ایک ایسا ادارہ جو پاکستان کیلئے دنیا میں قابل فخر کردار ادا کررہا ہے، کے خاتمے سے ہمارا تعلیمی معیار گرے گا اور بیرونی ممالک میں موجود ہزاروں ذہین پاکستانی طلبہ کا مستقبل بھی تاریک ہوجائے گا،جہاں تک ایچ ای سی کا تعلق ہے تو ممکن ہے کہ اِس میں کچھ خامیاں ہوں لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اِس ادارے کو زندہ درگور کردیا جائے،بلکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ خامیاں دور کی جاتیں اور اِس کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاتا،مگرافسوس کہ اِس طرف توجہ دینے کے بجائے اِس ادارے کے خاتمے کا فیصلہ کیا گیا جس سے اِس اعتراض میں وزن محسوس ہوتاہے کہ ارکان پارلیمنٹ کی ڈگریوںکی چھان بین روکنے کےلئے حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے،ہم اپنے ارباب اقتدار کو یاد دلانا چاہتے کہ قوموں کا روشن مستقبل اعلیٰ تعلیم سے وابستہ ہوتا ہے،آج کوئی معاشرہ تعلیم کی تجدید سے بے نیاز ہوکر زندہ نہیں رہ سکتا، اچھی اور معیاری تعلیم سماج کے زندگی بخش نظریات سے چشم پوشی نہیں کر سکتی، دونوں کا ربط ایسی افادیت پیدا کر سکتا ہے جو قومی استحکام اور سماجی فلاح کی ضمانت ہے، ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ،جدید اور فلاحی معاشرہ ہی استحکام پاکستان کی کلید ہے، اربابِ اختیار ، دانشور وں،ماہرینِ تعلیم ، میڈیا اور اصحاب الرائے کی یہ اجتماعی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پاکستان کے روشن مستقبل کےلئے حکومت کے اِس تعلیم کش ( تعلیم نہ کھپے) کے اقدام کے خلاف متحد ہوکر واضح لائحہ عمل اختیار کریں، وگرنہ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جانا ہمارا مقدر ہے۔

12:24 PST 09-04-2011
پاک بھارت دووزیراعظموں کی اپنی اپنی سوچیں......!!........... محمداعظم عظیم اعظم•

ہمارے ایسے نصیب کہاں..؟؟ پیٹرول کے نرخ نہیں بڑھائیں گے،بھارتی وزیراعظم کا اعلان عالمی قیمتیں ہمارے کنٹرول میں نہیں عوام بچت کریں،پاکستانی وزیراعظم کی بے بسی اورنصیحت ہمارے ملک کی سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنے لاکھ اختلافات کے باوجود ملک میں حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیرہ فیصد ،مائع گیس ایل پی جی سمیت سی این جی کی قیمتوں میں بالترتیب پانچ اور دوروپے تینتیس پیسے ہونے والے اضافے کے خلاف باہم متحد و منظم نظر آتی ہیں جو ملکی سیاسی حالات کے تناظر میں ایک خوش آئند بات کہی جاسکتی ہے کہ چلو(دکھلاوے کے لئے ہی صحیح مگر )کسی بھی ایک قومی مسلے اور کسی نکتے پر ہماری یہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں ایک تو ہوئیں اور اِس کے فوری حل کے خاطر سر جوڑ کر اور کمرتوڑ کر بیٹھی تو ہیں اِن کے اِس طرح متحد ہونے سے یقینا حکومت پر بھی جہاں سیاسی دباو¿بڑھے گا تو وہیں یہ اخلاقی طور پر بھی مجبور ہوگئی کہ وہ اِن جماعتوں کے اُن مطالبات کو مانتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے جس کے خلاف اپنے اپنے سیاسی اختلافات میں بٹی یہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں آج ایک ہوگئی ہیںاور حکومت سے مطالبہ کررہی ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھائی جانے والی قیمتوں کو واپس لے اور آج اپنے اِسی اتحاد کے بدولت اِنہوں نے اپنے مظاہر وں میں حکومت کی طرف سے پیٹرولیم مصنوعات میں کئے جانے والے اضافے کو مستردکرتے ہوئے کہاہے کہ مہنگائی نے پہلے ہی عوام کی کمر توڑ کر اِس کا جینادوبھرکررکھاہے اور اِس پر بھی حکومت اپنی ضرورتوں کو پوراکرنے کے لئے اپنی عیاشیوں کو کم کرنے کے بجائے اُلٹا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کرکے ملک میں مہنگائی کا طوفان لانے اورعوام کے کمزور اور ناتواں کاندھوں پر مزیدمہنگائی کا بوجھ ڈالنے پر تلی بیٹھی ہے جو ملک کی ساڑھے سترہ کروڑ عوام کے ساتھ سراسر ظلم کے مترادف ہے اِن کا کہناہے کہ حکومت عوام پر مہنگائی کا اتنا بوجھ نہ ڈالے کہ وہ اِسے برداشت بھی نہ کرسکیں جبکہ اِس سلسلے میں اطلاعات یہ ہیں کہ اِن سطور کے رقم کرنے تک ملک کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف احتجاجوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں اِن جماعتوں کے رہنمااور کارکنان کا حکومت سے پُر زور مطالبہ ہے کہ وہ ملک میں حالیہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کئے جانے والے اپنے ظالمانہ اضافے کو فی الفور واپس لے۔ جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سمیت ایل پی جی اور سی این جی کی قیمتوں میں فی کلو ہونے والے بے تحاشہ اضافے پر ملک کی تیسری بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حُسین نے بھی اپنے سخت تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت اضافے پر نظرثانی اور عوام کے بجائے خود بوجھ برداشت کرے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں جب حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کیاتھااُس وقت بھی ملک کی واحد جماعت ایم کیو ایم ہی تھی جس نے اُس وقت ہونے والے اضافے کے خلاف اپنی بھرپور آواز بلندکرکے حکومت کو مجبورکردیاتھا کہ یہ اپنے اِس فیصلے کو واپس لے اور بالآخر وہ اِس میں کامیاب ہوئی اور حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں کئے جانے والے اضافے کو واپس لے لیاتھا اور آج ایک مرتبہ پھر ایم کیو ایم سمیت ملک کی دوسری سیاسی اور مذہبی جماعتو ں کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 6.98روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت میں 9.65روپے فی لیٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 10.67روپے فی لیٹر، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 9.07روپے فی لیٹر،ایچ اوبی سی کی قیمت میں 7.16روپے فی لیٹر، مائع گیس کی قیمت میں 5روپے فی کلواور سی این جی کی قیمت میں2.33روپے فی کلو اضافے کے خلاف پُرمذمت بیانوں اور حکومت مخالف ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جن کی وجہ سے اُمید کی جاسکتی ہے کہ حکومت اپنے فیصلے پر ضرور نظرثانی کرتے ہوئے اضافے کو واپس لینے پر ضرور مجبور ہوگئی ۔ اگرچہ آج ملک کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات سمیت مائع اور سی این جی گیسوں کی قیمتوں میں فی کلوہونے والے اضافے کے خلاف مظاہروں کے ردِ عمل کے طور پر سینٹ میں اپنے خطاب میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی دانش سے بڑے تحمل کا مظاہر ہ کرتے ہوئے یہ انوکھی منطق پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈی میں قیمتوں کو مدِنظر ہی رکھ کرکیاگیاہے اِن کا اِس موقع پر یہ بھی کہنا انتہائی مضحکہ خیز لگاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھاکہ ہم اِس کا کوئی اور متبادل راستہ تلاش کرتے لہذاعوام اِس اضافے کو برداشت کرتے ہوئے اپنے اندر بچت کی عادت ڈالے یہاں میرااِن سے یہ کہناہے کہ عوام کی اَب تو برداشت کی حد بھی ختم ہوگئی ہے جناب !جو ہر بار آپ ایساکرکے یہ کہتے ہیں کہ عوام برداشت کرے ا ور آپ بتائیں کہ آپ اور آپ کی اِس جمہوری حکومت نے عوام کو گزشتہ تین سالوں کے دوران دیاہی کیا ہے کہ عوام بچت کریں آپ کی حکومت نے بے تحاشہ مہنگائی کرکے بیچارے غریب عوام کے منہ سے روٹی کا خشک نوالہ بھی چھین لیاہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ عوام بچت کرے ارے ! جناب وزریراعظم یوسف رضاگیلانی صاحب ! کیاکبھی آپ نے پلٹ کر اُن لوگوں کا حال دریافت کیا جنہیں آج بھی اِن کے مِل مالکان ماہانہ سات ہزار سے بھی کم تنخواہ دے رہے ہیں جس کا آپ نے گزشتہ سال ایک مزدور کی تنخواہ سات ہزار روپے کرنے کا اعلان کیاتھاآج بھی ملک کے ہزاروں مِل مالکان اپنے یہاں ماہوار تنخواہ لینے والے لاکھوں مزدوروں کو سات ہزار سے کم دے کر اِن کاخون پسینہ چوس کراپنے کاروبار کو تو وسعت دے رہے ہیں مگر ساتھ ہی اِن مزدوں کے مسائل میں اضافہ بھی کررہے ہیںاور اِس پر بھی آپ اِن غریبوں کو اپنایہ درس دے رہے ہیں کہ مہنگائی تو ہوگی عوام برداشت کی عادت ڈالے بھلایہ کیسے ممکن ہوسکتاہے...؟؟ وزیراعظم جی ! کہ سات ہزارروپے سے کم کمانے والا کوئی غریب آپ کے پیداکردہ اِس منہ توڑ اور سر پھوڑمہنگائی کے دور میں اپنااور بچوں کا پیٹ بھی بھرے اور بچت بھی کرے ....؟؟وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی جی!قوم کے اِس سوال کا جواب ضرور دیجئے گا کیونکہ میرے اِس کالم کے ذریعے قوم آپ اور آپ کی حکومت سے یہ پوچھناچاہ رہی ہے اور اِس کے علاوہ اپنے اِس خطاب کے دوران مسٹر وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف حکومت مخالف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کوبھی مخاطب کرتے ہوئے ایسے کہاکہ جیسے اِن کے اِس طرح کے کہنے سے یہ جماعتیں ٹھنڈی پڑ جائیں گی اور حکومت مخالف مظاہرے ختم کردیں گیں اُنہوں نے کہاکہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر 35ارب روپے سبسڈی دے چکی ہے اور جب اُنہوں نے یہ محسوس کیا کہ اِس بھی کام نہیں چلے گااور بات نہیں بنے گی تو اُنہوں نے اِس کے ساتھ ہی اِس بات کا بھی یقین دلاتے ہوئے کہاکہ وزارت خزانہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیاسی قیادت سے مل کر ریلیف کے لئے راستہ نکالے۔ یہاں یہ سوال پیداہوتاہے کہ ایک طرف تو وزیراعظم یوسف رضاگیلانی عوام کو نصیحت کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ عوام کو یہ اضافہ برداشت کرتے ہوئے اپنے اندر بچت کی عادت ڈالنی ہوگی تودوسری طرف وہ یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ اِس اضافے کا بوجھ عوام پر نہیں پڑے گا کیونکہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر 35ارب روپے سبسڈی دے چکی ہے جبکہ فی الحقیقت افسوسناک امر یہ ہے اِس حکومتی گوردھند سے ایک عام پاکستانی سب سے زیادہ متاثر ہوگا جو آج حکومت کی سمجھ سے باہر ہے ایسے حکومتی اقدامات سے تو ایسا لگتاہے کہ حکومت تو بس یہ چاہ رہی ہے کہ اِس کی عیاشیاں نہ کم ہوں اور نہ ختم ہوںبھلے سے عوام مسائل کی کچی میں پستی رہے بس حکومتی عیاشیاں جاری رہیں۔ جبکہ اِسی طرح دوسری جانب ملک کی سیاسی ، مذہبی جماعتوں اور سماجی تنظیموں سمیت عوام کایہ خیال ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے ا ضافے کو فوری طور پر واپس لے جو باپ المہنگائی ہے۔ ملک کے سترہ کروڑ عوام کا یہ کہنا ہے کہ ایک ہمارے وزیر اعظم ہیں جو سیدزادے بھی ہیںاِن کا یہ کہناہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ عالمی ہے اِس پر ہماراکوئی زور نہیں ہے ہماری عوام کو اِس اضافے کو برداشت کرتے ہوئے اپنے اندر بچت کی عادت ڈالنی ہوگئی۔جبکہ دوسری طرف ہمارے وزیر اعظم سیدیوسف رضاگیلانی کی سوچوں کے بلکل برعکس بھارت کے وزیر اعظم ہیں جن کے ملک سے متعلق ہماری اطلاعات کے مطابق ہانگ کانگ کے بزنس کنسلٹنسی فرم (یرک) کی ایک تازہ ترین رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں اِس بات کاا نکشاف اور اعتراف کیا گیاہے کہ گزشتہ دنوں دنیاکے 16ممالک کا بغور جائزہ لیاگیااِس میں بتایاگیاہے کہ بھارت کو ایشائی خطے کے16ممالک میں سے چوتھاکرپٹ ترین ملک قرار دیاگیاہے یہاں ہم اپنے قارئین کو بتاتے یہ چلیں کہ ہم سے کئی گنازیادہ آبادی والے ہمارے پڑوسی ملک بھارت جوکہ 16ممالک میں سے دنیاکا چوتھاکرپٹ ترین ملک قرار دیاگیاہے ایک خبر کے مطابق اِس کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سِنگھ نے بھارتی پرائم منسٹر ہاو¿س میں مرکزی کابینہ کے اجلاس میں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور مہنگائی کے خلاف بھارتی اپوزیشن کے لانگ مارچ کے حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے اُنہوں (بھارتی وزیراعظم مسٹر ڈاکٹرمنموہن سِنگھ )نے برملا کہا ہے کہ بھارت میں (مڈل ایسٹ) بیرونی ممالک (لیبیا وغیرہ میں پیداہونے والی انقلابی صُورت حال اور اِس ) کے بحران کو جواز بناکربھارت اپنے یہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کرے گااورپرانی قیمتیں ہی برقرار رہیں گی اِس موقع پر بھارتی وزیراعظم نے اِس تجوزیر کو بھی مستردکردیاجس میں کہاگیاتھا کہ بجلی، پیٹرول، آٹے اور چینی کی قیمتوں میں اضافے کوبھارت کی معیشت اور عوام کی خوشحالی سمیت حکومت کے استحکام اور قومی خزانہ بھرنے کے لئے ضروری قراردیاگیاتھا اِن تمام باتوں کے برعکس اُنہوں نے کہاکہ اِن کے ملک میں آٹے اور چینی کی قیمتوں میں من مانااضافہ کرنے والوں کو سی بی آر کا ہر حال میں سامنہ کرناپڑے گا اور اِس کے ساتھ ہی بھارتی وزریراعظم منموہن جی نے اپنی کابینہ کے اراکین کو سختی کے ساتھ متنبہ کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ بھارت میں آٹے کی بلیک مارکیٹنگ کسی طور برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ بھارتی وزیراعظم ہیں جنہوں نے اپنی کابینہ کی اُس تجووز کوبھی مستردکردیاجس میں اِن سے کہاگیاتھاکہ اگر ملک میںبجلی ، پیٹرول ، آٹے اور چینی کی قیمتیں بڑھادی جائیں تو خالی ہوتاہواقومی خزانہ بھرجائے گا اور ملک میں اِس طرح خوشحالی آجائے گی مگر واہ رے! بھارتیوں تمہاری کتنی اچھی قسمت ہے کہ تمہارے محب وطن اورتم سے محبت کرنے والے وزیراعظم ڈاکٹرمنموہن سنگھ نے صرف اپنے عوام کو ریلیف دینے کے خاطر اِتنابڑافیصلہ کردیاکہ لیبیامیں پیداہونے والی انقلابی صورت حال کے باعث ہم اپنے یہاں( بھارت )میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھاسکتے جس کی وجہ سے ہمارے عوام پر مہنگائی کا اضافی بوجھ پڑے اور حکومت کا عوام پر سے اعتماد اٹھ جائے یقینا یہ بھارت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا اپنے ملک اور اپنے عوام کے لئے ایک اَحسن فیصلہ ہے اِن کے اِس اقدام سے جہاں بھارتی حکومت پر عوام کا اعتماد بحال ہوگا تو وہیں اِس اقدام سے اِس کا اپنی عوام میں وقار بھی بلند ہوگا ۔ یہاںدیکھاقارئین یہ فرق ہے اُن دوممالک کے وزیراعظموں کی سوچوں کا جن میں سے ایک وہ ہیںجو ایک عوامی اور کہنے کو مکمل جمہوری ملک پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی ہیں جو اپنے ملک میں لیبیاکے اِنقلابی بحران کو جواز بناکرپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو اپناحق سمجھتے ہیں اور دوسرادنیا کا ایک سیکولر ملک بھارت ہے جو دنیا کے سولہ ممالک کے درمیان ہونے والے ایک سروے میں کرپشن کے لحاظ سے چوتھے نمبرہے جہاں کے وزیراعظم ڈاکٹرمنموہن سنگھ نے اپنی کابینہ کے اراکین کی اُس تجوزیر کو قطعاََ مستردکرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیاکہ بھارت میں مڈل ایسٹ اور لیبیاوغیرہ کے بحران کی وجہ سے نہ تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیاجائے گا اور نہ ہی بجلی، آٹے اور چینی کی قیمتیں بڑھانے کی کسی کو اجازت دے جائے گی۔ اِس پر ہم یہ ضرور کہیں گے کہ ہمارے ایسے نصیب کہاں کہ کاش ...کاش کہ ہمارے ملک کے وزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی بھی کبھی ایساکہہ دیں جیسا اپنے ملک اور عوام کے لئے بھارتی وزیراعظم ڈاکٹرمنموہن سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت میں پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھائی جائے گی اور نہ ہی کسی کو آٹے اور چینی کی قیمتوں میں من مانی کرنے دی جائے گی۔ اور اِس کے ساتھ ہی ہم اپنے آج کے کالم کے اختتام پر چنداشعار پیش کرکے اجازت چاہیں گے کہ ©:- لوٹتے ہیں قافلوں کو رہبرانِ ملک و قوم قوم کو کرتے ہیں ر سواناقدانِ ملک و قوم لُٹ رہی ہے آج غیرت کی متاع بے بہا بِک رہے ہیں آج کل دیدہ ورانِ ملک و قوم اور یہ بھی ملاخطہ فرمائیے کہ مال وزر، حرص و ہوس کا جوجنون ہے آجکل چشم ِ انساں نے کبھی ایساجنون دیکھانہ تھا عہدِ جمہوری میں جتناہورہاہے کشت وخون دورِ آمر میں بھی اتناکشت وخوں دیکھانہ تھا اور آخرمیں پیش خدمت ہے کہ یہ بازارِ سیاست ہے یہاں اِنسان بکتے ہیں جب ایسی بات سُنتے ہیں جگر کو تھام لیتے ہیں یہاں بھیڑوں گلّے میں کچھ ایسے بھیڑیئے بھی ہیں وطن کے نام پر ریوڑ کاریوڑ بیچ دیتے ہیں

12:24 PST 09-04-2011
امریکی رپورٹ جھوٹ کا پلندہ.......روف عامر•

یہ سچائی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہ ہماری اشرافیہ کو خوش فہمی خوش گمانی اور پرفریبی پر مبنی رسوا کن برگزیدہ احساس مریضانہ نے طویل عرصے سے گھیر رکھا ہے جس نے ایک طرف اقوام عالم میں ہمارے اعتماد کو مشکوک بنا دیا ہے تو دوسری طرف اس نے ہمیں اندر خانے بے بس مجبھور اور مجئہول بنا دیا ہے۔ہماری خود مختیاری ازادی اور ملی غیرت مجروح ہوچکی ہے۔ ہمیں امریکہ کی طفیلی ریاست کے کوسنے دئیے جاتے ہیں۔ یوں ہماری زمینی حقائق تلخ سچائیوں اور معروضی حالات کو پرکھنے کی صلاحیتوں کو زنگ الودہ اور بیکار بنا دیا ہے۔ ہم ایک شتر مرغوں کے ٹولے کا روپ دھار چکے ہیں جو اپنے گرد و نواح سے بے نیاز رہتا ہے اور وہ اپنا منہ ریت میں دبا کر خام خیالی کا سپنا دیکھتا رہتا ہے مگر اسے سنگین نتائج بھگتنے پڑتے ہیں ۔ ایسے شتر مرغ جلد ہی ظالم اور سفاک بھیڑیوں کی نعمت خواناں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ بعین اسی طرح دہشت گردی کی وحشیانہ امریکی جنگ میں حصہ دار بننے کے بعد ہماری اشرافیہ معروضی حقائق سے غافل ہوچکی ہے۔ اسکا خیال ہے کہ امریکہ کی خاطر لازوال قربانیاں دینے کے بعد امریکی فورسزہماری سلامتی کے منافی کوئی اقدام نہیں کرسکتیں مگر سچ تو یہ ہے کہ خونی اور عالمی ڈکیٹ ہمارے خیر خواہ نہیں بن سکتے۔ ہم معاملات کے غیر جذباتی اور حقیقی تجزئیے سے بہت دور جاچکے ہیں۔ ہم نے اپنے ارد گرد ناکام و کمزور امیدوں طفلانہ خواہشات اور بے بنیاد ارزوں کا سہانا اور رنگین طلسم قائم کررکھا ہے۔ تاریخ الم نشرح کرچکی ہے کہ جب یہ سہانے اور دیدہ زیب نظر انے والے طلسم ٹوٹتے ہیں تو پھر نتائج کی ڈورسقوط ڈھاکہ پر اٹوٹتی ہے۔ پاکستان امریکہ پر اعتماد کے حوالے سے جبکہ وائٹ ہاوس القاعدہ کو شکست دیکر مرد میدان بننے کی عاجلانہ خواہشات کے اسیر بنے ہوئے ہیں حالانکہ ایسی طفلانہ امنگوں کا نتیجہ کسی عورت کے بانجھ پن ایسا نکلتا ہے۔bbc ا کے مطابق صدر اوبامہ کے مشیروں نے کانگرس کو36 صفحات پر مشتعمل رپورٹ بھجوائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان عسکریت پسندوں کو کچلنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ پاکستان کی 1 لاکھ44 ہزار فوج افغان باڈر پر جنگجووں سے برسرپیکار ہے تاہم اسے کوئی کامیابی نہیں مل سکی ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فورسز نے القاعدہ کو کمزور کیا ہے جس میں پاکستانی ٹروپس کا کوئیب کمال نہیں۔ حکومت مالیاتی اور معاشی استحکام کے لئے نئی اصلاحات لانے اور ٹیکسز نیٹ ورک کے پھیلاو کے لئے قومی اتفاق رائے حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ سیاسی رہنماوں پر کرپشن کے مقدمات پر حکومت اور سپریم کورٹ کے مابین دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ اقتصادی مسائل کی وجہ سے پاکستان کا استحکام روز بروز کمزور ہوتا جارہا ہے۔ حکومتی ادارے بنکوں سے قرض لینے پر مجبور ہیں۔ امریکی انتظامیہ ہر چھ ماہ کے بعد جنگ اور پاکستان کے متعلق ایک رپورٹ جاری کرتی ہے۔ حالیہ رپورٹ6 اپریل2011 کو جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ طالبان نہتے افغان شہریوں کا قتل عام کررہے ہیں۔ امریکی فوجیوں کو امدہ گرم موسم میں سخت مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔پاکستان کے فوجی ترجمان میجر جنرل اطہر نے امریکی رپورٹ کو بیک جنبش قلم مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں حقائق کو اجاگر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مہمند ایجنسی کے اپریشن کے متعلق متضاد معلومات پر تنقید کی۔ میجر جنرل اطہر عباس نے مغربی میڈیا کی توجہ باجوڑ اورکزئی اور سوات میں کامیاب عسکری معرکوں کی طرف دلائی۔ رپورٹ میں القاعدہ اور جنگجووں کے پاکستان میں قائم محفوظ پناہ گاہوں کے متعلق جو لاف زنی کی گئی ہے وہ بھی قابل قبول نہیں۔ امریکیوں کا موقف ہے کہ القاعدہ نے قبائلی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں قائم کی ہوئی ہیں جس سے ایک طرف پاکستان اور دوسری طرف پوری دنیا کا استحکام خطرات کی زد میں ہے۔ افغانستان میں پائے جانیوالے خونخوار انتشار افراط و تفریط اور عدم استحکام کا نذلہ پاکستان پر گرایا جارہا ہے۔ کسی پاکستانی کو امریکی افواج کے ترجمان سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ ناٹو نے پچھلے9 سالوں سے کابل کو پنجہ استبداد میں دبوچ رکھا ہے۔ناٹو فورس اور کرزئی حکومت اتنے لمبے عرصے میں افغانستان میں استحکام قائم کرنے میں ناکام کیوں ہیں؟ امریکی رپورٹ کی یہ بات کسی صورت میں تسلیم نہیں کی جاسکتی کہ پاکستان کے پاس دہشت گردی کے قلع قمع کے لئے کوئی پالیسی یا صلاحیت موجود نہیں۔ عقل کے اندھے اور گانٹھ کے پورے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ امریکہ کو خطہ افغان میں اج تک جو کامیابیاں میسر ائی ہیں وہ پاکستان کی مرہون منت نہیں۔ امریکیوں کی ناعاقبت اندیشیوں اور ناٹو کی نااہلیوں کا بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ نو سالوں میں نہ تو القاعدہ کا نیٹ ورک کمزور کیا جاسکا ہے اور نہ ہی ناٹو وہاں قابل زکر کاردگی کا مظاہرہ کر سکی ہے۔ ماہرین کی ارا کے مطابق امریکی ایسی دشنام طرازیوں کا مقصد پاکستان سے ڈو مور کے مطالبے کو نئے سرے سے منوانے کا سوانگ ہے۔ پاکستان اور امریکہ دونوں کے لئے یہ امر نیک شگون ہے کہ دونوں اپنے اپکو جنگ کے تندور سے جلد از جلد نکال باہر کریں۔جبران نے کہا تھا پاگل ہاتھی سے دوستی کرنے والے ہی سب سے پہلے اسکے پاوں تلے کچلے جاتے ہیں۔

12:24 PST 09-04-2011
قومی خزانے سے بے حس حکمرانوں کی عیاشی .... محمداعظم عظیم اعظم •

اَب تک عوام کے لئے روٹی ، کپڑااور مکان کا دلکش اور دل فریب نعرہ دے کر مسندِ اقتدار پر اپنے قدم رنجاکرنے والی حکمران جماعت پی پی پی اپنی ناقص پالیسیوں کے ساتھ سوائے اپنے لئے وہ سب کچھ کرنے کے جس کا گمان بھی نہیں کیاجاسکتایہ اپنی عوام کے لئے کچھ نہیں کرپائی ہے جس کے لئے عوام کا اِس سے گلہ ہے اور شائد ہمیشہ ہی رہے کیونکہ اَب عوام یہ بات سمجھتے ہیں کہ :۔ جس کا دعوی تھا کہ غربت کو کریں گے نابود آج وہ لوگ بنے بیٹھے ہیں یارب معبود خدمتِ قوم ووطن خاک کریں گے وہ لوگ جن کا مقصودہو صرف اپنی فلاح و بہبود اور اِس کے ساتھ ہی اَب مجھے بھی یہ کہنے دیجئے کہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت اپنی ناقص پالیسیوں کے ساتھ ملک میں توانائی کے بحرانوں سمیت مہنگائی بڑھانے اور عوام کو زنددہ درگورکرنے کا اپناایک ایساجامع منصوبہ لے کرآئی ہے کہ اگر یہ مزیدرہ گئی تو یقینی طور پر یہ کہاجاسکتاہے کہ ملک میں مہنگائی اور توانائیوں کے بحرانوں کے سوااور کچھ نہیں بچے گااِس لئے بھی کہ اَب ملک میں بڑھتی ہوئی گرانی اور توانائیوں کے بحرانوں سے یہ بخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ اِس میں حکومت کی ناقص پالیسیاںاور حکمرانوں کی نااہلی ہی بڑی وجہ ہیں۔ جبکہ گزشتہ تین سالوں کے دوران موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے حوالوں سے ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان سے متعلق یہ انکشاف کہ آئندہ سال پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں مزید 16فیصداضافہ تک اضافہ ہوسکتاہے جو اِس خطے میں مہنگائی کا سب سے بلندترین گراف ہوگااور اِسی طرح اقتصادی مشاورتی کونسل (ای اے سی) کا اجلاس جو بنیادی طور پربجٹ 2011-12کی تیاری کے لئے تجاویز کے سلسلے میں منعقدکیاگیاتھااِس سے خطاب کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر شاہد ایچ کاردار نے حیران کن انکشاف کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں موجودہ افراط زر کی شرح جو 14.2فیصد ہوچکی ہے موجودہ مالی سال 30جون 2011کے آخر تک یہ مزیدبڑھ کر 15فیصدہوجائے گی اور اِس کے ساتھ ہی اِنہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ اِس کا مطلب یہ ہے آئندہ دنوں میں 173ملین عوام مزید اقتصادی مصائب سے دوچار ہوں گے کیونکہ اِن کی آمدنی تیزی سے کم ہورہی ہے اوراِن کا کہناتھاکہ عوامی اجناس کی قیمتیں کئی گنابڑھ گئی ہیں خاص طور پر پیٹرولیم مصنوعات میں اضاف کی وجہ سے ایساہواہے اِس موقع پر اجلاس کے شرکاءنے حکومت سے سفارش کی کہ اگر وہ آر جی ایس ٹی نافذکرناچاہتی ہے تو زراعت پر انکم ٹیکس لگائے کیونکہ شہری سیاسی پارٹیاں آر جی ایس ٹی کے تحت حکومت کو مزید ٹیکس لگانے کی اجازت نہیں دیناچاہتیں جب تک زراعت سے واپستہ لوگ ٹیکسوں میں اپنا حصہ نہیں ڈالتے۔اور یہ بات درست ہے کہ زراعت سے وابستہ افراد ٹیکسوں کی ادائیگیوں سے مستسنیٰ ہوں اور دوسرے آرجی ایس ٹی اوردوسری شکل میں ٹیکس اداکرتے رہیںاور یہ کہاں کا اِنصاف ہے کہ ایک طبقہ تو باقاعدگی سے ٹیکس اداکرے اور دوسرا ٹیکس نہ دے کر بھی مزے کرتاپھرے ۔ بہرحال ! اِس پر اَب دیکھنایہ ہے کہ اِس گراں قدر سفارش کے بعد حکومت اپنی آر جی ایس ٹی کے نافذ کرنے والی ضد سے پیجھے ہٹتی ہے اور زراعت سے وابستہ لوگوں پر ٹیکسوں کا نفاذکرکے اپنے وسائل میں اضافہ کرتی ہے یا اِنہیں چھوٹ دے کر آر جی ایس ٹی کا ملک میں نفاذکرتی ہے ۔ بہرحال ییاں ٹیکس کی ادائیگی سے کنی کاٹنانے والوں کے لئے عرض ہے کہ :۔ تاجرانِ حیلہ پرور ہوں کہ صنعتکارہوں ٹیکس دیتے ہیں حکومت کو کہاں یہ نفع خور کیوںخساروں کا بجٹ آئے نہ اپنے ملک میں جبکہ ہر آجر ہماری قوم کا ہو ٹیکس چور اگرچہ اِس شعراور ایشیائی ترقیاتی بینک اور گورنر اسٹیٹ بینک کے یہ ہولناک انکشافات میں صداقت موجودہ ہے اور یہ حقیقت پر مبنی ہیں کہ یہ دونوں انکشافات جہاں عوام کے لئے پریشانیوں کا باعث بنے ہیں تو وہیں اِنہیں ہمارے اِن بے حس حکمرانوں کے لئے بھی نوشتہ ¿ دیوار ہوناچاہئے کہ جن کی ناقص پالیسیوں اور فرسودہ حکمت عملیوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا سیلاب آمڈ آیاہے اور مزیدیہ کہ اگر ہمارے اِن عیاش پسند حکمرانوں کی یہی روش قائم رہی تو آنے والے دنوں میں ملک میں مہنگائی کی شرح ایک خطرناک حد تک مزیدبڑھ بھی سکتی ہے اِس لئے اِن پراَب یہ لازم ہوجاتاہے کہ وہ ملک میں ایسی صورت حال پیداہونے سے پہلے ہی اپنے اندر چھپی اُن صلاحیتوں کو بروئے گار لائیں جنہیں یہ اَب تک باہر نہ لاکر اِنہیں استعمال نہیں کرسکے ہیں ا و راللے تللے میں پڑے ہیں جس کی ایک تازہ مثال یہ ہے کہ ہمارے حکمران جو قومی خزانے پر ایسے قبضہ کرکے بیٹھ گئے ہیں کہ جیسے کوئی ناگ خزانے کی حفاظت پربیٹھ کر دوسروں کو تواپنے پھن سے ڈراتاہے مگر خود خزانے پر بیٹھ کرمزے کررہاہوتاہے یکدم اِسی طرح ہمارے حکمرانوں نے جو قومی خزانے سے اپنی اور اپنے ملکی اہم چاہتی شخصیتوں کو بھی عیاشیاںکروانے میں مگن ہیں جس کے ذریعے یہ ملک کی ممتاز سیاسی شخصیات کے لئے کروڑوں روپے سے بلٹ پروف گاڑیاںخریدنے کا منصوبہ ایک بار پھر پورے زوروشعور سے شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس سے متعلق اطلاعات یہ ہیں کہ حکومت نے اپنے اِس منصوبے کو جلد ازجلد عملی جامہ پہنانے کے خاطر جائزے کے لئے ایک وزارتی کمیٹی قائم کردی ہے اور اِسے خصوصی طور پرہدایت جاری کی ہے کہ وہ اہم شخصیات کی فہرست کا عمل جلد مکمل کرے تاکہ قومی خزانے سے اِن شخصیات کے لئے بلٹ پروف گاڑیاں خریدی جاسکیں ۔یہاں توجہ طلب اور افسوسناک امریہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی اِسی نااہلی کے باعث اِنہیں ملکی اور عالمی میڈیا پر تنقیدوں کا بھی سامنہ کرناپڑرہاہے مگر یہ بے حس اور بے پرواہ بنے قومی خزانے سے اپنی اور اپنے پیاروں کی عیاشیوں کے لئے وہ سب کچھ گزرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن کی وجہ سے ملک کے قومی خزانہ خالی ہو گا اور ملک کے ساڑھے سترہ کروڑ عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوجائے گا۔ جبکہ دوسری جانب حکمرانوں کے اٰسی لچھن کو دیکھتے ہوئے آج ملک کا ایک ایک فرد اِن سے انتہائی عاجزی اوراِنکساری سے یہ مطالبہ کررہاہے کہ یہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی اُن عیاشیوں کو کم کرنے کا ضرور کوئی نہ کوئی ایساسامان پیدا کریں جس سے ملک میں مہنگائی کے سیلاب کا زور ٹوٹے اور عوام کو ریلیف ملے مگر باوجود ایشیائی ترقیاتی بینک اوراقتصادی مشاورتی کونسل کے اِن انکشافات کے بعد کہ پاکستان کے نااہل حکمرانوںکی ناقص پالیسیوں اور اِن کی عیاشیوں کے باعث پاکستان میں آئندہ سال مہنگائی کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوسکتاہے ہمارے حکمرانوں کی آنکھیں بندہیں جبکہ اِنہیں اپنی یہ بندآنکھیں کھول لینی چاہئیں اور اپنے اِس سمیت ایسے وہ تمام منصوبے ختم کردینے چاہئیں جس سے قومی خزانے پر اِن کی عیاشیوں کے لئے اضافی بوجھ پڑے ۔ اگرچہ یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ حکومت کا ملکی اہم شخصیات کے لئے بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کے منصوبے کی بھنک جیسے ہی فاٹاکے منتخب اراکین کے کانوں تک پہنچی تو اِن کے بھی کان کھڑے ہوگئے اور اُنہوں نے بھی اپنے سینے پھولا کر اور گردنیںتان کر اِس بہتی گنگاسے ہاتھ دھونے کے لئے اپنے لئے بھی بلٹ پروف گاڑیوں کا مطالبہ کرڈالاجس کے بعد حکومتی سطح پر اَب ایک بار پھر یہ خدشہ ظاہر کیاجارہاہے کہ بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کا یہ حکومتی منصوبہ متنازع شکل اختیار کرجائے گااورجوکہ اَب بندکردیاجائے گا۔یہاں ہماری یہ دعاہے کہ کاش اللہ کرے کہ ایساہی وہ جائے اوریہ منصوبہ بندہوجائے اور ہمارے حکمرانوں کے مردہ ضمیر زندہ ہوجائیں ۔جن کے لئے یہ شعرعرض ہے کہ:۔ غریب شہر امیر و کبیر ہوجائے اِلہی قوم مری بے نظیر ہو جائے ضمیربیج رہے ہیں جو مال وزرکے لئے خدا یا اِن کا بھی زندہ ضمیر ہوجائے بہرکیف!اِس حقیقت کوبھی جھتلانا شائد موجودہ حکمرانوں کے لئے ممکن نہ ہو کہ موجودہ حکومت نے اپنے لئے تو سوفیصد فقیدالمثال کامیابیاں حاصل کیں ہیں مگر ملک کے غریب اور مفلوک الحال عوام کے ریلیف کے لئے یہ کچھ بھی نہ کرسکی ہے مگر اِس کے باوجودبھی اِس کا یہ کہنا ہے کہ اِس نے ملک کے غریب اور پریشان حال عوام کے لئے اتناکچھ کردیاہے کہ اِس کے ثمرات اِن کی دہلیزوں تک عنقریب پہنچیں گے اور ملک میں خوشحالی آئے گی ۔جبکہ ملک کے غریب عوام مہنگائی، بے روزگاری اور چودہ سے سولہ گھنٹے بجلی کے لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں اتنے بیزار ہوچکے ہیں کہ وہ اِس حکومت کے خاتمے کے لئے دن رات ربِ کائنات سے دعائیں مانگ رہے ہیں مگر اِن کی یہ دعائیںابھی یوں پوری نہیں ہورہی ہیں کہ اِن کے اپنے اعمال بھی کچھ درست نہیں ہیں اللہ سزاکے طور پر اِن کی یہ دعائیں فوراََ قبول نہیں کررہاہے جس روز عوام اللہ سے گڑگڑاکر اپنے گناہوں کی معافی مانگ لی تو اُسی دن اللہ اِن حکمرانوں کی رسی بھی کھینچ لے لگاجو عوام پر بے تحاشہ مہنگائی کی شکل میں ظلم کررہے ہیں اور اِن کی ایسی پکڑ کرے گا جس سے یہ چھوٹ بھی نہیں پائیں گے اور ایسا کڑااحتساب کرے گاکہ ساری دنیااِن کو نشانِ عبرت بنتادیکھ کر اپنے کانوں کو ہاتھ لگاکر اللہ کی پناہ مانگے گی۔ جبکہ دوسری جانب یہ امر قابلِ تحسین ہے کہ قائد حرب اختلاف چوہدری نثارعلی خان کی سربراہی میں قائم پارلیمانی احتساب کے سب سے بڑے ادارے پبلک اکاو ¿نٹس کمیٹی نے پچھلے اڑھائی سالوں کے دوران سرکاری اداروںسے مالی بدعنوانیوںکے ضمن میں 68ارب روپے کی ریکوری کا نیاریکارڈقائم کردیاہے جس کی مختصر تفصیل کچھ یوں ہے کہ اِس کمیٹی نے اِسی طرح پچھلے سال سرکاری اداروں سے 24ارب روپے وصول کیے گئے اور موجودہ مالی سال کے 7ماہ کے دوران اَب تک 24ارب روپے کی ہی ریکوری کی ہے اِس طرح ریکوریوں کا یوں ہونا ملک اور قوم کے لئے ایک انتہائی حوصلہ افزاامرہے جس کے لئے قائدحزب اختلاف چوہدری نثارعلی خان کی خدمات قابلِ تعریف اور لائق تحسین ہیں۔جس کے لئے قوم کہہ پڑی ہے کہ ویلڈن ....ویلڈن چوہدری نثارعلی خان ....ویلڈن اِسی طرح اپنی ذہانت اور خدمات سے اُن تمام ملکی لٹیروں سے ملکی دولت کی ریکوری کا عمل جاری رکھیں جو قومی خزانے سے ملک کی دولت کو لوٹ لوٹ کراپنی جیبیںاور اپنے ذاتی خزانوں کو بھررہے ہیں جو کہ ایک انتہائی شرمناک عمل ہے۔

اُسامہ اور اوبامہ میں ٹیلیفونک جنگ........تحریر: نجیم شاہ •

اُسامہ بن لادن زندہ ہے یا مردہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکا نے اس کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر بھاری انعامات مقرر کئے ہوئے ہیں۔ اُسامہ کا خوف دنیا کے کئی ممالک میں طاری ہے جبکہ امریکی عوام تو ”اُسامہ فوبیا“ کا شکار ہو چکے ہیں۔جدید ترین ہتھیاروں اور آلات سے لیس امریکی فوج دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب شخص کو کئی سال کی تگ و دو کے باوجود ابھی تک ڈھونڈ نہیں پائی۔ اُسامہ کا نام سن کر امریکا کے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ایک وقت میں اُسامہ کے نام کی شہرت اس قدر تھی کہ والدین نے اپنے بچوں کے نام ”اُسامہ“ رکھنا شروع کر دیئے تھے۔ اس نام کے ساتھ عقیدت کی انتہاءیہ تھی کہ کچھ والدین بناءغور کیئے نام کے ساتھ ”بن لادن“ بھی لگا دیتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ آج لاکھوں کی تعداد میں ”اُسامہ“ گھوم رہے ہیں۔ کچھ والدین ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کے نام ”اُسامہ“ رکھے تھے اب تبدیل کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ ان والدین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بیرون ملک سفر کے دوران اُسامہ نام کے سبب سفر کرنے اور شناخت کے معاملہ پر بہت سی مشکلات درپیش ہو سکتی ہیں۔ اُسامہ نام کی شہرت اس قدر ہے کہ اس نام کے بچوں سے اگر پوچھ لیا جائے کہ آپ بڑے ہو کر کیا کروگے توپھٹ سے جواب دینگے۔۔۔ ”امریکا سے جنگ“۔۔۔! امریکی صدر براک اوبامہ وائٹ ہاﺅس میں بیٹھے سوچ رہے تھے کہ اب کس ملک پر چڑھائی کی جائے کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی۔۔۔ ٹرن۔۔۔ٹرن۔۔۔ٹرن ”ہیلو مسٹراب ب با ماں ں ں ں“ایک بھاری لہجے میں آواز سنائی دی۔ میں پاکستان سے اُسامہ بول رہا ہوں۔ میں نے تمہیں اس لئے فون کیا ہے کہ ہم تمہارے خلاف اعلان جنگ کر رہے ہیں۔۔۔ ”ہوشیار رہنا“ ہمم ہمم ہمم ۔۔۔ ت۔۔۔ت۔۔۔ت۔۔۔ تم نے کئی سال پہلے سے ہی ہمارے خلاف اعلان جنگ کیا ہوا ہے۔ آج ٹیلیفون کرکے بتانے کی نوبت کیسے آئی؟ تمہاری خاطر ہم نے پوری دنیا کو ”تورا بورا“ بنا ڈالا لیکن پھر بھی نہ ملے۔ اب ذرا مہربانی کرکے اپنی ”لوکیشن“ بھی بتادو۔۔۔ ”اوبامہ نے ڈرتے ہوئے جواب دیا“ ”ارے او جے سوریا کی اماں “ ۔۔۔ میں وہ اُسامہ نہیں جس کی وجہ سے تمہارے پاﺅں ”لڑکھڑا “ اور ٹانگیں ”کانپ“ رہی ہیں۔ میں اس وقت پاکستان کے ڈسٹرکٹ مانسہرہ میں وادی کونش کی پہاڑیوں پر بھیڑ بکریاں چرا رہا ہوں۔ مجھے وائٹ ہاﺅس کا نمبر ایک دوست ”شیدا “ کے توسط سے ملا۔ یہ وہی شیدا ہے جو ماضی میں سابق صدر بش کے ساتھ اعلان جنگ کر چکا تھا۔ میرے موبائل سے امریکا کال سستی تھی سوچا کہ آپ سے رابطہ کرکے جنگ کا ٹائم ”فکس“ کر دوں۔ ۔۔ ”اُسامہ ہنستے ہوئے بولا“ خیر ،اُسامہ ۔۔۔ ”اوبامہ نے ٹھنڈی آہ بھری“ ۔۔۔ یہ واقعی بڑی اہم خبر ہے کہ آپ ہمارے خلاف اعلان جنگ کر رہے ہو۔ لگتا ہے مجھے اپنی مسلح افواج کو بھی ”ہائی الرٹ“ رکھنا پڑے گا۔ اچھا یہ بتاﺅ کہ تمہاری فوج کتنی بڑی ہے؟ اس وقت ہمارے پاس ۔۔۔”اُسامہ نے تھوڑی دیر گنتی کے بعد کہا“ ۔۔۔ میں، میرا کزن عمر، میرا ہمسایہ الظواہری اور ہمارے گاﺅں کے تمام چرواہے میرے ساتھ موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے ضلع کی کبڈی ٹیم نے بھی ہمیں حمایت کا یقین دلایا ہے۔ ضرورت پڑنے پر ساتھ والے گاﺅں کے احمدی نژاد سے بھی مدد طلب کر سکتے ہیں۔ فی الحال ہم کوئی پندرہ سے بیس افراد بنتے ہیں لیکن یہ حتمی تعداد نہیں ہے۔ اُسامہ۔۔۔ عمر۔۔۔ الظواہری۔۔۔ احمدی نژاد۔۔۔ تمہاری باتوں سے مجھے دال میں کچھ کالا نظر آ رہا ہے۔ اچھا سچ بتاﺅ کیا تم واقعی میں اُسامہ بن لادن ہو؟۔۔۔ ”اوبامہ ایک بار پھر ڈرتے ہوئے بولے“ ارے او۔۔۔ پاغل۔۔۔ یہ سارے لوگ وہ نہیں جن کی وجہ سے تمہاری راتوں کی نیند اُڑ چکی ہے بلکہ یہ میرے دوست چرواہے ہیں اور ہم مل کر بھیڑ بکریاں چراتے رہتے ہیں۔عمر میرا کزن ہے جسے ہم پیار سے ”مُلا عمر“ کہتے ہیں۔ الظواہری کا اصل نام ”ایمن “ہے جو میرے پڑوس میں رہتا ہے جبکہ احمدی نژاد ساتھ والے گاﺅں کا” حرکار“ احمد نواز ہے۔ یہ تمہارا اس قدر دشمن ہے کہ جب بھی اس کے سامنے تیرا نام لیں فوراً بول اُٹھتا ہے ۔۔۔” ارے یہ کالیا مجھے کہیں نظر آ گیا تو اس کا تکہ بوٹی بناکر کھالوں گا اور ڈکار تک نہیں ماروں گا۔“ اسی وجہ سے ہم اسے احمدی نژاد کہہ کر پکارتے ہیں۔۔۔ ”اُسامہ نے شرارت بھرے لہجے میں جواب دیا“ اوبامہ نے کچھ دیر توقف کے بعد کہا۔۔۔ ”لیکن میں تمہیں بتادوں کہ میرے پاس دس لاکھ افراد کی فوج ہے اور وہ میرے ایک اشارے کی منتظر ہے۔ بہتر یہی ہے کہ تم امریکا سے ”پنگا “نہ لو۔۔۔اور ہاں! تم بار بار جو میرا نام بگاڑ رہے ہو یہ بھی تجھے مہنگا پڑ سکتا ہے۔“ جہنم میں جاﺅ۔۔۔ چلو میں تمہیں کل دوبارہ فون کروں گا۔ ”اُسامہ بولا“ اگلے دن اُسامہ نے پھر فون کیا۔۔۔ ٹرن۔۔۔ٹرن۔۔۔ٹرن ”ہیلو! مسٹر اوبامہ“ میں اُسامہ بول رہا ہوں۔ ہماری جنگ ابھی جاری ہے۔ کل کی ٹیلیفونک گفتگو میں آپ نے اپنی دس لاکھ فوج کی دھمکی دی تھی اس وجہ سے ہم نے آپ کے خلاف کچھ مزید ہتھیار بردار مشینری بھی اکٹھی کرلی ہے۔ ہمم۔۔۔ تو آپ نے بھلا کونسی ہتھیار بردار مشینری ہمارے خلاف اکٹھی کرلی ہے؟۔۔۔ ”اوبامہ نے پوچھا“ ہمارے پاس دو کمبائنڈ ہارویسٹر، ایک گدھا ، ایک خچر اور قذافی کا ٹریکٹر ہے۔ ”اُسامہ نے جواب دیا“ اوبامہ نے آہ بھری اور بولے۔۔۔ ”میںیہ بتانا چاہتا ہوں کہ میرے پاس کوئی سولہ ہزار ٹینک اور چودہ ہزار ہتھیار بند گاڑیاں ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کی کل والی دھمکی کے بعد میں نے اپنی فوج کی تعداد بڑھا کر پندرہ لاکھ کر دی ہے۔“ اوہ تیری (سنسر)۔۔۔ ”اُسامہ بولا“۔۔۔ لگتا ہے مجھے زمینی کے ساتھ ساتھ فضائی فورس بھی تشکیل دینا پڑے گی۔ اس کے علاوہ خودکش بمبار بھی تیار کرنا ہوں گے اور ”غلیلوں“ کا آڈر بھی دینا پڑے گا۔۔۔ میں تمہیں پھر فون کرتا ہوں۔ اگلے دن واقعی اُسامہ نے پھر فون کیا۔۔۔ ”مسٹر اوبامہ، ہماری جنگ ابھی بھی چل رہی ہے۔ اب ہم نے فضائی جنگ کی تیاری بھی کرلی ہے۔ اس کے لئے ہم نے قذافی کے ٹریکٹر پر دو بندوقیں فٹ کرلی ہیں جبکہ گاﺅں کے جنریٹر کے اوپر ”پَر“ بھی لگا دیئے ہیں۔ ہم نے ہنگامی بنیادوں پر ایک درجن ”غلیلیں“ بھی تیار کرلی ہیں جو میزائل اور جنگی جہاز گرانے کیساتھ ساتھ ”چڑیاں“ مارنے کے کام بھی آئیں گی۔ اس کے علاوہ ساتھ والے گاﺅں سے مزید دس لڑکے ہمارے ساتھ شامل ہو گئے ہیں۔“ اوبامہ نے کچھ دیر تک سوچا، پھر اپنا گلا صاف کیا اور بولا۔۔۔ ”شاید آپ کو علم نہ ہو کہ میرے پاس دس ہزار بمبار اور بیس ہزار لڑاکا طیارے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹینک شکن میزائل، بندوقیں، مشین گنیں، کلاشنکوف، راکٹ لانچرز کی بھی بڑی کھیپ موجود ہے۔ ہمارے مراکز لیزر گائیڈڈ زمین سے فضاءتک مار کرنے والے میزائلوں سے کور ہیں۔ سابقہ بات چیت کے بعد میں نے اپنی فوج کی تعداد بڑھا کر پچیس لاکھ کر دی ہے۔“ تیرا بھلا ہو۔۔۔ ”اُسامہ بولا“ ۔۔۔ میں پھر فون کرتا ہوں۔ اگلے دن اُسامہ نے پھر اسی وقت فون کیا۔۔۔ ”کیسے ہو مسٹر اوبامہ؟ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہم جنگ کو ختم کر رہے ہیں۔“ مجھے بھی یہ سُن کر بہت افسوس ہے لیکن آپ کا ارادہ اتنا اچانک کیسے بدلا ؟ ۔۔۔ ”اوبامہ نے تعجب بھرے لہجے میں جواب دیا“ خیر۔۔۔ ”اُسامہ بولا“ ۔۔۔ کل ہم دوستوں نے اپنی اس فون والی بات چیت پرلمبی بحث کی اور آخر کار یہ نتیجہ نکالا کہ ہم پچیس لاکھ جنگی قیدیوں کو کھانا پلانا ”افورڈ“ نہیں کر سکیں گے اس لئے امریکا کو معاف کر دیتے ہیں۔

قیمتیں کیوں بڑھتی ہیں؟ ........ تحرےر:اےم اے تبسم •

اردو ادب کے ممتاز شاعر میر انیس کی مشہور رباعی ہے: دنیا بھی عجب سرائے فانی دیکھی ہر چیز یہاں کی آنی جانی دیکھی جو آکے نہ جائے وہ بڑھاپا دیکھا جو جاکے نہ آئے وہ جوانی دیکھی لیکن اگر میر انیس موجودہ زمانے میں ہوتے تو مندرجہ بالا رباعی کے تیسرے مصرعے کو کچھ اس طرح کہتے: ”جوآکے نہ جائے وہ مہنگائی دیکھی“ جس طرح ہر انسان کو بلاتفریق مذہب و مسلک رنگ و نسل و زبان اس بات کا یقین ہے کہ موت ضرور آئے گی اسی طرح ہرپاکستانی کو اس بات کا بھی یقین ہوتا ہے کہ سالانہ مرکزی بجٹ سے پہلے یا بعد میں قیمتوں میں اضافہ بھی ضرور ہوگا۔ دستور یہ ہوگیا ہے کہ ہر سیاسی جماعت جب تک حزبِ اختلاف میں رہتی ہے تو قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کو لے کر خوب واویلا کرتی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں ہر سیاسی جماعت کے انتخابی منشور کا اہم نکتہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر ہم برسرِ اقتدار آگئے تو ضروری اور غیر ضروری اشیاءکی قیمتیں کم کردی جائیں گی لیکن جب یہی جماعت خود حکومت سنبھالتی ہے تو یہ بھی وہی عمل دہراتی نظر آتی ہے جو سابقہ حکومتیں کرتی رہی ہیں یعنی نہ صرف قیمتوں میں کمی کرنے میں ناکام رہتی ہے بلکہ مزید اضافہ کرنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ بہر کیف برسرِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں اپنا اپنا کردار بخوبی ادا کرتی رہتی ہیں۔ لیکن جب ہم اس اہم سوال پر کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہر حکومت قیمتوں میں استحکام لانے میں ناکام رہتی ہے۔ سنجیدگی سے غور کرتے ہیں تو یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ صرف دو ہی وجوہات ایسی ہوسکتی ہیں۔ اول یہ کہ حکومت قیمتوں میں استحکام لانا ہی نہ چاہتی ہو یا مناسب اقدام کرنے سے قاصر رہتی ہو۔ دوسرے یہ کہ ملک کے اقتصادی حالات کے پیشِ نظر قیمتوں میں کمی کرنا یا استحکام لانا اس کے بس کی بات ہی نہ ہو۔ پہلی وجہ کو تو ہم اس وجہ سے مسترد کرسکتے ہیں کہ کوئی بھی سیاسی جماعت جو عوام کے ووٹوں سے برسرِ اقتدار آتی ہے وہ یہ کبھی نہیں چاہے گی کہ عوام متواتر قیمتوں میں اضافہ سے اس سے بددل ہوجائیں کیونکہ انتخابات کے موقع پر انہیں ایک بار پھر عوام کے سامنے جانا ہوگا۔ لہذا کوئی بھی سیاسی جماعت جان بوجھ کر اپنی ساکھ مجروح نہیں کرے گی۔ اس لئے ہم یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ ہمارا اقتصادی ڈھانچہ ہی کچھ اس طرح کا ہے جس میں متواتر قیمتیں بڑھتے رہنا ایک ایسا عمل ہے، جس پر قدغن لگانا ناممکن ہے۔ اس پر طرّہ یہ کہ ان ناقابلِ فراموش حالات کے لئے حکومت اپنی بے بسی ظاہر کرنے کے بجائے مختلف تاویلیں پیش کرکے عوام کو بہلاتی رہتی ہیں۔ قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ اور ان پر قابو نہ کرپانے کی وجہ سے عوامی بے چینی کا پیدا ہونا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ قیمتوں میں عدم استحکام اور اقتصادی نظام کے غیر متوازن ہونے کی وجوہات کا جائزہ مندرجہ ذیل طریقے سے لیا جاسکتا ہے۔جملہ ماہرین اقتصادیات اس بات پر متفق ہیںکہ ہر چیز کی قیمت کا انحصار اس کی پیداوار اور بازار میں اس کی کھپت پر ہوتا ہے یعنی قیمتوں کے گھٹنے اور بڑھنے کا انحصار پیداوار اور کھپت کے بیچ توازن اور عدم توازن پر ہوتا ہے۔ لیکن موجودہ اقتصادی نظام میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ پیداوار اور کھپت والے نظریہ کے علاوہ بھی بہت سی ایسی وجوہات ہیں جو قیمتوں میں اضافہ کا سبب بنتی ہیں۔ کیونکہ ایسا دیکھا گیا ہے کہ ایک بار جب کسی چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے تو بازار میں اس چیز کی کتنی ہی افراط کیوں نہ ہوجائے بڑھی ہوئی قیمتیں کم نہیں ہوتیں۔حقیقت دراصل یہ ہے کہ قیمتیں نہیں بڑھتیں بلکہ کرنسی کی قوتِ خرید گھٹ جاتی ہے۔ ہمار ا اقتصادی ڈھانچہ ہی کچھ ایسا ہے کہ کرنسی کی قوتِ خرید متواتر گھٹتی رہتی ہے جس پر قابو پانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے جس کی وجہ ہے کرنسی کا بے تحاشہ پھیلاﺅ۔ جسے افراط زر یا INFLATION سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ماہر اقتصادیات اس بات پر بھی متفق ہیں کہ قیمتوں میں اضافے کا سبب افراطِ زر یعنی INFLATIONہی ہے۔ کرنسی کے پھیلاﺅ کا مطلب تو یہی ہوا کہ عام آدمی کی آمدنی میں بھی اضافہ ہونا یعنی قیمتوں کے ساتھ آمدنی میں بھی اضافہ ہو۔ پھر مہنگائی کے اثرات اس قدر نہ ہونے چاہئیں جتنا اس کے خلاف واویلا ہوتا ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ افراطِ زر کی وجہ سے قیمتوں میں تو اضافہ ہوجاتا ہے لیکن متوسط طبقہ کی آمدنی اس حساب سے نہیں بڑھتی جس حساب سے INFLATION والی کیفیت کے پیشِ نظر قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ لہٰذا عوامی بے چینی ناگزیر ہوجاتی ہے۔غورطلب بات یہ بھی ہے کہ افراطِ زر یعنی INFLATION والی کیفیت کب اور کیسے پیدا ہوتی ہے اور حکومت اس پر قابو پانے میں ناکام کیوں رہتی ہے۔ اس سلسلہ میں صرف اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں یہ ایک فطری عمل ہے اور نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے جسے کسی بھی طرح نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ دیگر بات یہ ہے کہ ہر عمل اور اس کے ذریعہ پیدا ہونے والے نتائج کی کچھ وجوہات ہوتی ہیں۔ اس لئے INFLATION کے بڑھنے اور گھٹنے کی بھی معقول وجوہات کا پایاجانا یقینی ہے۔ افراطِ زر کے متواتر بڑھتے رہنے اور اس پر قابو نہ پانے کی اصل وجہ ہے ہمارا ناقص اقتصادی اور بینکنگ نظام۔ اقتصادیات کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ صرف اتنی ہی کرنسی بازار میں موجود ہو جس کے برابر زرِ مبادلہ حکومت کے خزانے میں محفوظ ہو۔ اور زرِ مبادلہ کا انحصار مختلف ذرائع سے ہونے والی پیداوار پر ہوتا ہے۔ یہ پیداوار یا پروڈکشن چاہے زراعت سے ہو یا کارخانوں سے اور یا قدرتی معدنیات سے اور یا غیر ملکی تجارت سے۔ لہٰذا تمام ذرائع سے حاصل ہونے والی پیداوار میں کسی وجہ سے کمی آجائے اور غیر ملکی زرِ مبادلہ میں بھی کمی آجائے تو مزید اضافی کرنسی بازار میں لانے پر حکومت مجبور ہوجاتی ہے تب کرنسی کے پھیلاﺅ میں عدم توازن کا پیدا ہوجانا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ لہٰذا بازار میں زرمبادلہ کے مقابلہ میں کرنسی کے عدم توازن کے پیدا ہونے کی وجہ سے ہی INFLATION والی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور قیمتوں کا بڑھنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔کرنسی کے بے جا پھیلاﺅ کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ عوام جو پیسہ بینک یا ڈاکخانوں کی بچت اسکیموں پر INVEST کرتے ہیں اس کے علاوہ بینک جمع شدہ رقومات پر اپنے کھاتہ داروں کو Interest کی شکل میں کچھ اضافی رقم دیتا ہے بینک اپنے جمع شدہ سرمایہ کو مختلف طریقوں سے تجارت میں Invest کرکے یا لوگوں کو قرض دے کر ان سے اضافی Interest وصول کرتا ہے۔ لیکن اگر بینکوں کے اس نظام پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کرنسی کی مقدار میں متواتر اضافہ ہوتے رہنا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ اور افراطِ زر( INFLATION )والی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ لہٰذا بینکوں اور ڈاکخانوں کی بچت اسکیموں کی وجہ سے Investers کی جمع شدہ رقومات میں اضافہ تو ہوتا رہتا ہے لیکن اس کے ساتھ کرنسی کی قوت خرید بھی گھٹتی رہتی ہے اور قیمتوں کے بڑھنے کا نہ رکنے والا عمل چلتا رہتا ہے اور چلتا رہے گا۔ قیمتوں میں عدم استحکام کی ایک اور وجہ ہے ضروری اشیاءکی درآمد اور غیر ضروری چیزوں کا برآمد کیا جانا چاہے یہ قانونی شکل میں ہو یا غیر قانونی طریقوں سے۔ اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے میں بازار پرشیئر مارکیٹ اور سٹہ بازار کا کنٹرول متواتر بڑھتا جارہا ہے اور ان کا جلدی جلدی اتارچڑھاﺅ بھی قیمتوں میں عدم استحکام کی بڑی وجہ ہے۔مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ قیمتوں کے تواتر بڑھتے رہنے کی اصل وجہ ہے ضروری چیزوں کی پیداوار میں کمی۔ زرِ مبادلہ کا کم ہوجانا۔ کرنسی کا بے جا پھیلاﺅ۔ کرنسی کی قوتِ خرید کا گھٹنا، افراطِ زر میں اضافہ، ذخیرہ اندوزی، ضروری اشیائکی درآمدات اور غیر ضروری چیزوں کی برآمدات کے علاوہ ناقص بینکنگ نظام وغیرہ۔

بے چہرہ جنگ کے نئے محاذ .............عرفان صدیقی•

بات کریں تو بہت سے ”روشن خیالوں“ کا فشار خون بڑھ جاتا ہے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ اس حقیقت پر ثبوت کی ایک نئی تہہ چڑھتی جارہی ہے کہ نائن الیون کے بطن سے پھوٹنے والا امریکی کروسیڈ، نہ دس سال پہلے ہماری جنگ تھی اور نہ آج ہمارا معرکہ ہے ۔ یہ کل بھی زیاں کاری کا سفر رائیگاں تھا اور یہ آج بھی لاحاصلی کا موسم بے ثمر ہے جب کبھی نفع نقصان کا بے لاگ جائزہ لینے کے لئے کوئی منصف مزاج محتسب بیٹھا، حاصل حصول والا کاغذ کورا نکلے گا اور نقصانات کے لئے بھاری بھرکم دستاویزات بھی ناکافی ہوں گی۔ صدر آصف علی زرداری نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لئے لکھے گئے ایک مضمون میں کہا ہے ۔ ”ہم پاکستان کے لئے دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں اور اس کی بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔ اپنی صورت حال کے مطابق ہم جس موثر انداز سے اس لعنت کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں، اسے ہمارے عزم پر شکوک و شبہات یا ہماری قربانیوں کو نظرانداز کرنے کی بنیاد نہیں بنانا چاہئے ۔ لاہور میں ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ براہ راست تین پاکستانیوں کی ہلاکت اور ایک خاتون کی خودکشی کا سبب بنا۔ یہ واقعہ پیچیدہ رویوں کے غیرمتوقع نتائج کی ایک بڑی مثال ہے ۔ ہمیں اس واقعہ کی قانونی، اخلاقی اور سیاسی پیچیدگیوں میں نہیں جانا چاہئے ۔ اتنا کہنا کافی ہے کہ ڈیوس اور اس کی قسم کے دوسرے لوگ ہمارے ملک میں جذبات بھڑکاتے ہیں اور امریکہ کے لئے حمایت اور احترام میں کمی آتی ہے ۔ ہم نے قانون کے مطابق ڈیوڈ کیس میں پرامن عدالتی کارروائی کا عزم کر رکھا ہے ۔ یہ کسی کے مفاد میں نہیں کہ اس معاملے کو حکومت پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے استعمال کیا جائے ۔ اسی طرح ڈیوس کے معاملے پر پاکستان کے خلاف پابندیاں لگانے اور کیری لوگر ترقیاتی فنڈز روکنے کی دھمکیوں کے بھی منفی اثرات ہوں گے ۔ یہ امداد بنیادی انفراسٹرکچر کی تعمیر، تعلیم کے شعبے کو مستحکم بنانے اور روزگار فراہم کرنے کے لئے دی جاتی ہے ۔ اس قسم کی دھمکیاں امریکہ کے اپنے مفاد میں بھی نہیں۔ موجودہ خطرناک صورت حال میں شعلہ بیانی اور ضرر رساں وارننگز سے ایسی آگ بھڑک سکتی ہے جسے بجھانا مشکل ہوگا“۔ جناب صدر نے درست اور بروقت تنبیہ کی ہے ۔ ان کا کہنا بجا ہے کہ پاکستان اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کررہا ہے لیکن ستم یہ ہے کہ شہنشاہ عالم پناہ پاکستان کے کردار کو نہ صرف بری طرح نظرانداز کررہا ہے بلکہ ہمارے لئے نت نئے مسائل بھی کھڑے کررہا ہے ۔ گزشتہ دس برس کے دوران پاکستان میں دودھ اور شہد کی کوئی نہر تو نہ نکلی لیکن جوئے خوں چارسو بہہ رہی ہے اور پاکستان ایسے مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے جو نائن الیون سے قبل ہماری سرحدوں سے کوسوں دور تھے ۔ آئی۔ایس۔آئی نے 1980ءکی دہائی میں افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف ایک بڑی جنگ لڑی اور ساری دنیا میں نام پایا۔ کم کم لوگوں کو علم تھا کہ جنرل محمد ضیاءالحق کی راہنمائی اور جنرل اختر عبدالرحمٰن کی سربراہی میں آئی۔ایس۔ آئی خاموشی کے ساتھ اس صدی کی سب سے بڑی گوریلا جنگ اس حکمت کے ساتھ لڑ رہی ہے کہ دنیا کی دوسری سپرپاور کے پاو ¿ں جمنے نہیں پا رہے ۔ افغانستان پر روسی حملے کے بعد امریکہ کا مشورہ یہ تھا کہ پاکستان اس میں ٹانگ نہ اڑائے ۔ یہ بہت بعد میں ہوا کہ پاکستان کی مدد سے مجاہدین کی اولین کامیابیوں کو دیکھ کر امریکہ بھی میدان میں آگیا۔ کم و بیش ایک عشرے تک جاری رہنے والی اس جنگ میں امریکی ہتھیاروں، ڈالروں اور ہمہ نوع امداد کے باوجود امریکہ کو حاوی نہ ہونے دیا گیا۔ جنگی منصوبہ بندی سے لے کر ہتھیاروں اور مالی امداد کی تقسیم تک تمام امور پاکستان نے اپنے ہاتھ میں رکھے ۔ امریکیوں کو یہ اجازت تک نہ تھی کہ وہ براہ راست مجاہدین کی قیادت سے رابطہ کرسکیں۔ اسی دور میں امریکی سی۔آئی۔اے اور پاکستانی آئی۔ایس۔ آئی کے درمیان رابطوں اور تعاون کو فروغ ملا لیکن سی۔ آئی۔اے کو ایک معقول فاصلے پہ رکھا گیا اور ایسے پر پرزے نہ نکالنے دئیے گئے کہ وہ آئی۔ایس۔آئی سے متوازی راہیں تراش لیتی یا جہاد افغانستان کے متعین دائرہ کار سے نکل کر اپنے مفادات کا تانا بانا بننے لگتی۔ سارے عرصہ جنگ میں اس کا کردار ذیلی رہا اور معاملات کی باگ ڈور ضیاءالحق اور اختر عبدالرحمٰن کے ہاتھ میں رہی۔ امریکی من مانیوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب جہاد افغانستان کامیابی سے ہمکنار ہوچکا تھا اور زخم خوردہ روس دریائے آمو کے اس پار جارہا تھا۔ جہاد افغانستان نے آئی۔ایس۔آئی کو نئی اڑان اور اٹھان بخشی اور وہ پاکستان مخالف قوتوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے لگی۔ سوویت یونین کی شکست سے تقویت پانے والا ایک اور تصور ”نظریہ جہاد“ کا تھا۔ سو یہ بھی ہمارے دشمنوں کے سینے کا بھاری پتھر بن گیا۔ پاکستان کی جھولی میں پڑنے والے تیسرے پھل کا نام ایٹمی پروگرام کی تکمیل تھا سو وہ بھی ایک دنیا کی نیندیں حرام کررہا ہے ۔ آئی۔ایس۔ آئی، جہاد اور ایٹمی صلاحیت کی تکون پاکستان کے دشمنوں کی سنگ زنی کا ہدف ہے ۔ وہ ان تینوں سے خوف کھاتے اور ان تینوں سے پاکستان کو محروم کرنے کے درپے ہیں۔ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے بعد بہت سے راز آشکارا ہونے لگے ہیں جن پر اب تک پردہ پڑا ہوا تھا۔ پاکستان کے لئے یہ انکشاف انتہائی تشویش کا باعث بنا کہ امریکی سی۔آئی۔اے نے نام نہاد ”وار آن ٹیرر“ کی آڑ میں پاکستان بھر میں جاسوسی کا ایک منظم نیٹ ورک قائم کرلیا ہے ۔ وہ ”وار آن ٹیرر“ کے تقاضوں سے ہٹ کر خطے میں اپنے وسیع تر اہداف و مقاصد کے لئے سرگرم عمل ہے ۔ اس کے سیکڑوں کرائے کے اہلکار، سفارتکاروں کا روپ دھارے پاکستان میں آچکے ہیں۔ باہمی مفاہمت کی شرائط کو نظرانداز کرکے وہ آئی۔ایس۔آئی کو اعتماد میں لئے بغیر اپنے ایجنڈے میں رنگ بھر رہی ہے ۔ بجاطور پر یہ گہری تشویش کا لمحہ تھا۔ پاک فوج نے بھی اسے سنجیدگی سے لیا۔ آئی۔ایس۔آئی نے زیادہ واضح الفاظ میں اپنے تحفظات، سی۔آئی۔اے تک پہنچائے ۔(باقی آئندہ) بشکریہ جنگ ٭٭٭٭٭

18:43 PM 13-03-2011
سیاسی کشیدگی اور مفاہمت کے دائرے.... محمد احمد ترازی•

معمہ تو معمہ ہی ہوتا ہے ،جس کے معنی ہی پیچیدہ بات،مبہم چیز اور پہلی کے ہوتے ہیں ،اگر سمجھ میں آگئی تو ٹھیک ،وگرنہ ذہن کے نہاں خانوں کی دیواروں سے ٹکراتی رہتی ہے اور قلب و روح کو زخمی کرتی رہتی ہے،بدقسمتی سے ہمارے ملک کی سیاست بھی کسی سمجھ میں نہ آنے والے معمہ سے کم نہیں ہے ،حالات کب کون سا رخ اور رنگ اختیار کرلیں اور کب سیاسی بساط پرمہرے تبدیل ہوجائیں اور کب جیتی ہوئی بازی ہارمیں تبدیل ہوجائے ،یہ کوئی نہیں جانتااور کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ کب ہونی انہونی اور انہونی ہونی بن جائے،ہمارے ملک کی سیاست کا ابتداءہی سے یہ المیہ رہا ہے کہ جب بھی جمہوری قوتوں کی جانب سے سیاسی استحکام کے اسباب فراہم کئے جاتے ہیں ، بے چینی،بے یقینی اور عدم استحکام کے سائے مزید گہرے سے گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں ،جیسے جیسے اقتدار کے تحفظ کیلئے حکمران محل کی فصیلیں بلند کرتے اوردیواریں مضبوط بناتے ہیں،فصیلوں پر کمندیں ڈالنے والوں کے ارادے اور بھی مضبوط اور پختہ تر ہوتے چلے جاتے ہیں، جس قدر اقتدار کے دوام کیلئے نئی قلعہ بندیاں کی جاتی ہیں،اسی قدر سیاسی ماحول میں گھٹن اور کشید گی بھی بڑھتی جاتی ہے ،ہمارے خیال میں اِس کی سب سے بڑی بنیادی وجہ جمہوری اصولوں سے رو گردانی، آئینی اور قانونی تقاضوں سے انحراف اور اتفاق رائے کے بغیر قومی معاملات میں فرد واحد کی مرضی و منشاءکا عمل دخل ہے ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فرد واحد خواہ کتنا ہی مخلص،محب وطن ،صاحب بصیرت اوردانا و بینا ہی کیوں نہ ہو، کبھی بھی آئین اور دستوری اداروں کا نعم البدل نہیں ہوسکتا ۔ ہماری 64سالہ تاریخ میں ہر طالع آزما ءنے آئین کو ملبوس سمجھ کر اپنے قدو قامت کے مطابق غیر آئینی اقدامات کے بل پر اپنے تئیں ملک و قوم کے مفاد میں دوررس اصلاحات کا بیڑہ اٹھایا ،لیکن جہاں اُس کی اپنی ذات کا بنیادی پتھر سرکا ، وہیںاُس کا اپنا تعمیر کردہ بلند و بالا سیاسی قلعہ اور تحفظ دینے والے وزرا ءو مشیروں کی مضبوط دیواریں ریت کے گارے کی طرح زمین پر آگریں اور پلک جھپکتے ہی تمام انقلابات کے دروازے،اصلاحات کی کھڑکیاں،آئینی ترامیم کے دریچے اور ڈیمو کریسی کی محرابیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، درحقیقت یہی وہ دیرینہ بیماری ہے جو پچھلے 64 سالوں سے اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنے والے ہر حکمران کے رگ و پے میں سرایت کرجاتی ہے ،اس وقت بھی یہی دیرینہ بیماری ہمارے حکمرانوں کے دلوں کے دروازے پر دستک دے رہی ہے، انہیں یہ یقین دلارہی ہے کہ ”پاکستان بچانے “کے نعرے کی وجہ سے ملک کی تقدیر سنبھالنے کا فریضہ قدرت نے انہیں سونپ دیا ہے اوراب صاف ستھری جمہوریت،اقتصادی انقلاب، ترقی و خوشحالی کے تمام راستے اور عوامی فلاح و بہبود کے تمام چشمے صرف انہی کی ذات سے پھوٹیں گے ،ملک و قوم کا مستقبل اور قوم کی ترقی و خوشحالی کی ضمانت اور بقاءاب اُن کی ذات سے مشروط ہے، یہی وہ خام خیالی اور خود فریبی ہے، جس نے پیپلز پارٹی اور دیگر حکومتی حلیف جماعتوں کے درمیان مفاہمت کے پُر امن ماحول میں دراڑ یںڈال کر اُن کے راستے جدا جدا کردیئے ہیں ، جس کی وجہ سے مستقبل میں قومی یکجہتی اور باہمی مفاہمت کے امکانات معدوم ہو گئے۔ 18فروری 2008ءکے اُس عظیم عوامی مینڈیٹ جس کے نتیجے میں قومی سیاست میں مفاہمت ا ور مصالحت کی فضا اور جیو اور جینے دو کے جس جذبے اورولولے نے نمو پائی تھی،سندھ کے وزیر داخلہ کے تندوتیز بیانات سے ہواو ¿ں میں تحلیل ہوگئی ہے،جو دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان افہام و تفہیم اورباہمی روا داری کی بنیاد پر پیدا ہوئی تھی اور بالآخر وہی ہونے جارہا ہے جس کا اندیشہ سیاسی مبصرین ظاہر کررہے تھے،سیاسی کشیدگی اب مفاہمت کے دائروں سے نکل کرسیاسی مصلحتوں ،ٹکراو ¿ ا ور ایکدوسرے کو نیچا دکھانے کا چلن بن گئی ہے ، یوں لگتا ہے کہ 1990ءوالا محاذ آرائی کا دور پھر سے شروع ہونے جارہا ہے،اگر ایسا ہوا تو ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہوگی،یہ کتنی عجیب صورتحال ہے کہ تین سال قبل جب عوام ایک آمر مطلق کے ساتھیوں اور پالیسی کو مسترد کرکے جمہوری قوتوں کو ووٹ دے رہے تھے تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ عوام کی عزت و تکریم ،ملکی وقار اور حقیقی جمہورت سمیت کچھ بھی بحال نہیں ہوگا ،بلکہ الٹا شرمناک حقیقتیں اور ملکی سلامتی کے حوالے سے خوفناک نتائج بے نقاب ہونگے اور عوام کا قائدین سے سیاسی اعتبار ہی اٹھ جائے گا۔ یہ کتنی شرمناک حقیقت ہے کہ ریمنڈ ڈیوس جیسے نہ جانے کتنے امریکی جاسوس ہماری سرزمین پر دندناتے پھر رہے ہیں ، امریکی جاسوس طیاروں کیلئے ہماری ہی سرزمین استعمال ہورہی ہے، یہ صرف چند مثالیں ہیں جبکہ اس طرح کی کتنی وہ تلخ حقیقتیں ہیں جو آج بھی پاکستان کی بھولی عوام سے پوشیدہ ہیںاور ارباب اقتدار عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بیرونی قوتوں کی کاسہ لیسی میں مصروف ہیں،حقیقت یہ ہے کہ ایک منتخب سیاسی عوامی حکومت کا انتخاب عوام نے اپنی محرومی اوران جمہوری حقوق کی بازیابی کیلئے کیا تھاجو ایک آمر مطلق نے آٹھ سال سے سلب کررکھے تھے ،عوام آئین میں نقب لگانے والے اور بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں ملک کے قومی مفادات کا سودا کرنے والوں کا احتساب چاہتے تھے،لیکن پاکستان کی بھولی عوام کی یہ آرزو اور خواہش برسر اقتدار آنے والوں کے ایجنڈے کے خلاف تھی ،جس کی وجہ سے آئین کو دوبار توڑنے اور عدلیہ و عوام کو بے توقیر کرنے والوں کو مکمل تحفظ دیکر فوجی اعزاز کے ساتھ رخصت کیا گیا اوراس دن کے بعد سے تاحال عوام اور اہل اقتدار کی ترجیحات ایکدوسرے کے خلاف اور متصادم ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے، موجودہ ریاستی نظام اپنی اصل جمہوری شکل و صورت کھو چکا ہے ،جب تک ہمارے حکمران ملک و قوم کی مرضی و منشاءکے خلاف بیرونی دباو ¿ اور مصلحت کے تحت فیصلے کرنے ختم نہیں کردیتے اُس وقت تک عوامی و تائید و حمایت یافتہ ایک جمہوری حکومت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا،یار دکھیں کوئی بھی جماعت اور حکومت پس پردہ قوتوں کی بدولت حکومت تو کرسکتی ہے لیکن عوامی امنگوں اور قومی وقار کے منافی طرز عمل کی وجہ سے عوامی جذبات کی ترجمان نہیں بن سکتی ، ایسی حکومت جلد یابدیر اپنے انجام سے دوچار ہوجاتی ہے،لہٰذا ہم ارباب اقتدار سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ جمہوری اصولوں سے رو گردانی، آئینی اور قانونی تقاضوں سے انحراف اور اتفاق رائے کے بغیر قومی معاملات چلانے کیلئے اپنی مرضی و منشاءکا عمل دخل اورطاقت وعقل کل کی خود فریبی کی دیرینہ بیماری کے سحر سے باہر نگلیں اور تمام جمہوری سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے کا عزم کریں۔ ٭٭٭٭٭

18:43 PM 13-03-2011
ریمنڈ ڈیوس کے جرائم..............پروفیسر خورشید احمد•

27جنوری 2011ءپاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت اختیار کر گیا ہے ۔ ریمنڈ ڈیوس کوئی نام نہاد سفارت کار نہیں ہے بلکہ درحقیقت سی آئی اے کا خون خوار کمانڈو ہے جس کے ہاتھوں پر چار معصوم پاکستانیوں کا خون ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ ایک ایسا آئینہ بن گیا ہے جس میں امریکہ کے سامراجی کردار اور ایک دوست ملک کو بلیک میل کرنے ، عدم استحکام کا شکار کرنے اور اپنے مذموم مقاصد کے لیے آلہ? کار بنائے جانے کے ناپاک کھیل کی پوری تصویر دیکھی جاسکتی ہے ۔ جس نے پاکستانی قوم اور اس کی مقتدر قوتوں کو نہ صرف جھنجھوڑ دیا ہے بلکہ ملک اور قوم کے لیے امریکہ سے تعلقات کے پورے مسئلے پر بنیادی نظرثانی کو ناگزیر بنا دیا ہے ۔ 27 جنوری کا واقعہ ایک خونیں سانحہ تو ہے ہی لیکن اس سے زیادہ پوری قوم کے لیے ایک انتباہ کی حیثیت بھی اختیار کر چکا ہے ۔ تیونس میں ایک نوجوان کی خودکشی نے تیونس ہی نہیں پورے عالمِ عرب میں بیداری کی اس انقلابِ آفریں کی لہر کو جنم دیا جو تاریخ کے ر ±خ کو موڑنے کا کارنامہ انجام دے رہی ہے ۔ بالکل اسی طرح پاکستان میں امریکی درندگی کا نشانہ بننے والے ان تین نوجوانوں کا خون پاکستان اور عالمِ اسلام کے لیے امریکہ کی غلامی سے نجات کی تحریک کی آبیاری اور ملّی غیرت و حمیت میں تقویت کا ایک فیصلہ کن ذریعہ بنتا نظر آرہا ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک ایسی چیز جو انسانوں میں بے حد ناپسند اور ناگوار ہو اس کے ایسے د ±وررس اثرات رونما ہوتے ہیں جو بالآخر خیر اور خوش آئند تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن جاتے ہیں۔ ارشاد ربانی ہے : ”ہوسکتا ہے کہ ایک چیز جو تمھیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو۔ نیز یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہے “۔ پوری ملت اسلامیہ پاکستان اور ہم جہاں 27 جنوری کے اس اندوہناک اور دل خراش واقعے اور ظلم کا نشانہ بننے والے خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں وہیں پر ان کی ح ±ب الوطنی پر نازاں اور پاکستانی مفادات کے باب میں ان کے لیے استقامت کے لیے دعاگو ہیں۔ اس واقعے کی روشنی میں انصاف اور قومی اور ملّی مفادات کے تحفظ کے حوالے سے ان پہلوو ¿ں پر چند معروضات پوری قوم اور خصوصیت سے اس کی سیاسی اور عسکری قیادت کے سامنے پیش کرتے ہیں۔اصل واقعے کی بیشتر تفصیلات قوم کے سامنے آگئی ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے اس سلسلے میں حقائق کو تلاش کرنے اور سارے دباو ¿ اور ملکی اور بیرونی عناصر کی ریشہ دوانیوں کے علی الرغم اصل حقائق کو جرت سے بیان کرنے کے لیے جو کردار ادا کیا ہے اس پر انہیں ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں۔ یہیں پر یہ اعتراف بھی ضروری ہے کہ عدالت نے بروقت احکامات جاری کرکے اور ملک کی دینی و سیاسی قوتوں اور عوام نے امریکہ کے حاشیہ برداروں کے سارے کھیل کو ناکام بنانے کے لیے جو مساعی کی ہیں، وہ سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔ تاہم ہم دکھ کے ساتھ اس حقیقت کو بھی ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ مرکزی حکومت کا بحیثیت مجموعی اور اس کے کچھ بڑے نمایاں قائدین کا کردار سخت مشکوک اور تشویشناک رہا ہے ۔ نئی وزیر اطلاعات اور پیپلزپارٹی کی سابقہ انفارمیشن سیکرٹری نے تو کھل کر امریکی مفادات کی ترجمانی کی ہے ۔ پھر ایوانِ صدر کے کردار پر بھی بڑے بڑے سوالیہ نشان ثبت ہیں۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بھی اپنا کردار ٹھیک ٹھیک ادا نہ کیا۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے تو وزارت کا قلم دان چھین لیا گیا بشکریہ جنگ ٭٭٭٭٭

18:43 PM 13-03-2011
جگ ہنسائی.............ذیر ناجی•

پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ‘ ملک کے سیاسی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے فوج‘ عدلیہ اور سیاسی قیادت کو مل کر حکمت عملی وضع کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ میری طرح کے وہ سارے ”احمق“ جو ملک کے سیاسی‘ معاشی اور سماجی مسائل کا حل‘ جمہوریت میں تلاش کرنے کے حامی رہے ‘ اس تجویز کو دیکھ کر‘ حیرت زدہ ہیں۔ ملک میں جو دو بڑی سیاسی جماعتیں ‘جمہوری نظام کو چلانے کے لئے کلیدی اہمیت رکھتی ہیں‘ ان میں سے ایک کی قیادت کا یہ اعتراف کہ سیاسی بحران حل کرنے کے لئے عدلیہ اور فوج کی مدد لینا ضروری ہو گیا ہے ‘ جمہوریت پسندوں کے لئے ‘ دھماکے سے کم نہیں۔ ایک طرف ہم ہیں کہ ہر مرض کاعلاج جمہوریت کو قرار دیتے دیتے قلم گھسا بیٹھے ہیں۔ آئین کی بالادستی کے حق میں ہر وقت دلائل دیتے رہتے ہیں۔ فوج کی حکمرانی کے مخالفت کرتے ہیں۔ عدلیہ کو آئینی حدود کے اندر رہنے کے مشورے دیتے ہیں اور ایک سیاسی جماعت کی قیادت نے ملک اور قومی امورپرفیصلوں کے لئے ‘ عدلیہ اور فوج کو سیاسی قیادت کے برابر لا بٹھانے کی بات کر کے ‘ تصویرپر رنگوں کے ڈبے الٹا دیئے ۔ اس سوچ اور طرزفکر کا جواز سمجھ میں نہیں آ رہا۔ ماسوائے اس کے کہ بار بار کی فوجی حکومتوں نے ہمارے اہل سیاست کو ان کی اپنی منصبی ذمہ داریوں اور پیشہ وارانہ خود اعتمادی سے محروم کر دیا ہے ۔ اب وہ آزاداور خودمختار پارلیمنٹ کے ذریعے ملکی امور پر فیصلے کرنے اعتماد سے مالامال نہیں رہ گئے ۔ شایدوہ اپنی سیاسی اہلیت پر اعتماد کھونے لگے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انسانی جماعتوں کے وسائل تباہ ہو جائیں‘ تو ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ انسان اپنی محنت سے دوبارہ مہیا کر لیتا ہے ۔ قدرتی آفات بربادیاں پھیلا دیں‘ تو وہ عارضی ہوتی ہیں۔ انسان جلد ہی سب کچھ دوبارہ تعمیر کر لیتا ہے ۔ جنگوں میں شکست ہو جائے ‘ تو بھی کچھ نہیں بگڑتا‘ اگر آزادی کا عزم زندہ ہو۔مالی حالات خراب ہو جائیں‘ تو محنت اور ہمت سے انہیں بہتر بنایا جا سکتا ہے ۔ لیکن انسان جب امید کھو بیٹھے اور وہ بنیادی کام‘ جن کا انحصار ہی اس کی آزادانہ کارکردگی پر ہو‘ انہیں انجام دینے کیلئے ایسی قوتوں کامحتاج بن بیٹھے ‘ جنہیں اس کام کی تربیت ہی نہیں۔ تو پھر مستقبل سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے ؟ ملکی مسائل حل کرنے میں فوجی حکومتوں نے جو کارنامے انجام دیئے ہیں‘ وہ ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔ ہمارے دریاو ¿ں کا سودا کرنے والے حکمران کون تھے ؟ پاکستان کو بھارت نے شکست نہیں دی تھی‘ وہ المیہ ہمارے حکمرانوں کی وجہ سے رونما ہوا۔ وہ حکمران کون تھے ؟ سیاچن گلیشیئرپر بھارت نے کس کے دور حکومت میں قبضہ کیا؟ کارگل پر مہم جوئی کر کے ‘ کس نے پاکستان کی ایٹمی طاقت کا بھرم گنوایا اور کشمیر کی آزادی و خودمختاری کے امکانات دھندلے کر دیئے ؟ کس نے افعانستان کے معاملے میں ٹانگ اڑا کر پاکستانی معاشرے کو ناجائز اسلحہ‘ منشیات اور جرائم سے بھر دیا؟ کس نے پاکستان کے وسائل دوسروں کی جنگ میں جھونک کر‘ ملک کی ترقی و خوشحالی کا سفر روکا؟ اور کس نے ایک ٹیلی فون پر پاکستانی فوج اور عوام کا مستقبل‘ ایک ایسی جنگ میں جھونک دیا؟ جس کا ختم ہونا کم از کم موجودہ نسل کے عرصہ حیات میں ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔ اگر اسکے باوجود ہمارے سیاستدان خود اسی ادارے سے راہنمائی حاصل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں‘ تو انکے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے ؟ اور سیاسی اور قومی امور پر مشترکہ غور و فکر میں عدلیہ کو باضابطہ طور سے شامل کرنے کی تجویز تو اپنی مثال آپ ہے ۔ پاکستان کی قومی زندگی میں عدلیہ کا کردار قابل فخر نہیں ہے ۔ ہر فوجی حکومت کو قانونی جواز فراہم کرنے کا کام‘ ہماری اعلیٰ عدلیہ ہی انجام دیتی رہی ہے ۔ آئین توڑنے کے ہر جرم کو ہماری عدلیہ نے جائز قرار دیا ہے ۔ غداری کا ارتکاب کرنے والوں کو سب سے پہلے عدلیہ نے تحفظ دیا اور اس کے بعد نام نہاد پارلیمنٹس نے ۔آج کی آزاد عدلیہ اپنے ادارے کے ماضی پر خود فخر نہیں کرتی۔ بلکہ اس پر ناپسندیدگی کااظہار کرتی ہے ۔ اول تو زیربحث تجویز پر فوج اور عدلیہ دونوں کی طرف سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ اگر انہیں دعوت دی گئی‘ تو کیا وہ اسے قبول بھی کریں گے یا نہیں؟ خصوصاً اس کی تو مجھے بے حد امید ہے کہ موجودہ عدلیہ اس دعوت کو شاید ہی قبول کرے ۔مگر مسئلہ ہمارے قافلہ سالاروں کا ہے ‘ جو ہمیں منزل تک پہنچانے کے ذمہ دار ہیں۔ بشکریہ جنگ ٭٭٭٭٭

18:43 PM 13-03-2011
کرائے کے قاتل اور قذافی کا المیہ..........روف عامر •

لیبیا اس وقت سرکاری فورسز اور باغیوں کے مابین پانی پت کا میدان بنا ہوا ہے اور وہاں گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ روزنامہ گارڈین کی رپورٹ کے مطابق لیبیا کی فورسز ناتجربہ کار اور جنگی مہارتوں سے نابلد ہیں۔سرکاری فوج کی تعداد40 ہزار ہے۔ سرکاری افواج میں بھگدڑ مچی ہوئی ہے اور فوجیوں کے کئی دھڑے باغیوں کے ساتھ مل چکے ہیں۔ قذافی نے اپنی زاتی بٹالین اور فوجی لشکر بنا رکھا ہے۔ قذافی کے وفادار جنگجووں میں جنوبی افریقہ سے لائے گئے کرائے کے فوجی بھی شامل ہیں۔ قذافی کی زاتی سیکیورٹی میں سوڈان صومالیہ چاڈ اور ساحل ا عاج سے تعلق رکھنے والے افریقی جنگجو ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہیں۔۔ انقلابیوں کا کہنا ہے کہ کرائے کے فوجی قتل و غارت بدامنی اور دادا گیری کررہے ہیں۔ قذافی کے زاتی لشکر میں شامل افریقی جوانوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ لیبیا لیبریا رونڈا اور سیر الیون میں باغیانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ لیبیا کی کل ابادی 60 لاکھ ہے۔اسرائیلی اخبار حارث کی شائع شدہ ڈائری کے مطابق قذافی کے لشکر میں افریقن جنگجووں کی تعداد10000ہے انکا تعلق افریقی ساحلی پٹی سے ہے جو قرون افریقہ سے سینیگال تک محیط ہے۔ زمبابوے اور چاڈ قذافی کے تخت کو کاندھا فراہم کئے ہوئے ہیں۔ وہ لیبیا تک اسلحہ تو نہیں بھیج سکے تاہم قذافی کے پڑوسی عرب افریقی ممالک نے فوجی جوانوں کو تریپولی بھیج دیا۔ قذافی کسی دور میں بھٹو شاہ فیصل اور یاسر عرفات کے معتمد رہنما کی شکل میں عالم اسلام کے اتحاد کا داعی تھا مگر بعد میں انکی سیاسی اور نظریاتی ائیڈیالوجی میں تبدیلی واقع ہوئی اور اس نے ایک طرف متحدہ عرب کا نظریہ دفن کردیا تو دوسری طرف قذافی نے علاقائی اتحاد کا فلسفہ ایجاد کیا جسکا نامthird international idealogy مگر اسے افریقی خطے میں پذیرائی نہ مل سکی کیونکہ افریقیوں کا خیال تھا کہ کہیں متحدہ ہائے افریقہ کے نام پر انکے ساتھ کوئی دو دو ہاتھ نہ کرجائے۔ کرائے کے فوجیوں کو یومیہ دو ہزار ڈالر فراہم کئے جارہے ہیں تاکہ وہ سر اٹھا کر چلنے والے انقلابیوں کو روندتے اور کچلتے رہیں۔ لیبیا کی مخدوش صورتحال کا تجزیہ کرنے کے بعد ایک سوال مسلسل زہن پر غور و فکر کے کچوکے ماررہا ہے کہ قذافی کے بعد لیبیا کا انتظام اور انصرام کا زمہ کون نبھائے گا؟ مصر اور تیونس میں حاکموں کو عوامی قوت کے سامنے سر خم تسلیم کرناپڑا۔ وہاں جو خلا پیدا ہوا تو افواج نے سب کچھ سنبھال لیا۔ مغرب کے مقبول ترین دانشور گیری تھامس اپنے ارٹیکل قذافی کے بعدلیبیاا کا ممکنہ حل کیا ہوگا میں انٹیلی جینس سے جڑی ہوئی تنظیم سٹارٹا فار کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ قذافی نے جان بوجھ کر فوج کو کمزور رکھا تاکہ اسکی کرسی کو کوئی خدشہ اور خطرہ لا حق نہ ہو۔ اسی تناظر میں لبیا کی فورسز کو طاقتور بنانے اور فوجی اداروںکو مستحکم ہونے کا موقع نہ مل سکا۔ لیبیائی امور پر دسترس رکھنے والے ڈونلڈ بریوس جان نے بتایا کہ قذافی کے جانے کے بعد کچھ حد تک ہنگامہ ارائی ہوگی مگر خانہ جنگی کا امکان نہیں۔ لیبیا چونکہ قبائلی معاشرہ ہے اسی لئے قبائل کی بابصیرت قیادت اگے ائے گی تاہم ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ سیاسی مشاورت کرنے والے برطانوی تھنک ٹینکزMENAS کے سرخیل چار لس گرڈون نے رائے زنی کی ہے کہ قذافی نے تیل کی دولت کو ریاست کے مغربی اور وسطی علاقوں میں ترقیاتی کا موں کا جال بچھا دیا مگر مشرقی علاقوں کو نظر انداز کردیا وہاں تو دونوں علاقوں کے مابین رنجش کدورت کی خلیج پیدا ہوگئی۔چارلس گڈون تجزیہ کرتے ہیں کہ قزافی اقتدار سے الگ ہوجائیں۔ قذافی اقتدار چھوڑ دیں تو لیبیا کا مستقبل کیا ہو گا یہی سوال کئی ابہام میں گھرا ہوا ہے۔ اگر لیبیا تقسیم ہونے سے بچ گیا تو ایک لیبیا کے سامنے انے تک قذافی کا بچنا مشکل ہوگا اور کوئی اسے قبول کرنے پر رضامند نہ۷ ہوگا۔یوں لیبیا میں اقتدار کی کشمکش شروع ہوگی۔ لیبیا کے ان شہروں جہاں باغیوں کا قبضہ ہوچکا ہے وہاں انقلابی سب سے پہلا کام یہی کریں گے کہ وہ لوگوں کو قذافی دور کی تمام بلاوں سے بچا لیں۔ قذافی کے درامد کردہ افریقی فوجی راہ فرار اختیار کرے گی۔ جبران کا قول ہے کہ جو قومیں اور افراد درست وقت پر درست فیصلے نہیں کرتے انکی شناخت ہمیشہ کے لئے معدوم ہوجاتی ہے ۔ قذافی اور عالمی طاقتوں کو ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر جبران کے جملے کی روشنی میں بصیرت افروز اقدامات کرنے چاہیں۔ ایک طرف قذافی فوری طور پر مستعفی ہوجائیں تو دوسری طرف عالمی برادری لیبیا میں فوجی ایکشن کی بجائے لیبیا میں جمہوریت کو روشناس کروائیں اور فوری طور پر الیکشن منعقد کروا کر حکومتی امور منتخب حکمرانوں کے سپرد کریں کیونکہ یہی وہ درست وقت ہے جو درست فیصلوں کا تقاضہ کررہا ہے ٭٭٭٭٭

18:25 PM 13-03-2011
کرائے کے قاتل اور قذافی کا المیہ..........روف عامر •

لیبیا اس وقت سرکاری فورسز اور باغیوں کے مابین پانی پت کا میدان بنا ہوا ہے اور وہاں گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ روزنامہ گارڈین کی رپورٹ کے مطابق لیبیا کی فورسز ناتجربہ کار اور جنگی مہارتوں سے نابلد ہیں۔سرکاری فوج کی تعداد40 ہزار ہے۔ سرکاری افواج میں بھگدڑ مچی ہوئی ہے اور فوجیوں کے کئی دھڑے باغیوں کے ساتھ مل چکے ہیں۔ قذافی نے اپنی زاتی بٹالین اور فوجی لشکر بنا رکھا ہے۔ قذافی کے وفادار جنگجووں میں جنوبی افریقہ سے لائے گئے کرائے کے فوجی بھی شامل ہیں۔ قذافی کی زاتی سیکیورٹی میں سوڈان صومالیہ چاڈ اور ساحل ا عاج سے تعلق رکھنے والے افریقی جنگجو ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہیں۔۔ انقلابیوں کا کہنا ہے کہ کرائے کے فوجی قتل و غارت بدامنی اور دادا گیری کررہے ہیں۔ قذافی کے زاتی لشکر میں شامل افریقی جوانوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ لیبیا لیبریا رونڈا اور سیر الیون میں باغیانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ لیبیا کی کل ابادی 60 لاکھ ہے۔اسرائیلی اخبار حارث کی شائع شدہ ڈائری کے مطابق قذافی کے لشکر میں افریقن جنگجووں کی تعداد10000ہے انکا تعلق افریقی ساحلی پٹی سے ہے جو قرون افریقہ سے سینیگال تک محیط ہے۔ زمبابوے اور چاڈ قذافی کے تخت کو کاندھا فراہم کئے ہوئے ہیں۔ وہ لیبیا تک اسلحہ تو نہیں بھیج سکے تاہم قذافی کے پڑوسی عرب افریقی ممالک نے فوجی جوانوں کو تریپولی بھیج دیا۔ قذافی کسی دور میں بھٹو شاہ فیصل اور یاسر عرفات کے معتمد رہنما کی شکل میں عالم اسلام کے اتحاد کا داعی تھا مگر بعد میں انکی سیاسی اور نظریاتی ائیڈیالوجی میں تبدیلی واقع ہوئی اور اس نے ایک طرف متحدہ عرب کا نظریہ دفن کردیا تو دوسری طرف قذافی نے علاقائی اتحاد کا فلسفہ ایجاد کیا جسکا نامthird international idealogy مگر اسے افریقی خطے میں پذیرائی نہ مل سکی کیونکہ افریقیوں کا خیال تھا کہ کہیں متحدہ ہائے افریقہ کے نام پر انکے ساتھ کوئی دو دو ہاتھ نہ کرجائے۔ کرائے کے فوجیوں کو یومیہ دو ہزار ڈالر فراہم کئے جارہے ہیں تاکہ وہ سر اٹھا کر چلنے والے انقلابیوں کو روندتے اور کچلتے رہیں۔ لیبیا کی مخدوش صورتحال کا تجزیہ کرنے کے بعد ایک سوال مسلسل زہن پر غور و فکر کے کچوکے ماررہا ہے کہ قذافی کے بعد لیبیا کا انتظام اور انصرام کا زمہ کون نبھائے گا؟ مصر اور تیونس میں حاکموں کو عوامی قوت کے سامنے سر خم تسلیم کرناپڑا۔ وہاں جو خلا پیدا ہوا تو افواج نے سب کچھ سنبھال لیا۔ مغرب کے مقبول ترین دانشور گیری تھامس اپنے ارٹیکل قذافی کے بعدلیبیاا کا ممکنہ حل کیا ہوگا میں انٹیلی جینس سے جڑی ہوئی تنظیم سٹارٹا فار کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ قذافی نے جان بوجھ کر فوج کو کمزور رکھا تاکہ اسکی کرسی کو کوئی خدشہ اور خطرہ لا حق نہ ہو۔ اسی تناظر میں لبیا کی فورسز کو طاقتور بنانے اور فوجی اداروںکو مستحکم ہونے کا موقع نہ مل سکا۔ لیبیائی امور پر دسترس رکھنے والے ڈونلڈ بریوس جان نے بتایا کہ قذافی کے جانے کے بعد کچھ حد تک ہنگامہ ارائی ہوگی مگر خانہ جنگی کا امکان نہیں۔ لیبیا چونکہ قبائلی معاشرہ ہے اسی لئے قبائل کی بابصیرت قیادت اگے ائے گی تاہم ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ سیاسی مشاورت کرنے والے برطانوی تھنک ٹینکزMENAS کے سرخیل چار لس گرڈون نے رائے زنی کی ہے کہ قذافی نے تیل کی دولت کو ریاست کے مغربی اور وسطی علاقوں میں ترقیاتی کا موں کا جال بچھا دیا مگر مشرقی علاقوں کو نظر انداز کردیا وہاں تو دونوں علاقوں کے مابین رنجش کدورت کی خلیج پیدا ہوگئی۔چارلس گڈون تجزیہ کرتے ہیں کہ قزافی اقتدار سے الگ ہوجائیں۔ قذافی اقتدار چھوڑ دیں تو لیبیا کا مستقبل کیا ہو گا یہی سوال کئی ابہام میں گھرا ہوا ہے۔ اگر لیبیا تقسیم ہونے سے بچ گیا تو ایک لیبیا کے سامنے انے تک قذافی کا بچنا مشکل ہوگا اور کوئی اسے قبول کرنے پر رضامند نہ۷ ہوگا۔یوں لیبیا میں اقتدار کی کشمکش شروع ہوگی۔ لیبیا کے ان شہروں جہاں باغیوں کا قبضہ ہوچکا ہے وہاں انقلابی سب سے پہلا کام یہی کریں گے کہ وہ لوگوں کو قذافی دور کی تمام بلاوں سے بچا لیں۔ قذافی کے درامد کردہ افریقی فوجی راہ فرار اختیار کرے گی۔ جبران کا قول ہے کہ جو قومیں اور افراد درست وقت پر درست فیصلے نہیں کرتے انکی شناخت ہمیشہ کے لئے معدوم ہوجاتی ہے ۔ قذافی اور عالمی طاقتوں کو ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر جبران کے جملے کی روشنی میں بصیرت افروز اقدامات کرنے چاہیں۔ ایک طرف قذافی فوری طور پر مستعفی ہوجائیں تو دوسری طرف عالمی برادری لیبیا میں فوجی ایکشن کی بجائے لیبیا میں جمہوریت کو روشناس کروائیں اور فوری طور پر الیکشن منعقد کروا کر حکومتی امور منتخب حکمرانوں کے سپرد کریں کیونکہ یہی وہ درست وقت ہے جو درست فیصلوں کا تقاضہ کررہا ہے ٭٭٭٭٭

18:25 PM 13-03-2011
لیبیائی عوام اپنے حاکم سے حالت جنگ میں.........اےم اے تبسم•

عالمی اور خاص طور پر امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ لیبیا کی صورتحال روزبروز سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کا کہنا ہے کہ کرنل قذافی کی حکومت کی طرف سے عوام کو بتادیا گیا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں اور سڑکوں پرآنے کی غلطی نہ کریں کیونکہ جو لوگ انہیں سڑکوں پر لا رہے ہیں وہ استعمار کے ایجنٹ اور لیبیا کے دشمنوں میں سے ہیں۔ اس لئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت کے خلاف کھڑے ہونے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ عالمی میڈیا کے مطابق اب تک عوامی مظاہروں میں فائرنگ اور کارروائیوں کے نتیجہ میں 600افراد سے زیادہ ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔لیکن لیبیا کے نمبر ایک اخبار کا کہنا ہے کہ عالمی اخبارات نے یکطرفہ اقدامات اور رپورٹس کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ بات خود مانیٹرکی جا سکتی ہے کہ کرنل قذافی کی حکومت کے خلاف کئے جانے والے مظاہروں سے کہیں بڑے وہ جلوس ہیں جو کہ لیبیائی صدر حکومت کے حق میں لگا تار نکالے جا رہے ہیں۔ ایک طرف لیبیائی شہر بن غازی میں سیکورٹی فورسیز کی طرف سے بھرپور کریک ڈاﺅن کیا گیا جس میں مظاہرین پر تشدد کیا گیا۔ اخبار کا اپنی تازہ رپورٹ میں کہنا ہے کہ شہرالبیضاءمیںدو سیکورٹی اہلکاروں کو پھانسی دینے والوں کو نہیں بخشا جائے گا۔ میڈیا کے مطابق البیضاء، بن غازی، طرابلس اور دیگر کئی علاقوں کی بجلی پانی اور گیس کی سپلائی روک دی گئی ہے اور انٹرنیٹ پر بھی مکمل طور پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔تمام سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ صدر قدافی اور انقلاب دو ایسی چیزیں ہیں کہ جن کے قریب آنے والوں کو سوچنے کا موقع بھی نہیں ملے گا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔ ہفتہ کے روز جہاں بن غازی اور البیضاءشہروں میں مظاہرین پر زبردست کریک ڈاﺅن کیا گیا اور ّسیکڑوں گرفتاریاں ہوئیں وہیں طرابلس میں صدر قذافی کی حمایت میں ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت قذافی کے بیٹے برگیڈیئر سعدی القذافی کر رہے تھے۔ یہ بھی سچ ہے کہ جہاں امریکہ، سویٹزرلینڈ اور لندن میں صدر قذافی کے خلاف مظاہرے ہوئے وہیں لندن کے ہالینڈ پارک میں کرنل قذافی کے حق میں ایک زبردست ریلی نکالی گئی اور اس ریلی میں امریکہ اور مغرب کے خلاف زبردست نعرے بازی کی گئی۔لیبیائی تجزیہ نگار نبیل الملکی کا کہنا ہے کہ لیبیا کی صورتحال کو امریکہ اور مغربی میڈیا زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے بیان کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ لیبیا میں عوام تنگ دستی یا جبر کا شکار نہیں ہیں۔ بن غازی شہر میں ہونے والے جمعہ اور ہفتہ کے مظاہروں میں مظاہرین دو حصوں میں بنٹے دکھائی دئے۔ ایک گروہ تو چاہتا تھا کہ قذافی حکومت چھوڑیں اور دوسروں کا ماننا تھا کہ وہ لیبائی صدر کے خلاف نہیں ہیں۔ حکمراں وہی رہیں بس تھوڑی سیاسی گھٹن اورآزادی عوام کو دے دی جائے۔عالمی و عرب کے غیر جانبدار تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ احتجاج خونی رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ میڈیا منظم سیکورٹی فورسز اور خود صدر قذافی کا مزاج انتقامی ہے۔ ماہرین اس سے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ لیبیائی صدر کسی بھی قیمت پر احتجاج کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سارا فساد امریکہ کا بویا ہوا ہے جو مسلسل لیبیائی عوام کو ورغلا رہے ہیں۔لیبیائی صدر ہمیشہ امریکہ اور اس کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں یہ سلسلہ تقریباً 30سال سے چل رہا ہے۔ یہ بات آن ریکارڈ ہے کہ امریکی سابق صدر رونالڈ ریگن لیبیائی صدر قدافی کی تنقید سے اس قدر عاجزآئے کہ کرنل قذافی کو پاگل جانور قرار دے دیا۔ دوسری جانب لیبیائی اخبار الفجر اور الجمہوریہ الیوم نے انکشاف کیا ہے کہ لیبائی سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس کی خصوصی ٹیموں نے ایک ایسے غیر ملکی گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے درجنوں گرفتاریاں کی ہیں،جو حالیہ امن مظاہروں کو پرتشدد بنا رہا تھا۔ اس نیٹ ورک کے بیشتر افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جو بن غازی ، البیضاءاور طرابلس میں مظاہروں کے دوران سرکاری املاک، دفاتر، بینک، تھانے، جیلوں وغیرہ پر حملے کر کے انہیںآگ لگا رہے تھے اور توڑ پھوڑ کررہے تھے۔لیبیائی سیکورٹی فورسز کے کمانڈر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس غیر معمولی تربیت یافتہ گروہ میں شامل افراد کا تعلق مصر ،تیونس ، سوڈان ، ترکی، لبنان، فلسطین اور شام سے ہے۔ لیبیائی اخبار الجدیدی کا کہنا ہے کہ اس غیر ملکی نیٹ ورک کے ڈانڈے اسرائیلی انٹیلی جنس افسر ایموس سے ملتے ہیں جو افریقی ممالک میں اسرائیلی انٹیلی جنس نیٹ ورک کو براہ راست دیکھتا ہے۔ العربیہ نیٹ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ مظاہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ قذافی نے اپنے دوست افریقی ملک چاڈ سے سینکڑوں سیکورٹی کمانڈوز کو طرابلس بلوایا ہے تاکہ مظاہرین کو بے رحمی، شدت اور وحشیانہ طریقہ سے قتل عام کیا جا سکے اور مظاہرین پر دہشت بٹھائی جا سکے۔ ایک رپورٹ کے مطابق لیبیائی فورسز جنگی جہازوں کے ذریعہ بھی عوام پر بمباری کر رہے ہیں اور مظاہرین کو مارنے کی غرض سے نشانہ بنا بنا کر قتل کیا جا رہا ہے۔ ان سنائپرز کی نگرانی قذافی کے صاحبزادے کر رہے ہیں۔ جس کے افریقی ممالک سے بہت دوستانہ تعلقات ہیں۔ برطانوی اخبار نے خبر دی ہے کہ سیکورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کے جنازوں پر بھی سیکورٹی فورسز کے سنائپرز نے اور ”الخمیس برگیڈ“نے فائرنگ کر کے کئی لوگوں کو نشانہ باندھ کر ہلاک کر دیا ہے۔ڈیلی میل کی غیر مصدقہ رپورٹ کے مطابق سیکورٹی فورسز کی جانب سے گن شپ ہیلی کاپٹرز اور بکتر بند گاڑیوں کی مدد سے مظاہرین کو کچل کر رکھ دیا گیا ہے۔ الجزیزہ کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز کو Shoot to Killکے ا?رڈر ز نہیں ہیں اور یہ فورسز عوام کو بہت بے رحمی سے قتل کر رہی ہیں۔ایک برطانوی اہلکار نے اشارہ دیا ہے کہ قذافی تریپولی چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں لیکن قذافی نے ملک کے نیشنل ٹی وی پرآ کر ثابت کر دیا کہ وہ لیبیا میں ہیں اورآخری دم تک طاقت کے ساتھ لڑیں گے اور دفن بھی لیبیا کی مٹی میں ہوں گے۔ یہ بات تو خیر ہر جاتا ہوا ظالم حکمراں کہتا ہے لیکن جس انداز میں قذافی اور ان کے صاحبزادے بول رہے ہیں اس سے ان کی مطلق العنانیتظاہر ہو رہی ہے گویا کہ ایک حکمراں نے اپنے ہی عوام کے ساتھ اعلان جنگ کر دیا ہو۔مصر اور تیونس میں عوامی بغات مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا عجیب واقع ہے اور اس سے بھی عجیب لیبیا کی بغاوت ہے۔ مصر میں پوری تحریک میں500افراد مارے گئے۔ آبادآٹھ کروڑ۔ لیبیا میں ابھی سے 600لوگ مارے جا چکے ہیں،آبادی 70لاکھ کے قریب ہے۔لیبیا کا رقبہ تو بہت بڑا ہے لیکن 80فیصد علاقہ ریگستان ہے۔ باقی 20فیصد علاقے میں ا?بادی ہے۔ لیبیا سے براہ راست رپورٹ کے مطابق تین دن میں سب سے بڑے شہر بن غازی میں250افراد مارے گئے۔ بغاوت کا زیادہ زور مشرقی اور جنوبی علاقوں میں رہا۔صرف دو روز میں بن غازی شہر کے اسپتالوں میں ایک ہزار سے زیادہ زخمی لائے گئے۔ بغاوت کے شروع ہوتے ہی چاڈ سے تقریباً500سنائپرز بلائے گئے جو عمارتوں کی چھتوں پر بیٹھ گئے اور نشانہ لگا کر مظاہرین کو ہلاک کرتے رہے لیکن ہجوم اتنا بڑا تھا کہ ان میں سے زیادہ تر لوگ مظاہرین کے ہاتھوں پکڑے گئے ، بہت سے سنائپرز فرار ہو گئے اور کچھ مظاہرین میں بھی شامل ہو گئے۔ کچھ فوجی دستوں کے عوام سے مل جانے کی بھی خبر ہے۔ بن غازی سمیت لیبیا کے بڑے مشرقی حصے پر مظاہرین کا کنٹرول ہے۔ قذافی کے بیٹے نے اپنے ایک احمقانہ بیان میں کنےڈا پر الزام لگایا ہے کہ حالات خراب ہونے میں کنےڈاکا ہاتھ ہے۔ حالانکہ کنےڈا کا کبھی بھی کوئی ایسا ریکارڈ نہیں ہے۔ یہ دنیا میں پہلی مثال ہے کہ کنےڈا پر کسی ملک کے حالات خراب ہونے کا الزام لگایا گیا ہو۔ یہ بہت غنیمت ہے کہ الزام نیپال یا سری لنکا پر نہیں لگایا۔ مقبول بات یہ ہوتی کہ الزام امریکہ یا اسرائیل پر لگاتے۔بڑی عجیب بات یہ ہے کہ ایک حکمراں نے اپنے ہی عوام کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے۔ اس اعلان جنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغربی لیبیا جو اب تک پر سکون تھا مظاہرے شروع ہو گئے اور دارلحکومت طرابلس بھی آگ کی لپیٹ میںآ گیا۔ مغربی لیبیا میںقذافی کا قبیلہ رہتا ہے۔ادھر سب سے بڑا قبیلہ ورفلا بھی باغی ہو گیا ہے۔ اوراس نے بھی علم بغاوت بلند کر دیا ہے۔انٹرنیٹ پر پابندی کے باوجود بن غازی اور دوسرے شہروں کی خبریں جیسے جیسے موبائل پر پھیلیں مغربی لیبیا بھی بغاوت پرآمادہ ہو گیا۔ زنانہ کپڑے پہننے کے شوقین قذافی تمام عالم عرب کے حکمرانوں سے زیادہ سخت گیر ہیں۔ قذافی کے محافظ دستوں میں عورتیں بھی ہیں لیکن مرد محافظ بھی زنانہ کپڑے ہی پہنتے ہیں۔ عوام اس وقت قذافی کے محل کو گھیرے ہوئے ہیں۔ قذافی سے تیونس کے صدر زین العابدین اور مصر کے صدر حسنی مبارک کوآخری وقت میں فون کئے اور ان سے جمے رہنے کو کہا۔ انہیں خود اپنی عوام کی بے چینی کا اندازہ ہی نہیں تھا۔ ٭٭٭٭

18:25 PM 13-03-2011
وہی منظر آج بھی ہے.... محمد احمد ترازی•

ہمارے ایک دانشوردوست کا خیال ہے کہ موجودہ زمانہ انسان اور خدا،انسان اور کائنات اور انسان سے انسان کے قدیم ترین رشتوں کو توڑنے کا زمانہ ہے، ا ±ن کا خیال ہے کہ مغربی فکر و فلسفہ اور جدید سائنس نے ا ±ن تمام انسانی رشتوں کو بری طرح توڑ پھوڑ کر رکھدیا ہے جو زمانہ قدیم سے لے کر آج تک انسانی زندگی کی معنویت کا تعین کرتے رہے اور جس کے بغیر انسانی زندگی کا تصور کرنا امر محال رہا ہے ،دور جدید میں انسانی رشتوں کی عزت،حرمت ، بے قدری اور بے توقیری کو دیکھتے ہوئے اپنے دانشوردوست کی بات سے سو فیصدی متفق ہونے کے باوجود ہمارا خیال یہ ہے کہ دور جدید نے صرف ان رشتوں کوہی توڑ پھوڑ کر نہیں رکھدیا بلکہ اِن کے معنی و مفہوم بھی بدل دیئے ہیں،آج انسانی تعلقات اور معیارات کے پیمانے بدل گئے ہیں کل تک انسان کی تمام تر جدوجہد اور سرگرمیوں کا مرکزا ±س کے قریبی رشتے ، دوست احباب ، عزیز و اقارب ہوا کرتے تھے لیکن آج کے جدید سائنسی دور میں انسان کی تمام تر جدوجہد اورسرگرمیوں کا مرکز انسان کی انسان سے محبت اور نفسیاتی و جذباتی وابستگی کے بجائے معاشی تگ و دو نے لے لی ہے اور اب انسانی رشتوں اور تعلقات کا پیمانہ بہتر معاشی آسودگی اور اعلیٰ اسٹیٹس کے گرد گھومتا ہے۔ گویا معاشی آسودگی کے حصول نے انسانی زندگی کے ا ±س نظام کو جو محبت ، رواداری اور اپنائیت کے جذبوں اور ایک دوسرے کے احساسات کے گرد گھومتا تھا کو بری طرح مسخ کردیا ،اور آج یہ حال ہوگیا کہ اگر آپ معاشی طور پر مستحکم اور آسودہ ہیں تو آپ کے گرد دوست احباب اور رشتے داروں کا ہجوم عام سی بات ہے لیکن اگر آپ کی مالی حالت اور معاشی پوزیشن اچھی نہیں تو دوست احباب تو کجا سگے رشتے دار بھی آپ کو پہچاننے سے انکار کردیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں اپنی قومی زندگی میں معاشرتی بے حسی اور سنگدلی کے یہ خوفناک مناظر جگہ جگہ بکھرے نظر آ تے ہیں،کہیں بھوک ،افلاس اور تنگدستی ہاتھوں مجبور باپ شفقت پدری کو مار کر اپنے تین ماہ کے بچے کو پانچ ہزار روپئے میں بیچ دیتا ہے توکہیں زرینہ جیسی ماں اپنی مامتا کا گلا گھونٹ کر اپنے پانچ جگر کے ٹکڑوں کو بیچنے کیلئے بازار میں لے آتی ہے،کہیں بشریٰ اپنے دو معصوم بچوں کے ساتھ ٹرین کے نیچے آکر غربت ،بھوک اور تنگدستی کے ہاتھوں تنگ آکر زندگی کی بازی ہار دیتی ہے، کہیں یاسمین اپنے تین بیٹیوں 12سالہ فائزہ، 9سالہ ایشا، 7سالہ جمیلہ اور 10سالہ بیٹے عدنان کو ،گل تاج بی بی اپنی دو بیٹوں 8سالہ عرفان اور 5سالہ عثمان کو اور رخسانہ اپنے دو بچوں 5سالہ وردہ اور 6سالہ نمرہ کو غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر کراچی کے ایدھی ہوم میں جمع کرانے پہنچ جاتی ہیں اور کہیں رضوان نامی غریب باپ سوکھے کی بیماری کا شکار اپنی پانچ سالہ بچی انعم کو کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیتا ہے۔ غربت ،بھوک اورتنگدستی کے ہاتھوں مجبور ہوکر ملتان کی رہائشی خاتون زرینہ کا برائے فروخت کا بورڈ لگاکر کمہارانوالہ چوک پر اپنے چار بچوں کو فروخت کرنے کیلئے کھڑا کردیناہو یا لاہور میں سیون اپ اسٹاپ پر اپنے دو بچوں سمیت خودکشی کرنے والی بشریٰ بی بی کی دردناک موت ہویا کراچی کی رہائشی یاسمین،گل تاج بی بی اور رخسانہ کا اپنے 8بچوں کو ایدھی ہوم کے حوالے کرنا ہو ، یا رضوان کا اپنی بچی کو کوڑے کے ڈھیر پر پھیکنا ہو ،اہل وطن کیلئے یہ سب خبر یں ہرگز نئی نہیں ہیں ، روزانہ نامعلوم کتنے لوگ مفلسی اور بھوک سے تنگ آکر اپنے اعضاءبیچنے ، کتنی مائیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہیں،اور کتنی بشرائیں ہیں جو پانچ سالہ زبیر اور تین سالہ معصوم صائمہ کے ساتھ بھوک اور افلاس کے ہاتھوں تنگ آکر زندگی کی بازی ہار رہی ہیں، کتنے رضوان اور کتنی یاسمین،گل تاج اور رخسانہ بی بی ہیں جو اپنے جگر کے ٹکڑوں کو ایدھی ہوم میں جمع کرانے یا کوڑھے کے ڈھیر پر پھیکنے پر مجبور ہیں۔ لیکن ارباب اقتدار اصل وجہ جاننے کے باوجود بھی اِس قسم کے واقعات کی روک تھام ، ا ±س کے تدارک اور کوئی مستقل حل تلاش کرنے سے معذورہیں ، روزمرہ زندگی میں پے درپے پیش آنے والے اِس قسم کے واقعات اور حالات کا جائزہ لینے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے جس طرح زرینہ کا اپنے بچوں کو فروخت کرنے کا اعلان ہمارے معاشرے میں کوئی پہلا اعلان نہیں تھا، بالکل ا ±سی طرح بشریٰ بی بی کی اپنے معصوم بچوں سمیت المناک موت ،رضوان کا اپنی بچی کو پھیکنااور یاسمین ،گل تاج بی بی اور رخسانہ کا اپنے بچوں کو ایدھی ہوم کے حوالے کرنا ہمارے گلے سٹرے معاشرے کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس طرح کے واقعات تو اب ہماری روز مرہ زندگی کا معمول بن چکے ہیں۔ اِس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک میں غربت کی شرح ستر فیصد سے تجاوز کرچکی ہے اور پانچ کروڑ سے زائد افراد غربت کی زندگی گزارہے ہیں،بیروز گاری میں % 8 سالانہ کے حساب سے اضافہ ہورہا ہے، مجموعی شہری آبادی کا پانچواں حصہ غریبی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے ،ہر سال ملک میں50لاکھ بیروزگاروں کا اضافہ ہورہا ہے ،ملک کی 70% آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار کر جسم و جاں کے رشتے کو باقی رکھتے ہوئے زندگی گزارنے کی کوشش کرر ہی ہے،پاکستان کے کل آباد رقبے کی 55فیصد کچی آبادیاں زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں،ملک کی60فیصد آبادی کو پینے کاصاف پانی اور دیگر بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہیں،ملک کی نصف سے زائد آبادی ناخواندگی کی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی ہے، غربت و افلاس اس حد تک قحط کی صورت اختیار کرگئی ہے کہ غریب عوام کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول ناممکن ہوگیا ہے، لوگ بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور ہوکر خودکشی کر رہے ہیں۔ غربت و محرومی کی یہ داستان بڑی طویل ہے لیکن ان تلخ حقائق کے باوجوداِس غریب ملک کے حکمرانوں کے اللّے تلّلے اور شاہ خرچیوں کا یہ عالم ہے کہ ملک کے صرف ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ 17.5کنال پر محیط ہے ،جس کی تزئین و آرائش اور تعمیر نو پرسابقہ حکومت نے اربوں روپئے خرچ کیے گئے، اس دور میں ایوان صدر کے انتظام اور رکھ رکھاو ¿ کے اخراجات 29کروڑ اور ایوان صدر کے باغات کی دیکھ بھال کا بجٹ 70لاکھ روپئے سالانہ تھے ،اسی طرح سابقہ دور میں وزیر اعظم ہاو ¿س کا سالانہ خرچ 53کروڑ 87لاکھ روپئے تھا،وزراءکی فوج ظفر موج کیلئے کیبنٹ ڈویڑن کے بجٹ میں 14کروڑ روپئے اور خفیہ فنڈ کی مد میں 40لاکھ روپئے رکھے جاتے ہیں،حکمرانوں کے بیرونی سفر بھی اس غریب ملک کے محدود وسائل کے بدترین استعمال کی شرمناک مثال ہیں، سابقہ دور میں ایک ایک سفر میں پانچ پانچ دس دس نہیں 60،60شرکاءسفر کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا رہا،اور کوئی مہینہ ایسا نہیں گزراجب صدر یا وزیر اعظم نے کسی بیرونی ملک کا رخت سفر نہ باندھاہو،قومی خزانے پر اِن دوروں سے پڑنے والے مالی بوجھ کا اندازہ صرف صدر ، وزیراعظم اور ا ±ن کے ہمراہ جانے والے افراد کی مد میں کئی ارب روپئے سے زیادہ لگایا گیا ، جبکہ صدر ،وزیراعظم،وزرائے کرام،ارکان پارلیمنٹ اور اعلیٰ سرکاری حکام کے سالانہ دوروں پر مجموعی اخراجات کا تخمینہ 4ارب روپئے سے زیادہ بیان کیا جاتا ہے۔ بد قسمتی سے جو حال کل تھا وہی منظر آج بھی ہے، کردار ضرور بدل گئے لیکن منظر نہیں بدلا،جس ملک کے عام شہری کو سائیکل ،موٹر سائیکل یا اچھی ٹرانسپورٹ میسر نہیں اس ملک کے حکمرانوں کیلئے قیمتی ہوائی جہاز اور لگڑری کاریں،جیپیں اور مرسڈیز بینز گاڑیاں منگوائی جائیں، زندہ معاشروں اور قوموں میں مضبوط قانون اور بلند اخلاقی سطح کے ہوتے ہوئے کبھی بھی کسی بھی حکمران کو اِس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ چیف منسٹر ہاوس، ایوان صدر ،اور ایوان وزیراعظم کی دیکھ بھال ،مہمانوں کی تواضع اور دیگر لوازمات اور وزراءو مشیروں کی فوج ظفر موج کے ساتھ بیرون ملک دوروں پر ملک و قوم کی خطیر رقم خرچ کریں اور مراعات و آشائش کے حصول کیلئے اپنی مرضی و منشا کا قانون بنائیں، عوام کے خادم اور غلام ہونے کے بجائے عوام کو اپنا خادم اور غلام سمجھیں،اور ا ±ن کی طرز زندگی مفلوک الحال عوام کے برعکس عیش و عشرت ، خود غرضی اور ذاتی نمود ونمائش کی آیئنہ دار ہو، قوم نے دیکھا کہ حکمرانوں کے ایوانوں کی دیواریں بلند تر ہوتی گیئں لیکن غربت و افلاس کی ماری عوام کوپیٹ بھر روٹی،پینے کا صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولتیں تک میسر نہیں ہوئیں۔ جبکہ ہر دور میں ارباب اقتدار کے دستر خوان انواع اقسام کے کھانوں اور مرغ ِمسلم سے سجے رہے ،غریب کو کفن کیلئے کپڑا نصیب نہیں تھا لیکن حکمرانوں کو خیر مقدمی بینر کیلئے ہمیشہ ریشمی کپڑوں کے تھانوں کے تھان دستیاب رہے ، اِس وقت ایک عام آدمی بھوک ،افلاس اور مہنگائی کے جس خوفناک صحرا میں کھڑا ہے ا ±س کی ایسی کوئی دیوار نہیں جس سے وہ سر ٹکرا ٹکرا کر مرجائے،جس قبر نما گھر میں وہ رہتا ہے اس میں پاو ¿ں پھیلانے کی صورت میں گھر کا حدود اربعہ ختم ہوجاتا ہے، روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اِس دور میں عام آدمی کو اپنے خانگی اور معاشی مسائل سے نبرد آزماءہونے کیلئے کم ازا کم 25ہزار روپئے ماہانہ درکار ہیں،جبکہ حکومت کم از کم تنخواہ چھ ہزار روپیئے مقرر کرکے سمجھتی ہے کہ اس نے ہر عام آدمی کے تمام مسائل حل کردیئے ہیں۔ اِس بات میں قطعا ً کوئی مبالغہ نہیں کہ اِس نظام زر کے ناخداو ¿ں اور ملک کے فرمانرواو ¿ں کا ایک ایک ڈرائنگ روم اور ا ±س میں سجے ہوئے نوادرات اور نمائشی ظروف اس ملک کے ہزاروں عام آدمی کے مکانات سمیت مجموعی اثاثے سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں، جناب صدر محترم اور محترم وزیر اعظم صاحب گستاخی معاف ایسے میں لوگوں کو صرف وعدوں سے بہلانا ،تقریروں سے جھوٹی تسلی دینا اور صبر کی تلقین کے ذریعےاپناہم خیال بنالینا ممکن نہیں رہا ہے، عوام اب باشعور ہوچکے ہیں اور اپنے ادرگرد کے حالات پر نظر رکھتے ہیں،آج ہر آدمی اپنے شکم کی آگ بجھانے اور زندگی کی ڈور کا سرا تھامے رکھنے کی تگ و دو میں بری طرح مصروف ہے ، اِس وقت مہنگائی،غربت،بے روزگاری،اور بھوک و افلاس نے عوام کو زندہ درگور کردیا ہے جس کا زندہ ثبوت غربت اور مہنگائی کے ہاتھوں مجبور ہوکر ماو ¿ں کا اپنے بچوں کا بیچنا ، معصوم بچوں سمیت خودکشی کرنایا ایدھی ہوم کے حوالے کرنا بھی ہے۔ معاشرے میں غربت و مہنگائی اور فاقہ کشی کے ہاتھوں موت جیسے سانحات کا جنم لینا سابقہ حکومت کی ا ±س آٹھ سالہ خوشحال ٹریکل ڈاو ¿ن پالیسی کا اعادہ ہے جس کے ثمرات کا نتیجہ کراچی تا خیبر تک بچوں کی خرید و فروخت ،موت ،کچراخانوں پر پھیکنے اور یتم خانوں کے حوالے کرنے کی شکل میں بکھرا ہوا ہے ، گو کہ موجودہ حالات میں کچھ مخیر حضرات اور مختلف سیاسی تنظیموں کی جانب سے ان خاندانوں کی امداد کا اعلان یقینا ایک اچھاقدم ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا غربت و افلاس کی ماری ہر ماں کو اپنے لخت جگر بیچ کر، موت کی وادی سے گزار کر ،کوڑے کے ڈھیر پر پھینک کر یا خیراتی اداروں میں داخل کراکے ارباب اقتدار کی توجہ حاصل کرنا ہوگی ؟ ٭٭٭٭٭

18:25 PM 13-03-2011
حکومت کا تعلیمی انقلاب اور غریب والدین ...........سیدعباس علی شاہ•

ہمارے ملک کے سیاستدانوں کو غریبوں کی کمزوریوں کا بخوبی علم ہو چکا ہے انہیں سامنے رکھ کر جذبات سے کھلنے کے عادی ہوچکے ہیں قائداعظم محمد علی جناح کے بعد آج تک سیاسی جماعتیں ہر الیکشن میں بطور منشور کسی ایک کمزوری کا نعرہ لگا کر مقبولیت کی منازل طے کرتے ہیں بھولی بھالی عوام نعرہ کے باعث مفاد پرستوں کی چال میں پھنس جاتے ہیں اور سیاست دانوں کی اکثریت کامیاب ہو نے کے بعد اپنا رنگ بدل لیتے ہیں اور غریبوں کا خون چوسنے کی ترکیبیں ڈھونڈنے لگتے ہیں امیرزادوں کے اس مشغلے نے غریبوں کے لئے یہ ملک مسا ئلستان بنا دیا ہے بگڑے حکمرانوں کی شاہ خرچیوں سے دلبرداشتہ ہو کر خودکشیاں کر جاتے ہیں ماں کی گود سے فرصت ملتے ہی جس ادارے سے بچے یا بچی کا پالا پڑتا ہے اس پر ایک نظر ڈال لی جائے سابقہ دور حکومت میں ہم نے ٹی وی چینلوں کو مصیبت ڈالی ہوئی تھی کہ فرق صاف ظاہر ہے ،فرق تو پڑتا ہے کارکردگی سے ، کارکردگی 100% ہے اب ذراسیالکوٹ کے گردونواح ، اگوکی ،بھگوال اعوان ، نواں پنڈ آرائیاں ، چنوں موم ، خان پور سیداں ، گنہ کلاں ،پنڈال ، موماں کلاں ، دلچیکے، ویرم ،بھنڈر ، کلووال ، کھمبرانوالہ ، کپورووالی الغرض اگر سارے دیہات یا شہری علاقے کے تمام سکول لکھے گئے تو پورا اخبار چاہئیے ان سکولوں میں پینے کا پانی ،واش روم اور چند ایک چاردیواری سے بھی محروم ہیں سٹاف یا تو ہوتا ہی نہیں اگر ہے تو بعض حضرات اور معلمات وقت پورا کرنے کے عادی ہیں پہلے ٹاٹ سکولوں سے ملا کرتے تھے اب بوریاں یا کرسیاں گھروں سے لا نی پڑتی ہیں حکومت نے داخلہ فری کیا مگر بعض معلمات نے امداد کے نام پر داخلہ فیس رکھ لی جیسے سکول کے ترقیاتی کام معلمات ہی نے کرانے ہیں بلکہ پولیس کے ساتھ ساتھ بعض معلمات بھی میدان میں اتر چکی ہیں مار کا سلسلہ بند ہونے کے بعد تشدد کا طریقہ کار تبدیل کرلیا تاکہ میڈیکل رپورٹ میں ثابت نہ ہو سکے سکولوں کو درس گا ہ کی بجائے اتھلیٹ سنٹر سمجھ کر سزا کے طور پر معصوم اور نازک مزاج طالبات سے ڈنڈ بیٹھکیں لگوائی جاتی ہیں جس سے ٹانگوں اور بازو ¿ں میں خون منجمد ہو جاتا ہے اور اکثر بچیاں بیماری کا شکار ہو جاتی ہیں اور کئی کئی دن سکول آنے کی سکت نہیں رہتی ہم کروڑوں روپیہ تشہیری مہم پر ضائع تو کردیتے ہیں لیکن سکولوں کی طالبات کو سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہیں حالانکہ تشہیری رقوم کو خلوص دل سے غریبوں کی آنے والی نسلوں کے تعلیمی مراکز پر خرچ ہو جائے تو آج یقیناً کوئی بچی یا بچہ فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتا نہ دکھائی دیتا اورطلباءو طالبات سکول سے واپسی پر گردوغبار میں اٹے نظر نہ آتے ہم نے تو اپنوں کو نوازنے کےلئے تعلیم پالسیوں پر بھی نبرد آزمائی کی ہر دوسرے سال طریقہ کار بدلتے رہے کبھی ناویں دسویں کا امتحان علیحدہ کردیتے اور کبھی اکٹھا کرلیتے یہ معرکہ کئی بار مارا گیا جس سے ہزاروں طلباءو طالبات متاثر ہوئیں امتحانات کا مقررہ وقت بھی کئی بار تبدیل ہوا جس سے فری کتابوں کی فراہمی میں مسلسل بے ضابطگیاں ہوئیں کیونکہ فری کتابیں رزلٹ کے فوراً بعد دینے کی بجائے موسم گرما کی چھٹیوں کے بعد دی جاتی تھیں جس سے ایک بار والدین بچوں کو فارغ پھرنے سے بچسنے کےلئے دوکان سے خریدتے اور دوسری بار چھٹیوں کے اختتام پر سکول میں سے لیتے اس طرح کتاب کی خریداری دو بار ہوتی جو دوکان سے خریدنے کی سکت نہ رکھتے ان کے بچے ساری چھٹیاں آوارہ گردی کرتے جبکہ حکومتوں کے پڑے لکھے پنجاب تعلیمی نظام میں فقدان پیدا کرنے کی لمبی سازش میں تعلیمی اخراجات کو ٹی وی اخبارات کی تشہیری مہم میں ضائع کیا جاتا ہے سکولوں کو ماڈل بنانے کی رٹ لگانے والوں نے غریب زادوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کی بجائے ہمیشہ پیچیدگیاں پیدا کیں جس کے باعث غریب بچہ یا تو فیکٹری کا ایندہن بن جاتا ہے یا جرائم پیشہ افراد کے ہتھے چڑھ جاتا ہے ویسے بھی ہمیں سرکاری سکولوں کی فلاح و بہبود کی کیا ضرورت ہے ؟ ان کے اپنے بچے پرائیویٹ سکولوں میں جاتے ہیں اسی لئے سرکاری اساتذہ اور معلمات کی بے ضابطگیوں کی پشت پناہی کا کارنامہ بھی سیاست دان ہی سرانجام دیتے ہیں اگر ان کے اپنے بچے متاثر ہوتے ہوں تو سرکاری سکولوں کا سٹاف کبھی بھی گھر بیٹھے تنخواہیں اور مراعات لینے نہ پائیں دوسرے معاشروں میں بچے قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں مگر ہم آج تک قوم ہی نہیں بن سکے ایک ہجوم ہیں تو بچے مشترکہ سرمایہ کیسے بنے بڑوں ،رئیس زادوں ، آفیسر شاہی اور اسٹیبلیشمنٹ پہلے روز سے ہی اپنے بچوں کے حقوق کے تحفظ میں لگ جاتے ہیں تاکہ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کےلئے غریب کے بچے کو چانس نہ ملنے پائے حالانکہ عدم توجہی کے باعث غریب قوم کا سرمایہ ضائع ہورہا ہے یا پھر یہ پالیسی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس لئے بنائی گئی ہو گی کہ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے غریبوں کی دہلیز پر تعلیم پہنچانے کی خاطر پرائیویٹ سکولوں کو تحویل میں لیا ، سٹوڈینٹس کے کرائے معاف کئے غریبوں کو خوشحال کرنے کےلئے بیرون ملک بھجوانے کا سلسلہ شروع کیا فیسیں معاف کیں تو ان کے ساتھ ہماری وڈیرا شاہی ، ایسر شاہی ، اسٹیبلشمنٹ بلکہ امریکہ بہادر نے غریبوں کی حالت زار تبدیل ہوتی دیکھی تو سازش کے تحت شہید کرادیا شہید کے انجام کو دیکھ کر شائد آج کے حکمرانوں نے غریب مخالف پالیسیوں کا تہیہ کیا ہوا ہے جبکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔ ٭٭٭٭٭

18:25 PM 13-03-2011
امریکاکی نئی چال........... محمداعظم عظیم اعظم•

آج امریکاجتنا سنجیدہ پاکستان میں قیداپنے سی آئی اے کے کنٹریکٹر دوپاکستانیوں کے قاتل ریمنڈڈیوس (ریمنڈدَیُوس) کو بچانے کے لئے ہے اتنا تویہ دورِ مشرف میں بے گناہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان سے لے جانے کے لئے بھی شائد نہ رہاہومگر اُس وقت کے ہمارے حُکمرانوں نے اِس کے اُس غیر سنجیدہ پن کوبھی اپنے اوراپنی حکومت کی بقا کے لئے امریکی غیض وغضب جانااور قوم کی معصوم بیٹی ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو امریکا کے حوالے یوں کردیاکہ جیسے اُس معصوم سی جان ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی اِن کی نظر میں اُن کی اپنی جان اور اپنی حُکومت سے زیادہ کوئی اہمیت ہی نہ ہواوراِس طرح اُنہوںنے اپنے اِس فعلِ شنیع سے امریکی خُوشنودی توحاصل کرلی مگر ساتھ ہی اُنہوںنے امریکاکویہ بھی بتادیاکہ یہ اپنے مفادات کے خاطرہروہ فعلِ مکروہ بھی کرگزرنے کی ہمت رکھتے ہیںجس کو دنیاکا کوئی بھی حکمران اپنے ملک اورقوم کے وقارکومجروح کرنے سے انکاری ہواِس طرح ہمارے سابقہ حکمرانوںنے قوم کی بیٹی ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو امریکاکے حوالے کرکے جہاںاپنی حکمرانی کی عمرلمبی کی تو وہیں اُنہوںنے قوم کی عزت و غیرت کا بھی سُوداکردیاتھا۔اورآج یہی وجہ ہے کہ امریکااپنے سی آئی اے کے کنٹریکٹردوپاکستانیوں کے قاتل ریمنڈڈیوس(ریمنڈدَیُوس)کوبچانے کے لئے ہر وہ دباو ¿پاکستانیوںپر ڈال رہاہے جوخلافِ ضابطہ ہے تو غیراَخلاقی بھی کیونکہ امریکایہ چاہتاہے کہ پاکستانی اِس کے ہر سیاسی ،معاشی اور اِخلاقی دباو ¿اورحربوںسے پر یشان ہوجائیںاوراِس کے سی آئی اے کے کنٹریکٹردوپاکستانیوںکے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو رہاکردیںجس کے لئے اِس نے امریکامیںمُقیم ایک اعلیٰ سطح کے افسر کے ساتھ مل کر ایک حربہ یہ بھی استعمال کرنے کامنصوبہ بنایا ہے جس کوامریکا نے اپنے مفاد میںبہتر جانتے ہوئے مستر د نہیں کیا کیونکہ امریکا یہ چاہتاہے کہ ریمنڈڈیوس کا معاملہ 14مارچ سے قبل عدالت میں جانے سے پہلے ہی حل ہوجائے اِس لئے امریکانے اِس پر اپناہرقدم پر ہر ممکن تعاون کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے ۔ جس سے متعلق گزشتہ دنوں ملک کے ایک انتہائی مو ¿قرکثیرالاشاعت روزنامے میںاِس کے رپورٹر کے نام کے ساتھ صفحہ ¿ اول پر ایک دوکالمی خبرشائع ہوئی ہے جس میںتھا کہ ”مشرق وسطی ٰ کے اِسلامی ممالک کی مددسے دوپاکستانیوںکے قتل میں ملوث پاکستان میں گرفتار سی آئی اے کے کنٹریکٹراورامریکی شہری ریمنڈڈیوس کی رہائی کے سلسلے میں لواحقین کوخون بہااداکرکے جیل سے باہر لانے کے لئے بات چیت جاری ہے اوردونوں نوجوانوںکے اہلخانہ کوبرادرخلیجی ممالک میں خُون بہاکی رقم کے حوالے سے بات چیت کرنے کے لئے خاموشی سے مدعو بھی کیاجاسکتاہے اِس کے علاوہ خبر میںیہ بھی تھا کہ اگر ورثاءخُون بہاپر راضی ہوجاتے ہیں تو پاکستانی عدالت میںریمنڈڈیوس کے خلاف مقدمے کی کارروائی کاباقاعدہ آغازہوسکے گا۔یہاںسوال یہ پیداہوتا ہے کہ جب کسی بھی ایک خلیجی ملک یاممالک میں دونوں پاکستانی مقتولین نوجوانوںکے ورثاءکو مدعوکرکے خُون بہااداکرہی دیاجائے گا تواِس کے بعد ایک طرح سے مرحومین کے ورثاجب خُون بہاکی رقم لے کر امریکی شہری اور سی آئی اے کے کنتریکٹر ریمنڈ ڈیوس کو معاف ہی کردیں گے تو پھرپاکستانی عدالت میںریمنڈڈیوس پر مقدمہ کیسے چل سکے گا.....؟؟؟اورجہاںتک سوال یہ پیداہوتاہے کہ دوپاکستانیوںکے قاتل امریکی شہری ریمنڈڈیوس کوبچانے کے لئے امریکی اشارے پر کوئی خلیجی ملک دوپاکستانیوںکے مقتولین کو خُون بہااداکرنے کی پیشکش کررہاہے تو اُس وقت یہ خلیجی ملک اپنی یہی خدمت انجام کیوں نہیںدے سکاکہ جب سعودی شہزادے شاہ فیصل کے قتل کے بعد اِس خلیجی ملک نے اِن کے قاتل کی طرف سے شاہ فیصل کے ورثاءکو خُون بہاکی یہ پیشکش کرکے قاتل کو سعودی قانون کے مطابق سزائے موت سے بچانے کی کوشش کیوں نہ کی.....؟؟؟ جواَب امریکاکے کہنے پر خلیجی ممالک امریکی شہری ریمنڈڈیوس کو بچانے کے لئے دوپاکستانیوں کے ورثاءکواپنے یہاںبلاکراِنہیںخُون بہااداکرنے پر تلے بیٹھے ہیں کیامحض اِس لئے کہ یہ کسی بھی طرح سے امریکی دہشت گرد کریم سے تعلق رکھنے والے سی آئی اے کے ایجنٹ ریمنڈڈیوس کو بچاکرامریکی خُوشنودی حاصل کرسکیںبہرکیف!امرواقعی یہ ہے کہ پاکستانی حکمران اَب یہ بات اچھی طرح سے مان لیں کہ امریکابھی یہ جانتاہے دوپاکستانیوں کے قاتل امریکی شہری اور سی آئی اے کے ایجنٹ ریمنڈڈیوس کو سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے مگر پھر بھی یہ اِسے سفارتی استثنیٰ دلاکر کسی بھی طرح سے پاکستان سے اِسے زندہ نکال کرلے جاناچاہتاہے کیونکہ امریکایہ بھی خُوب جانتاہے کہ ریمنڈڈیوس کا زندہ رہنااِس کے لئے کتنااہم ہے یہ )دہشت گردی اوردہشت گردوںکے نیٹ ورک کو کنٹرول کرنے کا)وہ کام جو ریمنڈڈیوس پاکستان میںرہ کرتایہی کام ریمنڈڈیوس امریکامیں رہ کربھی کرسکتاہے بس ایک مرتبہ یہ کسی بھی طرح سے زندہ پاکستان سے نکل جائے۔ آج امریکاجتنا سنجیدہ پاکستان میں قیداپنے سی آئی اے کے کنٹریکٹر دوپاکستانیوں کے قاتل ریمنڈڈیوس (ریمنڈدَیُوس) کو بچانے کے لئے ہے اتنا تویہ دورِ مشرف میں بے گناہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان سے لے جانے کے لئے بھی شائد نہ رہاہومگر اُس وقت کے ہمارے حُکمرانوں نے اِس کے اُس غیر سنجیدہ پن کوبھی اپنے اوراپنی حکومت کی بقا کے لئے امریکی غیض وغضب جانااور قوم کی معصوم بیٹی ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو امریکا کے حوالے یوں کردیاکہ جیسے اُس معصوم سی جان ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی اِن کی نظر میں اُن کی اپنی جان اور اپنی حُکومت سے زیادہ کوئی اہمیت ہی نہ ہواوراِس طرح اُنہوںنے اپنے اِس فعلِ شنیع سے امریکی خُوشنودی توحاصل کرلی مگر ساتھ ہی اُنہوںنے امریکاکویہ بھی بتادیاکہ یہ اپنے مفادات کے خاطرہروہ فعلِ مکروہ بھی کرگزرنے کی ہمت رکھتے ہیںجس کو دنیاکا کوئی بھی حکمران اپنے ملک اورقوم کے وقارکومجروح کرنے سے انکاری ہواِس طرح ہمارے سابقہ حکمرانوںنے قوم کی بیٹی ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو امریکاکے حوالے کرکے جہاںاپنی حکمرانی کی عمرلمبی کی تو وہیں اُنہوںنے قوم کی عزت و غیرت کا بھی سُوداکردیاتھا۔اورآج یہی وجہ ہے کہ امریکااپنے سی آئی اے کے کنٹریکٹردوپاکستانیوں کے قاتل ریمنڈڈیوس(ریمنڈدَیُوس)کوبچانے کے لئے ہر وہ دباو ¿پاکستانیوںپر ڈال رہاہے جوخلافِ ضابطہ ہے تو غیراَخلاقی بھی کیونکہ امریکایہ چاہتاہے کہ پاکستانی اِس کے ہر سیاسی ،معاشی اور اِخلاقی دباو ¿اورحربوںسے پر یشان ہوجائیںاوراِس کے سی آئی اے کے کنٹریکٹردوپاکستانیوںکے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو رہاکردیںجس کے لئے اِس نے امریکامیںمُقیم ایک اعلیٰ سطح کے افسر کے ساتھ مل کر ایک حربہ یہ بھی استعمال کرنے کامنصوبہ بنایا ہے جس کوامریکا نے اپنے مفاد میںبہتر جانتے ہوئے مستر د نہیں کیاکیونکہ امریکا یہ چاہتاہے کہ ریمنڈڈیوس کا معاملہ 14مارچ سے قبل عدالت میں جانے سے پہلے ہی حل ہوجائے اِس لئے امریکانے اِس پر اپناہرقدم پر ہر ممکن تعاون کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے ۔ جس سے متعلق گزشتہ دنوں ملک کے ایک انتہائی مو ¿قرکثیرالاشاعت روزنامے میںاِس کے رپورٹر کے نام کے ساتھ صفحہ ¿ اول پر ایک دوکالمی خبرشائع ہوئی ہے جس میںتھا کہ ”مشرق وسطی ٰ کے اِسلامی ممالک کی مددسے دوپاکستانیوںکے قتل میں ملوث پاکستان میں گرفتار سی آئی اے کے کنٹریکٹراورامریکی شہری ریمنڈڈیوس کی رہائی کے سلسلے میں لواحقین کوخون بہااداکرکے جیل سے باہر لانے کے لئے بات چیت جاری ہے اوردونوں نوجوانوںکے اہلخانہ کوبرادرخلیجی ممالک میں خُون بہاکی رقم کے حوالے سے بات چیت کرنے کے لئے خاموشی سے مدعو بھی کیاجاسکتاہے اِس کے علاوہ خبر میںیہ بھی تھا کہ اگر ورثاءخُون بہاپر راضی ہوجاتے ہیں تو پاکستانی عدالت میںریمنڈڈیوس کے خلاف مقدمے کی کارروائی کاباقاعدہ آغازہوسکے گا۔یہاںسوال یہ پیداہوتا ہے کہ جب کسی بھی ایک خلیجی ملک یاممالک میں دونوں پاکستانی مقتولین نوجوانوںکے ورثاءکو مدعوکرکے خُون بہااداکرہی دیاجائے گا تواِس کے بعد ایک طرح سے مرحومین کے ورثاجب خُون بہاکی رقم لے کر امریکی شہری اور سی آئی اے کے کنتریکٹر ریمنڈ ڈیوس کو معاف ہی کردیں گے تو پھرپاکستانی عدالت میںریمنڈڈیوس پر مقدمہ کیسے چل سکے گا.....؟؟؟ اورجہاںتک سوال یہ پیداہوتاہے کہ دوپاکستانیوںکے قاتل امریکی شہری ریمنڈڈیوس کوبچانے کے لئے امریکی اشارے پر کوئی خلیجی ملک دوپاکستانیوںکے مقتولین کو خُون بہااداکرنے کی پیشکش کررہاہے تو اُس وقت یہ خلیجی ملک اپنی یہی خدمت انجام کیوں نہیںدے سکاکہ جب سعودی شہزادے شاہ فیصل کے قتل کے بعد اِس خلیجی ملک نے اِن کے قاتل کی طرف سے شاہ فیصل کے ورثاءکو خُون بہاکی یہ پیشکش کرکے قاتل کو سعودی قانون کے مطابق سزائے موت سے بچانے کی کوشش کیوں نہ کی.....؟؟؟جواَب امریکاکے کہنے پر خلیجی ممالک امریکی شہری ریمنڈڈیوس کو بچانے کے لئے دوپاکستانیوں کے ورثاءکواپنے یہاںبلاکراِنہیںخُون بہااداکرنے پر تلے بیٹھے ہیں کیامحض اِس لئے کہ یہ کسی بھی طرح سے امریکی دہشت گرد کریم سے تعلق رکھنے والے سی آئی اے کے ایجنٹ ریمنڈڈیوس کو بچاکرامریکی خُوشنودی حاصل کرسکیںبہرکیف!امرواقعی یہ ہے کہ پاکستانی حکمران اَب یہ بات اچھی طرح سے مان لیں کہ امریکابھی یہ جانتاہے دوپاکستانیوں کے قاتل امریکی شہری اور سی آئی اے کے ایجنٹ ریمنڈڈیوس کو سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے مگر پھر بھی یہ اِسے سفارتی استثنیٰ دلاکر کسی بھی طرح سے پاکستان سے اِسے زندہ نکال کرلے جاناچاہتاہے کیونکہ امریکایہ بھی خُوب جانتاہے کہ ریمنڈڈیوس کا زندہ رہنااِس کے لئے کتنااہم ہے یہ )دہشت گردی اوردہشت گردوںکے نیٹ ورک کو کنٹرول کرنے کا)وہ کام جو ریمنڈڈیوس پاکستان میںرہ کرتایہی کام ریمنڈڈیوس امریکامیں رہ کربھی کرسکتاہے بس ایک مرتبہ یہ کسی بھی طرح سے زندہ پاکستان سے نکل جائے بس..پھر دنیادیکھے گی کہ یہ ریمنڈڈیوس کسی زخمی آدم خُور شیرکی طرح امریکامیںرہ کر پاکستانیوںپرکیسے...؟ ٭٭٭٭٭

18:25 PM 13-03-2011
خود فریبی! .....................عرفان صدیقی•

کسی بھی بحث کا دروازہ کھولتے وقت اس حقیقت مسلمہ کوپیش نظر رکھنا ہوگا کہ سیاست گری فوج کا کام نہیں۔ کم از کم پاکستان کی تاریخ نے اس تصور پر فولادی مہر ثبت کردی ہے کہ فوج کی حکمرانی نے ہمیشہ کانٹوں کی فصل بوئی۔ آئین کی غارت گری اور طویل آمریتوں نے مسیحائی کے نام پر اتنے گہرے زخم لگائے ہیں کہ بھرنے میں نہیں آرہے ۔ طالع آزماو ¿ں کی اس مہم جوئی کے نتیجے میں پاکستان دو ٹکڑے ہوگیا۔ بنگلہ دیش تو ذرا سا لڑکھڑانے کے بعد سنبھل گیا لیکن بھارت کے ہاتھوں شرمناک شکست کے بعد بھی بچے کھچے پاکستان کو بیس برس تک اپنی غیر آئینی حکمرانی کے پنجہ ستم میں جکڑتے وقت جرنیل شاہی کو کوئی سبکی محسوس نہ ہوئی۔ آج ہم جونکوں کی طرح قوم و ملک کا لہو چوستے مسائل کی پرتیں کھولنے بیٹھیں تو نس نس میں آمریت کے زہریلے جرثومے چھپے دکھائی دیں گے ۔ ایک نیک نام اور نیک نفس شخص‘ جسٹس حمود الرحمن نے سقوط ڈھاکہ کے محرکات کا سراغ لگاتے ہوئے کہا تھا ایسے سانحوں سے بچنا ہے تو فوج کو سیاست سے دور رکھنا ہوگا۔ حکمرانی صرف عوام کے منتخب نمائندوں کا استحقاق ہے ۔ وہ جیسے بھی ہوں۔ سو یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ فوج سیاست سے دور رہتے ہوئے پوری توجہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر مرکوز رکھے ۔ ”ڈسپلنڈآمریت“ کے نعرے میں بعض اوقات بڑی کشش محسوس ہوتی ہے ۔ لیکن یہ پرلے درجے کا فریب ہے ۔ ہر آمریت نہایت ڈسپلنڈ ہوتی ہے ۔ اس کا پورا نظام کار اور تمام تر ڈھانچہ‘ ایک فرد کی جنبش لب سے بندھا ہوتا ہے ۔ کمانڈ کی وحدت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ آئین‘ قانون‘ ضابطے ‘ قاعدے ‘ اصول‘ نظریے سب کچھ فرد واحد کی مرضی و منشا سے جڑ جاتے ہیں۔ ا ±س کے ایک فرمان سے وزیر اعظم‘ صدر‘ پارلیمنٹ‘ سب کچھ تحلیل ہوجاتاہے ۔ ا ±س کے ایک حکم پر انصاف کی مسندوں پہ بیٹھے جج‘قیدی بن جاتے ہیں۔ ا ±س کے ایک اشارہ ابرو سے کیاریوں میں اگے دھنیے اور پودینے جیسے لوگ تناور درختوں میں بدل جاتے ہیں۔ آمروں نے ایک طرف جمی جمائی پارٹیوں اور مقبول عوامی راہنماو ¿ں کی گردنیں مروڑیں اور دوسری طرف خس وخاشاک کو بارگاہ اقتدار کے گ ±ل دانوں میں سجادیا۔ اس پس منظر میں یہ کہنا کہ شہباز شریف کی طرف سے آنے والا بیان‘ جمہوریت کی نفی اور فوج کو سیاسی اقتدار میں شمولیت کی دعوت ہے ‘ مناسب نہ ہوگا۔ فوج کے سیاست میں ملوث ہونے کا تصور اب متروک ہوچکا ہے ۔ پیپلزپارٹی کی داغدار حکمرانی سے بیزار لوگ بھی یہ جانتے ہیں کہ فوج کسی درد کا درماں نہیں۔ پارلیمنٹ کے اندر موجود جماعتوں میں سے صرف ایم کیو ایم کی قیادت کھلے بندوں فوج کے ”محب وطن“ جرنیلوں سے انقلابی کردار کا مطالبہ کررہی ہے لیکن اس مطالبے کے خدوخال کسی پر واضح نہیں ہورہے ۔ خود قائد تحریک الطاف حسین بھی نہیں بتاپارہے کہ ا ±ن کے انقلاب کا ناک نقشہ کیا ہے ؟ فوج کا اس میں کیا کردار ہوگا؟ اور اس انقلاب مطلوب کے بعد کاروبار مملکت کس دستور العمل کے تحت چلے گا؟۔ عدلیہ فوجی حکمرانی کے بارے میں فیصلہ دیتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ آئندہ کسی ڈکٹیٹر کے پی سی او کا حلف اٹھانے والا جج‘ اپنے منصب پر قائم نہیں رہ سکے گا۔ اٹھارہویں ترمیم میں بھی اسی مفہوم کی ایک شق ڈالی جاچکی ہے ۔ میڈیا کا عمومی مزاج بھی فوج کے استقبال کے لئے تیار نہیں کہ یہ ٹڈی دل سب سے پہلے آزادی اظہار ہی کو چاٹتا ہے ۔ لہٰذا یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ فوج کے سیاسی اقتدار کے لئے کوئی آغوش وا نہیں۔ بشکریہ جنگ ٭٭٭٭٭٭

18:25 PM 13-03-2011
بارہ اکتوبر کی دوبارہ واپسی .......... روف عامر پپا بریار•

متحدہ قومی موومنٹ نے ایک دفعہ پھر اپنا روائتی ہتھکنڈہ استعمال کرتے ہوئے اسمبلی سیشن کا بائیکاٹ کر دیا۔ متحدہ کے اس اعلان نے حکومتی قلعوں میں لرزش پیدا کردی۔ سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کی کارفرمائیوں اور ناعاقبت اندیشیوں نے ماضی قریب میں متحدہ کو کابینہ اور حکومتی اتحاد سے طلاق لینے پر مجبور کردیا تھا۔ صدر اور وزیراعظم کی منت سماجت کے بعد متحدہ نے ہچکولے کھانے والی سرکاری کشتی کو ڈوبنے سے بچالیا تھا مگر دوستی یکجہتی کی پینگیںابھی افزائش سے گزر رہی تھیں کہ زوالفقار مرزا نے او دیکھا نہ تاو متحدہ پر برس پڑے یوں ریاست کی فضاوں میں کنفیوژن اور۵ غیر یقینی کے بادل کڑکنے لگے۔ متحدہ کے بغیر حکومتی کشی دلدل میں پھنس جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ زولفقار مرزا کی چھٹی ہوجائے اور اتحادی نائن زیرو پر اتش عشق کی لذت سے محضوظ ہورہے ہوں۔۔ متحدہ کو بھی طفل مکتب سے اگے بڑھنا چاہیے۔ بات بات پر عاشق نا مراد کی طرح طلاق۱ لینے سے گریز کرنا چاہیے ورنہ بانجھ پن کا خدشہ اور وسوسہ چھٹی کا دودھ یاد دلا دیتاہے۔ متحدہ سندھ میں پی پی پی کے بعد دوسری بڑی سیاسی قوت ہے جس کی سیاسی اہمیت سے سرمو انکار کرنا بدیانتی ہوگی مگر دکھ تو یہ ہے کہ ایک شخص کی لاف زنی پر انا ہٹ دھرمی اور رعونت کا اظہار منجھے ہوئے سیاست دانوں کا شیوہ نہیں کیا ایک ناعاقبت اندیش وڈیرے کی شائیں شائیں پر پورے جمہوری ڈھانچے کو زمین بوس کرنا جمہور دشمنی ہوگی یا جمہور پروری یا جمہوری غداری؟ پاکستان گوناں گوں مسائل میں گردن تک دفن ہوچکا ہے۔ متحدہ کے بائیکاٹ اور پی پی پی سے بیزاری کے اعلانات نے ایک طرف حکومتی اتحاد کو گردن توڑجھٹکا لگایا تو دوسری طرف شہباز شریف نے اشاروں کنایوں پر جرنیلوں کو بارہ اکتوبر کرنے کی دعوت دیکر سیاسی منظر نامے کو مذید دھندلا دیا۔ کیا پی پی پی کفار کی جماعت ہے کہ روزانہ نیا بکھیڑا تراش کر اسے غیر مستحکم کرنے کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جاتا۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا ٹی وی چینلز حکومت کے خلاف کرپشن اور ناکامیوں کے زہر الود الزامات کی بو چھاڑ کررہے ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ حکومتی خامیوں کوتاہیوں کو تو خوب اچھالا جارہا ہے تاہم اسکے مثبت اقدامات کو زبان زد عام کیوں نہیں لایا جاتا۔ گیلانی راجدھانی ملکی تاریخ کی پہلی حکومت ہے جس میں تمام سیاسی جماعتیں شامل تھیں۔ نواز شریف شروع میں اتحادی تھے مگر جلد ہی داغ مفارقت دے گئے مگر پنجاب میں پی پی پی نے25 فروری2011 تک شہباز شریف کا ساتھ دیا۔ پی پی پی کے وزرا کو جس بھونڈے انداز سے کابینہ سے فارغ کیا گیا کیا یہ جمہوری انداز تھا؟ نواز شریف کے 10 نکاتی ایجنڈے کے حوالے سے اپوزیشن نے زرداری و گیلانی کو ننگی تنقید کا نشانہ بنایا مگر جبppp کی صوبائی قیادت نے شہباز شریف کو19 نکاتی ایجنڈہ دیا تو اس پر کسی نے کان نہیں دھرے۔ صدر مملکت اور گیلانی شریف برادران کے تند و تیز لہجے کے باوجود انکے ساتھ رابطے کرتے رہتے ہیں۔ppp نے پختون خواہ میںanp سندھ میں متحدہ پیرپگاڑہ گروپ اور بلوچستان میں ق لیگ اورjui کو اتحادی بنا کر حکومتیں تشکیل دیں تاکہ سیاسی یکجہتی کی خوشگوار فضا میں وزرا اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سیاسی دنگل کی بجائے عوامی فلاح و بہبود خوشحالی و ہریالی کے لئے کام کرسکیں۔ مرکز میں jui متحدANP اور فاٹا کے ممبران کو ساتھ ملا کر مخلوط حکومت بنائی گئی۔ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کے لئے سینیٹ کی نشستیں حصہ بقدر جثہ کے تحت تقسیم کی گئیں۔ گیلانی سرکار نے اسمبلی میں نہ تو اراکین کی توڑ پھوڑ کی اور نہ ہی فارورڈ بلاک کا انڈہ دیا اور نہ ہیunification block کا پودا لگایا۔ ق لیگ کے لوٹوں کے ساتھ ملکر پنجاب حکومت بنائی جاسکتی تھی مگر صدر و وزیراعظم نے ایسی وارداتوں کی حوصلہ شکنی تھی۔پی پی پی حکومت کو یہ کریڈٹ حاصل ہے کہ ملٹری ایسٹیبلشمنٹ کے ساتھ باہمی ہم اہنگی پیدا کی اور سلامتی و سیکیورٹی کے تمام معاملات ارمی چیف سپرد کردئیے ۔ سول حکومت نے فوج کے ساتھ مفاہمانہ اور دوستانہ روابط استوار کئے ۔ جنرل کیانی اور جنرل پاشا کی مدت ملازمت میں توسیع دی گئی۔ حکومت امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات کے بندھن میں بندھی ہوئی ہے۔ صدر اور وزیراعظم نے انتہاپسندوں کے خلاف کاروائی اور شمالی وزیرستان میں فوجی اپریشن کا اختیار جنرل کیانی کے سپرد کردیا۔ ٭٭٭٭٭

18:25 PM 13-03-2011
ہڑتال، ہنگامے اور پاکستان !! جاوید صدیقی •

پاکستان ۴۱ اگست ۷۴۹۱ءکو معروض وجود میں آیا۔ موجودہ صدی میں کرہ ¿ ارض پر یہ واحد ملک ہے جو خالصتاً اسلامی آئین اور اسلامی ریاست پر قائم ہوا جس کے حصول میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا ۔۔۔ یہ حقیقت ہے کہ غیر مسلم کسی طرح نہ چاہتے تھے کہ دنیا میں خالصتاً مذہب اسلام پر کوئی ملک قائم ہو لیکن جب رب العزت کی منشاءٹھہری تو تمام باطل قوتیں بے سود ہوکر رہ گئیں اور بر صغیر کے مسلمانوں نے ایک الگ اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔۔۔۔آج پاکستان کو تقریباً چونسٹھ سال ہوا چاہتے ہیں، ان چونسٹھ سالوں میں پاکستان میں سیاست کی بناءپر کیا حالات پیدا ہوئے تو ہم دیکھتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے وصال کے بعد آستین میں چھپے ہوئے زہریلے کالے سیاسی سانپوں نے نہ صرف قائد اعظم محمد علی جناح کے جانشین لیاقت علی خان کو شہید کیا بلکہ سیاست میں شیطانیت، گمراہی، نفرت، تعصب، اقربا پروری، قومیت جیسی برائیاں داخل کر دیں اور سیاست برائے لوٹ مار کے نظریئے کو جنم دیا گو کہ اس میں وقت کے ساتھ ساتھ تقویت ملتی رہی جو اب انتہا کو پہنچ چکی ہے۔۔۔۔ایک تحقیق اور ذرائع کے مطابق تقریباً 23360 تیئس ہزار تین سو ساٹھ دنوں میں 116800 ایک لاکھ سولہ ہزار آٹھ سو ہڑتالیں اور ہنگامے رونما ہوئے جبکہ ان ہنگاموں میں 46720 چھیاسی ہزار سات سو بیس افراد ہلاک ہوئے اور 70080 ستر ہزار اسی سرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا ۔۔۔ حکومتوں کی ناقص پالیسی ، مہنگائی اور بھوک و افلاس کے سبب 8760آٹھ ہزارسات سو ساٹھ افراد نے خود کشی کیں۔ 2336000تیئس لاکھ چھتیس ہزار بچے غربت کے سبب تعلیم حاصل نہ کرسکے۔ 350400 پیئتنس لاکھ چار سو بچے ناقص علاج کی بنیاد پر ہلاک ہوئے جس میں محکمہ صحت کی غفلت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ اسپتالوں کی نا اہلی بھی شامل ہیں۔۔۔ کیا ہم کہ سکتے ہیں کہ لاکھوں جانوں کا نظرانہ اسی لیئے پیش کیا تھا کہ حالات اب سے ابتر ہوجائیں ، ان حالات کا ذمہ دار کون ہے ۔۔۔؟ بات تو سوچنے کی یہ ہے کہ ملک پاکستان کو امن و سلامتی پرہر حال میں قائم رکھنا ہے کیونکہ جس ملک میں امن نہیں ہوتا وہاں کے کاروبار و صنعت و حرفت تمام کے تمام تباہ و برباد ہوجاتے ہےں اور ملک دیوالیہ ہوجاتا ہے اور عوام ایک دوسرے کو نوچنے، مار ڈالنے پر اتر آتی ہے، نوجوان بے راہ روی ، چوری ڈکیتی اور لوٹ مار میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، ملک انتشار اور انارکی کا شکار ہوجاتا ہے اور نسلیں کئی سالوں تک اس کا خمیادہ بھگتی ہیں۔۔ یوں تو ہمارے سیاستدان ملک پاکستان کی سلامتی و خیر کا دم بھرتے نظر آتے ہیں لیکن اپنی غرض کی خاطر آئے روز ملک میں ہڑتال و ہنگامے بپا کئے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے ملک کے مستقبل کو داﺅ پر لگا دیتے ہیں ، پھر چند مراعات کے حصول کے بعد کچھ عرصہ کیلئے یہ سلسلہ وقف کردیتے ہیں گو کہ پاکستان نہ ہوا ان کے باپ کی جاگیر ہوگئی۔۔۔۔۔۔عوام کیا کرے ؟ بغاوت؟ سول نافرمانی؟ یا انقلاب؟ یہ سب بیکار کی باتیں ہیں ۔۔۔۔۔!! حقیت تو یہ ہے کہ ہمارا الیکشن یعنی ووٹنگ کا نظام انتہائی بھونڈا ، فرسودہ اور ناقص ہے اس نظام کو بدلنے کی شدید ضرورت ہے بات تو یہ ہے کہ اسے کون بدلے گا۔۔۔۔۔؟؟ کیونکہ اس نظام سے تمام تر سیاسی پارٹیوں کو مکمل فائدہ اور تحفظ حاصل ہے ، اس سسٹم سے جو زیادہ طاقتور ہوتا ہے وہ دہشت و وحشت سے جعلی ووٹوں سے اپنے آپ کو کامیاب کروالیتا ہے اور اصل حقدار محروم ہوکر رہ جاتا ہے اس طرح سیاست اور حکومت چند سیاسی خاندانوں کی لونڈی بن کر رہ گئی ہے اور یہ سیاستدان عوام کی فلاح و بہبود سے بالاتر ہیں ان کے نزدیک عوام الناس کو سہولت پہنچانا ان کی سیاست کو کمزور کرنے کے مترادف ہے اسی لیئے یہ سیاستدان صرف اور صرف اپنے ہی خاندان کی فلاح و بہبود تک محدود رہتے ہیں۔۔۔ جہاں انہیں مراعات میں کمی محسوس ہوتی ہے تو یہ حکومت کو بلیک میل کرنے کے ساتھ ساتھ ہڑتال اور ہنگامے کراتے رہتے ہیں انہیں نہ تو ملک پاکستان کی پرواہ ہے اور نہ عوام الناس کی حالت کا خیال۔ ان کے نزدیک عوام کیلئے خوش باتیں، خیالی پلاﺅدکھاتے رہنا ہے اور عوام کو کبھی بھی خوش حالی کی جانب بڑھنے نہیں دینا ہے، اس سیاسی نظام کے تحت ایسا نظام مروج کیا جائے جس کے ذریعے قطعی طور پر نہ تو جعلی ووٹ کا اندراج ہو سکے اور نہ بوگس!! اس کیلئے محکمہ نادرا اور الیکشن کمیشن کو باہمی تعاون سے ایک سوفٹ ویئر بنانا چاہئے جس میں ووٹرز کی لسٹیں اور ان کی شناخت کیلئے اسکینگ کا عمل ہو تا کہ ووٹر ووٹ دینے سے پہلے اسکینگ کے عمل سے گزرے تاکہ اصلی ووٹر اپنا حق رائے دہی دے سکے اور ووٹنگ کے وقت کمپیوٹر میں ایسا سوفٹ ویئر موجودہوجو ووٹر کی اسکینگ کے بعد اپنے امیدوار کو منتخب کرنے کیلئے کمپیوٹر میں امیدوار کا نام ، تصویر اور انتخابی نشان موجود ہو تاکہ وہ اپنے مطلوبہ امیدوار کو آسانی سے دیکھ کر کلک کرسکے ووٹر کے کلک کرنے پر آٹو save ہوجائے اور دوبارہ اسی ووٹ کو قبول بھی نہ کرے۔۔ ۔اور ووٹنگ کا وقت ختم ہونے پر پرزائیڈنگ آفیسر اس کمپیوٹر سے پرنٹ نکالے جو دن بھر ووٹنگ میں استعمال ہوا ہے اور اس میں موجود ووٹوں کی تعداد کو یقینی قطعی طور پر مانا جائے کیونکہ اس سسٹم میں آٹو ووٹنگ کی گنتی ہر امیدوار کی الگ الگ ہوتی رہے گی، اس سے ووٹر کے منتخب کردہ امیدوار کامیاب آئیں گے اور انشاءاللہ نئی سوچ، نئی امنگ، نیا ولولہ، نیا عزم اورنئے لوگ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔!! ورنہ نا اہل سیاستدان اپنی نا اہل سیاست کو بچانے کیلئے وہی ہڑتال، ہنگامے کراتے رہیں گے اورسرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچائیںگے اور روز کمانے والا پھر سے بھوکا سوئے گا؟ دشمنان پاکستان نہیں چاہتا کہ پاکستان تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن رہے اسے یہ کسی طرح گوارہ نہیں کہ پاکستان کے شہری خوشحال زندگی گزاریں اسی لیئے ملکی و بیرونی سازشیں مسلسل پاکستان کے سیاسی نظام کو تباہ برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے اور اپنی تمام تر قوت صرف کر رہی ہے کیونکہ پاکستان دنیائے اسلام کا واحد ایٹمی ملک بھی ہے، دشمنان پاکستان جانتے ہیں کہ کسی بھی ملک کو اگر تباہ کرنا ہو تو وہاں کی معاشیات کو تباہ کردو ملک خود ہی تباہ ہوجائیگا، یاد رہے امریکہ نے روس کو پہلے معاشی تباہی پر لایا پھر دوسرے ذرائع استعمال کیئے تھے پاکستان کا بھی یہی حال کرنا چاہتے ہیں اگر سیاستدانوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو ممکن ہے عوام الناس ان سب کو مار بھگائے۔۔۔۔۔؟؟ ٭٭٭٭٭٭

18:25 PM 13-03-2011
امریکاکے لئے آئینہ .........؟؟؟ محمداعظم عظیم اعظم•

آج طاقت کے نشے میں مست امریکا دنیا کے کمزور ممالک کے قوانین کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اِنہیںاپنے پیروں تلے روندنے اورکُچلنے پر تُلا بیٹھاہے اور آج اپنی اِسی قوت اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ امریکا جس طرح سے پاکستان میں کُھل کررہاہے وہ بھی اَب کسی سے ڈھکاچھپانہیں رہاہے جبکہ دنیا یہ بات بھی اچھی طرح سے جانتی ہے کہ امریکا اپنے سی آئی اے کے کنٹریکٹرریمنڈڈیوس کو کسی بھی حوالے سے اپنا سفارتکار تو نہیں مانتاہے مگر کیونکہ اِس نے اِسے(ریمنڈدَیُوس کو) پاکستان میں دہشت گردی کرنے اورکرانے اور بعض اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان کا ایٹمی مواد القاعدہ تک پہنچانے کا ایک بڑاہدف دے رکھاتھااِس لئے ریمنڈڈیوس اِس کے نزدیک سب سے زیادہ اہم ترین آدمی ہے جس کی فوری رہائی کے لئے( لومڑی جیسی چالاک آنکھوں والی) امریکی لیڈی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن ریمنڈڈیوس کو سفارتی استثنیٰ دلانے کے لئے رات دن بھاگ دوڑ میں لگی پڑی ہیںکہ اِسے کسی بھی طرح سے پاکستان سے صرف ایک بار ہی رہائی مل جائے مگر دوسری طرف حکومت ِ پاکستان یہ پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ ریمنڈڈیوس کو چونکہ سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہے اِسے دوپاکستانیوں کے قتل کے جرم میں پاکستانی کی اعلی ٰ عدالت جو فیصلہ دے گی اِسے امریکا کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا مگراُدھر امریکا ہے کہ یہ ایسا کوئی فیصلہ ماننے کو سِرے سے انکاری ہے جو پاکستانی عدالت کا ریمنڈڈیوس کے حوالے سے سامنے آئے یوں اَب دیکھتے یہ ہیںکہ اِس کھینچاتانی کی کوششوں میں پاکستان زیر ہوتاہے یا امریکا اپنے قاتل کارندے اور دہشت گرد ریمنڈڈیوس کو پاکستان سے بچالے جانے میں کامیاب ہوتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کون ریمنڈڈیوس کے معاملے میں فتح سے ہمکنار ہوگا اور کِسے اپنے عوام کے سامنے ندامت اور معافی تلافی کا طوق اپنے گلے میں ڈالنا پڑے گا.....؟؟؟ ویسے ایک بات تو یہ ہے کہ ریمنڈڈیوس کے ہاتھوں پاکستان میں دوپاکستانیوں کے قتل کے بعد اِس کی یوں ڈرامائی انداز سے ہونے والی گرفتاری اور اِس کے بعد پاک امریکا تعلقات میں آنے والے تناو ¿ سے جہاں حکومتِ پاکستان پریشانیوں سے دوچا ر ہوئی ہے تو وہیں امریکا کے لئے بھی یہ گھمبیر صُورت ِ حال اطمینان کا باعث نہیں ہے اِس لئے بھی کہ اَب امریکا کو اپنے اُس مِشن کی تکمیل نامکمل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی نظر آرہی ہے جو اِس نے پاکستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک کنٹرول کرنے اور چلانے کے لئے ذمہ داریاں ریمنڈڈیوس کو سونپی تھی اورجس کی گرفتاری کے بعد اِسے اَب اپنی ناکامی کا احساس شدت سے ہونے لگاہے اور یوں یہ اپنی اِسی ناکامی کو ایک بار پھر کامیابی میں بدلنے کے لئے ریمنڈڈیوس کو زبردستی کا اپنا سفارتکار منوانے کے لئے پاکستان پر اپنا ناجائز دباو ¿ ڈالے جارہاہے کہ کسی بھی دباو ¿ اور پریشر میں آکر حکومتِ پاکستان ریمنڈڈیوس کو رہائی دیئے دے اِس طرح پاکستان پر مسلسل ڈالے جانے والے امریکاکے اِن ہی غیر قانونی اور غیر اخلاقی دباو ¿ کی وجہ سے دوسری طرف ساری دنیا میں امریکا کا امیج بھی بُری طرح سے مجروح ہورہاہے کہ امریکا اپنے ایک دہشت گرد کو رہائی دلوانے کے لئے اُن حدوں کو بھی پار کررہاہے جس کے آگے تمام حدیں ختم ہوجاتی ہیں جس سے امریکا ساری دنیا میں جہاں اپنا اعتماد کھورہاہے تو وہیں امریکاخود کو دنیا کے سامنے ایک بدمعاش اور بدکردار ملک گردانے میں بھی نمبر لے جارہاہے۔ البتہ ! ریمنڈڈیوس کے معاملے میں اِس سے تو کوئی انکار نہیں کرسکتاکہ آج امریکا اپنی طاقت کے نشے میں جس طرح چُورہے اور اِس نے اگراَب بھی خود کو نہ سنبھالاکو بہت جلد اِس کا شیرازہ بکھر جائے گا اور اِسی وجہ سے یہ بہت سی ایسی غلطیاں بھی کرتاجارہاہے کہ جس کا ازالہ امریکیوں کی آئندہ آنے والی کئی نسلیں بھی نہیں کرسکتیں ہیں اور دوسری طرف ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہر طاقتورکو ایک نہ ایک روززوال ضرور آتا ہے اوراِسی حوالے سے گزشتہ دنوں جس کا برملااظہار ایک برطانوی اخبار ” ٹیلی گراف“ نے اپنے ایک تجزیاتی انکشاف میں کچھ اِس طرح سے کیا ہے کہ اِس سے جہاں دنیا حیران ہو گئی ہے تو وہیں یقیناامریکیوں پر بھی اِس سے ایک لرزہ طاری ہوگیاہوگا۔ برطانو ی اخبار”ٹیلی گراف“ نے لکھاہے کہ امریکا اپنی طاقت کے نشے میں اُس پاگل اور مست ہاتھی کے مانند ہوگیا ہے کہ جِسے اَب اپنے سِواکچھ نہیں دِکھائی دیتااور وہ اپنی اِسی طاقت اور جنونیت کے بدولت ساری دنیا کو اپنے پیروں تلے کچل کراِس پر صرف اپنی ہی حکمرانی قائم کرنے کا خُواب دیکھ رہاہے اور اِس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی سمجھنے لگاہے کہ ایک نہ ایک د ن اِسے کمرزوروں پر اپنی اِسی طاقت کے بیدریغ استعمال اور اپنے اِسی پاگل پن سے وہ سب کچھ حاصل ہوجائے گا جس کے لئے صدیوں سے ہر امریکی حکمران اور امریکی شہری جستجوکرتاآرہاہے۔ اور اِسی کے ساتھ ہی اِس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں امریکا ہر لحاظ سے ایک تہذیب یافتہ ملک ہے اور اِس کاہر شہری دنیاکا ایک باشعور فرد جانا اور مانا جاتاہے مگر دوسری طرف دنیااِن کی اُس جنونیت کو جس کے رنگ میں آج ہرامریکی رنگاہواہے کہ وہ بزورطاقت(یعنی جنگ وجدل)سے دنیا پراپنی حکمرانی قائم کرلے گا جب یہ دیکھتی ہے تو پھر اِس کے لب پر یکدم سے یہ لفظ آئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اَب امریکا کی طاقت کا نشہ جلد اُترنے والاہے اوراِس کی قوت کا چراغ بجھنے سے پہلے ٹِمٹمارہاہے اور جلد ہی دنیا ایک نہ ایک دن یہ ضرور دیکھ لے گی کہ امریکا جس کی معیشت کا سکہ اور سیاست کا ڈنڈاساری دنیا میں چلاکرتاتھا اور جس کا ڈنکاپوری دنیا میں بجاکرتاتھا وہ لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیئے گئے ہیں اور اِس کی سازشوں اور مکاریوں کے وہ تمام جال جو اِس نے ساری دنیا کا امن و سکون تباہ وبرباد کرنے کے لئے پھیلارکھے تھے وہ سب کے سب سمیٹ دیئے گئے ہیں ٭٭٭٭٭

18:25 PM 13-03-2011
سرمایہ دارانہ زوال کے اندھیروں کی ذد میں .........روف عامر پپا بریار •

فلاطون نے کہا تھا کہimperialism ہی دنیا بھر میں برائیوں جنگوں اور فسادوں کی جڑ ہے۔ اسان الفاظ میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ سرمایہ داریت امیر طبقات کو کمزوں پر احساس برتری کا گر سکھاتی ہے۔ ۔ یہ جائز ناجائز زرائع سے دولت کے انبار اکٹھے کرنے غریب انسانوں کا خون چوسنے اور امیر کو امیر تر اور غریب سے غریب تر بنانے کا وحشیانہ اور خونخوار طریقہ واردات ہے۔ مغربی دنیا میں خوشحالی اور صنعتی و مالیاتی ہریالی کے باوصف حقائق اور مفروضوں کے درمیان امارت اور غربت کی خوفناک خلیج پائی جاتی ہے جو مغرب کے زرائع ابلاغ کی پیدا کردہ ہے جنکو سرد جنگ کے عرصہ میں اظہار ازادی کی اڑ میں سچ و حقائق کو دفن کرنے جھوٹ دھوکے اور خواہشات کو خبر بنانے کی کھلی چھٹی دے دی گئی۔ مغربی میڈیا جہاں مسلمانوں پر دہشت گردی کے حوالے سے گھٹیا ترین الزامات عائد کرنے میں کوئی ثانی نہیں رکھتا وہاں امریکہ اور یورپ کا زرائع ابلاغ مغربی عوام کی انکھوں میں دھول جھونکنے کا اعزاز رکھتا ہے۔ یورپی قوموں کو اج بھی گمراہ کیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ اج بھی جاری و ساری ہے۔ مغربی میڈیا اہل مغرب کو ایسے خواب دکھاتا ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوتے مگر یہ ڈروانے سپنوں میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ 61 فیصد امریکیوں کو بتایا جاتا ہے کہ حکومت غیر ملکی امداد کے لئے بجٹ کا چوتھائی حصہ یعنی25 فیصد خرچ کیا جاتا ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ یہ تناسب ایک فیصد سے کم ہے۔ برطانوی کہتے ہیں کہ انکے ملک میں تارکین وطن کی تعداد کل ابادی کا23 فیصد ہیں۔برطانیہ کی نوابادی جمہوریہ چیک یونین جہاں سورج غروب نہیں ہوتا تھا میں غلام بنا کر لائے جانیوالے تارکین وطن کی تعداد کل ابادی کا چار فیصد ہے۔ دوائی کا غلط استعمال یا ملاوٹ شدہ خواراک کھانے سے صحت متاثر ہوتی ہے اسی طرح میڈیا اور ٹی وی چینلز پرمضروضوں خودتراشیدہ خبروں من گھڑت حقائق پر مبنی تجزیوں اور فسوں کاری کا پے درپے نشر کیا جانیوالہ درس انسانی زہن کا توازن بگاڑنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کارل مارکس نے صدیوں قبل دیوتاوں کے متعلق کہا تھا کہ وہ جب کسی معاشرے کو تباہ کرنے کا منصوبہ بناتے تو پہلے وہاں انسانوں کا زہنی توازن بگاڑا جاتا ہے۔ مغرب میں اج یہی کھیل کھیلا جارہا ہے۔ مغرب والے کہتے ہیں کہ تیونس کے زین العابدین مصر کے حسنی مبارک 30لوں سے کرسی کے ساتھ چپکے ہوئے تھے۔ ہم مغرب کے اس نکتے کو درست تسلیم کرتے ہیں مگر دکھ تو یہ ہے کہ وہ اس کھری کھری حقیقت سے اتفاق نہیں کرتے کہ مصر تیونس اور لیبیا کے انقلابیوں کی طرح دنیا اپنے اوپر شیش ناگ کی طرح مسلط دوسو سالہ سرمایہ دارانہ نظام سے تنگ ہوچکی ہے کیونکہ جدید ترین ایجادات اور دریافتوں پر قبضہ کرلینے کے باوجود یہ نظام لوگوں کی زندگیوں میں سکھ سکون شانتی اور بہاروں کی بجائے دکھ رنج و الم اور جان لیوا مشکلات میں مذید اضافہ کررہا ہے۔ یہ نظام دنیا سے غربت بے روز گاری اور جہالت کے خاتمے میں کوئی مناسب رول ادا کرنے میں ناکام رہا۔ دنیا کی تاریخ میں اج تک اتنی غربت مایوسی اور بے چارگی نہیں دیکھی گئی جسکے درد ناک مناظر ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ابتدائے افرینش سے اتنی دولت تاریخ کے کسی دور میں نہ تھی جتنی اج سرمایہ دارانہ ہاتھ میں مقید ہے۔ مغرب کے زمانہ ساز دانشور رب سئیول اور فریڈو سیٹن مشرق وسطی میں ہونے والی انقلابی تحریکوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ دارانہ نظام زوال کی کالی راتوں کی زد میں ہے۔ 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد دنیا میں انقلابی تحریکیوں کا نیا عہد شروع ہورہا ہے۔ مصر لیبیا اور مڈل ایسٹ اسکے واضح ثبوت ہیں۔ اگر حسنی مبارک اور قذافی ایسے مضبوط ترین ڈکٹیٹر عوام کے غیض و غضب کا مقابلہ نہیں کرسکے تو پھر روئے ارض کی کوئی راجدھانی اور ظالمانہ نظام عوامی لہر کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ دونوں دانشوروں کی رائے ہے کہ مستقبل میں عالمی سیاسی و معاشی منظر نامہ محلاتی سازشوں کی بجائے محنت کشوں کے میدانوں اور التحریر چوک میں مرتب ہوگا۔یورپی ممالک پر غیر ملکی قرضوں کا بھوت سوار ہے۔ گہرے مالیاتی بحران کا نشانہ بننے والی مغربی ریاستیں اپنے تخلیق کردہ دلدل میں دھنستی جارہی ہیں وہ نکلنے کی کوششیں کررہی ہیں مگر کہا جاتا ہے کہ اس نظام میں بقا کی تدبیر نہیں پائی جاتی۔ پچھلے سال اکتوبر میں فنانشل ٹائمز نے رپورٹ جاری تھی کہ یورپی ممالک نے اسی سال600 سو ارب یوروز کے قرضہ جات ادا کرنے ہیں۔ ٭٭٭٭

18:25 PM 13-03-2011
حل شدہ پرچہ برائے لوٹا کریسی .......... تحریر: نجیم شاہ•

نام: حالات اور مفاد پر منحصر ہے (کوئی ایک نام نہیں) رول نمبر: 9211 رجسٹریشن نمبر: 420 کالج: قومی اور صوبائی اسمبلیاں سوال نمبر1: ”لوٹا“ کسے کہتے ہیں، نیز لوٹے کی سیاسی تاریخ بیان کریں؟ جواب: لوٹا وہ ہوتا ہے جو ضرورت پڑنے پر ”قوم کے وسیع تر مفاد میں“ اپنی پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر عوام کی ”خدمت“ کرتا ہے۔ یہ اندرون خانہ ”مک مکا“ کرکے اپنی پارٹی چھوڑ دیتا ہے اور دوسری پارٹی میں چلا جاتا ہے۔ یہ ہمیشہ گھومتا رہتا ہے کبھی اِدھر آتا ہے کبھی اُدھر جاتا ہے۔ ”لوٹے“ اقتدار پسند ہوتے ہیں اور انہیں عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ۔ آج کل لوٹا اصطلاحاً ابن الوقتی، مفاد پرستی اور غداری کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ بحرِ سیاست کے کئی لوٹے غوطہ خور بھی ہوتے ہیں۔ اُن کا کوئی پتہ نہیں چلتا کہ کِدھر ڈوبے کدِھر نکلے۔یہ اِدھر اُدھر لڑھکتے رہتے ہیں کیونکہ سیاسی پارٹیاں اپنی گرتی حکومتوں کو بچانے کے لئے ان کا سہارا لیتی ہیں۔سیاست میں لوٹے کا عمل دخل کوئی آج کی بات نہیں۔ مولانا ظفر علی خان نے لوٹے کا لفظ ڈاکٹر عالم نامی ایک ایسے شخص کے لئے استعمال کیا تھا جو ہر تیسرے دن اپنی پارٹی بدل لیتا تھا۔ پہلے وہ اتحاد المسلمین میں تھا، پھر مسلم لیگ میں چلا آیا اور ہوا کا رُخ بدلتے ہی کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ جب ملک تقسیم ہو گیا تو پاکستان آ کر دوبارہ مسلم لیگ میں شامل ہونے کی کوشش کی لیکن مولانا ظفر علی خان کا دیا ہوا خطاب اُس پر ایسا چسپاں ہوا کہ لوگ اسے ”ڈاکٹر عالم لوٹا “کہہ کر چھیڑنے لگے اور یہ چھیڑ چھاڑ اس قدر بڑھ گئی کہ وہ فرار ہو کر واپس بھارت چلا گیا۔ سوال نمبر2: لوٹے کی کتنی اقسام ہیں؟ نیز پاکستانی سیاست میں انکی اہمیت بیان کریں۔ جواب: لوٹے کئی اقسام کے ہوتے ہیں۔ ان میں مٹی، پیتل، لوہے اور پلاسٹک کے لوٹے شامل ہیں۔ ان کے علاوہ لوٹوں کی ایک اور قسم سیاست دانوں کی شکل میں موجود ہے۔ ان میں کوئی ارب پتی، کوئی کروڑ پتی اور کوئی لکھ پتی مطلب جس کی جتنی قیمت لگے بِک جاتا ہے۔ سیاسی لوٹوں کی دو مشہور اقسام ہیں۔ ان کی پہلی قسم بغیر پیندے کا لوٹا ہے۔ یہ وہ لوٹا ہوتا ہے جو ہر الیکشن کے بعد لڑھکتا ہے۔ پھر اگر اس کو اپنی قلابازیوں کا مناسب اور منہ مانگا معاوضہ ، جیسے کہ وزارت وغیرہ نہ ملے تو وہ اگلے الیکشن سے پہلے ہی دوبارہ لڑھک سکتا ہے۔ دوسری قسم ان لوٹوں کی ہے جو کسی اشد ضرورت کے تحت ہی لڑھکتے ہیں۔ اپنے اس طرز عمل کو وہ ”عوام کی خدمت“ کے لئے ایک کوشش کا نام دیتے ہیں۔ اس قسم کے لوٹے اول الذکر لوٹے سے ذرا کم قیمت کے ہوتے ہیں کیونکہ ان کو سیاسی شعبدہ بازی میں وہ مہارت حاصل نہیں ہوتی جو اول الذکر لوٹے کو ہوتی ہے۔ پاکستان کی سیاست کا محور ہمیشہ یہ لوٹے ہی رہے ہیں۔ ہماری سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر دور میں ہمارے سیاست دان لوٹا بنے بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس ملک میں ہمیشہ لوٹے کی سیاست رہی ہے۔ لوٹے کو پاکستان کی سیاست میں جو شرف حاصل ہے وہ کسی اور برتن کو حاصل نہیں ہو سکا۔ ہر سیاسی پارٹی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ سیاست بھی اپنی، حکومت بھی اپنی، اپوزیشن بھی اپنی اور عدالت بھی اپنی ہو۔ جب ایسا ممکن نہیں ہوتا اور اپنی حکومت گرتی نظر آتی ہے تو پھر وہ سیاسی پارٹی ان لوٹوں کا سہارا لینا شروع کر دیتی ہے۔یہ لوٹے بھی اس انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ کب انہیں پکارا جائیگا۔ سوال نمبر 3: ”لوٹے“ اپنی پارٹی سے بغاوت کیوں کرتے ہیں نیز یہ بتائیں کہ سیاسی پارٹیاں اس نام سے کیوں چڑتی ہیں؟ جواب: لوٹے اپنی پارٹیاں اس لئے چھوڑتے ہیں کیونکہ یہ مفاد پرست ہوتے ہیں۔ دوسری پارٹیوں میں انہیں مراعات و سہولیات ملتی ہیں ۔کوئی مفادات کی طرف اورکوئی بینک بیلنس کی طرف لوٹتا ہے۔ لیکن لوٹتے ہوئے کوئی ”کھوتا“ ہے اور کوئی ”ڈبوتا“ ہے۔ دوسری پارٹیوں میں مراعات و سہولیات حاصل کرکے یہ لوٹے گھڑے بن جاتے ہیں پھر ان میں جس راستے سے کچھ جاتا ہے اسی سے نکل بھی آتا ہے۔ گھڑے کی اصل لوٹا ہی ہے کیونکہ اگر لوٹے کا ختنہ کر دیں تو وہ گھڑا بن جاتا ہے اور کسی بھی چڑھتی پارٹی میں گٹ گٹ کرتے شامل ہو جاتا ہے۔ ہماری سیاسی جماعتیں خود ”لوٹے“ کا طعنہ پسند نہیں کرتیں مگر جب چاہتی ہیں اِن لوٹوں کواپنی دیگ میں ڈال دیتی ہیں اور ایک دو جوش دے کر اپنے جیسا بنا لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری کئی سیاسی پارٹیوں کے اندر لوٹے ہی لوٹے نظر آتے ہیں۔سیاست میں لوٹا ازم کوئی نئی بات نہیں۔ حکومت کوئی بھی ہو، آمریت یا جمہوریت لوٹے اپنی جگہ آسانی سے بنا لیتے ہیں۔ سوال نمبر4: ہماری سیاست میں لوٹے کے کردار پر بحث کریں نیز یہ بھی بتائیں کہ کیا لوٹے وفادار بھی ہوتے ہیں؟ جواب: ہماری سیاست میں لوٹے مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہی تو وہ لوٹے ہیں جو سیاسی انتشار اور خلفشار کا باعث بنتے ہیں۔ یہ نہ خود چین سے رہتے ہیں نہ دوسروں کو رہنے دیتے ہیں۔ آخر بے پیندے کے جو ٹھہرے۔الیکشن کے موقع پر ہر پارٹی ان کی تلاش میں رہتی ہے اور دبی آواز میں یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ لوٹے حاضر ہوں اور لوٹے بھنک پاتے ہی آواز کی طرف چل پڑتے ہیں۔ جہاں تک ان کی وفاداری کا سوال ہے یہ کسی کے وفادار نہیں ہوتے بلکہ اپنا ضمیر بیچ کر بکاﺅ مال بن جاتے ہیں۔ جو پارٹی ان کو بینک بیلنس اور وزارت کی خوشخبری سنائے اسی دن اُس پارٹی کا دربار سجا دیتے ہیں ۔ سوال نمبر5: آپ کی ذاتی رائے کے مطابق پاکستان میں سب سے بڑا لوٹا کون ہے؟ جواب: پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو بہت سارے معتبر نام سامنے آئیں گے جن کی ایک لمبی فہرست بن سکتی ہے۔ میری ذاتی رائے میں لوٹوں کو نامزد کرنے کا حق عوام کے پاس ہونا چاہئے۔ میں اپنی ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر چند سیاست دانوں کو نامزد نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے پیچھے میرا ذاتی تعصب اور رویہ اثرانداز ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ ہی لوٹا کریسی کا شکار رہی ہے اس لئے کوئی ایک نام تجویز نہیں کیا جا سکتا۔ جس طرح صدر اور وزیراعظم کے انتخاب کیلئے پارلیمنٹ میں رائے شماری ہوتی ہے اسی طرح پاکستان کے سب سے بڑے لوٹے کے انتخاب کیلئے عوامی رائے شماری ہونی چاہئے۔ جس میں عوام یہ رائے دیں کہ کونسا لوٹا اقتدار کی خاطر سب کچھ نیلام کر سکتا ہے اور ہر حکومت میں شریک ہو کر ”قوم کے وسیع تر مفاد میں“ وہ سب کچھ کر سکتا ہے جو کوئی بازاری عورت بھی نہیں کر سکتی۔ سوال نمبر6: لوٹا ساز فیکٹری کے جد امجد کون ہیں نیز یہ بھی بتائیں کہ کونسے لوٹے عوام اور معاشرہ کیلئے خطرناک ہوتے ہیں؟ جواب: لوٹا کریسی کی بنیاد کس نے ڈالی اس کے بارے میں مختلف آراءہیں۔ اس سلسلے میں ہر پارٹی ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتی رہتی ہے۔جنکے پاس وافر مقدار میں نوٹوں کی گڈیاں ہوتی ہیں ان کے پاس لوٹوں کی بھی فوج ہوتی ہے۔ اصل میں لوٹا ”لوٹنے“ سے نکلا ہے، جو لوگ لوٹنے کے عادی ہو جاتے ہیں وہ جگہیں بدلتے رہتے ہیں۔ عوام اور معاشرہ کے لئے خطرناک لوٹوں کا تو پتہ نہیں لیکن فائدہ مند لوٹے صرف لیٹرین کے ہی ہوتے ہیں۔ عوام سیاسی لوٹوں کی توہین تو برداشت کر سکتی ہے لیکن لیٹرین کے لوٹوں کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دیتی کیونکہ عوام کو اکثر ایسے لوٹوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ سوال نمبر7: ”لوٹا“ مذکر ہے یا مونث؟ یہ بھی بتائیں کہ جب نااہلی کی تلوار سر پر لٹک رہی ہو پھر لوٹے کیا کرتے ہیں۔ جواب: لوٹا بطور برتن مذکر ہے کیونکہ لوٹا ساز فیکٹریوں اور کمہاروں نے آج تک صرف لوٹے ہی بنائے ہیں کبھی کوئی لوٹی نہیں بنائی البتہ ہماری اسمبلیوں میں اس کی مونث اصطلاح ”لوٹی“ ایجاد ہو گئی ہے۔ اسمبلیوں میں خواتین اراکین ایک دوسرے کو ”لوٹی“ کہہ کر دل کی بھڑاس نکالتی رہتی ہیں ۔ جہاں تک اس سوال کی دوسری جز کا تعلق ہے نااہلی ریفرنس ملتے ہی لوٹے ناطہ جوڑنے سے ڈر جاتے ہیں اور اُس پارٹی کی حمایت سے مکر جاتے ہیں جو انہیں اپنے ذاتی مفاد میں استعمال کر رہی ہوتی ہے۔ سوال نمبر8: اپنی حکومت زیادہ دیر تک قائم رکھنے کیلئے کونسا ڈرامہ کرنا ضروری ہے ؟ یہ بھی بتائیں کہ اگر ایک رکن اپنے ضمیر کے مطابق کسی پارٹی سے گزر نہ سکے تو کیا طریقہ اختیار کرے۔ جواب: اپنی حکومت کو زیادہ دیر تک قائم رکھنے کے لئے ایک ڈرامہ کافی نہیں بلکہ سیاست دان کو اداکاری کی صلاحیت کا حامل ہونا چاہئے۔ حکومت ٹوٹنے کی صورت میں پہلی ترجیح تو یہ ہونی چاہئے کہ لوٹا کریسی کے ہنر سے کام لے کر نئے آنے والوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے لیکن اس معاملے میں بہت احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ وہ حضرات جن کی لوٹا بننے کی صلاحیت مضبوط نہ ہو، وہ ہرگز اس طریقے کو نہ آزمائیں کیونکہ ناکامی کی صورت میں جیل میں چکی پیسنے کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔اسی طرح اگر کوئی رکن اسمبلی اپنے ضمیر کے مطابق کسی پارٹی کے ساتھ نہیں چل سکتا تو اُسے چاہئے کہ وہ اپنی پارٹی چھوڑنے کے ساتھ ہی رکن پارلیمنٹ سے بھی مستعفی ہو جائے اور ضمنی انتخابات میں کسی دوسری پارٹی کے ٹکٹ پر یا آزاد اُمیدوار کے طور پر عوامی کٹہرے میں پیش ہو کر ان کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرے بصورت دیگر وہ ”لوٹا“ ہی کہلائے گا۔ سوال نمبر9: لوٹا بننے کے بعد اچھی سے اچھی وزارت حاصل کرنے کیلئے کیا کرنا ضروری ہے نیز یہ بھی بتائیں کہ اگر آپ ایک کامیاب سیاستدان بن گئے تو سب سے پہلے ”کھانے“ کے علاوہ اور کیا کرینگے؟ جواب: ”قوم کے وسیع تر مفاد میں“ لوٹا بننے کے بعد اچھی سے اچھی وزارت حاصل کرنے کے لئے مکھن لگانا انتہائی ضروری ہے۔ مکھن لگانے کا ہنر وزارت حاصل کرنے میں بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مکھن کی مقدار کا تعین کرنا مشکل بھی ہے اور غیر ضروری بھی۔ جتنی زیادہ شکر ڈالو گے چائے اتنی ہی میٹھی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس پارٹی کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی سابقہ پارٹی کا کھچا چٹھا بھی کھول دینا چاہئے ورنہ آپ کی حیثیت مشکوک نظر آئے گی۔ ہمارے سیاست دانوں نے ملک اس قدر لوٹ لیا ہے کہ اب تھوڑا بہت جو رہ گیا ہے آنے والے اسے گنڈیری سمجھ کر چوس لیں گے۔ اس لئے اگر میں ایک کامیاب سیاستدان بن گیا اور مجھے وزارت میں محکمہ سیاحت دیا گیا تو سب سے پہلے اپنے ذاتی ہوائی جہاز کی ایک کمپنی کھولوں گا۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر آزمائشی پرواز کے منتخب ہوائی جہاز میں تمام سیاستدانوں کو دنیا کی مفت سیر کراﺅں گا اور آخر میں بحر اسود میں جہاز کو لینڈ کرا دوں گا، لیکن بحر اسود میں لینڈ کرنے سے پہلے ہی خشکی پر تمام عملے کے ساتھ پیراشوٹ لئے کود جاﺅں گا۔ سوال نمبر10: آخری سوال یہ ہے کہ لوٹا اور سیاست دان کے حوالے سے کوئی لطیفہ یاد ہو تو بیان کریں۔ جواب : ایک اداکارہ نے اپنے لئے ہیروں کا ایک ہار منتخب کیا جس کے لئے اسے رقم درکار تھی۔ وہ ایک سیاست دان کے پاس گئی اور کہنے لگی۔ ”آپ مجھے دس لاکھ روپے دے دیں، مجھے بہت سخت ضرورت ہے۔

18:25 PM 13-03-2011
سرورِ دنیا کا طاری ہے اب بھی ہم پہ خمار....!! عزیز بلگامی•

فی زمانہ ہم اپنے اطراف بڑے پیمانے پر دینی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں، جو بجائے خود مستحسن سرگرمیا ں ہیں اور اجر و ثوا ب کا مستحق بھی بناتی ہیں،لیکن یہ احساس دل کے نہاں خانے میں اکثر موجزن رہتا ہے کہ جن کاموں میں ہمیں دل چسپی ہے بس اُ ن ہی کو(ہو سکتا ہے بجا طور پر)ہم قابلِ اجر و ثواب سمجھتے ہوئے اُن ہی کی انجام دہی میں مصروف رہتے ہیں۔ اصل میں ہونا یہ چاہیے کہ اُن اعمال و سرگرمیوں کی تدریج اور اہمیت معلوم کرنے اور اِن کی ترجیحی حیثیت متعین کرنے کے لیے سب سے پہلے کتاب ہدایت القرآن الحکیم سے رجوع کیا جائے۔ یہ نہایت ضروری ہے۔ اِس لیے کہ اللہ کی متعین کردہ ترجیحات سے بے خبر رہ کر اور اپنی پسندیدہ ترجیحات کو اپنی سرگرمیوں اور اعمال کا محور ومرکز بنا کر ہم جوکھم اٹھانے سے بچ سکتے ہیں ۔چنانچہ بہتر اور عند اللہ زیادہ مقبول یہی امر ہے کہ ہم اللہ کی کتاب سے اِبتداءہی میں رجوع کریں اور اپنے کارہائے اجر و ثواب کی ترجیحات اِسی کی رہنمائی میں مرتب کرتے ہوئے اپنی دینی سرگرمیوں کو جاری و ساری کریں، پھر نصرتِ الٰہی کے اُمیدوار بنیں۔ اِس مضمون میں ہم نے اِسی پہلو سے قرآنی آیات کی ربانی روشنی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ قرآنِ الحکیم کی سورہ النازعات کی آخر ی آیتوں میں کہا گیا ہے:” انسانو! کےا تخلیق میں تم زیادہ مضبوط ہو یا آسمان؟ اسے توہم نے بنایا، اسے اونچائی اور بلندی دی ، درست اور ہموار کیا۔ہم نے اس کی رات اس پرطاری کی اور اس کا دن بھی نکالا ۔پھر زمےن کو بھی ڈیزائن دے کراس میں سے تمہارے لئے پانی نکالا اور سبزہ بھی اور اِ س پر پہاڑ نصب کردئے ۔متاعِ زندگی اورسارے کے سارے Provisions، تمہارے لئے بھی اور تمہارے مویشیوں کے لئے بھی فراہم کیے۔ “ کسی قسم کے ستونوں کے بغیر آسمان کی یہ بے پناہ وسعت نہ جانے کب سے ہمارے سروں پر تنی کھڑی ہے۔ہمارے نظامِ شمسی ،پھر دن میں باشندگانِ زمین کو میسر سورج کی بے پناہ روشنی اوراندھیری شب میں جگمگاتے ستاروں سے آراستہ ہمارے سر پر تنا آسمان ، الغرض ہماری نظروں میں سمانے والی ہر شئے پر کسی بھی پہلو سے غور کیا جائے تو یہ حقیقت واشگاف ہو گی کہ ہر شئے انتہائی کامل طور پر راست یا بلاواسطہ اولادِ آدمؑ کو فیض پہنچا نے میں مصروف ہے۔ظاہر ہے کہ ربِّ کائنات نے ان سب کی تخلیق فرمائی اورحکم دیا کہ وہ اپنے فرائض بحسن و خوبی انجام دیتے جائیں۔ظاہر ہے کائنات کی ہر شئے اولادِ آدم کی خدمت میں مصروف ہے تو کچھ ہم سے بھی چاہا جا رہا ہوگا یاکچھ احکامات ہمیں بھی تفویض کر دیے گئے ہونگے۔ چنانچہ ہمیں اِن ہی احکامات کا تذکرہ اِن آیاتِ قرآنی میں ملتا ہے:” سوانسانو! دیکھو جب وہ سب سے بڑی آفت برپا ہوگی۔جس دن انسان کو یا د آجائے گا کہ اس نے اپنی زندگی میںکون سی کوششیں اور کون سی حرکتیں کی تھیں۔یاد رکھو، اس دن دیکھنے کے لئے جہنمExpose کردی جائے گی ! “جس طرح ہماری زندگی کے اختتام کا وقت مقرر ہے، اسی طرح اس دنیا کے اختتام کا وقت بھی مقرر ہے اور جس دن یہ دنیا ختم ہو جائے گی وہ دن قیامت کی آفت کا دن ہوگا،وہ یومِ محشر یا حساب کا دن ہوگا جب رب تعالےٰ کے سامنے ہر انسان کی اپنی زندگی کے لیکھے جوکھے Assets and Liabilities کے ساتھ پیشی ہوگی۔ اس دنیا میں ہر انسان اپنے رب کی تخلیق کردہ دیگر مخلوقات کا اور نعمتوں کا بے دریغ استعمال کئے جاتا ہے ، جیسے ہوا، پانی ، خوراک اور نہ جانے کس قدر اور بھی چیزیں ہیں جو اُس کے استعما ل میں ہیں۔ ظاہر ہے، ان چیزوں کا حساب تو ہمیں بہر حال دینا ہوگا جس میںکسی ہیرا پھیری کی کوئی گنجائش ممکن نہیں ہو سکے گی۔اب یہ معلوم کرنا نہایت ضروری ہے کہ کس طرح ہم محشر کے روز اپنی غفلتوں اور کوتاہیوں کی سزا سے خود کو بچا سکیں گے؟وہ کیا اُمور ہیں جن کا ہمیں دھیان رکھنا ہوگا؟خدا کا شکرہے کہ یہ تذکرہ ہمیں اللہ کی کتاب سے دستیاب ہے: ”سو جس نے سرکشی والی زندگی گذاری ہوگی اور دنےا کی اسی زندگی پر مگن اور مطمئن رہ کر اسے(آخرت پر) ترجیح دی ہوگی تو بلاشبہ اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگااور جس نے اپنی زندگی اس طرح گذاری ہوگی کہ کل اسے (حاصل شدہ ہر نعمت کا) حساب دینے کےلئے ا پنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے ، اور اپنے آپ کومن مانی کرنے سے باز رکھاہوگا ، تو بے شک اس کا ٹھکانہ جنت ہی ہوگا۔ “ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک طرف زندگی گذارنے کے لئے اللہ نے ہر انسان کو ہر طرح کے مواقع کے ساتھ نعمتیں بھی عطا کی ہیں۔ انسان اتنا کوتاہ بیں ہے کہ اسے صرف مال و دولت کے علاوہ اپنے پاس کی دیگر نعمتوں کا کوئی خیال ہی نہیں رہتا۔ کون انسان ہے جس نے اپنے اعضا اور ہاتھ پاو ¿ں اور انکی انگلیوں کیلئے کبھی اللہ کا شکر ادا کیا ہوگا۔! ایک پیر دوسرے سے ایک ملی میٹر ہی چھوٹا ہو تو انسان کی چال میں لنگڑاہٹ آجاتی ہے۔ کیا کسی نے اپنے دونوں پیروں کی یکساں لمبائی کی خاطر کبھی اللہ کا شکر ادا کیا ہے؟ ایک آنکھ اور دوسری آنکھ میں ہی ایک ملی میٹر کے دسویں حصہ ہی کا فرق ہو جائے تو انسان بدصورت دکھائی دیتا ہے۔ کون ہے جس نے اس گراں قدرعنایت پر بارگاہِ اِلٰہی میں جذباتِ سپاس کا نذرانہ پیش کیا ہوگا۔اسی لئے ہمارا رب فرماتا ہے کہ وقلیل من عبادی الشکور۔ میرے بندوں میں شکر گذار بہت تھوڑے ہی پائے جاتے ہیں۔ ان نعمتوں کی علاوہ بھی بے شمار نعمتوں کا ہم بے دریغ استعمال کرتے رہتے ہیں۔ ان تعدو نعمت اللہ لا تحصوھا ”اے انسانو! تم اگر اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن بھی نہ سکوگے۔“ مگربہت کم انسانوں کو احساس ہے کہ ان تمام نعمتوں کے ذریعے ہی اُس کا امتحان بھی لیا جارہا ہے۔یہ بہر حال طے ہے کہ ہم اپنے ہر عمل ردّ عمل ، معاملہ ،ر رویہ اورہر سلوک،اپنی زبان یا قلم سے نکلے ہوئے ہر لفظ کی جواب دہی کے لیے ایک مقررہ دن اپنے رب کے حضور کھڑے ہو ں گے: یومَ یقومُ النّاسُ لِربِّ ال ±عالَمِی ±ن۔ نہ صرف قول فعل اور عمل بلکہ ہمارے دلوں میں اٹھنے والے جذبات اور خیالات کے تعلق سے بھی ہم سے سوال ہوسکتا ہے۔ وان تبدوا ما فی انسفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ۔تم اگر کوئی بات اپنے جی میںچھپا لو یااسے ظاہر کرو، (بہر صورت) اللہ اسکا حساب تم سے لے گا۔

18:25 PM 13-03-2011